Saturday, 21 June 2025

*🔴سیف نیوز بلاگر*





جسم اور روح کی قدیم ورزش ’یوگا‘ دنیا بھر میں کس طرح پھیلی؟
اگرچہ دنیا قدیم ہندوستان کی جسمانی اور روحانی مشق ’یوگا‘ سے ایک زمانے سے بخوبی واقف تھی لیکن پھر عالمی ادارے اقوام متحدہ نے سنہ 2014 میں جب اس قدیم ہندوستانی روایت کی گرانقدر خدمات کا اعتراف کیا تو 21 جون کو یوگا کے عالمی دن کے طور پر منایا جانے لگا اور پہلی بار 2015 میں نیویارک سے لے کر سیول، کوالالمپور اور نئی دہلی میں ’یوگا ڈے‘ منایا گیا۔
اس پہلے جشن کے دس سال بعد ہم یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ’یوگ‘ یا ’یوگا‘ کیا ہے اور یہ دنیا بھر میں کس طرح متعارف ہوا۔
اگرچہ یوگا کی تاریخ واضح نہیں لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان میں بدھ مذہب کے بانی مہاتما بدھ کے زمانے سے پہلے سے اس کے نشانات واضح طور پر ملتے ہیں۔ چنانچہ بدھ مت میں بھی جسم اور ذہن کو کنٹرول کرنے کے لیے اس کے کچھ آسنوں کا استعمال کیا گیا اور اس پر زور بھی دیا جاتا ہے۔اس کی اگر سادہ سی تعریف کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یوگا ایک دماغی اور جسمانی مشق ہے یعنی یوگا ایک طرح سے جسمانی اور ذہنی صحت کو فروغ دینے کا عمل ہے جس میں جسمانی ہیئت یا پوسچر، سانس لینے کی تکنیک اور مراقبہ شامل ہے۔
لفظ ’یوگا‘ سنسکرت کے لفظ ’یوج‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ’متحد ہونا‘، ’یکجا ہونا‘ یا ’شامل ہونا‘ ہے۔ اس کا مقصد جسم، دماغ اور روح کو ہم آہنگ کرنا ہے۔
عام طور پر یہ جسم اور روح کی ایک ورزش ہے جس میں جسم کو مختلف ہیئت یا پوسچر میں موڑا اور رکھا جاتا ہے اور اس میں سانس لینے اور سانس چھوڑنے پر کنٹرول کرنا بھی شامل ہے۔
چنانچہ ہم اسے جسمانی اور روحانی نظم و ضبط کا عمل کہہ سکتے ہیں۔
اس میں جسم کو لچیلا بنانے، اس میں قوت پیدا کرنے اور توازن قائم کرنے کی مشق کی جاتی ہے اور اس کے لیے جسم کو مختلف ہیئت یا پوسچرز میں رکھا جاتا ہے۔
اس کے تین بڑے حصے ہیں: ایک جسمانی ہیئت یا پوسچر ہے جسے ’آسن‘ کہتے ہیں، دوسری سانس لینے کی تکنیک ہے جسے ’پرانایم‘ کہتے ہیں اور تیسرا مراقبہ ہے جسے ’دھیان‘ کہتے ہیں۔
اس کے ذریعے انسان اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر کر سکتا ہے لیکن اس میں ڈسپلن کی اشد ضرورت بتائی جاتی ہے۔
انڈیا کی وزرات خارجہ کی ویب سائٹ پر ڈاکٹر ایشور وی بساورڈی نے اس کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’یوگا بنیادی طور پر ایک انتہائی لطیف سائنس پر مبنی ایک روحانی نظم و ضبط کا عمل ہے، جو دماغ اور جسم کے درمیان ہم آہنگی لانے پر مرکوز ہے۔ یہ صحت مند زندگی گزارنے کا ایک فن اور سائنس ہے۔‘
رچرڈ کنگ نے 1999 میں اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’یوگا روایتی معنوں میں پورے جنوبی ایشیا میں اور اس کے آگے نظر آتا ہے جس میں بہت سی تکنیک شامل ہیں جو روحانی اور اخلاقی تزکیہ نفس کی طرف لے جاتی ہیں۔ ہندو اور بدھ روایات یکساں طور پر یوگا کی مشق پر بہت زیادہ زور دیتی ہیں۔‘
