طاقت ورزلزلے کے بعد روس اورجاپان میں سونامی ، امریکہ،انڈونیشیا،فلپائن میں بھی الرٹ جاری
روس میں طاقتور ترین 8.8شدت کے زلزلے نے سونامی کو جنم دیا ہے۔حکام نے بتایا کہ اس زلزلے سے کریل جزائر پر 4 میٹر (13 فٹ) اونچائی تک سونامی پیدا ہوئی، جس سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا اور عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ امریکی جیولوجیکل سروے ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ زلزلے کے بعد سونامی کی لہریں اٹھی ہیں اور الاسکا کے کچھ حصوں میں وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق،کامچٹکا جزیرہ نما پر زلزلے کے مرکز کے قریب واقع روسی علاقوں میں نقصان اور انخلاء کی اطلاع ہے، لیکن کوئی شدید زخمی نہیں ہوا۔مقامی گورنر ویلری لیمارینکو کے مطابق سونامی کی پہلی لہر ساحلی علاقے سیویرو-کورلسک سے ٹکرا گئی، جو کہ بحر الکاہل میں روس کے جزائر کریل پر واقع مرکزی بستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائشی محفوظ ہیں اور بلندی پر اس وقت تک رہے جب تک کہ دوبارہ لہر کا خطرہ ختم نہ ہو جائے۔اب تک 9 جھٹکے کیے جاچکے ہیں محسوس
روس کے جزیرہ نما کامچٹکا کے قریب 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد اس علاقے میں طاقتور آفٹر شاکس مسلسل محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یو ایس جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلے جھٹکے کے تقریباً 45 منٹ بعد پیٹرو پاولوسک کامچٹسکی سے 147 کلومیٹر جنوب مشرق میں 6.9 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جب کہ چند منٹ بعد والیوچنسک سے 131 کلومیٹر دور 6.3 شدت کا ایک اور جھٹکا ریکارڈ کیا گیا۔ اب تک اسی علاقے میں کل 9 مزید جھٹکے (5.4 سے 5.8 شدت کے درمیان) محسوس کیے گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ ہائی الرٹ ہے۔جاپان میں سونامی کی وارننگ
جاپانی حکومت نے بھی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر سونامی کی ایڈوائزری کو وارننگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب وہاں ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ جاپانی نشریاتی سروس NHK کے مطابق حکومت نے لوگوں کو فوری طور پر ساحلی علاقوں سے نکلنے کا حکم دیا ہے۔ ہوکائیڈو سے واکایاما تک مشرقی ساحلی علاقوں میں وارننگ مؤثر ہے۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ سونامی کی لہریں کسی بھی وقت ساحل سے ٹکرا سکتی ہیں۔
امریکہ میں سونامی الرٹ
روس کے مشرق بعید کے علاقے میں آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد جزائر ہوائی کے تمام ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ پیسیفک سونامی وارننگ سینٹر (این ڈبلیو ایس) نے کہا ہے کہ پہلی لہر کے بعد بھی خطرہ کئی گھنٹوں تک برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ اس کے بعد آنے والی لہریں زیادہ تباہ کن ہوسکتی ہیں۔ وارننگ میں کہا گیا تھا کہ سمندری لہریں ہر سمت میں مؤثر ہیں، اس لیے ہر ساحل متاثر ہو سکتا ہے۔ پہلی لہر کے مقامی وقت کے مطابق شام 7:17 پر ہوائی پہنچنے کی توقع ہے۔ حکام نے لوگوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔فلپائن اور انڈونیشیا میں بھی سونامی کی وارننگ
روس کے زلزلے کی براہ راست خبر: فلپائن اور انڈونیشیا نے روس کے مشرقی ساحل پر 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد اپنے ساحلی علاقوں میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ فلپائن کے انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی (PHIVOLCS) کے مطابق، 1 میٹر تک اونچی لہریں دوپہر 1:20 سے 2:40 کے درمیان ملک کے بحر الکاہل کے ساحلی علاقوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ دریں اثنا، انڈونیشیا کی جیو فزیکل ایجنسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ بدھ کی سہ پہر کو 0.5 میٹر تک لہریں کچھ علاقوں سے ٹکر سکتی ہیں۔
