وہ غذائیں جن کا استعمال وزن کم کرنے کی کوششوں کے دوران جسم کو متوازن رکھتا ہے
اگر آپ کی روزمرہ خوراک میں شامل ہوں تو بعض غذائیں وزن میں نمایاں طور پر کمی میں مدد کر سکتی ہیں۔ ان کھانوں میں عام طور پر کیلوریز کم ہوتی ہیں لیکن فائبر، پروٹین یا صحت مند چکنائی زیادہ ہوتی ہے، جو آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے اور مجموعی کیلوری کی مقدار کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسی غذائیں خون میں شکر کی سطح کو بھی مستحکم رکتھی ہیں، نظام ہضم کو بہتر بناتی اور میٹابولزم کو بڑھاتی ہیں۔یہ غذائیں اضافی کیلوریز کے بغیر جسم کو ضروری وٹامنز اور منرلز فراہم کرتی ہیں۔ یہ ان کھانوں کی فہرست ہے جو آپ کو وزن کم کرنے کی کوشش میں اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنی چاہییں۔
سبز پتے
ان میں سے پہلے نمبر پر سلاد کے پتے ہیں۔ ان میں کیلوریز کم ہوتی ہیں اور فائبر زیادہ جبکہ وٹامنز اور منرلز سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔
ناشتے میں اوٹس
اوٹس کا استعمال اب عام ہوتا جا رہا ہے اور اگر اس کو ناشتے میں شامل کیا جائے تو معدے کو بھر دیتے ہیں۔ یہ توانائی سے بھرپور ہیں مگر جسم کے لیے نقصان دہ نہیں۔
دن کا آغاز اوٹس کے پیالے سے کریں تو دن بھر بھوک کا احساس میں کم رہے گا۔ اور خون میں شوگر کی مقدار متوازن رہے گی۔
دہی کا استعمال
اسی طرح گریک یوگرٹ یا یونانی دہی کا استعمال بھی وزن میں کمی کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ اس دوران جسم کے مسلز کو اپنی جگہ برقرار رکھنے میں معاون ہے۔
یہ سینے یا معدے میں جلن کا بھی سدباب کرتا ہے۔اُبلے ہوئے انڈے
اگر آپ اُبلے ہوئے انڈے کھاتے ہیں تو کیا ہی بات ہے۔ انڈوں میں اعلٰی معیار کی پروٹین اور صحت کے اچھی چربی اور ضروری وٹامنز پائے جاتے ہیں۔
چیا سیڈز
اب چیا سیڈز ہر چھوٹے بڑے سٹور سے بآسانی مل جاتے ہیں۔ عموما ان سیاہ دانوں یا بیج کو لوگ تخمِ بالنگوہ کے ساتھ گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ چیا سیڈز الگ ہیں اور تخمِ بالنگوہ الگ۔ ایک گلاس پانی میں شامل کر کے پینے سے یہ بیج آپ کے معدے کو بھرا ہوا محسوس کراتے ہیں۔
اواکاڈو سے چربی میں کمی
اواکاڈو پھل پہلے صرف چند ممالک میں دستیاب تھا مگر اب یہ ہر جگہ مل جاتا ہے۔ اس میں فائبر زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ پیٹ کی چربی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
دیگر جن چیزوں کے استعمال سے وزن میں کمی کی جا سکتی ہے ان میں بیریز اور خشک میوہ جات نمایاں ہیں۔
‘ناول مینوفیکچرنگ کمپنی لمیٹڈ…’
پاکستان ناول مینوفیکچرنگ کمپنی لمیٹڈ ہونہار مصنفین اور یکہ تاز ناشرین کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کا مسرت سے اعلان کرتی ہے۔ کارخانۂ ہٰذا میں ناول جدید ترین آٹومیٹک مشینوں پر تیار کیے جاتے ہیں اور تیاری کے دوران انہیں ہاتھ سے نہیں چھوا جاتا۔
ناول اسلامی ہو یا جاسوسی، تاریخی یا رومانی۔ مال عمدہ اور خالص لگایا جاتا ہے۔ اس لیے یہ ناول مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں۔
