Tuesday, 10 June 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*



نام ،چھترپتی شیواجی مہاراج کا ؛ کام !! ساورکر کا ؟
تکلف برطرف : سعید حمید 
آج یہ سوال اٹھانا ضروری کہ مہاراشٹر میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے ہندوی سوراجیہ کا بول بالا کیا جا رہا ہے ؟ یا شیواجی مہاراج کا نام لیکر ساورکر کی وچار دھارا کو روبہ عمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ؟
سچ تو یہ ہے کہ ساورکر کے ہندوتوا سے چھترپتی شیواجی مہاراج کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔
چھترپتی شیواجی مہاراج کے اقتدار میں ہندوتوا کا نام و نشان بھی نہیں تھا ۔
 چھترپتی شیواجی مہاراج ۱۶۷۵ ء میں تخت نشین ہوئے تھے اور ہندوتوا کا نعرہ اور نظریہ تو ساورکر نے ۱۹۲۱ ء میں پیش کیا تھا ، یعنی چھترپتی شیواجی مہاراج کے راجہ بننے کے ۲۴۶ ؍ برس بعد ۔۔۔۔۔۔۔ 
لیکن آج ہندوتوا کے نفاق و نفرت پر مبنی نظریہ کو چھترپتی شیواجی مہاراج کے عوام دوست ، بہوجن وادی ، نظریہ کے برخلاف یوں پیش کیا جا رہا ہے جیسے یہی ( ہندوتوا کا نظریہ ہی ) چھترپتی شیواجی مہاراج کا نظریہ تھا ، جبکہ یہ بات سراسر جھوٹ ہے ۔
چھترپتی شیواجی مہاراج کی شیو شاہی میں ہندوتوا کا گذر تک نہیں تھا ۔
یہ بات تاریخی کتابوں سے ثابت ہوچکی ہے ، لیکن محض نفرت کی سیاست کیلئے مہاراشٹر کے کئی مہاپرشوں کا نام لیا جا رہا ہے ، جنہوں نے گنگا جمنی تہذیب کی بات کہی ۔
البتہ ان مہاپرشوں کا نام لیکر کام ، ساورکر وادیوں کا کیا جا رہا ہے ،
جب بھی ریاستی حکومت کا بجٹ سیشن ہوتا ہے ، تو اس کا آغاز گورنر کے خطاب سے ہوا کرتا ہے ، اور گورنر موصوف دونوں ایوانوں سے 
جب خطاب کرتے ہیں تو ان کے خطبہ کا آغاز انہی الفاظ سے ہوا کرتا ہے ، 
کہ میری سرکارچھترپتی شیو اجی مہاراج ، چھترپتی سمبھا جی مہاراج ، مہاتما پھلے ، چھترپتی شاہو مہاراج ، بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے اصولوں پر چل رہی ہے ۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔
ایک زمانہ تھا جب عوام کو مہاراشٹر کی حقیقی تاریخ کا علم نہیں تھا ، لیکن آج مہاراشٹر ہی نہیں ملک بھر کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت پھیلانے کیلئے تلک ، ساورکر سے لیکر سمبھا جی بھڈے تک کئی انتہا پسند لیڈروں نے جھوٹی تاریخ کا استعمال کیا ، شیو جینتی کا استعمال فرقہ واریت کو فروغ دینے کیلئے استعمال کیا ،اور عوام کو جھوٹی تاریخ کے ذریعہ گمراہ کیا ، لیکن اب عوام پر حقیقت آشکار ہو چکی ہے ،
مہاراشٹر اور خاص طور پر چھتر پتی شیواجی مہاراج کی سچی تاریخ کو عوام کے سامنے لانے کا کام خطروں سے بھرپور تھا لیکن کئی ایماندار و دیانت دارمورخین نے یہ خطرہ بھی مول لیا اور سچ سامنے لایا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی تاریخ کو فرقہ پرستی کی عینک لگا کر دیکھنا درست نہیں ۔
عوام تک یہ پیغام پہنچانے اور چھترپتی شیواجی مہاراج کی حقیقی تاریخ عوام کے سامنے پیش کرنے کا جراءت مند کام کرنے والے مورخین 
کامریڈ گوند پنسارے ، ڈاکٹر دھابولکر کو ان دہشت گردوں ، مفسدوں اور انتہا پسندوں نے قتل بھی کردیا ،جن کا ایجنڈا ہے ، کہ چھترپتی شیوا جی مہاراج کی جھوٹی ، خلط ملط اور آلودہ تاریخ کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور اس کے ذریعہ نفرت 
کی دوکان کا کاروبار آگے بڑھایا جائے ۔
اسلئے ، آج چھترپتی شیواجی مہاراج کی جئے جئے کار کی نعرہ بازی وہ لوگ بھی کرتے ہیں، جو مسلم دشنمنی کو اپنا سیاسی اور سماجی ایجنڈہ بنائے ہوئے ہیں۔
اس مرتبہ کا بجٹ سیشن بھی گورنر صاحب کے خطاب سے ہوا ۔
انہوں نے بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کا حوالہ دیا ۔
ایک تاریخی سچ یہ ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی حکومت ، وزارت اور افسر شاہی یعنی بیوروکریسی میں بڑے بڑے اہم عہدوں پر مسلمان فائز تھے ۔
چاہے وہ نیوی ہو ، پیدل فوج ، گھڑسوار فوج ، توپ خانہ ، باڈی گارڈ دستہ ،یا پرسنل باڈی گارڈ ، یا وزارتوں اور افسر شاہی کے اہم عہدیدار؛ 
شیو شاہی میں مسلمان اہم اہم عہدوں پر تعینات تھے ، اور ان پر باوجود اس حقیقت کے شیواجی مہاراج یا ان کے برہمن وزراء اور مراٹھا رعایا کی طرف سے ان مسلمان سرداروں ، سپاہیوں ، وزرا ء وغیرہ کی وفاداری پر کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاتا تھا ، حالانکہ شیو شاہی کا بیشتر مقابلہ مغل ایمپائر سے تھا۔