ہندو عقیدے کے مطابق ان کے بھگوان شیو یا شیوا پہلے يوگی یعنی يوگا کے گرو ہیں لیکن اس ہندوستانی روایت کو دنیا میں متعارف کرانے کا سہرا 19 ویں صدی کے ہندو فلسفی سوامی ویویکانند کو دیا جاتا ہے جنہوں نے پہلی بار 11 ستمبر 1893 کو شکاگو میں منعقدہ ورلڈ ریلیجن کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران اس کا ذکر کیا تھا اور پھر 1896 میں ’راج یوگا‘ کے عنوان سے ایک کتاب تحریر کی جس میں انہوں نے دھیان کے ذریعے روح کو جسم سے آزاد کرنے کا وسیلہ قرار دیا۔ان کا یہ فلسفہ مغربی ممالک میں بہت مقبول ہوا لیکن اسے مغرب میں مقبول بنانے کا سہرا تین یوگیوں یعنی یوگا گرو کے سر جاتا ہے۔
ان میں سے ایک روس میں پیدا ہونے والی اندرا دیوی ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی یوگا کو امریکہ میں متعارف کرایا اور اسے وہاں قدم جمانے کا موقع فراہم کیا۔
ان کا بچپن کا نام یوجینی پیٹرسن تھا۔ ان کی والدہ روسی اور والد سویڈن سے تعلق رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یوجینی کی ہندوستان میں دلچسپی 15 سال کی عمر میں رابندر ناتھ ٹیگور کی ایک کتاب پڑھنے کے بعد شروع ہوئی۔
انہوں نے سنہ 1927 میں ہندوستان کا سفر کیا اور ایک ایسے وقت میں یوگا میں دلچسپی لینی شروع کی جب یوگا پر مردوں کا غلبہ تھا۔ وہ ان پہلی خواتین میں سے ایک تھیں جنہیں سری تروملائی کرشنماچاریہ نے میسور کے راجہ اور رانی کے کہنے پر یوگا سکھایا تھا۔
اپنے شوہر کی موت کے بعد وہ امریکہ چلی گئیں جہاں انہوں نے یوگا سکھانے کا کام شروع کیا۔ ان کے شاگردوں میں ہالی وڈ کے فنکاروں میں گریٹا گاربو اور جنیفر جونز وغیرہ شامل تھیں۔
انہوں نے 2002 میں اپنی موت سے قبل شنگھائی میں بھی یوگا کی کلاسز لی تھیں جو کہ نئے چین میں ایسی پہلی کوشش تھی۔
یوگا کو مغرب میں مقبول بنانے والوں میں بی کے ایس اینگر کا نام بھی سرفہرست رکھا جاتا ہے۔ اینگر نے بھی کرشنماچاریہ سے یوگا کی تعلیم حاصل کی تھی اور پھر ان کے طالب علموں نے یوگا کو دنیا بھر میں پھیلایا۔انہوں نے ’اینگر یوگا‘ نامی ادارہ قائم کیا اور 1966 میں ’لائٹ آن یوگا‘ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی جسے اس موضوع پر ایک اہم کام سمجھا جاتا ہے۔ یوگا انسٹرکٹر میری ڈن کی والدہ میری پامر نے اینگر کے امریکہ کے دورے کا انتظام کیا۔ اور بعد میں ڈن ہزاروں طلباء کو ’اینگر یوگا‘ سکھانے کے لیے جانی گئیں۔
1970 کی دہائی میں بکرم چودھری نامی ایک یوگا گرو نے 26 يوگا آسنوں پر مشتمل یوگا سکھانے کا کام شروع کیا۔ وہ 40 ڈگری سنیٹی گریڈ کی گرمی میں امریکیوں کو یوگا کی تعلیم دے رہے تھے اور ان کا یوگا ایک وقت امریکیوں میں بہت مقبول رہا۔
آج آپ کو انڈیا سے باہر ایران سے لے کر خطۂ عرب تک میں یوگا کی کلاسز نظر آتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت کے بعد تو اس کے اتنے ویڈیوز سامنے آنے لگے ہیں کہ آپ کے لیے یہ انتخاب مشکل ہوجاتا ہے کہ کون سا طریقہ ورزش آپ کے لیے بہتر ہے۔
اس کے ساتھ اب لوگ ہر طرح کی بیماریوں کا علاج بھی ’یوگا مین‘ بتانے لگے ہیں کہ فلاں قسم کا آسن کریں تو آپ کو فلاں قسم کی بیماری سے نجات مل جائے گی۔ لیکن آپ اس کے بجائے اپنے معالج سے کسی تکلیف کے متعلق رابطہ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
یوگا نہ صرف ایک ورزش ہے بلکہ کاروبار بن چکا ہے لیکن اس کے سنجیدہ پیروکار اس کے فوائد سے مستفید بھی ہو رہے ہیں۔