پہلگام حملے پر نیا انکشاف، یو این ایس سی کی رپورٹ نے ایک بار پھر کیا بے نقاب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی ایک اہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ‘دی ریزسٹنس فرنٹ’ (TRF) نے دو بار جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے خوفناک دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور حملے کی جگہ کی تصاویر بھی جاری کی تھیں۔ یہ حملہ 22 اپریل 2025 کو ہوا جس میں 26 بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یہ معلومات اقوام متحدہ کی 1267 اسلامک اسٹیٹ (داعش) اور القاعدہ کی پابندیوں کی کمیٹی کو پیش کی گئی 36ویں سپورٹ اینڈ مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام پر حملہ کیا تھا۔ اسی دن ٹی آر ایف نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور حملے کی جگہ کی تصویر بھی شائع کی گئی۔ اگلے دن ایک بار پھر ٹی آر ایف نے ذمہ داری کا اعادہ کیا، لیکن 26 اپریل کو اس نے اپنا دعویٰ واپس لے لیا اور اس کے بعد گروپ کی طرف سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ ‘پہلگام حملہ لشکر کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا’رپورٹ کے مطابق ایک رکن ملک نے کہا ہے کہ یہ حملہ پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ساتھ ہی ایک اور رکن ملک نے ٹی آر ایف اور لشکر کو ایک ہی تنظیم قرار دیا ہے۔ تاہم، ایک رکن ملک نے اس کی تردید کی ہے اور لشکر کو ‘اب فعال نہیں’ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ٹی آر ایف کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) اور عالمی دہشت گرد قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ علاقائی تعلقات انتہائی حساس صورتحال میں ہیں اور دہشت گرد تنظیمیں ان کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ پاکستان کے دباؤ پر ٹی آر ایف کا نام ہٹا دیا گیا۔غور طلب ہے کہ پہلگام حملے کے بعد 25 اپریل کو سلامتی کونسل نے ایک پریس بیان جاری کرکے مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس بیان میں ٹی آر ایف کا نام نہیں تھا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ پاکستان کے دباؤ میں اس پریس بیان سے ٹی آر ایف کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ اس حملے کے جواب میں ہندوستان نے ‘آپریشن سندور’ شروع کیا تھا، جس میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
رپورٹ میں اسلامک اسٹیٹ کے خراسان ماڈیول کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ داعش کے تقریباً 2,000 جنگجو ہیں اور یہ تنظیم افغانستان اور پڑوسی ممالک میں بھی بچوں کو خودکش حملوں کی تربیت دے رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع مدارس میں تقریباً 14 سال کی عمر کے بچوں کو خودکش بمبار بننے کی تربیت دی جا رہی ہے۔
مدھیہ پردیش میں ایس ٹی ،ایس سی خواتین سے جنسی زیادتی کے اعدادوشمارچونکانے والے، عار ف مسعود کے سوال پراسمبلی میں حکومت نے دیئے جواب
خواتین کے خلاف تشدد کے معاملہ سنگین بحران ہے ۔ ملک میں بھی خواتین کے خلاف جرائم اور تشدد کی خبریں سرخیاں بنتی ہیں جو تشویش کاباعث ہیں ۔ مدھیہ پردیش میں درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے تعلق سے حیرت انگیزانکشاف ہوا ہے۔
میڈیا رپوٹس کے مطابق یہ انکشاف ہندوستانی معاشرے میں ذات پات اور جنس پر مبنی تشدد کی گہری جڑوں اجاگرکرتا ہے ۔ مدھیہ پردیش حکومت نے منگل کے روز اسمبلی میں اعداد و شمار پیش کیے جو درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کی خواتین کے خلاف جرائم کا تشویش ناک اورمضطرب کرنے والا پیٹرن پیش کرتا ہے۔دراصل اپوزیشن رکن اسمبلی عارف مسعود کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ، حکومت نے انکشاف کیا کہ 2022 سے 2024 کے درمیان، ایس ٹی، ایس سی خواتین کے خلاف کل 7,418 آبروریزی کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے تین برسوں میں مدھیہ پردیش میں ہر روز اوسطاً سات دلت یا آدیواسی خواتین کی عصمت دری کی گئی۔
اس اعدادوشمار سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ،ان ذاتوں کی 558 خواتین کو قتل کیا گیا جبکہ اسی عرصے کے دوران 338 خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
تقریباً 1,906 ایس ٹی ،ایس سی خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یعنی ان کمیونٹیز کی تقریباً دو خواتین کو روزانہ اپنے ہی گھروں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
اس کے علاوہ چھیڑ چھاڑ کے 5,983 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر روز تقریباً پانچ ایس ٹی، ایس سی خواتین کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مجموعی طور پر، پچھلے تین برسوں میں ایس ٹی ، ایس سی خواتین کے خلاف 44,978 جرائم ریکارڈ کیے گئے، جس کا مطلب ہے کہ مدھیہ پردیش میں ان پسماندہ طبقات کی خواتین کے خلاف اوسطاً روزانہ 41 جرائم کیے گئے۔مدھیہ پردیش میں درج فرست ذات اور درج فہرست قبائل کی مجموعی آبادی تقریبًا 38 فیصد ہے۔ان میں ایس کی 16 جبکہ ایس ٹی22 فیصد ہیں ۔