Monday, 4 August 2025

*🔴 سیف نیوز بلاگر *

فوج پرمبینہ تبصرے کا معاملہ، راحت دینے کے ساتھ عدالت نے راہل گاندھی کی سرزنش بھی کی۔ پوچھا آپ کو کیسے پتہ چین نے زمین ہڑپ لی؟

سپریم کورٹ نے فوج پر مبینہ تبصرہ کرنے پر راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے ۔ عدالت سے راہل گاندھی کو بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے لکھنؤ ٹرائل کورٹ کے سمن پر روک لگا دی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کی سرزنش بھی کی ہے۔عدالت نے کہا کہ ایک سچا ہندوستانی ایسا کبھی نہیں کہے گا۔

دراصل، سپریم کورٹ نے لوک سبھا لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کو 9 دسمبر 2022 کو ہندوستان اور چین کی فوجوں کے درمیان جھڑپ کے بعد ہندوستانی فوج کے بارے میں ان کے مبینہ ریمارکس پر راحت دی،اور انہیں جاری کیے گئے سمن روک دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تین ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔

جج نے پوچھے تیکھے سوال
یہ حکم جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس اے جی مسیح کی بنچ نے دیا۔ سماعت کے دوران جسٹس دیپانکر دتہ نے راہل گاندھی کو مشورہ بھی دیا۔ جسٹس دیپانکر دتہ نے راہل گاندھی سے پوچھا کہ آپ کا تبصرہ درست نہیں ہے کیونکہ آپ ہندوستانی ہیں۔ جب چین نے 2000 مربع کلومیٹر پر قبضہ کیا تو آپ کو کیسے پتہ چلا؟ قابل اعتماد معلومات کیا ہے؟ ایک سچا ہندوستانی یہ نہیں کہے گا۔ کیا آپ یہ سب کچھ اس وقت کہہ سکتے ہیں جب سرحد پر تنازع ہو؟ آپ پارلیمنٹ میں سوال کیوں نہیں پوچھ سکتے؟

لکھنؤ کورٹ نے دیا تھاجھٹکا
دراصل، مئی میں الہ آباد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں لکھنؤ کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت کے ذریعے سمن کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہاں راہل گاندھی کو راحت ملی۔

پہلے کیا ہوا؟
دراصل، لکھنؤ کے ایم پی/ایم ایل اے کی خصوصی عدالت نے فروری 2025 میں راہل گاندھی کو سمن جاری کیا تھا۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ آلوک ورما نے سماعت کے لیے 24 مارچ 2025 کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اس میں راہل کو ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔


راہل نے اس سمن اور کیس کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، لیکن مئی 2025 میں ہائی کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دیا۔ اور تبصرہ کیا گیا کہ آزادی اظہار میں فوج کے خلاف توہین آمیز بیانات دینے کی آزادی شامل نہیں ہے۔ اس کے بعد راہل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا۔



تیجسوی یادو پردو ووٹرشناختی کارڈ رکھنے کاالزام ، مقدمہ درج ، الیکشن کمیشن نے بھی بھیجا نوٹس

بہار کے سابق نائب وزیر اعلی اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کی مشکلو ں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان پر دو ووٹر شناختی کارڈ رکھنے کا الزام ہے، جس کے بارے میں ایک وکیل نے پٹنہ کے دیگھا تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔ دیگھا تھانہ علاقہ کے رہنے والے ایڈوکیٹ راجیو رنجن نے پولیس کو ایک درخواست دی ہے، جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ تیجسوی یادو نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے اور دو مختلف’ای پی آئی سی نمبر‘ رکھے ہیں۔


شکایت کنندہ راجیو رنجن نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ تیجسوی یادو دیگھا اسمبلی حلقہ کے ووٹر ہیں، لیکن انہوں نے دو مختلف ووٹر شناختی کارڈ بنوائے ہیں، جو انتخابی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے پولیس سے اس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کرنے اور تیجسوی یادو کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

