Saturday, 26 July 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*






ایک چرواہے کی اطلاع نے دشمن کے ناپاک ارادوں کو بےنقاب کیا! کارگل کی وہ جنگ جو تاریخ بن گئی
ہر سال کی طرح اس بار بھی سردی تو تھی، لیکن وادیوں میں کچھ انوکھا اور خطرناک چل رہا تھا۔ سرحد پار سے کچھ اجنبی چہرے داخل ہو رہے تھے، جن کے ہاتھوں میں جدید ہتھیار اور کندھوں پر بھاری بھرکم بیگ تھے۔ یہ خوفناک نظر آنے والے افراد کارگل کی بلند چوٹیوں پر قبضہ جمانے کی کوشش میں تھے۔ انہوں نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے مارٹر، راکٹ لانچر جیسے ہتھیار جمع کر رکھے تھے۔

3 مئی 1999 – بھیڑوں کے چرواہے نے دیکھی حقیقتسردیاں گزرتے ہی برف پگھلنے لگی اور چرواہے اپنے مویشیوں کے ساتھ واپس پہاڑوں کا رخ کرنے لگے۔ 3 مئی 1999 کو ایک یاک وانجو ٹاپ تک بھٹک کر پہنچ گیا۔ جب چرواہا تاشی نامگیال اسے ڈھونڈنے پہنچا تو اس کی نظر ان اجنبی چہروں پر پڑی۔ تاشی نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ معمولی لوگ نہیں بلکہ خطرناک اور ہتھیاروں سے لیس درانداز ہیں۔

تاشی کی خبر اور پہلا فوجی قدم
تاشی فوراً کارگل سیکٹر کے وانجو ہیڈکوارٹر پہنچا اور وہاں موجود فوجی افسران کو پوری کہانی سنائی۔ افسران فوراً چوکنے ہو گئے۔ 5 مئی 1999 کو کیپٹن سوربھ کالیہ کی قیادت میں ایک فوجی ٹیم کو وانجو ٹاپ روانہ کیا گیا۔ ان کا مقصد ان دراندازوں کی حقیقت جاننا تھا۔ کیپٹن سوربھ نے دور سے ہی دیکھ کر سمجھ لیا کہ یہ عام دہشت گرد نہیں بلکہ پاکستانی فوجی ہیں۔ لیکن جب کافی دیر تک کیپٹن سوربھ اور ان کے پانچ ساتھی واپس نہیں لوٹے، تو فوج کو شک ہوا اور مزید فوجی ٹیمیں روانہ کی گئیں۔ جب ان ٹیموں کا دراندازوں سے سامنا ہوا تو پتا چلا کہ یہ پیشہ ور تربیت یافتہ پاکستانی فوجی ہیں، جنہوں نے مختلف چوٹیوں پر قبضہ جما لیا تھا۔

پاکستان کا بزدل چہرہ بے نقاب
مڈبھیڑ میں واضح ہو گیا کہ یہ پاکستانی فوجی اور نیم فوجی دستے ہیں جو ایک منصوبہ بند اور ناپاک ارادے کے تحت کارگل میں داخل ہوئے ہیں۔اس انکشاف نے بھارتی افسران کو حیران کر دیا۔ فوری طور پر بھارتی فضائیہ اور زمینی افواج کو متحرک کیا گیا۔ 18 مئی 1999 کو بھارتی فوج نے پوائنٹ 4295 اور 4460 پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور کئی درانداز مارے گئے۔ ان کے پاس سے ملے دستاویزات نے ثابت کر دیا کہ یہ پاکستانی فوجی تھے جنہیں چھپ کر جنگ چھیڑنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔آپریشن وجے اور سفید ساگر کی شروعات
پاکستان کے منصوبے بھانپتے ہی بھارتی فوج اور فضائیہ نے ایک مکمل حکمت عملی تیار کی۔ 26 مئی 1999 کو بھارتی فضائیہ نے آپریشن سفید ساگر شروع کیا\ اور دشمن کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے کیے گئے۔ اسی دن بھارتی فوج نے آپریشن وجے شروع کیاجس کا مقصد دشمن کو مکمل طور پر نکال دینا تھا۔

