Thursday, 5 June 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






ایسی بے شرمی اور بے غیرتی !

اتواریہ : شکیل رشید
سنسکاریوں کے ناموں کی اِن دنوں دیش بھر میں دھوم ہے ! ایک سے ایک کارنامے سامنے آ رہے ہیں ! ایسے کارنامے کہ کتّے تشویش میں مبتلا ہو جائیں ۔ مثال منوہر لال دھاکڑ کی لے لیں ، انہوں نے دہلی - ممبئی ہائی وے ایکسپریس پر جو کرتب دکھائے وہ ’ کتّا پِن ‘ کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے ۔ کتّے سوچ رہے ہوں گے کہ سڑکوں پر بغیر کسی کی پروا کیے ، ایسے کام تو ہم کیا کرتے تھے ، یہ ہم سے بھی آگے کون بڑھ گیا ! کتّوں کو پتا ہونا چاہیے کہ یہ دھاکڑ ہیں ، ایک سنسکاری ، اور تم بس نرے کتّے ۔ بی جے پی میں ایسے سنسکاریوں کی کوئی کمی نہیں ہے ، جس طرف دیکھو کوئی نہ کوئی سنسکاری نظر آ جائے گا ۔ بلقیس بانو کے مجرم انسانیت کے بھی مجرم تھے ، لیکن حکوت گجرات کو وہ سب کے سب سنسکاری نظر آ رہے تھے ، اسی لیے ان سب کو بری کرنے کا پورا منصوبہ تیار کر لیا گیا تھا ، بلکہ بری کر دیا گیا تھا ۔ لیکن سپریم کورٹ نے ان سب کو سنسکاری ماننے سے انکار کر دیا ، اور وہ واپس کال کوٹھری بھیج دیے گیے ۔ مگر وہ کہلاتے اب بھی سنسکاری ہیں ۔ سنسکاریوں کی ایک لمبی فہرست ہے ، جن کے خلاف خواتین سے چھیڑ چھاڑ ، ان سے بدتمیزی سے لے کر ریپ تک کے الزامات لگے ہیں ، مثلاً بی جے پی کا سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سنگر ، مکیش بورا ، سوم شیکھر اور فلاں فلاں ، کہاں تک گنوایا جائے ، فہرست بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ بات حال کی کرتے ہیں ۔ منوہر لال دھاکڑ کا ذکر اوپر آچکا ہے ، ویڈیو جو وائرل ہوئی ہے اس میں سب کچھ واضح ہے ، لیکن بے شرمی اور بے غیرتی کی حد دیکھیں کہ وہ جناب کہتے پھر رہے ہیں کہ ویڈیو ’ اے آئی ‘ سے بنایا گیا ہے ، انہیں بدنام کرنے کے لیے ۔ ایک ستّر سالہ بی جے پی لیڈر ہیں ببّن سنگھ ، بلیا کے ، ان کا ایک انتہائی شرم ناک ویڈیو وائرل ہوا ہے ، جس میں وہ اپنی پوتی یا نواسی کی عمر کی ایک ڈانسر کے ساتھ ’ ہاتھ چلا ‘ رہے ہیں ، لیکن انہوں نے بھی بے شرمی کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ یہ سازش ہے انہیں بدنام کرنے کی ۔ بی جے پی نے ملک بھر میں شاندار آفس بنوائے ہیں ، جن کا استعمال کرنے کا ایک طریقہ گونڈا کے بی جے پی لیڈر امر کشور کشیٗپ نے دکھا دیا ہے - ویڈیو کے ذریعے - کہ خاتون ورکر کو ، جب اور کوئی نہ ہو تو آفس لے جایا جا سکتا ہے ، کس لیے ؟ علاج کے لیے ۔ بے شرمی اور بے غیرتی کے یہ نمونے ہندوستان کی تہذیب اور تمدن کے نام پر دھبہ ہیں یا وہ بتا رہے ہیں کہ تہذیب تو یہی ہے ، یہ وہی جانیں ، لیکن ان کی حرکتیں جو بھی دیکھے گا وہ یہ کہے بِنا نہیں رہ سکے گا کہ یہ سب خواتین کی عزتوں کو تار تار کرنے اور ملک بھر کی کروڑوں خواتین کی توہین کرنے کے مرتکب بلکہ مجرم ہیں ۔ ایک تازہ تازہ سیکس اسکنڈل مین پوری سے آیا ہے ، بی جے پی کی ایک خاتون لیڈر کے بیٹے شبھم گپتا کا سیکس اسکنڈل ۔ اس کے 130 کے قریب ویڈیو منظر عام پر آئے ہیں ۔ افسوس تو یہ ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت جیسے آنکھیں موندے ہوئے ہے ، جیسے چھوٹ دیے ہوئے ہے کہ ملک کی خواتین کی توہین کیے جاؤ ۔ وزیر اور ڈپٹی وزیر تک خواتین کی عزتیں اچھال رہے ہیں ۔ ایم پی کے ایک وزیر جئے شاہ نے کرنل صوفیہ قریشی کو ’ آتنک وادیوں کی بہن ‘ کہا اور کرسی پر برقرار ہیں ۔ ایم پی ہی کے ڈپٹی وزیراعلیٰ جگدیش دیوڑا نے ساری فوج کو پی ایم مودی کے قدموں پر سرنگوں بتا دیا ۔ راجستھان کے ایک سنیئر بھاجپائی ایم پی رام چندر جانگڑا نے تو پہلگام دہشت گردی میں بیوہ ہونے والی عورتوں کو ’ بزدل ‘ بنادیا ! کیوں یہ سب اب تک بی جے پی سے نکالے نہیں گیے ؟ کیا اس لیے کہ بی جے پی کی قیادت ایسے ہی لوگوں کو چاہتی اور پسند کرتی ہے ؟ کیا کتّاپن ، بے شرمی اور بے غیرتی ہے !
________