کامریڈ گوند پنسارے ، پرشوتم کھیڈیکر ، پروفیسر نام دیو راؤ جادھو جیسے موجودہ دور کے مورخین ہی نہیں بلکہ بھولے بسرے شیو جینتی تہوار اور 
چھترپتی شیواجی کی بھلادی جانے والی سمادھی کی کھوج کرنے والے مہاراشٹر کے سماجی رہنما مہاتما جوتی با پھلے نے بھی اس حقیقت کو اجاگر 
کیا ہے کہ شیو شاہی میں مسلمان بڑی تعداد میں ، بڑے اہم عہدوں پر مقرر تھے ۔
لیکن ، آج چھترپتی شیواجی مہاراج کے اصولوں پر چلنے والے مہاراشٹر کا کیا حال ہے ؟
سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کی تعداد تشویش ناک حد تک گھٹ رہی ہے ۔
مہاراشٹر میں مسلمانوں کی آ بادی 11.5 % ہے ۔
لیکن سرکاری نوکریوں میں کتنے مسلمان ہیں ؟ بمشکل 1.5 % ، اور ان میں بھی 
اعلی عہدوں پر مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک برابر ہے ، 
اسلئے کئی اہم عہدہ ہیں ، جن کیلئے قابل مسلم افسران دستیاب نہیں ہیں ۔
ان عہدوں پر کم تر درجے کے افسران کو تعینات کیا جا رہا ہے ، اور ان سے کام لیا جا رہا ہے ، اور اس کی وجہ سے کئ مسلم افسران کو کئی کئی محکموں کا اضافی چارج بھی دیا جا رہا ہے ۔
ایک مثال مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کی ہے جس کے سی ای او کو کل وقتی سی ای او اس لئے دستیاب نہیں ہو رہا ہے کیونکہ سی ای او کیلئے 
ضابطہ کے مطابق کم ازکم ڈپٹی سیکریٹری رینک کا افسر ہونا چاہئے ۔
لیکن مہاراشٹر میں اس رینک کے افسر گنے چنے ہی ہیں ۔
کیوں ؟ 
یہ سوال چھترپتی شیواجی مہاراج اور ان کےچھترپتی شاہو مہاراج کا نام لینے اور جئے جئے کار کرنے والے سیاست دانوں سے کیا جائے !!
چھترپتی شاہو مہاراج کی مثال تو حالیہ اور درخشاں ہے ۔
بھارت کے حکمرانوں میں وہ اولین حکمران ہیں جنہوں نے اپنی رعایا کے کمزور طبقات کی ترقی کیلئے تعلیم ، اعلی تعیلم اور سرکاری نوکریوں 
میں پچاس فیصد ریزرویشن کا پرویزن رکھا ۔
اس کا فائدہ چھترپتی شاہو مہاراج کی ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی ملا اور انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کی 
اور پھر چھترپتی شاہو مہاراج کی حکومت میں اعلی عہدوں پر خدمات بھی انجام دی۔
کیا آج مہاراشٹر میںسرکای ملازمتوں میںاہم عہدوں کیلئے مسلم افسران دستیاب نہیں ہیں ، تو کیا یہ بات اس کا تقاضا نہیں کرتی ہے ، 
کہ مسلمانوں کو سرکاری نوکریوں اور اعلی تعلیم میں ریزرویشن ملنا چاہئے ؟
جی نہیں !! 
موجودہ سرکار نے مسلم ریزرویشن کے معاملہ کو نظر انداز ہی کردیا ہے ، 
جبکہ بامبے ہائی کورٹ نے ۲۰۱۴ ء کے جی آر پر مسلمانوں کو اعلی تعلیم کے میدان میں پانچ فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ صادر کیا تھا ۔
اسلئے ، جہاں اس راجیہ اور ریاست میں مسلمانوں کے ساتھ سماجی ، اقتصادی ، سیاسی ، تعلیمی انصاف نہیں ہو رہا ہے ، 
تب بجٹ پیش کرتے ہوئے گورنر صاحب اپنی سرکار کی طرف سے یہ کہتے ہیں کہ ان کی سرکار چھترپتی شیاجی مہاراج ، چھترپتی شاہو مہاراج اور دیگرمہا پرشوں کے راستے ، آدرش ، اصولوں پر چل رہی ہے ، 
تو یہ پاکھنڈ ہی معلوم ہوتا ہے !!
بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے بنائے ہو ئے دستور کی بات بھی کہی جاتی ہے ، لیکن دستور نے جو یہ بنیاد بنائی ہے کہ قانون کی نظر 
میں سارے شہری ایک برابر ہیں ، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ میرا روڈ ، مالونی ، مانخورد ، گھاٹ کوپر ، سانگلی ، ستارا ، ناندیڑ میںذرا سی خطا پر مسلمانوں پر سنگین دفعات لگا دی جاتی ہیں ، کہ انہیں آسانی سے ضمانت نہیں مل سکے ، 
وہیںسکل ہندو سماج کے پرچم تلے دہشت پھیلانے کی کیوں چھوٹ ملی ہے ؟
کس نے دی ہے ؟ کیوں دی ہے؟ 
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سرکار چھترپتی شیواجی مہارج اور چھترپتی شاہو مہاراج کے اصول اور آدرش پر کہاں چل رہی ہے ؟
یہ تو نام شیواجی مہاراج اور دیگر مہا پرشوں کا لے رہی ہے ، 
لیکن اس نے راستہ ساورکر وادیوں کا اختیار کر رکھ ہے ، اور مہاراشٹر کے بھولے بھالے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، جن کی اکثریت پھلے ، شاہو ، امبیڈکر نظریات پر یقین رکھتی ہے ، ساورکر واد پر نہیں !!!
__________

