Sunday, 17 August 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*


ووٹوں کا توحساب لیا جائے گا !
اتواریہ : شکیل رشید
کانگریسی قائد راہل گاندھی نے ، جو لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے سربراہ بھی ہیں ، ’ ووٹ چوری ‘ کا ایٹم بم پھوڑ کر صرف الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے خیمے میں ہی ہلچل نہیں مچائی ، سارے ملک میں ہلچل مچائی ہے ، ایسی ہلچلکہ سوائے اندھ بھکتوں کے سبھی ہندوستانی ان کے ذریعے ووٹوں کی چوری کے ’ پریزینٹیشن ‘ کی واہ واہ کر رہے ہیں ۔ اور واہ واہ کیوں نہ کریں ! ہر الیکشن میں وہ شور مچاتے رہے ہیں کہ انہوں نے ووٹ کسی اور امیدوار کو دیے تھے ، مگر ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں چلے گئے۔ لیکن کوئی ان کی فریاد سُننے کو تیار نہیں تھا ، الیکشن کمیشن ان کی شکایتیں ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے اڑا رہا تھا ۔ مبینہ ووٹ چوری کا سلسلہ عرصے سے جاری ہے ، لیکن یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی سیاست داں نے سنجیدگی کے ساتھ ’ چھان بین ‘ کی اور ایسے ’ حقائق ‘ سامنے رکھے ، جن کے تشفی بخش جواب دیے بغیر ، الیکشن کمیشن کی ساکھ پر جو بٹّا لگا ہے ، وہ بحال نہیں ہو سکتا ۔ راہل گاندھی نے ووٹ چوری کا الزام کوئی ہوا میں نہیں لگایا ہے ، انہوں نے باقاعدہ اعداد و شمار پیش کیے ہیں ، ایسے نام گنوائے ہیں جنہوں نے کئی کئی بار ووٹ دیے ہیں ۔ راہل گاندھی نے ایک ایک نکتے کو اجاگر کیا ہے ، اور اس طرح کہ بھاجپائی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کس منھ سے اُن کے سوالوں کا جواب دیں ! اسی لیے وہ آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں ۔ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کو ہی دیکھ لیں ، اُن سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تو کہنے لگے کہ راہل گاندھی کا دماغ چل گیا ہے ! راہل گاندھی نے جس سنجیدگی کے ساتھ اپنی دلیلیں پیش کی ہیں ، ممکن نہیں لگتا کہ بھاجپائی سیاست داں اُسی سنجیدگی سے ان کی دلیلوں کا رد کر سکیں گے ۔۔ وہ تو  وہی کریں گے ، بلکہ وہی کر رہے ہیں ، جو وہ ہمیشہ کرتے چلے آئے ہیں ؛ راہل گاندھی پر طنز کسنا ، ان کا مذاق اڑانا اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنا ۔ الیکشن کمیشن بھی کچھ یہی کر رہا ہے ۔ بھلا ایک ایسے سیاست داں سے ، جو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہے ، اور جس کا کام ہی سوال اٹھانا ہے ، الیکشن کمیشن کے ذریعے ’ حلف نامہ ‘ مانگنے کا کیا جواز ہے ! راہل گاندھی نے تو باقاعدہ آئین کا حلف لیا ہے ، وہ یونہی اپوزیشن لیڈر نہیں بن گیے ۔ یہ تو الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ وہ اُن سنگین الزامات کا ، جو راہل گاندھی نے لگائے ہیں ، مناسب جواب دے ، بلکہ ’ حلف نامہ ‘ دے کر جواب دے ۔ ووٹ چوری کے الزام کا مطلب جمہوریت کو تباہ کرنا ہے ، اس کا مطلب عوام کے حقوق کو غصب کرنا ہے ، اس کا مطلب عوامی رائے سے کھلواڑ ہے ۔ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو کٹگھرے میں کھڑا کر دیا ہے ، یہ عوامی عدالت کا کٹگھرا ہے ، الیکشن کمیشن کو بھی اور بی جے پی بلکہ مودی حکومت کو بھی جواب دینا ہی ہوگا ۔ ویسے بات صرف مبینہ ووٹ چوری ہی کی نہیں ہے ، ہندوستانی عوام کا تو بہت کچھ چُرا لیا گیا ہے ، ان کا سکون اور چین ، ان کی روزی روٹی ، ان کی دولت ، ان کی شہریت ، ان کی زمینیں اور ملکیتیں۔ عوام تباہ و برباد ہے ، اور اِس کا بنیادی سبب ، مرکز کی اُس حکومت کی پالیسیاں اور اس کے اعمال و افعال ہیں ، جس پر یہ سنگین الزام ہے کہ وہ ووٹ چوری کرکے اقتدار پر متمکن ہوئی ہے ۔ اگر ووٹ چوری ہوئے ہیں تو یقیناً عوام اپنے ووٹوں کی چوری کا حساب لیں گے ۔
_______________
جدید نامہء مرزا غالب 
ابرار مجیب

