بارشوں میں ہونے والی بیماریاں : گھر میں موجود 5 مسالوں سے علاج ممکن
بارشوں کے موسم میں متعدد بیماریاں عام ہوجاتی ہیں جن میں اسہال، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اے، اور وائرل بخار ہیں، جن کا علاج فوری طور کرنا بہتر ہے۔
برسات کے موسم میں اگر بارش میں نہ بھی بھیگیں تو کیڑے مکوڑے ضرور کسی نہ کسی علالت کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
موسم برسات میں ہونے والی یہ بیماریاں عام طور پر آلودہ پانی اور کھانے، یا متاثرہ شخص سے رابطے کے ذریعے پھیلتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق فوری آرام کیلیے ان 5 گرم مسالوں کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔ جن میں ادرک ہلدی دار چینی کالی مرچ اور لونگ شامل ہیں۔
ادرک (Ginger)
ادرک قدرتی طور پر اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل خصوصیات رکھتی ہے۔ برسات میں ہونے والی گلے کی خراش، کھانسی، نزلہ اور ہاضمے کی خرابی میں مفید ہے۔ پیٹ میں گیس، اپھارہ اور متلی میں آرام دیتا ہے۔
ہلدی(Turmeric)
ہلدی ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی سیپٹک ہے۔ برسات میں جلدی انفیکشنز، الرجی اور سوجن سے بچاتی ہے۔قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتی ہے۔اسے دودھ میں ملا کر ’’ہلدی دودھ‘‘ کے طور پر پینا چاہئے۔
دار چینی(Cinnamon
جسم کو گرمی پہنچاتی ہے اور ٹھنڈے ماحول میں جسمانی حرارت برقرار رکھتی ہے۔موسم باراں میں وائرل بخار اور زکام کے خلاف مؤثر ہے۔دار چینی بلڈ شوگر کو بھی متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
کالی مرچ(Black pepper)
برسات کے موسم میں کالی مرچ بلغم خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔سردی لگنے، زکام، یا سینے میں جکڑن کیلئے مفید ہے۔ہاضمہ بہتر کرتی ہے اور بھوک کو ابھارتی ہے۔اسے چائے یا قہوے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
لونگ(Clove)
لونگ میں طاقتور جراثیم کُش خصوصیات ہوتی ہیں۔کھانسی، گلے کی سوزش اور دانت درد میں مفید ہے۔برسات میں پیٹ کے کیڑوں اور انفیکشن سے بچاتی ہے۔چائے میں دو عدد لونگ ڈالنا مفید ہوسکتا ہے۔
جموں و کشمیر: گاندربل میں آئی ٹی بی پی اہلکاروں کی بس دریائے سندھ میں گر گئی، ریسکیو آپریشن جاری
گاندربل، (فردوس احمد تانترے): جموں و کشمیر کے گاندربل ضلع میں ایک المناک حادثہ پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے گاندربل ضلع میں بدھ کے روز سکیورٹی اہلکاروں کو لے جانے والی ایک بس ندی میں گر گئی، حکام نے اس بات کی خبر دی ہے کہ آئی ٹی بی پی (ITBP) کے اہلکاروں کو لے جانے والی بس گاندربل ضلع کے کولن کے مقام پر شدید بارش کے دوران سندھ ندی میں گر گئی۔ حکام کے مطابق متعلقہ ایجنسیوں کی طرف سے بس میں سوار اہلکاروں کی تلاش اور بچاؤ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے لیکن ابھی تک کسی سے بھی واقعے کی تفصیلات نہیں ملی ہیں۔حادثہ زیر پورہ کلاں پل کے قریب نالہ سندھ میں پیش آیا۔ رات کے اوقات میں، ایک سول بس (Regd. JK01N-1007) جو ITBP ایڈہاک 11D/6 نے کرایہ پر لی تھی، حادثے کا شکار ہوئی اور زیرپورہ کلاں پل کے قریب سندھ نالہ میں گر گئی۔ اس حادثہ میں ڈرائیور وسیم احمد ڈار ولد علی محمد ڈار ساکن گنستان سنبل بانڈی پورہ زخمی ہوگیا۔ اسے فوری طور پر پی ایچ سی کلاں منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔جموں و کشمیر کے گاندربل ضلع میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ آئی ٹی بی پی کے اہلکاروں کو لے جانے والی بس دریائے سندھ میں گر گئی۔ کولان میں شدید بارش کے باعث پیش آنے والے اس حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ ادارے بس میں سفر کرنے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
بس میں موجود کچھ ہتھیار غائب
بس میں سوار فوجیوں کی تلاش جاری ہے۔ بچاؤ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی فوجی نہیں ملا۔ حکام نے یہ جانکاری دی ہے۔ ایس ڈی آر ایف گاندربل اور ایس ڈی آر ایف سب کمپوننٹ گنڈ کی طرف سے دریائے سندھ میں کلاں کے مقام پر ایک مشترکہ تلاش اور بچاؤ آپریشن شروع کیا گیا ہے جہاں آئی ٹی بی پی کے جوانوں کو لے کر جانے والی ایک بس کولن پل سے سندھ ندی میں گر گئی، جس میں کچھ ہتھیار غائب ہیں۔ اب تک تین ہتھیار برآمد ہوئے ہیں اور آپریشن ابھی جاری ہے۔
نوٹ: اس خبر کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ ہم اپنے تمام قارئین کو ہر لمحہ ہر خبر سے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تازہ ترین اور بریکنگ نیوز فوری طور پر آپ تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ موصول ہونے والی ابتدائی معلومات کے ذریعے ہم اس خبر کو مسلسل اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔ تازہ ترین بریکنگ نیوز اور اپ ڈیٹس کے لیے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ جڑے رہیں۔
نریندر مودی کی 100 منٹ کی تقریر مگر نہ طیاروں پر بات اور نہ ٹرمپ کی ثالثی کی تردید: ’14 بار نہرو کا نام لیا مگر چین کا نام ایک بار بھی نہ لے سکے‘
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کی شام پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر ہونے والی بحث سمیٹتے ہوئے پہلگام حملے میں مبینہ سکیورٹی غفلت، پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں انڈین طیاروں کے نشانہ بنائے جانے کی خبروں اور جنگ بندی کروانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں سے متعلق اپوزیشن کے سوالوں کا جواب نہیں دیا ہے۔
اپنی ایک گھنٹہ 40 منٹ طویل تقریر میں انھوں نے پاکستان سے زیادہ اپوزیشن جماعت کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ’کانگریس پاکستان کی ترجمان بن چکی ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا میں دہشت گردی اور پاکستان اور چین سے متعلق سارے مسائل نہرو، اندرا گاندھی اور منموہن سنگھ کی کمزور اور غیر دانشمندانہ پالیسیوں کے سبب پیدا ہوئے۔
اگرچہ انھوں نے اہم سوالوں کا جواب دینے سے تو گریز کیا مگر ’آپریشن سندور‘ میں اپنے ملک کی فوجی کامیابیوں سے متعلق بہت سے پرانے دعوؤں کو دہرایا اور چند نئے دعوے بھی کیے۔