Thursday, 17 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*






خبردار اب سموسہ، جلیبی، لڈو بھی سگریٹ‌ کی طرح مضر صحت قرار، انتباہ جاری
صرف سگریٹ ہی نہیں بلکہ اب سموسہ جلیبی لڈو بھی صحت کے لیے مضر قرار دے دیے گئے ہیں اور وزارت صحت نے انتباہ جاری کیا ہے۔

ہمارے خطہ میں میٹھا اور تیکھا ہر ایک کو بھاتا ہے۔ سموسہ جہاں دستر خوان کی شان بڑھاتا اور بھوک مٹاتا ہے۔ وہیں جلیبی اور لڈو جیسی مٹھائی کے ذریعہ لوگ ایک دوسرے سے خوشیاں بانٹتے ہیں۔ تاہم اب ان کھانے پینے کی ہر دلعزیز اشیا کو بھی مضر صحت قرار دے دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی وزارت صحت نے سموسے، جلیبی اور لڈو جیسی اشیا کو بھی انسانی صحت کے لیے مضر قرار دیا ہے اور ایمس سمیت کئی مرکزی اداروں کو سگریٹ کی ڈبیہ کی طرح انتباہی نوٹس اور وارننگ سائن لگانے کا حکم دیا ہے ، جس میں واضح لکھا ہو کہ روز ناشتہ میں یہ چیزیں کھانے سے کتنا چھپا ہوا فیٹ اور شوگر انسانی جسم میں جا رہا ہے۔حکومت جنگ فوڈ کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے جا رہی ہے اور اب سموسے، جلیبی اور دیگر میٹھے پر مبنی ناشتہ سگریٹ کی طرح وارننگ کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ یہ پہلی بار ہوگا جب جنک فوڈ پر تمباکو جیسی وارننگ دی جائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں بچوں میں موٹاپا اور نوجوانوں میں ضرورت سے زیادہ وزن کا معاملہ سنگین طور پر بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث مرکزی وزارت صحت نے ایسے وارننگ سائن لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جلد ہی کیفے اور دیگر عوامی مقامات پر بھی وارننگ لگائی جائیں گی۔

وزارت صحت کے جاری اعداد وشمار میں بھی کہا گیا ہے کہ سال 2050 تک تقریباً 44.9 کروڑ ہندوستانی موٹاپے یا زیادہ وزن کے شکار ہو سکتے ہیں اور بھارت دوسرا سب سے بڑا موٹاپے کا مرکز بنا سکتا ہے

دوسری جانب وزارت صحت کی مضر صحت کھانوں کی فہرست میں صرف سموسہ، جلیبی، لڈو ہی نہیں بلکہ بڑا پاؤ اور پکوڑا سمیت کئی دیگر پکوان شامل ہیں، جس کو شہری ذوق وشوق سے کھاتے ہیں۔

ایمس ناگپور کے افسروں کے مطابق یہ قدم اب تک کا سب سے اہم قدم ہے جس کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ چینی اور ٹرانس فیٹس اب تمباکو کے برابر ہی جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔












پٹنہ کے پارس اسپتال میں قیدی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، طبیعت خراب ہونے پرعلاج کے لیے پہنچے تھے اسپتال
پٹنہ: بہار کی راجدھانی پٹنہ کے پارس اسپتال میں جمعرات کی صبح ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے اسپتال کے احاطے میں افراتفری مچ گئی۔ بتایا جارہا ہے کہ متاثرہ بیور جیل سے علاج کے لیے اسپتال پہنچے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔

گولی لگنے والے شخص کی شناخت چندن مشرا کے طور پر کی گئی ہے جو بکسر ضلع کا رہنے والا تھا۔ جانکاری کے مطابق چندن مشرا اس وقت قتل کے ایک معاملے میں بیور جیل میں بند تھے اور طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے علاج کے لیے پارس اسپتال آئے تھے۔ واقعہ کے وقت چندن مشرا آئی سی یو میں زیر علاج تھے۔ گولی لگنے سے اس کی موت ہو گئی۔مجرموں کی تعداد 5 ہوگئی
عینی شاہدین کے مطابق پانچ مجرم چندن مشرا کو گولی مارنے کے لیے اسپتال میں داخل ہوئے اور ان سب کے پاس پستول تھے۔ واردات کو انجام دینے کے بعد تمام ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی نے کہا کہ حریف مجرم گروپ سے فائرنگ کا امکان ہے۔