الیکشن کمیشن نے بھیجا نوٹس

الیکشن کمیشن نے تیجسوی یادو کو نوٹس جاری کیا ہے اور اس پورے معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔ کمیشن نے ان سے اس الزام پر وضاحت دینے کو کہا ہے۔ یہ واقعہ سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے۔


پولیس نے شکایت ملنے کے بعد معاملے کی جانچ شروع کردی ہے۔ دیگھا پولس اسٹیشن میں اس شکایت پر منی جانچ کی جارہی ہے، جس میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ الزامات میں کتنی سچائی ہے۔ اگر الزامات درست پائے جاتے ہیں تو تیجسوی یادو کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، کیونکہ دو ووٹر شناختی کارڈ ہونا ایک سنگین جرم ہے۔


گڑ اور چنے ایک ساتھ کھانے کے حیرت انگیز فائدے

بہار کی سیاست گرمائی

اس معاملے سے بہار کی سیاست میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ حریف جماعتیں اس مسئلہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہے، جبکہ آر جے ڈی کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ تیجسوی یادو اور ان کی پارٹی ان الزامات کا کیا جواب دیتی ہے اور الیکشن کمیشن کے نوٹس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے

دہشت گردی کارنگ سبزہوتا ہے‘ سادھوی کا متنازع بیان، سیاسی وملی تنظیموں کا سخت ردعمل

مالیگاؤں دھماکہ کیس میں بری ہونے کے بعد بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر بھوپال پہنچیں۔حامیوں نے ان کا استقبال کیا۔اس استقبالیہ تقریب کے دوران سادھوی نے ایک بار پھر متنازع بیان دے کر سیاسی پارہ بڑھا دیا ہے۔


بھوپال میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ،دہشت گردی اور مسلمانوں کے بارے میں پرگیہ نے کہا، کون کہتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا؟ دہشت گردی کا رنگ سبزہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سبز پرچم تلے پھیل رہی ہے۔ سادھوی پرگیہ نے کہاکہ پہلگام میں انہوں نے سبز رنگ کے ساتھ جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔مسلمان دہشت گرد ہیں، یہ یقینی بات ہے۔

ہندو دہشت گرد نہیں ہو سکتا…‘پرگیہ کا دعویٰ

اس کے علاوہ انہوں نے الزام لگایا کہ مالیگاؤں کیس میں انھیں 17 سال تک ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں لیکن بالآخر سچائی غالب آگئی۔ انہوں نے کانگریس پر ہمیشہ ہندوؤں کو کچلنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے بھگوا دہشت گردی کا جھوٹا اسکرپٹ بنایا لیکن یہ وہ ٹک نہیں سکی ۔ ہندو دہشت گرد نہیں ہو سکتا، کیونکہ ہندو روادار ہے۔ ہمارا منتر واسودھئیو کٹمبکم ہے۔


سادھوی پرگیہ نے کانگریس اور خاص طور پر دگ وجے سنگھ پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے متعصبانہ ذہنیت کو فروغ دیا ہے اور ہندوؤں کو نیچا دکھانے کی سازش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس دہشت گردوں کے لیے آنسو بہاتی ہے اور ہندوؤں پر تشدد کرتی ہے۔ دگ وجئے پ گمراہ ہیں، اس کا نام ہی برا ہے۔


’آئی ایس آئی کے جاسوس کون ہیں؟‘

سادھوی کے اس بیان پر اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ آل انڈیا امام ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد رشادی نے سادھوی کے بیان کو اسلامو فوبک قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کو کسی بھی مذہب سے جوڑنا نہ صرف غلط ہے بلکہ معاشرے کو تقسیم بھی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر دوسرے مذاہب کے لوگ آئی ایس آئی کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں تو کیا انہیں ہندو یا بھگوا دہشت گرد کہا جاتا ہے؟ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔

کانگریس کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ پارٹی کے مدھیہ پردیش کے ترجمان بھوپیندر گپتا نے کہا کہ عدالتیں پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ سادھوی کا بیان افسوسناک ہے۔ وہ ایک بار پھر معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب یا رنگ سے نہیں ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...