Thursday, 31 July 2025

مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں این آئی اے کورٹ کا فیصلہ، سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت سبھی 7 ملزمان بری

نئی دہلی: 17 سال کے لمبے انتظار کے بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز 2008 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر سمیت معاملے کے سبھی 7 ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ مالیگاؤں دھماکے کے بارے میں جج نے کہا کہ سرکاری ٹیم اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی کہ بم دھماکہ ہوا تھا۔ تاہم حکومتی فریق یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ دھماکہ بائیک میں ہوا تھا۔

ایکسپرٹس نے ثبوت اکٹھے نہیں کیے: جج

عدالت نے کہا کہ واقعے کے بعد ایکسپرٹس کی جانب سے ثبوت اکٹھے نہیں کیے گئے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں ہنگامہ آرائی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ مقامی لوگوں نے پولیس فورس پر حملہ کر دیا۔ عدالت نے فوجی افسر کرنل پرساد پروہت کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے سے پہلے لی گئی منظوری پر سوال اٹھایا ہے۔


عدالت نے کہا کہ اے ٹی ایس اور این آئی اے کی چارج شیٹ میں بہت فرق ہے۔ استغاثہ ثابت نہیں کر سکا کہ بم موٹر سائیکل میں تھا۔ پرساد پروہت کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس نے بم بنایا تھا یا سپلائی کیا تھا۔ یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ بم کس نے لگایا تھا۔ ایکسپرٹس نے واقعے کے بعد ثبوت اکٹھے نہیں کیے جس کی وجہ سے ثبوتوں میں گڑ بڑی ہوئی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ دھماکے کے بعد پنچنامہ درست نہیں کیا گیا، جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس نہیں لیے گئے اور موٹر سائیکل کا چیسس نمبر بھی کبھی ریکور نہیں ہوا۔ ساتھ ہی، وہ موٹر سائیکل سادھوی پرگیہ کے نام سے تھی، یہ بھی ثابت نہیں ہو پایا۔

کیا تھا سارا معاملہ

دراصل، 29 ستمبر 2008 کو مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے مالیگاؤں میں ایک بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 6 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ نماز ادا کرنے جا رہے تھے۔ بم دھماکے کے ایک دن بعد 30 ستمبر 2008 کو مالیگاؤں کے آزاد نگر تھانے میں کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

بم دھماکے سے کیسے جڑا پرگیہ کا نام

اس معاملے کی ابتدائی جانچ پولیس نے کی تھی، لیکن اس کے بعد پوری تفتیش اے ٹی ایس کے ہاتھ میں چلی گئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایل ایم ایل فریڈم کی موٹر سائیکل میں بم لگایا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے دھماکہ ہوا،لیکن موٹر سائیکل پر نمبر غلط لگا ہوا تھا۔ جب موٹر سائیکل کی جانچ شروع کی گئی تو دعویٰ کیا گیا کہ یہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے نام پر تھی۔ دھماکے کے تقریباً ایک ماہ بعد سادھوی پرگیہ سمیت 2 اور لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ اس معاملے میں کل 11 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

آپ کو بتا دیں کہ عدالت نے مالیگاؤں دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ کے طور پر دو دو لاکھ روپے دینے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ زخمیوں کو پچاس پچاس ہزار روپے دینے کا حکم دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...