دوسرا گناہ
انتظار حسین

اس دن الیملک دستر خوان سے بھوکا اٹھا، اس نے زمران کے سامنے رکھی ہوئی روٹی پر نظر کی، پھر دسترخوان پر چنی ہوئی روٹیوں کو اور لوگوں کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا اور یہ وہ لوگ تھے جو دور کی زمین سے چل کر یہاں پہنچے تھے، ان کی زمین ان پر تنگ ہو گئی تھی، انہوں نے اپنے معبدوں اور مقبروں اور حویلیوں کی طرف پشت کی اور کہا کہ بے شک اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ پہلے ایک گھرانا آیا اور یہاں پہنچ کر کھلے آسمان میں سخت زمین پر پڑا رہا، پھر دوسرا گھرانا آیا اور زمین کی سختی سے لڑنے لگا، پھر گھرانے آتے چلے گئے اور اونچے درختوں کو سرنگوں کرنے اور سخت زمین کو نرم بنانے پر جت گئے۔ 

جب وہ سب اکھٹے ہوگئے تو انہوں نے حشاّم سے کہا کہ اے حشّام تو ہم میں بڑا ہے، پس تو ہمارے بیچ بیٹھ اور منصفی کر۔ حشام ان کے بیچ بیٹھا اور خوب منصفی کی۔ اس نے تا عمر ٹاٹ پہنا اور سب کے ساتھ ایک دستر خوان پر بیٹھ کر موٹی روٹی کھائی اور مٹی کے پیالے میں پانی پیا، اس نے ایک سو پچھتر برس کی عمر پائی اور جب وہ مرا تو اس کی کمر سیدھی تھی۔ حشّام کو یاد کرکے لوگ بہت روئے، پھر انہوں نے اس کی پہلی جورو کے پہلوٹھی کے بیٹے زمران کو اپنے بیچ بٹھایا اور کہا کہ اب تو اپنے باپ کی جگہ ہمارے درمیان منصفی کر۔ 

