از : مفتی محمد عامر یاسین ملی
کل (6 جون )جمعہ کے روز نو ذوالحجہ ہے، یہ دن "یوم عرفہ" کہلاتا ہے، اس دن روزہ رکھنے کی حدیث شریف میں فضیلت آئی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کے روزے رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا۔(مسلم)
اس سلسلے میں بہت سارے افراد تذبذب کا شکار ہیں اور علماء کرام سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا جمعہ کے دن عرفہ کا محض ایک روزہ رکھ سکتے ہیں اور کیا اس روزے کے ساتھ ایک اور روزہ رکھنا ضروری ہے؟
ایسے تمام افراد کے اطمینان کے لیے عرض ہے کہ خاص جمعہ کے دن نفل روزہ رکھنا گرچہ مکروہ ہے لیکن ایسا نفل روزہ جس کے متعلق حدیث میں کوئی حکم یا فضیلت وارد ہوئی ہو، جیسے عرفہ یا عاشورہ کا روزہ ،اگر وہ جمعہ کے دن آجائے تو خالص جمعہ کے دن وہی ایک روزہ رکھنا بالکل جائز اور درست ہوگااور اس دن روزہ رکھنے کی جو فضیلت حدیث میں آئی ہے وہ حاصل ہوگی ان شاءاللّٰہ ۔
لہذا عام عوام اس سلسلے میں کسی تذبذب کا شکار نہ ہوں اور مطمئن ہو کر عرفہ کا روزہ رکھیں۔
نوٹ: عرفہ کا دن ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا،یعنی جس ملک میں جس دن نو ذی الحجہ کی تاریخ ہوگی وہی دن یوم عرفہ کہلائے گا ، چاہے اس دن سعودی عرب میں یوم عرفہ نہ ہو۔فقط واللہ اعلم
جاری کردہ: شمسی دارالافتاء نزد قاسمیہ مسجد سلام چاچا روڈ مالیگاؤں* 8446393682
(8 ذوالحجہ 1446ھ بروز جمعرات مطابق 5 جون 2025ء)