دشمن نے تولولنگ کو بنایا ہدف
دشمن نے بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کر دی اور تولولنگ کی بلندیوں سے نیشنل ہائی وے 1A پر حملے شروع کر دیے۔ اس لیے تولولنگ کو آزاد کرانا نہایت ضروری ہو گیا۔ ساتھ ہی، مشکوہ وادی اور کاکسر جیسے اسٹریٹیجک علاقوں میں بھی فوج نے کارروائیاں تیز کر دیں۔

کارگل جنگ کا اختتام کیسے ہوا؟
یہ آپریشن 3 انفنٹری ڈویژن نے شروع کیا۔ جلد ہی کشمیر میں سرگرم 8 ماؤنٹین ڈویژن کو بھی شامل کیا گیا۔ بٹالک اور کاکسر کا محاذ 3 انفنٹری ڈویژن کے حوالے کیا گیا دراﺱ اور مشکوہ کا کنٹرول 8 ماؤنٹین ڈویژن نے سنبھالا اس میں اضافی فوج، توپ خانے اور انجینئرنگ یونٹس بھی شامل کی گئیں۔13 جون سے 26 جولائی 1999 – فتح کی داستان
13 جون 1999 کو بھارتی فوج نے تولولنگ اور پوائنٹ 4590 پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا۔ اس کے بعد پوائنٹ 5410، پوائنٹ 4700، بلیک راک، تھری پمپل، پوائنٹ 5000، پوائنٹ 5287، ٹائیگر ہل، پوائنٹ 4875 اور زولو سپر کمپلیکس ایک ایک کر کے دشمن سے چھین لیے گئے۔بھارتی سپاہیوں نے دن رات محنت اور قربانی سے 26 جولائی 1999 تک تمام پہاڑی چوٹیاں واپس حاصل کر لیں۔ اسی دن کارگل جنگ کا باضابطہ اختتام ہوا اور بھارت نے فتح کا پرچم دوبارہ بلند کر دیا۔















ایک طرف ڈانٹ، دوسری طرف دباؤ، پاکستان کی مشکل سفارتی پوزیشن بے نقاب!
اسلام آباد: پاکستان ایک بار پھر امریکہ اور چین کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس بار اس کا انداز کچھ مختلف ہے۔ پاکستان کی حکومت اور فوج دونوں ایک ساتھ دو مخالف عالمی طاقتوں سے اپنے تعلقات مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ بھارت اس تمام صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔

اچانک چین روانگی، طے شدہ دورے منسوخ
پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اپنی طے شدہ سری لنکا اور انڈونیشیا کی سفارتی یاترا منسوخ کر دی اور اچانک چین پہنچ گئے، جہاں انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور فوجی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اسی وقت، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکہ کے دورے پر تھے، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔ پاکستان چاہتا تھا کہ دنیا کے دونوں بڑے دھڑے اسے اپنا قریبی اتحادی مانیں، لیکن حقیقت میں چین سے جھڑکیاں اور امریکہ سے نرم لہجہ مل رہا ہے، جس سے پاکستان عجیب کشمکش میں پھنس گیا ہے۔بیجنگ میں پاکستان کو جھاڑ
بیجنگ میں ہونے والی بات چیت میں چین نے پاکستان کو دو ٹوک وارننگ دی۔ چینی حکام نے کہا کہ پاکستان میں کام کر رہے چینی شہریوں، کمپنیوں اور منصوبوں کی مکمل سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، خاص طور پر CPEC جیسے اہم پروجیکٹس میں۔امریکہ میں نرم انداز، لیکن بے بسی بھی
دوسری جانب، امریکہ میں پاکستان کی کوششیں کچھ اور پیغام دے رہی ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی حکام سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان دونوں ممالک سے بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک اہم تجارتی معاہدہ قریب ہے۔TRF پر دباؤ، دوہرا مؤقف
تاہم، اسی دوران اسحاق ڈار کو TRF (دی ریزسٹنس فرنٹ) پر امریکی پابندی کا استقبال بھی کرنا پڑا۔ ڈار نے کہا کہ انہیں TRF کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر کوئی اعتراض نہیں،لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ TRF کو لشکرِ طیبہ سے جوڑنا “غلط” ہے اور پاکستان صرف پختہ ثبوت ملنے پر ہی کارروائی کرے گا۔ یہ بیان امریکہ کو بھی ناراض کر سکتا ہے، کیونکہ 17 جولائی کو TRF پر پابندی عائد کرتے وقتامریکہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ اس تنظیم کا تعلق لشکرِ طیبہ سے ہے۔