اس باپ کے بیٹے نے بھی خوب منصفی کی، پھر ایک دن یوں ہوا کہ ابیؔ ملک نے دستر خوان پر بیٹھے ہوئے زمران کے آگے رکھی ہوئی روٹی پر نظر کی اور اس کے اجلے پن کو دیکھ کر حیران ہوا، پھر اس نے دوسروں کے سامنے رکھی ہوئی روٹیوں کو دیکھا کہ اتنی اجلی نہ تھیں۔ پھر وہ زمران سے مخاطب ہوکر بولا کہ اے حشّام کے بیٹے! کیا تو اب چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھائے گا، اور میں نے تیرے باپ سے اور تیرے باپ نے اپنے باپ سے یہ سنا ہے کہ جب گیہوں کی مینگ گیہوں کے چھلکے سے جدا ہو جائے تو گوشت ناخن سے جدا ہوتا ہے۔ اور گیہوں تھوڑا اور بھوک زیادہ ہو جاتی ہے اور ہمیں ہمارا پالنے والا اس دن پناہ میں رکھے کہ ہمارے درمیان گیہوں تھوڑا رہ جائے اور ہماری بھوک بڑھ جائے۔ 

اس دن الیملک دستر خوان سے بھوکا اٹھا، اور جب وہ دستر خوان سے بھوکا اٹھا تو بستی میں اس کا چرچا بہت ہوا، لوگ پہلے حیران ہوئے اور انہوں نے سرگوشیاں کیں کہ الیملک دسترخوان سے نوالہ توڑے بغیر اٹھ گیااور اس نے زمران سے اپنی روٹی الگ کر لی، پھر وہ ڈرے کہ کیا سچ مچ گیہوں اپنے چھلکے سے جدا ہوگیا ہے۔ زمران نے لوگوں کو دیکھا اور غصّہ کیا اور جس جس نے حیرانی ظاہر کی اور خوف کااعلان کیا اس کا دستر خوان اپنے دستر خوان سے الگ کر دیا۔ سو جہاں ایک دستر خوان تھا وہاں بہت سے دستر خوان ہوگئے، پر زمران کا دسترخوان مختصر ہوجانے پر بھی پھیلا ہوا رہا۔ اس کے آڑی اور حواری دونوں وقت اس کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھتے اور چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کھاتے۔ 

زمران کے دستر خوان کے لیے آٹا باریک پیسا جاتا تھا اور ایک بڑی سی چھلنی میں چھانا جاتا تھا اور زمران نے چھنے ہوئے آٹے کی بھوسی کو دیکھ کر تشویش کی، زمران نہیں چاہتا تھا کہ لوگوں کے درمیان گیہوں تھوڑا رہ جائے اور ان کی بھوک بڑھ جائے تو اس نے یوں کیا کہ بچی ہوئی بھوسی کو لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ پس جنہیں آٹا کم ملا انہیں بھوسی زیادہ مل گئی، انہوں نے اپنے اپنے بے چھنے آٹے میں بھوسی ملا کر موٹی روٹی پکائی اور سیر ہو کر کھائی اور زمران کے آٹے سے جتنی بھوسی نکلتی تھی لوگوں میں تقسیم ہو جاتی تھی اور ان کے بے چھنے آٹے میں مل جاتی تھی۔ تو یوں زمران کے دستر خوان کی روٹی کی رنگت اور ہوگئی اور خلقت کی روٹی کی رنگت اور ہو گئی۔ 