بنام: میاں ابرار مجیب سلمہ
مرسلہ: جنت الفردوس، گوشۂ بے مشاعرہ و بے مے

میاں ابرار!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و کل مافیہ من العجائب والغرائب!

یارِ باصفا! تمہیں کیا خبر، جنت بھی آخر جنت جنت کر کے بسا اوقات انسان کی جان پر بن آتی ہے۔
میاں! نہ کوئی ادبی بیٹھک، نہ مشاعرہ، نہ غزلوں پر “آہ” کی آواز، نہ واہ کی صدا۔
اور تو اور، یہاں کی شراب میں وہ دیسی نشہ کہاں جو جامع مسجد کے پاس کوچۂ مغنیہ سے ملتی تھی!

بس اسی بے کیف جنت سے تنگ آ کر میں نے ایک روز فرشتوں سے کہا:
"اب بہت ہو چکا، ہمیں شاہجہان آباد بھیجا جائے۔ کچھ پرانی گلیوں سے ملاقات ہو، کچھ فصیلوں سے کلام، اور اگر ممکن ہو تو بازار سے ایک عدد آلہء طلسمی (یعنی موبائل) خرید لیا جائے۔"
فرشتے گھبرائے، بولے:
"مرزا صاحب، یہ خلافِ قانونِ جنت ہے!"

میں نے کہا:
"بھئی! تمہارا قانون ہوگا، ہمارا تو اشعار کا آئین ہے!"

بہرحال، تھوڑی بہت جنتی رشوت—یعنی دو نعتیں اور ایک سلام لکھ کر—میں نے ان سے چھ دن کی رخصت لی، اور نازل ہوا شاہجہان آباد!

ارے میاں! کیا بتاؤں… جیسے ہی چاندنی چوک میں قدم رکھا، ایک ہجوم تھا کہ ہاتھوں میں وہی آلہء برقیہ تھامے ریلز پر جھوم رہا تھا۔
میں بھی پہنچا ایک سوداگر کے پاس،
پوچھا:
"کیا ہے یہ عجائبات کا پتارا؟"
کہنے لگا:
"یہی ہے آلہ جس سے ہر رنگ کی مغنیہ گاتی ہے، ہر قسم کی صورت سامنے آتی ہے۔ شاعری بھی ہے، شور بھی ہے، شوربے بھی ہیں!"

میں نے کچھ سودا بیچا، کچھ آنسو بہائے، اور خرید لیا یہ آلہ۔

میاں! جو کرشمے اس میں دیکھے، تو یقین کرو—پہلے تو گمان ہوا کہ پان کی ڈبیا ہے،
پر جب ایک بٹن دباتے ہی جگجیت سنگھ نے میری غزل چھیڑی:
"دل ہی تو ہے، نہ سنگ و خشت…"
تو میں بے خود ہو گیا۔
اور پھر کیا—میں نے ایک عدد "سیلفی" بھی لی۔

ہاں بھئی! وہی سیلفی جو اپنی ہی صورت کو خود قید کرنے کا نام ہے۔
اب تو سمجھا ہوں کہ مصور ہونے کا اب مطلب ہی کچھ اور ہے۔
ہمارے وقت میں تو چہرہ کینوس پر آنے کے لیے بادشاہ کا حکم چاہیے تھا،
اب یہ آلہ بٹن دباتے ہی بندے کو قید کر لیتا ہے، وہ بھی ہوبہو!