پڑھنے کے علاوہ بھی یہ کئی کام آتے ہیں۔ بچہ رو رہا ہو۔ ضد کر رہا ہو۔ دو ضربوں میں راہ راست پر آجائے گا۔ بلّی نے دودھ یا کتے نے نعمت خانہ میں منہ ڈال دیا ہو۔ دور ہی سے تاک کر ماریے۔ پھر ادھر کا رخ نہیں کرے گا۔ بیٹھنے کی چوکی اور گھڑے کی گھڑونچی کے طور پر استعمال ہونے کے علاوہ یہ چوروں ڈاکوؤں کے مقابلے میں ڈھال کا کام بھی دیتا ہے۔ ایک تو اس لیے کہ اس کے مطالعے سے دل میں شجاعت کے جذبات خواہ مخواہ موجزن ہوجاتے ہیں۔ دوسرے اپنی ضخامت اورپٹھے کی نوکیلی جلد کے باعث۔ خواتین کے لیے ہمارے ہاں واش اینڈ ویئر (Wash and Wear) ناول بھی موجود ہیں تاکہ ہیروئن کا نام بدل کر پلاٹ کو بار بار استعمال کیا جا سکے۔ ایک ہی پلاٹ برسوں چلتا ہے۔ پندرہ بیس ناولوں کے لیے کافی رہتا ہے۔ واش اینڈ ویئر کوالٹی ہمارے اسلامی تاریخی ناولوں میں بھی دستیاب ہے۔ آرڈر کے ساتھ اس امر سے مطلع کرنا ضروری ہے کہ کون سی قسم مطلوب ہے۔ ۶۵% رومان اور ۳۵% تاریخ والی یا ۶۵% تاریخ اور ۳۵% رومان والی۔ اجزائے ترکیبی عام طور پر حسب ذیل ہوں گے۔۔ ہیروئن۔ کافر دوشیزہ۔ تیر تفنگ، بنوٹ پٹے اور بھیس بدلنے کی ماہر۔ دل ایمان کی روشنی سے منور۔ چھپ چھپ کر نماز پڑھنے والی۔
۲۔ کافر بادشاہ۔ ہماری ہیروئن کا باپ لیکن نہایت شقی القلب۔ انجام اس کا برا ہوگا۔
۳۔ لشکر کفار۔ جس کے سارے جرنیل لحیم شحیم اور بزدل۔
۴۔ اہل اسلام کا لشکر۔ جس کا ہرسپاہی سوا لاکھ پر بھاری۔ نیکی اور خدا پرستی کا پتلا۔ پابندِ صوم و صلٰوۃ۔ قبول صورت بلکہ چندے آفتاب چندے ماہتاب۔ بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے والا۔
۵۔ ہیرو۔ لشکر متذکرہ صدر کا سردار۔ اس حسن کی کیا تعریف کریں، کچھ کہتے ہوئے جی ڈرتا ہے۔
۶۔ سبز پوش خواجہ خضر۔ جہاں پلاٹ رک جائے اور کچھ سمجھ میں نہ آئے، وہاں مشکل کشائی کرنے والا۔
۷۔ ہیرو کا جاں نثار ساتھی۔ نوجوان اور کنوارا تاکہ اس کی شادی بعد ازاں ہیروئن کی وفادار اور محرم راز خادمہ یا سہیلی سے ہوسکے۔
۸۔ کافر بادشاہ کا ایک چشم وزیر جو شہزادی سے اپنے بیٹے کی، بلکہ ممکن ہو تو اپنی شادی رچانے پر ادھار کھائے بیٹھا ہے۔ چونکہ ادھار محبت کی قینچی ہے۔ لہٰذا ہیروئن کے التفات سے محروم رہتا ہے۔
پلاٹ تو ہمارے ہاں کئی طرح کے ہیں لیکن ایک اسٹینڈرڈ ماڈل جو عام طور پر مقبول ہے، یہ ہے کہ ایک قبیلے کا نوجوان دوسرے قبیلے کی دوشیزہ پر فدا ہوتا ہے اور ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ دوشیزہ لامحالہ طور پر دوسرے قبیلے کے سردارکی چہیتی بیٹی ہوتی ہے۔ پانچ انگلیاں پانچوں چراغ۔ خوبصورت، سلیقہ مند، عالم بے بدل۔ لاکھوں اشعار زبانی یاد۔ کرنا خدا کا کیا ہوتا ہے، اس بیچ میں دونوں قبیلوں میں لڑائی ٹھن جاتی ہے۔ ہمارا ہیرو محبت کو فرض پر قربان کر کے شمشیر اٹھا لیتا ہے اور بہادری کے جوہر دکھاتا، کشتوں کے پشتے لگاتا دشمن کی قید میں چلا جاتا ہے۔ محافظوں کی آنکھ میں دھول جھونک کر طالب و مطلوب ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اشعار اور مکالموں کا تبادلہ ہوتا ہے اور ہیروئن بی پہلے ایک جان سے پھرہزار جان سے اس پر عاشق ہو جاتی ہے۔ راستے میں ظالم سماج کئی بار آتا ہے لیکن ہردفعہ منہ کی کھاتا ہے۔ دانت پیستا رہ جاتا ہے۔ آخر میں ناول حق کی فتح، محبت کی جیت، نعرہ تکبیر، شرعی نکاح، دونوں قبیلوں کے ملاپ اور مصنف کی طرف سے دعائے خیر کے ساتھ آئندہ ناول کی خوشخبری پر ختم ہوتا ہے۔