زمران کا آٹا پہلے چھلنی میں چھانا گیا مگر پھر زمران کو احساس ہوا کہ آٹا چھلنی میں موٹا چھنتا ہے، اس نے باریک چھنائی کی ترکیب یہ نکالی کہ بہت باریک کپڑا بنوایا اور اس میں چھنے ہوئے آٹے کو مزید چھنوایا، حتیٰ کہ آٹا میدہ بن گیا اور روٹی زیادہ چٹی اور زیادہ ملائم ہوگئی، اس حساب سے بھوسی زیادہ بچی اور زیادہ لوگوں میں تقسیم ہوئی۔ اورزیادہ چھان کے آٹے میں آمیز ہوتی اور زمران کی روٹی کی رنگت اور لوگوں کی روٹی کی رنگت میں زیادہ فرق آگیا۔ 
زمران نے باریک کپڑا آٹا چھنوانے کے لیے بنوایا تھا، مگر پھر یوں ہوا کہ وہ کپڑا اسے اپنی پوشاک کے لیے بھا گیا اور سدا سے موٹے ناج کی سنگت موٹے کپڑے سے اور باریک ناج کی سنگت باریک کپڑے سے چلی آتی ہے، تو زمران نے ٹاٹ اتار کر باریک کپڑا خود بھی پہنا اور اپنی بیٹی رافہؔ کو بھی پہنایا اور رافہؔ اس ماں کی جنی تھی جس نے عمر بھر ٹاٹ اوڑھا اور چکیّ چلائی، وہ ایک وقت میں ایک من آٹا پیس کر اٹھتی تھی اور بستی کے بڑے من والے کنوئیں پر جا کر سو ڈول پانی کے کھینچتی تھی۔ بدن اس کا تانبے کی طرح تمتماتا تھا، اس تانبا بدن سے زمران بڑے کنوئیں کی من پر ٹکرایا اور گھاس کے گرم بستر پر اس کے سنگ بستر میں گیا، پھر وہ اپنی کھیتی اپنے گھر لایا، نو مہینے دس دن بعد اس نے بیٹی جنی کہ نام اس کا رافہؔ رکھا گیا اور وہ گرم لہو تانبا بدن والی عورت ایک سو پچاس ویں برس میں اپنی تنی ہوئی کھال اور کسی ہوئی کچوں کے ساتھ اللہ کو پیاری ہو گئی۔ 

الیملک کے بیٹے بختاور کی بھی رافہؔ سے مڈبھڑ بڑے کنویں کی من پر ہوئی تھی اور رافہؔ گندم کے خوشے کی مانند شاداب اور میدے کی لوئی کی مثال نرم اور چٹی تھی۔ گات خوب اور خوش نما اور سینہ جیسے گھی دودھ میں گوندھے میدے کے دو پیڑے، تو بختاور نے بڑے کنویں سے اسے تاکا اور پانی سے چھلکتے ڈول کی طرح اسے کھینچا اور سیراب ہوا، مگر پھر ایسا ہوا کہ وہ کنوئیں پر گیا اور اس نے رافہؔ کو وہاں نہ پایا، تب وہ رافہؔ کو ڈھونڈتا ڈھونڈتا اس کے گھر تک گیا اور وہ یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ رافہؔ کے گھر کی ڈیوڑھی اونچی ہو گئی ہے اور اس میں دروازہ لگ گیا ہے۔ اور اس بستی میں یہ پہلی ڈیوڑھی تھی جو اونچی ہوئی اور پہلا دروازہ تھا جو تعمیر ہوا۔ 

بختاور نے اس دروازے کو کھٹکھٹایا پر وہ دروازہ نہ کھلا۔ بختاور نے رافہؔ کو پکارا پر دروازہ بند رہا اور پکار کا جواب نہ آیا اور بختاور نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر رافہؔ کو پکارا کہ اے عورت تو جو آرام میں ہے بے آرام کی سن اور دروازے سے باہر آ۔ اس سے پہلے کہ انگوروں کا موسم گزر جائے اور ہم پھل سمیٹنے سے رہ جائیں، اس سے پہلے کہ گندم کی بالیں سوکھ کر مرنڈ ہوجائیں اور ہم فصل کاٹنے سے رہ جائیں۔ بختاور نے رافہؔ کا دروازہ بہت کھٹکھٹایا اور رافہؔ کو بہت پکارا پر وہ دروازہ نہ کھلا۔ اس پکار کا جواب نہ آیا، تب وہ مایوس گھر لوٹا، اور درد سے کہا کہ میری کھیتی مجھ سے دور ہو گئی اور گوشت ناخن سے جدا ہوگیا۔ 

الیملک نے بختاور کے اندوہ کو دیکھا اور کہا کہ اے میرے بیٹے میں تجھ سے وہ کہتا ہو ں جو میرے باپ نے مجھ سےکہا، اور میرے باپ نے مجھ سے وہ کہا جو اس کے باپ نےاس سے کہا، جو جن میں سے ہے وہ ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا، اور جو عورت جس خمیر سے اٹھتی ہے اس خمیر میں واپس جائے گی۔ بختاور نے اس قول کو نہ مانا اور کرب سے کہا کہ میں رافہؔ سے ایسے الگ ہوا جیسے گندم کے دانے سے گندم کا چھلکا ہوتا ہے۔ تب الیملک نے اس سے کہا کہ اے مرے بیٹے اب میں تجھ سے وہ کہتا ہوں جو سلیمان حکیم نے اپنے فرزند سے کہا کہ شکیل عورت اگر پہچان نہ رکھتی ہو تو سور کے نتھنوں میں پڑی ہوئی سونے کی نتھ ہے۔ 

