Wednesday, 30 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر *

روس، جاپان اور ہوائی میں سونامی کی تباہ کاریاں، بندرگاہوں کو نقصان، عمارتیں منہدم، لوگوں کی بڑے
روس کے کام چٹکا جزیرہ نما پر شدید زلزلہ نے تباہی کا منظر پیدا کر دیا ہے۔ زبردست سونامی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ کئی ملکوں میں سونامی کی لہریں ساحلوں سے ٹکرا چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سونامی کی یہ لہریں 4 میٹر تک ہو سکتی ہیں۔ سونامی لہریں پہلے ہی روس کے کُریل جزائر گروپ اور جاپان کے شمالی جزیرہ ہوکائیڈو کے کچھ حصوں تک پہنچ چکی ہیں۔ جاپان اور روس کے ساحلی علاقوں میں ان لہروں کے ٹکرانے سے شدید نقصان ہوا ہے۔

زلزلہ کے جھٹکوں کے فوراً بعد جاپان اور روس کے کئی حصوں میں سونامی کا الرٹ جاری کر دیا گیا تھا۔ جاپان کی قومی نشریاتی ایجنسی این ایچ کے نے وارننگ دی ہے کہ بڑی لہریں ابھی اور آ سکتی ہیں۔ جاپان کے محکمہ موسمیات (جے ایم اے) نے بتایا کہ شمالی اور مشرقی علاقوں میں خاص کر ہوکائیدو سے لے کر واکایاما (اوساکا کے قریب) تک تین میٹر تک اونچی لہریں اٹھ سکتی ہیں۔

جاپان کی بی این او نیوز کے مطابق جاپان کے ساحل پر چار وہیل بہہ کر آ گئیِ جس سے سمندری زندگی پر اثر پڑا ہے۔ رائٹرس کے مطابق کچھ مقامات پر سونامی کی لہریں 4 میٹر تک اونچی تھیں، جس سے بندر گاہوں اور ساحلی علاقوں کی عمارتوں کو نقصان ہوا ہے۔ سوشل میڈیا میں وائرل ہو رہے ویڈیو میں روس کے ساحلی علاقوں میں عمارتوں کو زیر آب دیکھا گیا۔

زلزلہ کے بعد روس کے شمالی کُریل جزیرہ میں سیلاب آ گیا ہے، جس سے کئی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ علاقے میں رہنے والے سبھی لوگوں کو محفوظ طور پر نکال لیا گیا ہے۔ یہاں 15 فٹ تک اونچی سونامی لہریں دیکھی گئی ہیں۔ کُریل کے میئر الیکژنڈر اوسیانیکوف نے افسروں کے ساتھ ایمرجنسی میٹنگ کرنے اور ریسکیو آپریشن چلانے کا حکم دیا ہے۔

روس اور جاپان دونوں ہی ملکوں کے ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ کام چاٹکا کے گورنر ولادیمیر سولودوف نے ویڈیو پیغام میں بتایا، ’’آج کا زلزلہ دہائیوں میں سب سے طاقتور تھا۔‘‘

روس میں آئے زلزلہ کے بعد سونامی کی لہروں کا اثر اب ہوائی جزیرہ گروپ پر جلد ہی دکھنے والا ہے۔ ہوائی کے گورنر جاش گرین نے بتایا کہ مڈوے ایٹول سے حاصل شدہ ڈاٹا کے مطابق سونامی کی لہریں چوٹی سے نیچے تک 6 فٹ (1.8 میٹر) پیمائش کی گئی ہیں۔ گرین نے ایک پریس کانفرنس میں صاف کیا کہ ہوائی سے ٹکرانے والی لہریں اس سے بڑی یا چھوٹی بھی ہو سکتی ہیں اور اس سائز کی سونامی کاروں کو ہلا سکتی ہیں اور باڑ کو بھی اڑا سکتی ہیں۔ لوگوں کو چوکس رہنے اور سبھی ہدایت پر عمل کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ یو ایس جیولاجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق روس میں آیا زلزلہ اب تک درج کیے گئے چھ سب سے بڑے زلزلوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مرکز روس کے پیترو پاؤلوسک کامچاتسکی شہر سے تقریباً 125 کلومیٹر مشرق-جنوب مشرق اور سمندر کی سطح سے 19 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
لاڈلی بہن اسکیم میں4؍ ہزار 800؍ کروڑ روپے کا گھوٹالہ



مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں اہم رول ادا کرنے والی مہایوتی کی ’چیف منسٹر ماجھی لاڈکی بہین یوجنا‘ (لاڈلی بہن اسکیم ) سےمتعلق نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار)کی قومی کارگزار صدر سپریا سلے نے سنگین الزام عائد کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس اسکیم میں تقریباً4؍ ہزار 800 کروڑ روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ ۱۴؍ ہزار سے زیادہ مرد حضرات نے بھی اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا ہے ۔
  نئی دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپریا سلے نے مطالبہ کیا کہ اس گھوٹالے کیلئے پوری ریاستی حکومت ذمہ دار ہے اور اس کی ایس آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات کروائی جانی چاہئے۔سپریا سلے نے کہا کہ والدین کے بعد بہن بھائی کا رشتہ سب سے مقدس ہوتا ہے لیکن مہاراشٹر حکومت نے اس رشتے کی بھی بے عزتی کی ہے۔ لاڈلی بہن اسکیم میں4؍ ہزار 800کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس اسکیم پر ایک وائٹ پیپر جاری کرے، پورے لین دین کا آڈٹ کروائے اور معاملے کی ایس آئی ٹی جانچ کرے۔ یہ تفتیش انتہائی شفاف طریقے سے ہونی چاہئے۔ اگر حکومت اس معاملے کی تحقیقات نہیں کرتی ہے تو ہم اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے اور مرکز سے اس اسکیم کی تحقیقات پر اصرار کریں گے۔ 
 این سی پی کی قومی کارگزار صدر نے کہا کہ ریاستی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق ریاست کی۲؍کروڑ۳۸؍ لاکھ خواتین کو اس اسکیم کا فائدہ فراہم کیا گیا ہے۔ ان میں سے۲۶؍ لاکھ یعنی۱۰؍فیصد کو اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد نااہل قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سرکاری(خاتون) ملازمین نے بھی اسکیم سے استفادہ کیا تھا۔
سپریہ سلے نے متعدد سوالا ت اٹھائے
 سپریاسلے نے لاڈلی بہن اسکیم سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’ کالج میں کم نمبروں کی وجہ سے طلبہ کے فارم مسترد کر دیئے جاتے ہیں۔ انشورنس اسکیموں کیلئے درخواست میں کوئی غلطی ہو جائے تو کسانوں کی عرضی کو بھی مسترد کردیا جاتا ہے۔ لاڈلی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے دستاویز طلب کئے گئے تھےجیسے آدھار کارڈ، بینک کی تفصیلات وغیرہ ۔ تو ان مردوں کے کھاتوں میں پیسہ کیسے آیا؟ لاڈلی بہن اسکیم میں مردوں کی طرف سے بھری گئی درخواستیں منسوخ کیوں نہیں کی گئیں؟ ڈیجیٹل انڈیا کی ٹیکنالوجی میں یہ غلطی کیسے ہوئی؟ یہ اسکیم اسمبلی انتخابات سے۳؍ماہ قبل متعارف کروائی گئی تھی۔ شروع میں سب کو وظیفے دیئے گئے اس کے بعد چھٹنی ہوئی تو انہیں (مردوں کو)ابھی تک نااہل کیوں کیا گیا؟ سپریا نے کہا کہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کا محکمہ خواتین بہترین ہے تو اتنے بڑے پیمانے پر کرپشن کیسے ہوا؟ اگر اس اسکیم کے نفاذ میں غلط طریقے استعمال کئے گئے تو اسکی ذمہ دار پوری حکومت ہے۔ میں ادیتی تٹکرے پر الزام نہیں لگاؤں گی لیکن اس اسکیم کو لاگو کرنے میں جو وزیر اور نائب وزیر اعلیٰ نے اس کی قیادت کی ہے انہیں اس کی ذمہ داری لینا ہوگی۔
*ہم اپنی گھریلو زندگی کو خوشگوار کیسے بنائیں ؟*
 *از قلم: مولانا ریحان رئیس ندوی