🔴دو زین کہانیاں :-
⚫"تالیف و ترجمہ سلام بن رزاق ممبئی

  🎞️پیشکش و ٹائپنگ :- احمد نعیم (موت ڈاٹ کام مالیگاوں بھارت) 
 __________

*بخشو بھیا نے قربانی کی*

*طنز و مزاح : 🔴صابر گوہر*

ہانپتے کانپتے پسینے میں تر ایک ٹھیلہ گاڑی دھکیلتے بخشو بھیا گلی کے نکڑ پر وارد ہوئے۔ سانسیں مسلسل پھول رہی تھیں وہ ہانپ رہے تھے۔ ٹھیلہ گاڑی سے ٹیک لگا کر لمبی سانس چھوڑی اور اپنے ہاتھوں سے پیشانی کا پسینہ پونچھتے ہوئے لڑکوں کو آواز دی۔ بڑے لڑکے نے باہر نکل کر کہا۔ "ارے اتنا بڑا فریج کیوں لے آئے، بجلی کا بل تو پہلے ہی بھرنا دوبھر ہوتا ہے۔" بخشو بھیا ٹھیلہ گاڑی پر بندھے فریج کی رسیاں کھولتے ہوئے گیان پیلنے لگے۔ "وہ فریج چھوٹا پڑتا تھا۔ ورتلا کرکے بڑا لایا ہوں۔ اس کی کولنگ بھی بھناٹ ہے۔ پرانے والا فریج بار بار بگڑ جاتا تھا اسلئے کچھ رقم بڑھا کر دینا پڑا۔ دو سال کی گیارنٹی ہے لیکن سودا مہنگا نہیں ہے۔" منجھلے لڑکے نے گھر میں سے تولیہ نکال کر دیتے ہوئے کہا۔ "لو...ابا...پسینہ پونچھ لو۔ ٹرالی پر رکھوا دیتے خود ٹھیلہ گاڑی دھکیل کر لانے کی کیا ضرورت تھی؟ دیکھو تو کتنا ہانپ رہے ہو اور پسینہ تو ایسے بہہ رہا ہے جیسے کسی نے بالٹی بھر پانی ڈال دیا ہو۔" اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ "وہ پرانا فریج میرے سسرال والوں نے جہیز میں دیا تھا۔ کہیں تماشہ نہ کھڑا کردیں؟ تم بھی نہ ابا... کچھ بھی کرتے رہتے ہو۔" منجھلے لڑکے کی بات سن کر بخشو بھیا کھسیانے سے ہوکر بولے۔ "ابے تو کیا بیچ کر کھاگئے؟ اُس فریج سے بھاری کمپنی اور بڑی سائز کا لایا ہوں ناں....... چل گاڑی پر سے فریج نیچے اتارنے میں ہماری مددکر..... " تینوں باپ بیٹوں نے مل کر فریج اتارا اور اندر لیکر چلے گئے۔ فریج رکھنے کے بعد بڑے لڑکے نے بھی کہا۔ "ابا..... ٹرالی پر رکھوا دیتے۔"ابھی اس نے اپنی بات بھی پوری نہیں کی تھی کہ بخشو بھیا نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔" میں نے ٹرالی والے سے ہی بات کی تھی لیکن وہ چھوٹا فریج لےجانے اور بڑا لانے کا دیڑھ ہزار مانگ رہا تھا۔ میں جھک جھک بک بک کرکے 1200 تک دینے پر راضی ہوا لیکن جب وہ نہ مانا تو........ میں نے بھی گھر میں سے رسی نکالی، 50 روپیہ بھاڑا دیکر ٹھیلہ گاڑی لیا اور آگیا فریج....... " اس نے فاتحانہ انداز میں اپنے بچوں کی طرف دیکھا۔ جیسے ان سے شاباشی وصول کرنے کا تمنائی ہو۔ پھر خود ہی بول پڑا۔" اب کی قربانی کا جانور بہت جبراٹ ہے۔ کم سے کم پانچ من گوشت نکلے گا۔ اسلئے میں نے فریج بھی بڑا کرلیا ہے۔ مہینوں کی چھٹی ہوگئی۔" بخشو بھیا نے منجھلےکو فریج کے متعلق کچھ ضروری ہدایات دیں اور گھر سے نکل گئے۔ 

وہ سیدھا قصائی کے پاس پہنچے اور پہلے دن کی قربانی کے متعلق سودا کرنے لگے۔ چونکہ وہ قصائیوں کے درمیان رہا کرتے تھے اسلئے بے تکلفی سے گفتگو ہوئی۔ قصائی نے کہا۔" بخشو بھیا! میں نے تمہارا جانور دیکھا ہے۔ میں کیا تم تو سارے گاؤں کو بلا بلاکر دکھاتے رہے ہو۔ پچھلے سال سے دوہزار بڑھا کر دے دینا۔ بنادوں گا۔" اتنا سنتے ہی بخشو بھیا کے ہاتھ سے طوطے اڑ گئے۔ وہ بولے ایک ہزار بڑھا کر لے لینا لیکن قصائی نہیں مانا۔ ٹھیک ہے میں کسی اور سے بات کرتا ہوں کہہ کر بخشو بھیا آگے بڑھ گئے۔ وہ تقریباً نصف درجن قصائیوں کے پاس پہنچے لیکن کسی نے بھی ہاتھ دھرنے نہیں دیا۔ تھک ہار کر پھر وہیں پہنچے اور پندرہ سو بڑھا کر مزدوری ڈن کرلی۔ انہوں نے قصائی کو یاد دلایا۔ پہلے دن ذرا جلدی آجانا۔ اس نے کہا۔ "مجھے تمہارے پاس پڑوس میں ہی چار سلاٹر کرنا ہے۔ انہیں کے ساتھ تمہارا بھی سلٹا دونگا۔" بخشو بھیا خوشی خوشی انگلیوں پر حساب جوڑتے گھر واپس آگئے۔ 