نیتن یاہو ایران سے جنگ کے ذریعے ’ہمیشہ کے لیے‘ اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں: سابق امریکی صدر کلنٹن
امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران سے جنگ چاہتے تھے کیونکہ صرف اسی طریقے سے وہ ہمیشہ کے لیے اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔
یوٹیوب پروگرام ’دی ڈیلی شو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا کہ ’نیتن یاہو کی ایک طویل عرصے سے خواہش تھی کہ وہ ایران سے جنگ کریں کیونکہ اسی طرح وہ ہمیشہ کے لیے حکومت میں رہ سکتے ہیں۔‘بل کلنٹن نے کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کریں اور ’عام شہریوں کے مارے جانے‘ کا خاتمہ کریں۔
’میرے خیال میں ہمیں اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے، اور مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ ایسا ہی کریں گے۔‘
سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ نیتن یاہو یا پھر صدر ٹرمپ ایک بھرپور جنگ چاہتے ہیں جو خطے کو تباہ کر کے رکھ دے۔
انہوں نے اس امر کی اہمیت پر زور دیا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کا تحفظ کرے اور ساتھ ہی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی وکالت کرے۔
بل کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’مشرق وسطیٰ میں اپنے دوستوں کو یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ ہم اُن کے ساتھ ہیں اور اُن کا تحفظ کریں گے۔‘
’لیکن غیراعلانیہ جنگوں کا حصہ بننا جن میں عام شہری مارے جائیں جن کا کوئی لینا دینا نہ ہو، اور جو ایک اچھی زندگی جینا چاہتے ہیں، جواز کچھ بھی دیں یہ کوئی اچھا حل نہیں ہے۔‘
امریکہ تاحال ایران اور اسرائیل کی حالیہ لڑائی میں براہ راست شامل ہونے سے دور رہا ہے۔ لیکن اس نے اسرائیل پر حملہ کرنے والے ایرانی میزائلوں کو گرانے میں مدد کی اور اسرائیلی فوج کو جنگی ساز و سامان فراہم کیا ہے۔













ایرانی میزائل اسرائیل میں اہداف کو باآسانی نشانہ کیسے بنا رہے ہیں؟ اصل وجہ سامنے آگئی
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف حملوں میں اپنی میزائل پالیسی تبدیل کر دی ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ایران کے پاس میزائلوں کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے۔
ایران اسرائیل کشیدگی سے متعلق تمام خبریں
عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے اپنی میزائل پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور مقدار کو معیار سے بدل دیا ہے، بڑی تعداد میں میزائل داغنے کے بجائے حساس فوجی اور سکیورٹی مقامات کے خلاف زیادہ جدید ترین میزائل استعمال کر رہے ہیں۔









*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...