پھر بیٹے نے اپنے باپ سے کہا عشق موت کی مانند زور آور ہے اور گھر سے نکل گیا۔ بختاور گھر سے نکل کر رافہؔ کے دروازے پر گیا، پھر اسے بند پاکر اس نے چکر کاٹا اور گھر کے عقب میں گیا، پر وہ یہ دیکھ کر حیران ہواکہ اب رافہؔ کے گھر کی دیوار اونچی ہوگئی ہے، اور اس نے اندوہ سے کہا کہ واویلا ہو گندم کے دانے پر جو میرے اور رافہ کے درمیان دیوار بن گیا۔ 

اور یوں ہوا کہ جب زمران کے گھر کا دروازہ بن گیا اور اس میں کنڈی لگ گئی تو کچھ دیکھنے والوں نے اسے دیکھ کر رعب کھایا اور کچھ دیکھنے والوں نے اسے دیکھ کر اس کے پیچھے کی چیزوں کے بارے میں تجسّس کیا، پھر ایک دن یوں ہوا کہ زمران کی کی بھاری پوشاک چوری ہو گئی۔ اور یہ پہلی چوری تھی کہ اس بستی میں ہوئی، پہلے یوں تھا کہ سونے کی ڈلی بازار میں پھینک جاؤ اور دوسرے دن آکر اٹھا لو۔ پھر یوں ہوا کہ لوگوں نے اپنی اپنی چیزیں سنگھوا کر رکھنی شروع کیں اور ایک آڑی نے زمران کی پوشاک چوری ہو جانے کے بعد زمران سے کہا کہ مرا گھر غیر محفوظ ہے۔ کیا میں دروازہ بنالوں، زمران نے کہا، بنوالے، اور اس نے دروازہ بنوا لیا، پھر دوسرےآڑی نے اجازت لی اور دروازہ بنوالیا، پھر تیسرے آڑی نے اجازت لی اور دروازہ بنوالیا اور پھر بستی میں دروازے بنتے چلے گئے۔ زمران نے اپنی پوشاک کی چوری کے بعد اپنی دیواریں اونچی کر لیں، پھر جب اس کے آڑیوں نے دروازے بنوائے تو انہوں نے بھی اپنی اپنی دیواریں اونچی کیں۔ ان کی اونچی دیواروں کو دیکھ کر زمران نے اپنی دیواروں کو اونچا کر لیا، جاننا چاہئے کہ پیڑ کی بڑھوتری کی ایک حد ہے پر دیوار کے اونچا ہونے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

زمران نے پہلے اپنی ڈیوڑھی اونچی کی اور دروازہ بنوایا، پھر اس نے اپنی دیواریں اونچی کیں اور دروازے کو مضبوط کیا، پھر اس نے دروازے پر نگہبان بٹھائے، پھر اس نے سواری بنوائی کہ دروازے سے نکل کر اس میں بیٹھتا اور باہر جاتا، پھر اس نے سواری کے لیے شاہراہ بنوائی کہ بستی کے گرد اگرد پھیل گئی اور زمران کی دودھیا گھوڑیوں سے جتی ہوئی سواری اس پر ہوا کی مثال چلتی۔ پر الیملک نے زمران سے یہ کہا کہ میں نے تیرے باپ سے اور تیرے باپ نے اپنے باپ سے یہ سنا کہ جب سواری آجاتی ہے تو مردوں کی ٹانگوں کا زور گھٹ جاتا ہے اور جب شاہراہ بن جاتی ہے تو زمین تنگ ہو جاتی ہے اور فاصلے دراز ہوجاتے ہیں۔ 