آرڈر دیتے وقت مصنف یا ناشر کو بتانا ہوگا کہ ناول پانچ سو صفحے کا چاہیے، ہزار صفحے کا یا پندرہ سو کا؟ وزن کا حساب بھی ہے۔ دو سیری ناول۔ پانچ سیری ناول۔ سات سیری ناول۔ پندرہ بیس سیری بھی خاص آرڈر پرمل سکتے ہیں۔ گاہک کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اسی پلاٹ کو برقرار رکھتے ہوئے ماحول کس ملک کا رکھا جائے۔ عراق کا… عرب کا…. ایران کا… افغانستان کا؟ ہیرو اور ہیروئن کے نام بھی گاہک کی مرضی کے مطابق رکھے جاتے ہیں۔ ایک پلاٹ پر تین یا اس سے زیادہ ناول لینے پر ۳۳% رعایت۔خواتین کے لیے بھی جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے، گھریلو اور غیر گھریلو ہر طرح کے ناول بکفایت ہمارے ہاں سے مل سکتے ہیں۔ ان میں بھی محبت اور خانہ داری کا تناسب بالعموم ۶۵% اور ۳۵% کا ہوتا ہے۔ فرمائش پر گھٹایا یا بڑھایا جا سکتا ہے۔ خانہ داری سے مطلب ہے ناول کے کرداروں کے کپڑوں کا ذکر۔ خاندانی حویلی کا نقشہ۔ بیاہ شادی کی رسموں کا احوال۔ زیورات کی تفصیل وغیرہ۔ ہیرو اور ہیروئن کے چچازاد بھائی اور بہنیں۔ سہیلیاں اور رقیب وغیرہ بھی مطلوبہ تعداد میں ناول میں ڈلوائے جا سکتے ہیں۔ ہمارے کارخانے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ خواتین کے ناول مروجہ پاکستانی فلموں کو دیکھ کر لکھے جاتے ہیں تاکہ بعد ازاں فلم ساز حضرات ان پر مزید فلمیں بنا سکیں۔ معمولی سی اجرت پر ان ناولوں میں گانے اور دو گانے وغیرہ بھی ڈالے جا سکتے ہیں۔ اس سے مصنف اور فلم ساز کا کام اور آسان ہو جاتا ہے۔ گاہک کو فقط ہیروئن کا نام تجویز کر دینا چاہیے۔ باقی سارا کام ہمارے ذمے۔ مال کی گھر پر ڈلیوری کا انتظام ہے۔
بازار کے ناول بالعموم ایسے گنجان لکھے اور چھپے ہوتے ہیں کہ پڑھنے والوں کی آنکھ پر برا اثر پڑتا ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ صفحے میں کم سے کم لفظ رہیں۔ مکالمے اور مکالمہ بولنے والے، دونوں کے لیے الگ الگ سطر استعمال کی جاتی ہے۔ نمونہ ملاحظہ فرمائیے،
شہزادی سبز پری نے کہا،
’’پیارے گلفام!‘‘
پیارے گلفام نے کہا،
’’ہاں شہزادی گلفام۔ ارشاد!‘‘
شہزادی سبز پری،
’’ایک بات کہوں؟‘‘
گلفام،
’’ہاں ہاں کہو۔‘‘
شہزادی،
’’مجھے تم سے پیار ہے۔‘‘
گلفام،
’’سچ!‘‘
شہزادی صاحبہ،
’’ہاں سچ!‘‘
گلفام،
’’تو پھر شکریہ!‘‘
شہزادی نے کہا،
’’پیارے گلفام۔ اس میں شکریہ کی کیا بات ہے۔ یہ میرا انسانی فرض تھا۔‘‘
ایک ضروری اعلان۔ ہمارے کارخانے نے ایک عمدہ آئی لوشن تیار کیا ہے جو رقت پیدا کرنے والے ناولوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں ایسا سین آئے، رونے کے بعد دو دو قطرے ڈراپر سے آنکھوں میں ڈال لیجیے۔ آنکھیں دھل جائیں گی۔ نظر تیز ہو جائے گی۔ مسلسل استعمال سے عینک کی عادت بھی چھوٹ جاتی ہے۔ فی شیشی دو روپے۔ تین شیشیوں پر محصول ڈاک معاف۔ آنکھیں پونچھنے کے لیے عمدہ رومال اور دوپٹے بھی ہمارے ہاں دستیاب ہیں۔
