نئی دہلی۔ ہندوستان کی ایرو اسپیس صنعت کو نئی بلندیوں تک لے جانے والی ایک بڑی شراکت داری ہوئی ہے۔ ۔ فرانس کی معروف دفاعی کمپنی Dassault Aviation اور بھارت کی Tata Advanced Systems Limited (TASL) نے Rafale لڑاکا طیاروں کی تیاری کے لیے پروڈکشن ٹرانسفر کے چار معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے تحت اب رافیل جیٹ کا پورڈھانچہ ہندوستان میں ہی تیار کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ملک کی دفاعی پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو عالمی ایرو اسپیس سپلائی چین میں ایک اہم کھلاڑی بنا سکتا ہے۔
اس شراکت داری کے تحت، Tata Advanced Systems حیدرآباد میں ایک جدید ترین پیداواری سہولت قائم کرے گا، جہاں Rafale طیارے کے اہم پرزےجیسے کہ پچھلے حصے کے لیٹرل شیل، پورا پچھلا حصہ، سنٹرل Fuselage اور اگلا حصہ تیار کیا جائے گا۔ Dassault Aviation نے اسٹاک ایکسچینج کو ایک بیان میں کہا، “یہ سہولت ہندوستان کے ایرو اسپیس انفراسٹرکچر میں ایک بڑی سرمایہ کاری ہے ۔ اس پلانٹ میں Fuselage پیداوار مالی سال 2028 سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ ابتدائی طور پر، دو مکمل Fuselage تیار کیے جا سکتے ہیں اور ہر ماہ اسمبلی لائن سے تیار ہوکر نکل سکتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب رافیل کا ڈھانچہ فرانس سے باہر تیار کیا جا رہا ہے۔ڈسالٹ ایوی ایشن کا بیان
Dassault Aviation کے چیئرمین اور CEO ایرک ٹریپیئر نے کہا، “فرانس سے باہر Rafale fuselages کی تیاری ہمارے لیے ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ یہ شراکت داری ہندوستان میں ہماری سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے بہت اہم ہے۔ Tata Advanced Systems جیسے مضبوط مقامی شراکت داروں کے تعاون سے، ہم نہ صرف پیداوار کو تیز کرنے کے قابل ہو جائیں گے، بلکہ ہماری عالمی توقعات کے معیار اور مقابلے کی توقعات بھی پوری ہوں گی۔ٹاٹا کا بیان
وہیں ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز لمیٹڈ کے سی ای او اور منیجنگ ڈائریکٹر سوکرن سنگھ نے کہا، “یہ شراکت داری ہندوستان کے ایرو اسپیس سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ ہندوستان میں پورے Rafale fuselages کی تیاری ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز کے صلاحیتوں پر اعتماد کا ثبوت ہے اور Dassault Avisec کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
حج 2025 میں سعودی عرب کی انقلابی AI ٹیکنالوجی
سعودی عرب میں حج کے دوران دنیا کے سب سے بڑے اجتماع کے موقع پر زبانوں اور ثقافتوں کا تنوع ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، جہاں 180 ممالک سے زائد کے دو ملین سے زیادہ عازمین جمع ہوتے ہیں۔ ایسے میں سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے حج میں مؤثر ابلاغ کو ممکن بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ترجمہ ٹولز کا انقلابی استعمال شروع کر دیا ہے۔
وزارت کے مطابق ’’سعودی عرب حج کے دوران ابلاغ کے اصولوں کو ازسرِ نو متعین کر رہا ہے، اور اس کا مرکز AI پر مبنی ترجمہ ہے، جو اس روحانی سفر کو زیادہ قابلِ رسائی اور جامع بنا رہا ہے۔‘‘اس سال عرفات کے خطبے کو بیک وقت 35 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا، جس سے ہر حاجی اور دنیا بھر کے کروڑوں ناظرین کو یکجہتی، رحم دلی اور ایمان کا پیغام اپنی زبان میں سننے کا موقع ملا۔
اسمارٹ حج: ان کی زبان میں اور ’منارہ‘ جیسے منصوبے:
اسمارٹ حج پروگرام اور ان کی زبان میں جیسی مہمات نے حج کے تمام مراحل پر کثیر اللسانی مدد کو یقینی بنایا ہے۔