مالدیپ کے صدر معیزو نے بدلا مؤقف :’’انڈیا آؤٹ‘‘ سے ’’انڈیا ان‘‘ تک کی سفارتی کہانی
محمد معیزو کا ’’انڈیا آؤٹ‘‘ سے ’’انڈیا ان‘‘ کی طرف یو ٹرن
مالدیپ کے صدر محمد معیزو 2023 کے انتخابات سے قبل ’’انڈیا آؤٹ‘‘ مہم کے نمایاں چہرے بنے، جس کے ذریعے انہوں نے اپنے ملک میں بھارتی فوجی موجودگی پر تنقید کی اور چین کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کا اشارہ دیا۔ وہ اس بیانیے کے ساتھ برسرِاقتدار آئے۔ لیکن 2025 میں حالات نے کروٹ بدلی ہے، اب وہی معیزو، بھارت کو مالدیپ کا سب سے قابل اعتماد دوست قرار دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اور چین کو اس دوستی پر اعتراض کیوں نہیں ہے؟معیزو کا بدلا ہوا مؤقف
کبھی بھارت مخالف بیانوں پر الیکشن جیتنے والے معیزو نے حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مالدیپ کے دوران بھرپور گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔ اس دورے میں بھارت اور مالدیپ کے درمیان 8 بڑے معاہدے ہوئے، جن میں دفاع، تجارت، ڈیجیٹل تعاون اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات شامل تھے۔

بھارت نے مالدیپ کو 4,850 کروڑ روپے کی لائن آف کریڈٹ دی، جو وہاں کی معاشی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مددگار ہوگی۔ معیزو نے نہ صرف فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) پر بات چیت کی پیشکش کی بلکہ بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت کو مالدیپ کی ترقی کا ضامن بھی قرار دیا۔

چین کا ردعمل : اعتراض نہیں بلکہ حکمتِ عملی

یہ سوال بھی اہم ہے کہ چین، جس کے قریب معیزو پہلے سمجھے جاتے تھے، اب بھارت سے بڑھتی ہوئی دوستی پر خاموش کیوں ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کو اب اس اتحاد پر اعتراض نہیں کیونکہ:

چین اور بھارت کے تعلقات میں پچھلے کچھ عرصے سے بہتری کے آثار ہیں، خاص طور پر گلوان وادی کے تنازع کے بعد۔

چینی صدر شی جن پنگ ’’RIC‘‘ یعنی روس-انڈیا-چین کے سہ فریقی اتحاد کو پھر سے فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چین جانتا ہے کہ بھارت کو مکمل نظرانداز کرنا عملی طور پر ممکن نہیں، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں۔

بھارت کی طرف سے دی گئی لائن آف کریڈٹ کو چین BRI (بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو) کے مخالف منصوبے کے طور پر نہیں دیکھتا کیونکہ یہ فوجی نہیں بلکہ ترقیاتی شراکت داری ہے۔

بھارت کی اسٹریٹجک پالیسی کا اثر
بھارت نے کورونا کے دوران ’’فرسٹ ریسپانڈر‘‘ کے طور پر مالدیپ کی فوری مدد کی، سافٹ لونز، سوشل ہاؤسنگ، صحت اور ڈیجیٹل ترقی میں معاونت فراہم کی۔ اس کے برعکس چین کے وعدے محض بیانات تک محدود رہے۔

معیزو کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ بھارت کو الگ کرکے چین سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی دیرپا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ ’’انڈیا آؤٹ‘‘ کے بجائے ’’انڈیا ان‘‘ کے حامی بن گئے ہیں۔
 علاقائی سیاست کی نئی سمت

صدر معیزو کا بدلا ہوا مؤقف اور وزیراعظم مودی کا شاندار استقبال صرف ایک وقتی سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کی علامت ہے۔

یہ پیغام صرف چین کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے کہ بھارت کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار کی نگاہ سے دیکھنا زیادہ سودمند ہوگا۔



*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...