مرکزی حکومت میں 14,582 آسامیوں کے لیے بمپر بھرتی؛ جانئے اپلائی کرنے کا طریقہ، کیا ہے آخری تاریخ اور کب ہوگا امتحان؟ - SSC CGL EXAM 2025
پریاگ راج: سرکاری نوکری کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کے لیے اچھی خبر ہے۔ اسٹاف سلیکشن کمیشن (SSC) نے کمبائنڈ گریجویٹ لیول (CGL) امتحان-2025 کے ذریعے مرکزی حکومت کی مختلف وزارتوں، محکموں اور تنظیموں میں کل 14,582 آسامیوں پر بھرتی کے لیے درخواست کا عمل شروع کر دیا ہے۔ کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق خواہشمند امیدوار 9 جون سے 4 جولائی رات 11 بجے تک آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست کی فیس جمع کرانے کی آخری تاریخ 5 جولائی مقرر کی گئی ہے۔ فارم میں ترمیم کے لیے ونڈو 10 اور 11 جولائی کو کھلے گی۔ اس سلسلے میں اسٹاف سلیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
ان آسامیوں پر بھرتیاں:
یہ بھرتی اسسٹنٹ سیکشن آفیسر، انکم ٹیکس انسپکٹر، اسسٹنٹ آڈٹ آفیسر، سی بی آئی اور این آئی اے میں سب انسپکٹر، جونیئر شماریاتی آفیسر، ٹیکس اسسٹنٹ اور اکاؤنٹنٹ جیسے عہدوں کے لیے کی جا رہی ہے۔ منتخب امیدواروں کی تقرری مرکزی سیکرٹریٹ، ریلوے، محکمہ انکم ٹیکس، وزارت خارجہ، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، سنٹرل ویجیلنس کمیشن جیسے اداروں میں کی جائے گی۔ بھرتی کا عمل تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ جس میں ٹیئر-1، ٹیئر-2 اور دستاویز کی تصدیق/میڈیکل ٹیسٹ شامل ہیں۔واضح رہے، CGL امتحان ملک کے سب سے مشہور سرکاری امتحانات میں سے ایک ہے۔ ہر سال اس میں لاکھوں امیدوار آتے ہیں۔ پریاگ راج، لکھنؤ، پٹنہ، دہلی جیسے شہروں میں طلباء اس کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ اور آن لائن پلیٹ فارم پر خصوصی بیچز بھی شروع ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امیدوار اس بھرتی امتحان کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
ٹیئر-1 کا امتحان کب منعقد ہوگا:
ٹیئر-1 کا امتحان 13 اگست سے 30 اگست تک منعقد کیا جائے گا۔ یہ ایک معروضی امتحان ہوگا، جس کے چار حصے ہوں گے۔ ہر سیکشن میں 25 سوالات ہوں گے۔ کل 100 سوالات کے لیے 60 منٹ دیے جائیں گے۔ مائنس مارکنگ بھی لاگو ہوگی۔ٹیئر-2 امتحان:
ٹیئر-2 کا امتحان دسمبر 2025 میں ہونے کا امکان ہے۔ اس میں ریاضی، انگلش، شماریات اور جنرل اسٹڈیز سے متعلق سوالات پوچھے جائیں گے۔ کچھ پوسٹوں کے لیے اضافی کاغذات ہوں گے۔ اس کے بعد دستاویزات کی تصدیق اور طبی معائنہ ہوگا۔
اہلیت اور عمر کی حد:
امیدوار کے پاس کسی تسلیم شدہ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری ہونی چاہیے۔ جونیئر شماریاتی افسر جیسے کچھ عہدوں کے لیے ریاضی میں گریجویشن ہونا ضروری ہے۔ عمر کی حد 18 سے 32 سال کے درمیان ہے۔ ریزرو کیٹیگریز کو قواعد کے مطابق رعایت ملے گی۔
درخواست دینے کا طریقہ:
امیدوار ایس ایس سی کی سرکاری ویب سائٹ www.ssc.gov.in پر جا کر درخواست دے سکتے ہیں۔ سب سے پہلے آپ کو رجسٹر کرنا ہوگا، پھر لاگ ان کریں اور فارم کو پُر کریں۔ درخواست کی فیس 100 روپے ہے۔ SC-ST، خواتین اور معذور امیدواروں کو فیس سے استثنیٰ حاصل ہے۔