‘‘نسک‘‘ ایپ کے ذریعے عازمین اپنی زبان میں راستہ تلاش کر سکتے ہیں، سوال پوچھ سکتے ہیں اور انتظامی و دینی خدمات سے براہِ راست مستفید ہو سکتے ہیں۔
’’منارہ‘‘ نامی آواز پر کام کرنے والا روبوٹ 11 زبانوں میں شرعی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
زمینی ٹیموں کو ایسے AI آلات فراہم کیے گئے ہیں جو آواز اور تصاویر دونوں کو سمجھ کر زائرین کے ساتھ ان کی زبان میں مؤثر رابطہ قائم کرتے ہیں۔ یہ اقدامات ہر حاجی کو محفوظ، باخبر اور خوش آمدید محسوس کرانے میں مدد دے رہے ہیں۔
ترجمہ صرف سہولت نہیں بلکہ روحانی پل ہے:
وزارت کے مطابق ترجمہ صرف ایک ٹیکنیکل فیچر نہیں بلکہ ایک روحانی پل ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے۔
مسجد الحرام میں قرآنِ پاک کے مترجم نسخے بھی بڑے پیمانے پر تقسیم کیے جا رہے ہیں تاکہ ہر زائر مقدس آیات پر اپنی زبان میں تدبر کر سکے۔ایمرجنسی اور صحت کے معاملات میں بھی AI کا کردار:
ایمرجنسی یا ہجوم کی صورتحال میں بھی AI پر مبنی ترجمہ زندگی بچانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ وزارت کے مطابق، فوری اور درست ترجمہ درجنوں زبانوں میں ممکن بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی حالت میں بروقت مدد دی جا سکے۔
ایمان اور ٹیکنالوجی کا امتزاج:
سعودی حکومت کے مطابق ’’حج کا تجربہ اب صرف لاجسٹکس کا چیلنج نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا موقع ہے جس سے روحانی تعلق مزید گہرا ہوتا ہے۔ جب زبانوں کو ملایا جاتا ہے تو دل بھی جڑتے ہیں۔‘‘
گزشتہ ماہ سعودی وزارتِ صحت نے عازمین حج کی صحت و فلاح کے لیے ایک آگاہی کٹ لانچ کی ہے۔ جب کہ 937 ہیلتھ کال سینٹر بھی اردو سمیت کئی زبانوں میں 24 گھنٹے دستیاب ہے۔
دہلی کے ساکیت کورٹ میں قتل کی وجہ سے سنسنی، لاک اپ میں قیدیوں کے دو گروپوں میں ہوئی تھی مارپیٹ
نئی دہلی۔ جمعرات کو دہلی کی ساکیت کورٹ میں قتل کی وجہ سے سنسنی پھیل گئی۔ لاک اپ میں قیدیوں کے دو گروپوں کے درمیان مار پیٹ ہوئی۔ دو قیدیوں کے درمیان مار پیٹ اس حد تک ہوئی کہ اس میں ایک قیدی کی موت ہو گئی۔ جیل نمبر 3 سے قیدیوں کو صبح سماعت کے لیے کورٹ لاک اپ میں لایا گیا تھا۔ اس دوران دو قیدیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ جس میں امان نامی قیدی زخمی ہوگیا۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی موت ہو گئی۔اس واقعہ نے عدالتوں کے حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
5 جون 2025 کو دہلی کی ساکیت کورٹ کے لاک اپ میں اس وقت افراتفری پھیل گئی جب قیدیوں کے دو گروپوں کے درمیان زبردست لڑائی شروع ہو گئی۔ اس تصادم میں زخمی ہونے والا ایک نوجوان امان اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔ مرنے والے کی شناخت امان ولد دھرمیندر (24) ساکن گووند پوری، دہلی کے طور پر کی گئی ہے۔ امان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 250/2017 سیکشن 307/34 آئی پی سی کے تحت مقدمہ درج تھا۔واقعہ کے وقت لاک اپ کے اندر کئی زیر سماعت قیدی (UTPs) موجود تھے۔ امن پر حملہ کرنے والوں کی شناخت جتیندر عرف جیتے ولد جگدیش اور جے دیو عرف بچا ولد لال چند کے طور پر ہوئی ہے۔ حملے کی وجہ پرانی دشمنی بتائی جارہی ہے۔دراصل، سال 2024 میں، جیتندر اور امان کے درمیان اس وقت لڑائی ہوئی تھی جب وہ جیل کے باہر تھے۔ اس وقت امان نے جتیندر اور اس کے بھائی پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔ اسی دشمنی کی وجہ سے منگل کے روز اسے کورٹ لاک اپ میں گلا دبا کر قتل کر دیا گیا۔ واقعہ کے بعد عدالت کے احاطے میں کہرام مچ گیا۔ فی الحال عدالتی لاک اپ خالی کر کے کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ اس واقعہ نے جیل اور عدالت کے احاطے کے حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