صبح اٹھ کر قریب کی مسجد میں عیدالاضحیٰ کا دوگانہ پڑھا اور جانور کو آخری بار چارا پانی دینے لگے۔ آج انہوں نے کچھ جلیبی اور پھولوں کی دکان سے ایک ہار منگوا لیا تھا۔ اب وہ قصائی کا انتظار کرنے لگے۔ بے چینی سے پہلو بدلا اور موبائل فون سے قصائی کا نمبر ملانے لگے لیکن بندہ کال رسیو نہیں کررہا تھا۔ یکے بعد دیگرے کئی کال لگائی مگر بے سود۔ بار بار گلی کے کونے پر جاتے اور دونوں طرف جھانکتے کہ نجانے کس طرف سے قصائی وارد ہوجائے اور ناامید ہوکر لوٹ آتے۔ "سالا فون بھی نہیں اٹھا رہا ہے۔" کہتے ہوئے پھر موبائل فون نکالا اور کال ملانے لگے۔ اب دوسری طرف سے کال رسیو کی گئی اور کہا گیا بس تھوڑی دیر اور پھر تمہارا ہی نمبر ہے۔ "اچھا بھیا لیکن جلدی ہاں....." کہہ کر ڈسکنیکٹ کردیا۔ کچھ ہی دیر گذرنے کے بعد پھر بے چین ہوگئے۔" یار ابھی تک نہیں آیا۔" کہہ کر گلی کے نکڑ پر نظریں جمادیں۔ منجھلے لڑکے نے کہا۔ "ابا ابھی تک قصائی کیوں نہیں آیا۔ تم نے ٹھیک سے بات تو کی تھی ناں....." ہاں.... اس نے بولا تھا پاس پڑوس میں دو ایک جانور بنانے ہیں انہیں سلٹانے کے بعد آؤں گا۔" بخشو بھیا نے جز بز ہوکر منجھلے کو جواب دیا۔" ابا...... کسی دوسرے قریشی سے بات کرتے مزدوری تھوڑی زیادہ دیتے لیکن پہلے اپنا جانور ذبح کرواتے۔ پچھلے سال بھی ایسا ہی ہوا تھا۔"منجھلے نے بات جاری رکھتے کہا۔ بوٹی بناتے بناتے شام کے چار بج گئے تھے۔ پہلے دن کی قربانی کا مقصد ہی ختم ہوجاتا ہے۔" مزید کچھ انتظار کے بعد بالآخر قصائی آگیا۔ بخشو بھیا کی جان میں جان آئی۔ گھر کے سب لوگ جانور کے ارد گرد کھڑے ہوگئے۔ قصائی نے رسی لی اور جانور کی ٹانگوں میں پھندا دیا۔ وہ بِدک گیا۔ جھٹکے سے پھندے سے پاؤں نکالا اور زور زور سے ڈکرانے لگا۔ رسی پر سے قصائی کی گرفت ڈھیلی ہوئی اور گلی میں ہنگامہ مچ گیا۔ دوڑو دوڑو۔ پکڑو پکڑو۔ رسی ڈال۔ پھندہ مار۔ سینگ پکڑ۔ سامنے سے ہٹ۔ جیسے شور شرابہ میں بخشو بھیا کی حالت دیدنی تھی۔ وہ قصائی کے پیچھے سے جانور کو چمکار رہے تھے۔ قصائی کے ہمراہ آنے والے لڑکوں نے جلد ہی جانور کو قابو میں لے لیا اور پیروں میں پھندا ڈال کر جو کھینچا تو ڈکراتے ہوئے گرپڑا اس نے آنکھیں تان دی۔ اب اسے صحیح سمت دے کر بخشو بھیا نے جانور کے پہلو پر دایاں باؤں رکھا اور دعا پڑھنے کے بعد جیب سے چٹھی نکالی نام پڑھ کر چھری چلادی۔ قصائی نے چھرے کو ایک سلیا سے رگڑتے ہوئے اپنے ساتھ آئے لڑکوں کو ہدایت دی۔ اس کی کھال اتارو تب تک میں پڑوس سے آتا ہوں۔ بخشو بھیا نے سنا تو کہنے لگے۔ اے بھائی! ارے یار جلدی کرو ناں....... قصائی نے تڑ سے جواب دیا۔ میں پہلے ہی بول چکا ہوں، پہلے دن کام مشکل ہوتا ہے ایک ہی وقت میں کئی جانور سلٹانا ہوتے ہیں اور تم سے پہلے ان سے سودا کرچکا تھا، دو لڑکے تمہارے پاس چھوڑے جارہا ہوں۔ وہ کھال نکالیں گے اور چار ٹکڑے کردیں گے پھر میں بوٹی بناتا ہوں۔ تھوڑا صبر رکھو ہوجائیگا۔ کہتے ہوئے چل پڑا۔ 
ابھی قصائی گلی بھی پار نہیں کرپایا تھا کہ ماما کے لڑکے ایک بڑا سا تھیلا لیکر آگئے۔ "پھوپھا.... ابا نے گوشت منگوایا ہے۔" انہوں نے ان سے کہا۔ ابھی ابھی ذبح کیا ہوں۔ تھوڑا ٹھہرو.... بوٹی بن جانے دو پھر تھوڑی کلیجی، لوتھڑا، کچھ گوشت اور دو پایا لیکر چلے جانا۔ ابا کا سخاوتی بیان سن کر منجھلے لڑکے نے حیرت سے ماما کے لڑکوں کے ہاتھ میں بڑا سا تھیلا دیکھتے ہوئے عجیب نظروں سے باپ کی طرف دیکھا۔ ذہن کے کسی گوشے سے سوچ کی ایک لکیر ابھری۔ اس نے قربانی کے بعد پھینکی ہوئی مڑی تڑی چٹھی کو اٹھایا۔ اس پر باپ، ماں، بڑے بھائی کے ساتھ ہی بخشو بھیا کے ایک قریبی دوست اور دونوں ماما کے نام تھے۔
________________🔴