جب دروازے بن گئے اور دیواریں اونچی ہوگئیں اور زمران کے دروازے پر نگہبان بیٹھ گئے اور ڈیوڑھی کے آگے سواری آکھڑی ہوئی اور دودھیا گھوڑیاں ہنہنانے لگیں تو گیہوں پر اسرار طور پر تھوڑا پڑنے لگا اور بھوک بڑھنے لگی، اب زمران کے آٹے کی بھوسی لوگوں میں تقسیم ہونی بند ہوگئی تھی کہ یہ بھوسی اب اسی کی دودھیا گھوڑیاں کھاتی تھیں۔ جب بھوسی کی تقسیم بند ہوئی تو لوگوں نے اپنے اپنے حصّے میں آئے ہوئے آٹے کو تھوڑا جانا اور بھوکا رہ جانے کا گلہ کیا، اور زمران کے آڑیوں نے جب آٹے کو تھوڑا پڑتے دیکھا تو اپنے دروازوں کو غنیمت جانا، اور آئندہ کا دھیان کر گندم گھر میں جمع کیا اور دروازہ لگا لیا۔ تب بستی میں آٹا اور تھوڑا پڑ گیا، اور الیملک نے اس اندیشہ سے کہ مبادا اس کی بھوک بڑھ جائے، گیہوں کا آٹا نہ پاکر جَو ْخریدے اور انہیں پیس کر روٹی پکائی اور پیٹ بھرا، اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے یہ کہا کہ اس قریہ میں جاؤ اور اس میں سے جو کچھ تمہارا جی چاہے کھاؤ پیو۔ پھر ظالموں نے اسے جو ان سے کہا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ دوسری بات رکھ دی۔ 

الیملک جَو کی روٹی کھا کر گھر سے نکلا اور زمران کی گھوڑیوں کو بھوسی کا راتب کھاتے دیکھ کر حسرت سے بولا کہ جو رزق میرے حصّے کا تھا وہ زمران کی گھوڑیوں کے پیٹ میں چلا گیا، زمران نے اس کا یہ کلام سنا اور کہا کہ اے الیملک تو ہم میں سے ہے، سو تو ہمارے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ اور ہمارے ساتھ روٹی توڑ۔ اس پر الیملک نے کانوں پر ہاتھ رکھے اور کہا کہ میں پناہ مانگتا ہوں اس دن سے جب گیہوں کو گیہوں کے چھلکے سے جدا کر کے کھاؤں اور ظالموں میں شمار کیا جاؤں۔ 

زمران نے الیملک کے جواب کا برا مانا، اس نے الیملک کے سر پر غصّہ میں ڈنڈا مارا اور کہا کہ تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، کیا تو مجھے ظالم کہے گا، کیا تو مجھے ظالم کہے گا، سو تو ہمارے درمیان سے چلا جا اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا تھا کہ آپس میں خونریزی مت کرنا اور اپنوں کو اپنے ملک سے مت نکالنا۔ پھر تم نے اقرار کیا اور تم اس کے گواہ ہو، پھر وہی تم ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک گروہ کو اپنے ملک سے نکالتے ہو اور ان کے برخلاف گناہ اور زیادتی کرنے میں ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتے ہو۔ 

الیملک اپنی زوجہ کو ہمراہ لئے بستی سے نکل گیا اور دور کے جنگل میں جا کر ڈیرا ڈالا یہاں وہ بہت دنوں اپنی اکیلی جان کے ساتھ تناور درختوں اور سخت زمین سے لڑتا رہا، جب سو اوپر ساٹھواں سال تھا تو وہ تھک گیا اور مرنے کے قریب ہوا، اس کی زوجہ نے روکر کہا کہ کیا تو مجھے اس ویرانے میں اکیلا چھوڑ کر جائے گا، الیملک نے آنکھیں کھولیں اور کہا کہ میں آنے والوں کا انتظار کروں گا۔ 

پھر یوں ہوا کہ اس بات کے تیسرے دن ایک قافلہ خراب و خستہ وہاں پہنچا اور الیملک سے پناہ کا طالب ہوا۔ الیملک نے انہیں پناہ دی اور پوچھا کہ اے دوستو کدھر سے آنا ہوا، انہوں نے کہا کہ ہم زمران کی بستی سے آئے ہیں، یہ سن کر الیملک کی زوجہ نے سوال کیا کہ میرے بیٹے بختاور کے بارے میں کچھ کہو، انہوں نے جواب دیا کہ تیرا بیٹا اپنی آگ کا ایندھن بن گیا۔ اس نے رافہ کے لیے زمران کی دیوار پر عقب سے کمند ڈالی، خدا تیرے بیٹے پر اپنی رحمت کرے، یہ ہماری بستی کی پہلی اونچی دیوار پر کمند تھی اور عشق کی پہلی واردات تھی۔ 