گھر والوں میں خوف و ہراس پولیس ذرائع کے مطابق چندن مشرا کی مجرمانہ تاریخ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ پہلے مجرم تھا لیکن کچھ عرصے سے بلڈر کا کام کر رہا تھا۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر راجدھانی میں امن و امان پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور مجرموں کی تلاش میں چھاپے مار رہے ہیں۔ اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو سکین کیا جا رہا ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت ہو سکے۔ اس واقعہ سے اسپتال میں داخل مریضوں اور ان کے لواحقین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔










پہلگام حملے کے دہشت گردوں کی شناخت ہو گئی، جلد پکڑے جائیں گے: منوج سنہا -
نئی دہلی: جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ وادی کشمیر میں امن و امان کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پہلگام حملے کے بعد پاکستان کو آپریشن سندور کے ذریعے منہ توڑ جواب دیا گیا۔ اس حملے میں ملوث دہشت گردوں کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں جلد پکڑ لیا جائے گا۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جمعرات کی شام دیر گئے دہلی میں 30 جنوری مارگ پر واقع گاندھی اسمرتی میں 'جموں و کشمیر-امن کی طرف' پر لیکچر دے رہے تھے۔ پروگرام کی صدارت سابق مرکزی وزیر اور گاندھی اسمرتی کے نائب صدر وجے گوئل نے کی۔ لیکچر سے قبل انہوں نے یہاں گاندھی آرٹ گیلری کا بھی افتتاح کیا۔

اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ جموں کشمیر آج امن کی راہ پر گامزن ہے۔ مقامی انتظامیہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں سے ہم جموں کشمیر کو گاندھی کے خوابوں کی ریاست بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔سنہا نے کہا کہ 2019 میں آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر نے مختصر وقت میں جامع ترقی دیکھی ہے۔ وہاں 1.5 لاکھ کروڑ روپے کی شاہراہیں بنائی گئی ہیں۔ 5000 سے زائد ہوٹل کھلے ہیں۔ 1013 نئے سٹارٹ اپس شروع کیے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی قیادت مقامی خواتین کر رہی ہیں۔ کشمیر اب تیزی سے ترقی پر گامزن ہے۔ حکومت ہند کی تمام اسکیمیں کشمیر کے آخری فرد تک پہنچ رہی ہیں۔ پتھراؤ جو پہلے یہاں پہلے ہونے والی 'پتھربازی' اب ماضی کی باتیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن کے اندیشوں کے باوجود کہیں سے ایک بھی گولی نہیں چلی۔ اگرچہ کچھ لوگ وادی کے اس بدلے ہوئے ماحول کو پسند نہیں کر رہے ہیں، لیکن وزیر اعظم مودی کی تحریک سے ریاست میں بغیر کسی تفریق کے 'سب کا ساتھ اور سب کا وکاس' کی کہانی لکھی جا رہی ہے۔

لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ستائش
اس موقعے پر وجے گوئل نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی وادی میں امن بحال کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ قومی یکجہتی کی طرف ایک تاریخی اور فیصلہ کن قدم ہے جس کی وجہ سے وادی کشمیر جو برسوں سے بدامنی اور علیحدگی پسندی کا مرکز تھی، اب امن، انفراسٹرکچر، گڈ گورننس، کنیکٹیویٹی، سیاحت، تعلیم، صحت خدمات اور مجموعی ترقی میں نمایاں بہتری دیکھ رہی ہے۔ گاندھی اور کشمیر کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے گوئل نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے فسادات کے وقت بھی کشمیر میں امن کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ جموں و کشمیر امن کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ گاندھی اسمرتی میں ہم نے آج سے گاندھی آرٹ گیلری کا افتتاح کیا ہے۔ اس کے ذریعے اچھے فنکاروں کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے فنکاروں کو فنی اظہار کا ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جائے گا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...