ابھی تو میں شاہجہان آباد میں ہی "انسٹاگرام" پر اپنی غزل کی ریل ڈالنے والا تھا کہ فرشتے آن دھمکے۔

کہا:
"غالبؔ! چھ دن پورے ہوئے، چلو واپس۔"
میں نے کہا:
"ارے میاں، ذرا یوٹیوب چینل تو بنالینے دو!"

بولے:
"یہاں تو بس تسبیح کا چینل ہے، اور وہ بھی بغیر سبسکرائب کے!"

اب واپس جنت پہنچ چکا ہوں،
لیکن دل اب بھی وہیں رہ گیا ہے،
کسی کوچۂ خاکی میں، کسی گلی میں،
جہاں مشاعرہ ہوتا تھا، اور کسی شعر پر
"ہائے واہ!" کی صدا آتی تھی۔

سیلفی ساتھ بھیج رہا ہوں،
تم اپنے تبصرے لکھ بھیجو۔
اور ہاں، اگر کبھی کسی جنتی واٹس ایپ گروپ میں داخل ہو سکو، تو ہمارا نمبر ضرور دو!

تمہارا عاصی، آوارہ، اور آبدیدہ
مرزا اسداللہ خاں غالب
(مقیم: جنت، مقامِ بے شاعری)

---
پَ۔سَ: ایک فرشتہ گوگل اسسٹنٹ استعمال کرتا ہے،
سوچا ہے اگلی بار وہیں سے شعر سناؤں گا!
مگر شرط ہے—مشاعرہ برپا ہو! ایک خصوصی فرمائش یہنہے کہ اگر تمہارا جنت آنا ہوا تو دیسی دارو کی چند بوتلیں ساتھ لیتے آئیو۔
_________

🚩فرنود رومی مالیگاؤں 
 
چھوڑ دے.......(ہزل)
از قلم : فرنود رومی، مالیگاؤں 

 نہ ملائی کا پتہ نہ ذائقہ
دودھ میں پانی ملانا چھوڑ دے

 جب میسّر گھر میں ہے روٹی تجھے
ہوٹلوں پہ جا کے کھانا چھوڑ دے

دوسروں کی فکر کم کر، کام کر 
مفت، گل چھرّے اڑانا چھوڑ دے

 جب نہیں کرنا تجھے ہے کام وام
صاف کہہ، ماموں بنانا چھوڑ دے 

چھاپ کر اخبار، بن کے پترکار
اینٹھنا پیسے، ڈرانا چھوڑ دے

جب سیاست ہی ترا ایمان و دیں
 منبروں سے غُل مچانا چھوڑ دے

شہر کو کھڈّے میں دیکھ ایسا نہ ہو 
رومی ؔ  تیرےشہر آنا چھوڑ دے
_____________

آج 5 اگست

معروف شاعرہ قمر سرور کا یوم ولادت ہے 

اصل نام قمر النساء قلمی نام قمر سرور 5 اگست کو پیدا ہوئیں ۔ مالیگاؤں سے طب یونانی میں گریجویشن کیاـ ناگپور سے ڈی-این-ایم کی ڈگری حاصل کی اور احمد نگر سے اردو میں ایم-اے کیاـ
احمد نگر، مہاراشٹر کے تمام اسکولوں میں اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں قمر کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ وہ  غیر مسلم برادری سے لے کر ریڈیو اور گلو کاروں کو  بھی اردو سکھاتی ہیں۔ 2017 میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے انہیں  ادب اطفال کی کتابوں کے سلسلے میں  بطور جج انتخاب کیا تھاـ انہوں  نے شیواجی مہاراج پر لکھی گئی مراٹھی کتب کا اردو زبان میں ترجمہ کیا ہےـ ان ہی سے متعلق اردو کتب کا مراٹھی میں اور ہندی کتب کا اردو اور مراٹھی میں بھی ترجمہ کیا ہےـ ۔ 
قمر سرور کئی اہم مناصب پر رہ کر اردو زبان و ادب کی خدمات انجام دے رہی ہیں جیسے
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے 2017 میں ادب اطفال کی کتابوں کے لیے بطور جج منتخب کیا تھاـ
مدیر، ہفتہ روزہ اردو مخدوم احمد نگر
صدر، بزمِ خواتین، احمد نگر
جوائنٹ سیکریٹری، احمد نگر ضلع اردو ساہتیہ پریشد
جوائنٹ سیکریٹری، غزل گروپ احمد نگر
31اکتوبر 2019 کو حج ہاوس ، ممبئی میں منعقدہ نسائی ادب و سمت و رفتار، مشاعرہ اور سیمینار میں قمر سرور کے اولین شعری مجموعہ اور ستارہ بن جا کا اجرا ہوا۔
ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی انعامات و اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے جیسے 
سماج رتن پرسکار ایوارڈ 2003
سماج سوایکا ایوارڈ 2005
سماج رتن ایوارڈ 2006 منجانب کولکاتا اردو اکادمی
مجروح ایوارڈ 2007
بھوشن پرشکار ایوارڈ 2009
ساوتری بائی پھلے ایوارڈ 2012
رفعت پرواز ایوارڈ 2017
پروین شاکر ایوارڈ 2017