الیملک کی زوجہ نے یہ خبر سن کر اپنے سینے پر دوہتڑ ماری، اور الیملک کا سر جھک گیا اور اس نے یہ کہا کہ بے شک عشق موت کی مانند زور آور ہے، ہر مرد کا زور اپنے گریبان پر چلے گا اور جو عورت جس خمیر سے اٹھی ہے اس خمیر میں واپس جائے گی۔ یہ کہہ کر الیملک نے ٹھنڈا سانس بھرا، آنکھیں بند کیں اور چپ ہوگیا، پھر کہا کہ دوسروں کی کہو۔ قافلہ والوں نے کہا کہ دوسروں کی مت پوچھ، دیوار سے گر کر مرجانا اس سے اچھا ہے کہ آدمی فاقے کر کے مرے، کھیت شاہراہوں اور اصطبلوں کی زد میں آگئے، کھیتوں والے کچھ نگہبان بنے، کچھ سائیس ہوئے، کچھ آوارہ ہوگئے، اور گیہوں ہمارے درمیان تھوڑا رہ گیا اور گراں ہوگیا اور ہم نے زمران کی زمین کو اپنے آپ پر تنگ پایا اور نکل کھڑے ہوئے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ 

الیملک نے اس پر یہ کہا کہ اللہ کی زمین بے شک بہت وسیع ہے پر اللہ کے بندوں پر وہ ہمیشہ تنگ رہی، یہ کہہ کر ا س نے آنکھ بند کرلی اور ہمیشہ کے لیے چپ ہوگیا۔ قافلہ والوں نے الیملک کو عزت سے دفن کیا اور الیملک کی بیوہ کو عزّت سے اپنے درمیان جگہ دی کہ الیملک نے ان کے لیے اس سخت زمین کو بہت نرم کیا تھا اور اونچے درختوں کو بہت سرنگوں کیا تھا۔ پھر وہ خود سخت زمین اور تناور درختوں کو زیر کرنے میں مصروف ہوگئے۔ 

پھر یوں ہوا کہ تھوڑے دنوں بعد زمران کی بستی سے ایک اور قافلہ چلا اور بھوکا یہاں پہنچا، زمران کی بستی میں قحط پڑ گیا تھا اور و ہاں سے پہلے ایک قافلہ چلا اور یہاں آکر پناہ گیر ہوا، پھر دوسرا قافلہ آیا اور پناہ گیر ہوا، پھر قافلے آتے چلے گئے اور یہاں ڈیرے ڈالتے چلے گئے۔ سب سے آخر میں وہ قافلہ آیا جس کا بزرگ سب کے بیچ بیٹھ کر سب کا بزرگ بنا اور منصف ٹھہرا۔ وہ بزرگ یہاں ان حالوں پہنچا تھا کہ اس کے پاس کچھ ساز و سامان نہ تھا۔ سوا ایک آٹے کی چھلنی کے، اور یہ پہلی آٹے کی چھلنی تھی جو اس بستی میں پہنچی۔
_______
از کتاب " انتظار حسین کے سترہ افسانے"
انتخاب ۔ وحید قمر 

__________

غزل
جون ایلیا
جب تری جان ہو گئی ہوگی​ 
جان حیران ہو گئی ہو گی​ 
شب تھا میری نگہ کا بوجھ اس پر​ 
وہ تو ہلکان ہو گئی ہو گی​ 
اس کی خاطر ہوا میں خوار بہت​ 
وہ مِری آن ہو گئی ہو گی​ 
ہو کے دشوار زندگی اپنی​ 
اتنی آسان ہو گئی ہو گی​ 
بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے​ 
وہ پریشان ہو گئی ہو گی​ 
اک حویلی تھی دل محلے میں​ 
اب وہ ویران ہو گئی ہو گی​ 
اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں​ 
اس کی دربان ہو گئی ہو گی​ 
کمسنی میں بہت شریر تھی وہ​ 
اب تو شیطان ہو گئی ہو گی​ 
جب تری جان ہو گئی ہوگی
_____________
ساغر صدیقی کی ایک غزل 

دل ملا اور غم شناس ملا
پھول کو آگ کا لباس ملا

ہر شناور بھنور میں ڈوبا تھا
جو ستارہ ملا اداس ملا 

میکدے کے سوا ہمارا پتہ
ان کی زلفوں کے آس پاس ملا

مجھ کو تقدیر کی گزر کہ میں
صرف تدبیر کا ہراس ملا

آب حیواں کی دھوم تھی ساغرؔ
سادہ پانی کا اک گلاس ملا

غلام علی نے یہ غزل گائی بھی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...