ہر ذی مرد و عورت کی یہ فطری تمنا ہوتی ہے کہ اس کی ازدواجی زندگی محبت، سکون، عزت اور وقار سے بھرپور ہو اور اس کی گھریلو زندگی راحت و عافیت کے ساتھ گزرے ۔ اسے ایسا گھریلو ماحول میسر ہو جہاں دلوں کو سکون ملے، روح کو چین نصیب ہو، اور نسلیں نکھر کر پروان چڑھیں۔لیکن جب انسان عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے، تو اکثر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی راہ میں مشکلات اور پریشانیاں حائل ہوتی جا رہی ہیں۔ ہر نیا دن ایک نئی الجھن، ایک نئی بے چینی اور ایک نئی آزمائش لے کر آتا ہے۔ انسان سکون کا متلاشی ہوتا ہے، مگر اس کا ہر قدم اضطراب کی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ایسے حالات میں اگر ازدواجی جوڑے اور آفراد خانہ قرآنِ کریم، سنتِ نبوی ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی تعلیمات اور عملی ہدایات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تو یقیناً ازدواجی اور گھریلو زندگی کی خوشگواریاں ہمارا مقدر بن سکتی ہیں۔ شریعتِ مطہرہ نے زندگی کے ہر گوشے خصوصاً معاشرت سے متعلق نہایت اہم  ہدایات عطا فرمائی ہیں، جن پر عمل کر کے نہ صرف ازدواجی زندگی بلکہ خاندانی نظام کو خوشگوار بنایا جا سکتا ہے، اور ایک مضبوط، صالح اور باوقار سماجی نظام بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ مگر افسوس! آج ہم نے اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات سے کاٹ کر خود ساختہ نظریات، جذباتی فیصلوں اور دنیاوی مفادات کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ازدواجی رشتوں میں دراڑیں آ گئیں، گھریلو جھگڑوں میں اضافہ ہوا، رشتہ کمزور پڑ گیا، اور بیزاری کا ماحول جنم لینے لگا۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے الزام تراشی، مقابلہ بازی اور انا کی جنگ میں مصروف ہو گئے ہیں۔ایسے نازک حالات میں اصلاح اور تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں، نرمی، برداشت، محبت اور عفو و درگزر کو فروغ دیں، اور سب سے بڑھ کر اپنے طرزِ زندگی کو شریعت کے نور سے منور کریں تو عجب نہیں خوشیاں، محبتیں اور کامیابیاں ہمارے قدم نہ چومیں۔اسی مقصد کے تحت شہر مالیگاؤں کے معزز علمائے کرام اور صفا فاؤنڈیشن کے فعال اراکین کی جانب سے"خوشگوار ازدواجی زندگی اور خوشحال خاندانی نظام"کے عنوان سے شہر کے مختلف علاقوں میں اصلاحی و تربیتی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی اس طرح کے پروگرام میں شریک ہوں؛ اپنے اہلِ خانہ، احباب اور متعلقین کو بھی شرکت کی دعوت دیں؛اور ان پروگراموں میں پیش کیے گئے سنہری اصولوں اور مفید نکات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یقین جانئے! جب ازدواجی اور گھریلو زندگی کا یہ سفر دین کی روشنی میں طے کیا جائے گا، تو ہر گھر سکون کا، ہر خاندان اتحاد و اتفاق کا، اور ہر رشتہ محبت کا گہوارہ بن جائے گا۔
نوٹ : خوشگوار ازدواجی زندگی اور خوشحال خاندانی نظام کے عنوان سے اگلا تربیتی پروگرام مورخہ 4 اگست بروز پیر بعد نماز عشاء فورا قاسمیہ مسجد نیا اسلام پورہ میں منعقد کیا جائے گا انشاءاللہ! پروگرام کی تفصیلات جلد ہی اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام کی جائیں گی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...