جامعہ اظہارالعلوم کی جانب سے میلادالنبی پر سجاوٹ کرنے والے اداروں کو"لوا کے تلے"ایوارڈ تقسیم کیا جائے گا
میلادالنبی مسلمانوں کا عالمی و آفاقی تہوار ہے۔اس موقع پر ہمیں عقائد و اعمال،فکر و نظریات کی بالیدگی اور اخلاق و کردار کی شائستگی کے ساتھ انقلابی طور پر 1500/سو سالہ جشن ولادت رسول منانا ہے۔عبادات و معاملات اور حقوق کی ادائیگی بھی میلاد رسول کا حصہ ہے۔بے نمازیوں کو نمازی بنا کر،لڑنے والوں میں صلح کراکر،مرتد ہونے والی مسلم بچیوں کو فتنہ ارتداد سے بچا کر،جوا کھیلنے والے اور شراب پینے والوں سے گندی عادتیں چھڑاکر میلاد رسول کا عظیم انقلابی جشن منانا ہے۔ان خیالات کا اظہار حافظ محمد غفران اشرفی نے 13/اگست بروز بدھ بعد نماز عشاء الجامعۃ الزہرا اہلسنت اظہار العلوم میں علاقہ رمضان پورہ کے اداروں،کلبوں اور انجمنوں کے ذمہ داران کی منعقد ہونے والی میٹنگ میں کیا۔مزید موصوف نے آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت طیبہ کے 1500/سو سالہ جشن سے متعلق حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ امسال ماہ ربیع النور شریف میں ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن اس طرح منائیں کہ مالیگاؤں کے عاشقان رسول کی تاریخ صبح قیامت تک رقم ہوجائے۔ولادت رسول کا جشن اس طرح منائیں کہ غریب مریضوں کا علاج کروائیں،
غریب بچیوں کی شادی کا خرچ اٹھائیں،غریب بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں،اپنے علاقوں میں پیغام میلاد کا بورڈ آویزاں کریں جن پر معاشرہ کی اصلاح سے متعلق احادیث لکھی ہوں،اپنے گھروں،دکانوں،مکانوں،گلیوں،چوک اور چوراہوں کو سجائیں،حضور کی والدہ حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے نام سے بیواوں کو ماہانہ خرچ دیں،حضور کے والد گرامی حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے نام
سے یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کریں،یکم ربیع الاول سے بارہ ربیع الاول تک اپنے علاقوں میں محفل درود سجائیں،اور جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں باوضو اور با ادب درود شریف پڑھتے ہوئے شرکت کریں،جلوس کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے ڈی جے وغیرہ سے اجتناب کریں۔جو ادارے والے اپنے علاقوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے نام سے لڑکیوں کا مدرسہ جاری کرنا چاہتے ہیں یا پھر یکم ربیع الاول سے 12/ربیع الاول تک خواتین کے اجتماعات کرنا چاہتے ہیں وہ ہمارے ذمہ داران سے ملاقات کریں،ان باتوں پر موصوف نے اظہار خیال فرمایا۔ان شاءاللہ امسال 1500/سو سالہ جشن ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر سجاوٹ کرنے والے ادارے،کلبوں اور انجمنوں کو"لوا کے تلے ایوارڈ"سے نوازا جائے گا۔مٹینگ میں حافظ رفیق برکاتی،حافظ اشتیاق اشرفی،حافظ رمضان ابوالعلائی،حافظ غلام مصطفی اشرفی،حافظ عمیر اشرف،حافظ اسماعیل رضا اور مدرسہ اہلسنت شفاعۃ القران کے مدرسین نیز علاقہ رمضان پورہ سے اکثر اداروں،انجمنوں اور کلبوں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔
المرسلہ: جامعہ اظہار العلوم شعبہ نشر و اشاعت
بھارت نے پاکستان کی بار بار جنگ کی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ پاکستان کا پرانا ڈرامہ ہے، جس سے ہم واقف ہیں۔ وزارت خارجہ نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے کچھ غلط حرکت کی تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہم نے پاکستانی لیڈروں کو مسلسل مضحکہ خیز، جنگ بھڑکانے والے اور نفرت پھیلانے والے تبصرے کرتے دیکھا ہے۔ یہ پاکستان کا پرانا اور آزمو دہ طریقہ ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں پر سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بار بار بھارت کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ یہ پرانا ڈرامہ ہے۔
شہباز شریف نے کیا کہا؟
بھارت کا یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت کئی بڑے رہنما پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی) کو معطل کرنے کے بھارت کے فیصلے پر بھڑک گئے تھے۔ منگل کو اسلام آباد میں ایک پروگرام میں نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر آپ ہمارا پانی روکنے کی دھمکی دیتے ہیں تو یاد رکھیں آپ پاکستان سے ایک قطرہ بھی نہیں چھین سکتے۔ کوشش کرو گے تو ایسا سبق ملے گا کہ کان پکڑ لیں گے۔ اس سے ایک روز قبل پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو وادی سندھ کی تہذیب پر حملہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ہمیں جنگ میں دھکیلا گیا تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
پاکستانی آرمی چیف بھی کسی سے کم نہیں
پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی بیان دیا کہ اگر بھارت نے پانی روکا تو پاکستان کسی بھی ڈیم کو اڑا دے گا۔ ہم بھارت کے ڈیم بنانے کا انتظار کریں گے اور پھر اسے تباہ کر دیں گے۔ دریائے سندھ ہندوستانیوں کی آبائی جائیداد نہیں ہے۔ ہمارے پاس بھارت کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے تمام وسائل موجود ہیں۔ منیر نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران فلوریڈا میں ایک پروگرام میں ایٹمی جنگ کی دھمکی بھی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے وجود کو خطرہ ہوا تو ہم اس خطے کو ایٹمی جنگ میں جھونک دیں گے اور اس کا اثر تقریباً نصف دنیا پر محسوس ہوگا۔
پہلگام حملے کے بعد تعلقات بگڑ گئے
22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات تیزی سے بگڑ گئے تھے۔ اس حملے میں کئی بے گناہ شہری مارے گئے تھے، جس کے لیے ہندوستان نے براہ راست پاکستان میں موجود دہشت گردوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس کے بعد بھارت نے کئی سخت اقدامات اٹھائے۔ سب سے پہلے سندھ طاس معاہدہ معطل ہوا۔ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے ہمارے سفارت کاروں کو واپس بلایا گیا۔ پاکستانی ملٹری اتاشی کو نکال دیا گیا۔
آپریشن سندور: پاکستان کو منہ توڑ جواب
پہلگام حملے کے بعد بھارت نے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر آپریشن سندور شروع کیا تھا۔ چار دن تک بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحد پار سے شدید فائرنگ اور میزائلوں سے ڈرون حملے ہوتے رہے۔ ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے کئی ائیر بیسوں پر سٹیک حملے کئے۔ پاکستانی فوج کی کئی صلاحیتوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ بھارت نے پاکستان کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
بھارت کی دو ٹوک وارننگ
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہم پاکستان کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیان بازی پر لگام لگائے۔ کسی بھی قسم کی اکسانے والی کارروائی کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان کی تاریخ ایسے کھوکھلے بیانات سے بھری پڑی ہے اور دنیا جانتی ہے کہ اس کا مقصد صرف ملکی ناکامیوں کو چھپانا ہے۔
LAC پر دوبارہ کھلے گا ٹریڈ کا دروازہ! SCO سربراہی اجلاس سے قبل ہندوستان اور چین کے درمیان تجارت ہوسکتی ہے شروع: رپورٹ
نئی دہلی: بھارت اور چین کے درمیان پانچ سال سے تعطل کا شکار سرحدی ٹریڈ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک مقامی مصنوعات کے تبادلے کے لیے سرحد پر طے شدہ تجارتی پوائنٹس کو دوبارہ کھولنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ قدم دونوں ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کی جانب ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اس معاملے پر ہندوستان کے ساتھ بات چیت اور تال میل بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ وزارت کے مطابق، ‘سرحدی تجارت نے طویل عرصے سے دونوں ممالک کے سرحدی باشندوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔’ وہیں ہندوستان کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
تقریباً تین دہائیوں سے، ہندوستان اور چین مقامی مصنوعات جیسے مصالحے، قالین، لکڑی کا فرنیچر، مویشیوں کا چارہ، مٹی کے برتن، دواؤں کے پودے، بجلی کے سامان اور اون کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ یہ تجارت 3,488 کلومیٹر طویل ہمالیائی سرحد کے ساتھ تین فکسڈ پوائنٹس کے ذریعے کی جاتی تھی۔ حالانکہ دوہزار سترہ۔اٹھارہ میں اس تجارت کی مالیت صرف 3.16 ملین امریکی ڈالر تھی۔
CoVID-19 وبائی مرض کے دوران یہ تجارت مکمل طور پر رک گئی۔ اسی دوران وادی گلوان میں پرتشدد تصادم کے بعد تعلقات تاریخی نچلی سطح پر پہنچ گئے تھے، جس میں 20 ہندوستانی فوجی اور کم از کم 4 چینی فوجی مارے گئے تھے۔
اب برف پگھل رہی ہے
اب ایسے آثار ہیں کہ تعلقات میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔ گزشتہ سال دونوں ملکوں نے سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت اور چین کے درمیان براہ راست پروازیں بھی اگلے ماہ دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔ نیز، بیجنگ نے ہندوستان کو کھاد کی کچھ برآمدات پر سے پابندیاں ہٹا دی ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی اگست میں سات سالوں میں پہلی بار چین کا دورہ کر سکتے ہیں۔ وہ وہاں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ سرحدی تجارت کی بحالی نہ صرف ایک اقتصادی اقدام ہے بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان اور چین باہمی اختلافات کے باوجود تعاون کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا اس اقدام سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مستقل بہتری کی راہیں کھلیں گی یا نہیں۔