نمونہ کلام 

غزل  1

اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہے تجھے کیا معلوم 

زندگی عکس بدلتی ہے تجھے کیا معلوم 

دن تو سورج ہے کسی طرح سے ڈھل جاتا ہے 

رات آنکھوں میں ٹھہرتی ہے تجھے کیا معلوم 

میرے چہرے پہ لکھے حرف تو پڑھ لیتا ہے 

جو میرے دل پہ گزرتی ہے تجھے کیا معلوم 

یہ ترے نام سے منسوب بھی ہو سکتی ہے 

سانس رہ رہ کے اٹکتی ہے تجھے کیا معلوم 

تیری دھن ہے مری پازیب کی جھنکاروں میں 

اب تو چوڑی بھی کھنکتی ہے تجھے کیا معلوم 

تو نے جاتے ہوئے جس شام کو چھوڑا تھا یہاں 

وہ سر شام سنورتی ہے تجھے کیا معلوم 

جانے کس سمت سے آ جائے تری یاد قمرؔ 

زندگی راستہ تکتی ہے تجھے کیا معلوم 

غزل  ۔۔2

خواہشیں ہیں بہت آرزوئیں بہت سوچتی ہوں کہ تم بن یہ گھر کیا کروں 

راہ چلتے ہوئے تھک گئے ہیں قدم ختم ہوتا نہیں یہ سفر کیا کروں 

کوئی سورج مرے ساتھ چلتا نہیں کوئی سایہ بھی مجھ سے الجھتا نہیں 

چاند بھی اب نکلتا نہیں ہے یہاں سونا سونا ہے دل کا نگر کیا کروں 

میں ترا دکھ بنوں میں ترا غم بنوں راس آ جائے تجھ کو وہ موسم بنوں 

کوئی تدبیر اب کام آتی نہیں اور دل پر ترے میں اثر کیا کروں 

ہے چکا چوند شہرت کی یہ روشنی تو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں زندگی 

راستے میرے پیروں میں سونے کے ہیں اور چاندی کی ہے رہ گزر کیا کروں 

درد دل میں رکھوں بھی تو کب تک نہاں دکھ میں اپنا کروں بھی تو کس پر عیاں 

زخم دیتی ہیں مجھ کو یہ تنہائیاں مجھ کو تکتے ہیں دیوار و در کیا کروں 

سامنے ہے نظر کے کھلا آسماں میں قفس سے نکل کر بھی جاؤں کہاں 

آ بھی جاؤں میں اڑ کر ترے پاس بھی پر مرے کٹ گئے ہیں مگر کیا کروں 

میں سرورؔ اس کی خاطر کروں بھی تو کیا مجھ سے روٹھا ہوا ہے مسیحا مرا 

ہر شفا ہر دوا میری بے فیض ہے ہر دعا ہو گئی بے اثر کیا کروں

انتخاب اور پیشکش
 سلمی صنم

*🛑سیف نیوز اُردو*

نویں کے طلبہ سے...ڈاکٹر مبین نذیر آپ سوچیں گے کہ بھئی یہ نویں جماعت کے طلبہ سے کیا کہنا؟ ابھی تو ان کے بورڈ کے امتحا...