🎈غزل 

بغداد نہیں ، مصر نہیں ، شام نہیں ہے 
اک ایسی جگہ ہوں جہاں کہرام نہیں ہے 

سیّارہ ! عجب طیش میں آیا ہے دوبارہ !
اور دھیان رہے ! یہ کوئی الہام نہیں ہے 

تفتیش کرو مجھ سے مِرے خواب کے بارے 
معلوم کرو کیوں مجھے آرام نہیں ہے !

میں اُس کا گرفتارِ کشش ہوں تو بُرا کیا ؟
یہ بات مجھے فخر ہے الزام نہیں ہے ! 

ممکن ہے مِرے لوگ اُسے خواب میں سن لیں 
اک نام جو فی الحال مِرا نام نہیں ہے 

میں کر تو رہا ہوں تری دنیا کی حفاظت 
لیکن میں بتا دوں یہ مِرا کام نہیں ہے ! 

کچھ روز میں آباد کروں گا وہ ستارہ 
وہ سرخ ستارہ جو ابھی عام نہیں ہے !

علی زریون
___________

ایک غزل...... غزل 
پہلے لہو سے جسم کو عاری کیا گیا
یوں ہی نہیں چمن کو گلابی کیا گیا

گلدان اس کا گُل سے سجانے کے واسطے
راضی نہیں تھا میں مجھے راضی کیا گیا

ہم نے وفا کے دیپ جلائے ہیں ہر جگہ
تم سے تو بس یہ کام خیالی کیا گیا

لپٹی ہوئی تھیں پاؤں سے گھر کی ضرورتیں 
ایسے ہی تھوڑی خون کو پانی کیا گیا

رکھتے نہیں ہیں عشق مجازی پہ ہم یقیں
ہم سے تو صرف عشقِ حقیقی کیا گیا

اک گھونٹ ہی شراب تھی اس میں ندیم جی
جو جام ایک سانس میں خالی کیا گیا

عرفان ندیم مالیگاؤں

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...