غزہ میں اسرائیل کے حملے جاری ،60 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق، انسانی حقوق کے علمبردارعودہ کواسرائیلی آبادکارنے ماری گولی
غزہ پٹی میں اسرائیلی فورسز کے مختلف حملوں میں تاحال 60 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔مہلوکین میں امدادکے متلاشی19 افراد بھی شامل ہیں۔یہ ہلاکتیں اسرائیل کے ذریعہ تین علاقوں میں وقفے کے اعلان کے دوران ہوئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نٹزارم راہداری میں اسرائیلی فورسز کے حملوں میں امداد کے منتظر8 فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ان حملوں میں38 فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں ۔ایک اسرائیلی آباد کار نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطہ میں فلسطینی کارکن عودہ محمد ہدالین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔
معروف انسانی حقوق علمبردارکو مادی گئی گولی
اسرائیلی آباد کار کے ہاتھوں ہلاک کیے گئے فلسطینی عودہ محمد ہدالین نے آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم No Other Land کی تکمیل میں بھی اہم رول اداکیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق،ایک اسرائیلی آباد کار نے معروف فلسطینی استاد، سماجی کارکن عودہ محمد ہدالین کو اُم الخیر نامی گاؤں میں گولی ماردی ۔
اقوام متحدہ کی دوریاستی حل کانفرنس کا امریکہ نے کیا بائیکاٹ
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اقوام متحدہ کی فلسطین اور اسرائیل کے بیچ دو ریاستی حل کے تعلق سے منعقدہ کانفرنس میں امریکہ نے شرکت سے انکارکیا۔امریکہ نے اس کانفرنس کوغیر مؤثر اور نامناسب وقت پر ہونے والی کانفرنس قرار دیا ۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ یہ کانفرنس دراصل ایک تشہیری حربہ ہے جو نہ صرف امن کی راہ میں رکاوٹ بنے گی بلکہ حماس کو مزید تقویت دے گی۔ٹیمی بروس نے مزید کہا کہ یہ اقدام 7 اکتوبر کے حملے میں مارے گئے لوگوں کی توہین اور دہشت گردی کو انعام دینے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق یہ کانفرنس جنگ بندی کی موجودہ کوششوں کو سبوتاژ کرتی ہے اور یرغمالیوں کی رہائی کے امکانات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
حال ہی فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے ذریعہ فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلان پر بھی ردعمل کا اظہار کیا گیا ۔ ٹیمی بروس نے میکروں کے بیان کے نکتہ چینی ۔ انھوں نے کہا کہ حماس نے میکروں کے اعلان کا خیر مقدم کیا، جو اس بات کا غمازہے کہ ایسے اعلانات حماس کی ہٹ دھرمی کو تقویت دیتے ہیں ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی یہ کانفرنس دراصل جون میں ہونی تھی،مگر اسرائیل۔ایران کشیدگی کے سبب یہ ملتوی کر دی گئی تھی۔
محمد اظہرالدین ممکنہ طور پر جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں کانگریس کے امیدوار
محمد اظہرالدین ممکنہ طور پر جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں کانگریس کے امیدوار
کانگریس پارٹی کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ سابق بھارتی کرکٹ کپتان اور ریاستی کانگریس کے ورکنگ صدر محمد اظہرالدین ممکنہ طور پر جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں امیدوار ہوں گے۔ اس بات کا اشارہ ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ و پسماندہ طبقات بہبود ، پونم پربھاکر نے ایک پریس کانفرنس میں دیا۔ ان کے ہمراہ اظہرالدین بھی موجود تھے۔
تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز میں ضمنی انتخاب کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب برسرِ اقتدار بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے رکن اسمبلی میگنتی گوپیناتھ 8 جون کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔)
پونم پربھاکر، جو حیدرآباد کے انچارج وزیر بھی ہیں، نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کسی بھی ’’ باہر کے‘‘ شخص کو ٹکٹ نہیں دے گی بلکہ امیدوار اسی حلقے کا مقامی رہنما ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہی امیدوار کے انتخاب کا فیصلہ کرے گی، اور پارٹی کے تمام کارکنان متحد ہو کر پارٹی کے امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔
تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز میں ضمنی انتخاب کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب برسرِ اقتدار بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے رکن اسمبلی میگنتی گوپیناتھ 8 جون کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔)
پونم پربھاکر، جو حیدرآباد کے انچارج وزیر بھی ہیں، نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کسی بھی ’’ باہر کے‘‘ شخص کو ٹکٹ نہیں دے گی بلکہ امیدوار اسی حلقے کا مقامی رہنما ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہی امیدوار کے انتخاب کا فیصلہ کرے گی، اور پارٹی کے تمام کارکنان متحد ہو کر پارٹی کے امیدوار کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے
انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ کانگریس پارٹی جوبلی ہلز میں اپنا پرچم لہرائے گی۔
اظہرالدین کا دعویٰ اور پارٹی کا موقف
سابق رکن پارلیمنٹ اور بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد اظہرالدین نے 19 جون کو اعلان کیا تھا کہ وہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے اس حلقے کو اپنا ’’آبائی حلقہ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ یہاں سے الیکشن لڑیں گے۔
تاہم، اگلے ہی دن تلنگانہ کانگریس کے صدر مہیش کمار گوڑ نے میڈیا کو بتایا کہ پارٹی نے ابھی تک امیدوار کا باضابطہ فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس میں امیدو ار کے انتخاب کا ایک طویل عمل ہوتا ہے، جس میں پہلے امیدوار اپنی درخواست ریاستی یونٹ کو دیتے ہیں، پھر ان درخواستوں کو مرکزی انتخابی کمیٹی اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے حوالے کیا جاتا ہے جہاں حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔
2018 میں انہیں تلنگانہ کانگریس کا ورکنگ صدر مقرر کیا گیا اور انہوں نے ریاستی اسمبلی انتخابات میں بھرپور انتخابی مہم چلائی، لیکن پارٹی نے انہیں کسی سیٹ سے امیدوار نہیں بنایا۔ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں جوبلی ہلز سے کانگریس کا امیدوار بنایا گیا، لیکن وہ بی آر ایس کے گوپی ناتھ سے 16,000 ووٹوں کے فرق سے ہار گئے۔ گوپی ناتھ نے جوبلی ہلز سے مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی تھی۔
اظہرالدین کو مقامی مسلم ووٹ بینک، شہرت، اور ان کے سابقہ کیریئر کی بنیاد پر اس حلقے میں بہتر امیدوار سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر جب پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ کسی ’’باہر والے‘‘ کو امیدوار نہیں بنایا جائے گا۔
احمدآبادطیارہ حادثہ: ایسی ہوتی ہے ماں، خود بری طرح جھلسی گئی لیکن بیٹے کودی نئی زندگی
جون کی وہ دوپہرکسی بڑے خواب کی سی ہے۔کئی گھر اجڑ گئے۔کئی خاندانوں کو یہ حادثہ زندگی بھر کا درد دے گیا۔ اس دکھ کی گھڑی میں کچھ کرشمے بھی ہوئے۔ جب طیارہ حادثہ ہوا اور احمد آباد کے میگھانی نگر میں واقع بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی عمارت پر ایئر انڈیا کا طیارہ گر کر تباہ ہوا،ہر طرف صرف آگ، دھواں اور چیخیں تھیں۔ لیکن اسی ملبے کے درمیان ایک ماں نے اپنے آٹھ مہینے کے معصوم بیٹے کوموت سے بچا لیا۔
30 سالہ منیشا کچھاڑیا اور ان کا بیٹا دھیانش اسی عمارت میں رہتے تھے جہاں طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔آگ اور دھوئیں کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن منیشا نے اپنے بیٹے کو گلے لگایا اور کسی طرح باہر بھاگی۔ وہ دونوں اس آگ میں بری طرح جھلس گئے، لیکن زندہ تھے
میں نے سوچا کہ اب زندہ نہیں بچیں گے…’
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پانچ ہفتے تک اسپتال میں زندگی کی جنگ لڑنے کے بعد ماں بیٹے کو جمعہ کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ منیشا 25 فیصد جھلس چکی تھی۔ اس کا چہرہ اور ہاتھ بری طرح جھلس گئے تھے۔ جبکہ دھیانش 36 فیصد تک جھلس گیا۔ اس کے چہرے، پیٹ، سینے اور ہاتھوں اور ٹانگوں پر گہرے زخم تھے۔منیشا نے کہاکہ ایک لمحہ ایسا آیا جب مجھے لگا کہ ہم زندہ نہیں بچیں گے لیکن مجھے اپنے بیٹے کے لیے لڑنا پڑا۔ ہم نے جو درد سہا ہے اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
جگرکے ٹکڑے کودی نئی زندگی
کے ڈی اسپتال کے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ریتویج پاریکھ کے مطابق،کہ دھیانش بہت چھوٹا تھا۔ اس کے جسم سے صرف تھوڑی سی جلد لی جا سکتی تھی، اس لیے ہم نے منیشا کی جلد کو اس کے جسم پر پیوند کر دیا۔ انفیکشن کا زیادہ خطرہ تھا، لیکن ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ اس کی نشوونما متاثر نہ ہو۔
ماں نے اپنے بیٹے کی جان ایک بار نہیں بلکہ دو بار اپنے جسم سے بچائی…پہلے اسے آگ سے بچا کر اور پھر اس کے جلے ہوئے جسم کو اپنی جلد سے نئی زندگی دے کر۔
جسم پر زخم، آنکھوں میں سکون
کے ڈی اسپتال نے طیارہ حادثے میں زخمی ہونے والے چھ مریضوں کا مفت علاج کیا جن میں کچھاڑیا ماں اور بیٹا بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی محنت اور ماں کی محبت سے یہ کرشما ہوا۔منیشا کے جسم پرزخم ہیں لیکن ان کی آنکھوں میں سکون ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے لیے اب زندگی صرف اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور اس کی سانسوں میں سکون ہے
۔دھیانش کے لیے اس کی ماں کی گود صرف پناہ گاہ نہیں تھی بلکہ آگ، درد اور موت کے سامنے ایک ڈھال تھی۔ اس حادثے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ماں صرف جنم دینے والی نہیں ہوتی، وہ زندگی کی آہنی دیوار ہوتی ہے۔