*مسجدوں کے سائے میں جلتا سماج*
تحریر : یوسف خان، مالیگائوں۔
مسجدوں کی قطاریں، مدرسوں کی عمارتیں، معطر جبے، ریش دار چہرے، اور دن رات اللہ کے ذکر سے گونجتے منبریہ کسی داستانِ ماضی کی بات نہیں، یہ ہمارا آج ہے، ہمارا اپنا شہر، وہ شہر جس پر فخر کیا جاتا ہے کہ یہاں کے گلی کوچے اللہ اکبر کی صدا سے گونجتے ہیں، جہاں نماز کے اوقات کو کاروبار سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جہاں چھوٹے بچے بھی تجوید سے قرآن پڑھنا جانتے ہیں، جہاں حج سے واپس آئے بزرگوں کے ماتھے چمکتے ہیں، اور جہاں ہر عید کا چاند مذہبی جوش سے زیادہ روحانی طہارت کی نوید لے کر آتا ہے۔یہ شہر، جہاں علمائے کرام کی مجلسیں سجی رہتی ہیں۔ جہاں ہر جمعے کو خطبہ سننے کے لیے نمازیوں کا ہجوم مسجدوں کے آنگنوں سے باہر بہہ نکلتا ہے۔یہ وہ شہر ہے جہاں دینی جلوس میں شریک نوجوان اپنی پیشانی پر "لبیک یا رسول اللہ ﷺ" کی پٹیاں باندھے نظر آتے ہیں، اور جہاں عورتیں محرم و غیر محرم کی تمیز جانتی ہیں، پردے کو عزت کا زیور سمجھا جاتا ہے۔مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ شہر میں خودکشی، فحاشی، بے راہ روی، نشہ آوری، تعلیمی و معاشی بدعنوانی اور جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔کیا یہ وہی شہر ہے؟کیا یہ وہی قوم ہے جو قرآن کو سینے سے لگائے، اذان پر دوڑتی، اور سنت پر مر مٹنے کا دعویٰ کرتی تھی؟تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ شہر بگڑا کیسے؟ یہ بگاڑ آیا کہاں سے؟ کیا مسجدوں کی قطاریں، جبے اور عمامے، اذانیں اور جلسے،کافی تھے؟کیا دین کو صرف رسموں، فقہی مناظروں اور تقریری مقابلوں تک محدود کر دیناکامیابی کی ضمانت تھا؟کیا ہم نے دین کو جتنا اپنایا، اس کا اصل جوہر کردار، اخلاق، عدل، حیاء، اخلاص کہیں چھوڑ تو نہیں دیا؟یہ تضاد نہیں یہ ایک اجتماعی ناکامی ہے۔ایسی ناکامی جس میں نہ صرف حکمران، نہ صرف علماء، بلکہ ہم سب شریک ہیں۔کہیں ہم نے دین کو ظاہری قاعدوں میں بند کر دیا اور دلوں کو خالی چھوڑ دیا۔کہیں ہم نے مسجد کو صرف عبادت گاہ سمجھا، اور سماجی تربیت کی جگہ بھلا دی۔کہیں ہم نے منبر سے صرف جنّت کے راستے دکھائے، مگر دنیا کی برائیوں کے خلاف جہاد بھلا دیا۔یہ تمہید ایک شکوہ نہیں،بلکہ ایک سوال ہے،ایسا سوال جو ہر بیدار ذہن کو جھنجھوڑے،اور ہر سوتی ہوئی روح کو جگا دے۔یہ مضمون،انہی سوالوں کے جواب کی تلاش میںایک سعیِ بے نفس ہےتاکہ ہم جان سکیں،کہاں کہاں ہم نے دین کو چھوڑا،اور دنیا ہمیں کیسے نگل گئی۔ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں اجتماعی طور پر تلاش کرنا ہے۔
دین اسلام صرف مسجد کا نام نہیں، یہ ایک مکمل معاشرتی ضابطہ ہے۔ جب دین کو صرف عبادات، وظائف، اور وضع قطع تک محدود کر دیا جائے، تو دل مردہ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے شہر میں دین کے مظاہر تو خوب ہیں، لیکن اس کا مقصد تزکیہ نفس، عدلِ معاشرہ، اور فلاحِ امت کہیں کھو چکا ہے۔آج مسجدیں بھر جاتی ہیں، مگر دل خالی ہیں۔جمعے کے خطبے ہوتے ہیں، مگر سماج خاموش ہے۔علماء موجود ہیں، مگر نوجوان بےرہ روی میں مبتلا ہیں۔یہ صرف فرد کا نہیں، پوری امت کا المیہ ہے۔ اگر ہم ذرا ٹھہر کر سوچیں، تو یہ حقیقت ہمارے سامنے عریاں ہو جاتی ہے کہ ہمارا معاشرہ اب صرف زخم خوردہ نہیں، بلکہ اندر سے گلنے سڑنے لگا ہے۔ ایک زنجیر ہے جو برائیوں کی کڑیوں سے بنی ہے ہر کڑی دوسری سے جڑی ہوئی، اور ہر کڑی دل کو چیرنے والی۔ خودکشی کا بڑھتا رجحان گویا ہمارے نوجوانوں کے شکستہ دل کی آخری چیخ ہے۔ نشہ آور اشیاء میں ڈوبا ہوا بچپن اور لڑکھڑاتی ہوئی جوانی، ہمارے حال کا ماتم کرتی نظر آتی ہے۔ گھروں کے اندر بے خبری، بے رخی اور بےتوجہی کا عالم ایسا ہے جیسے رشتے صرف دیواروں کے اندر موجود دھوئیں کی مانند ہو گئے ہوں نظر آتے ہیں، مگر سانس گھونٹتے ہیں۔فحاشی اور اخلاقی گراوٹ نے عزت و حیا کی قبریں کھود دی ہیں، چوری، بے ایمانی، اور غنڈہ گردی نے امن کے دیے بجھا دیے ہیں۔ تعلیم کا میدان، جو قوموں کو بلند کرتا ہے، اب مافیا کے شکنجے میں ہے جہاں قابلیت نیلام اور ضمیر گروی رکھا جاتا ہے۔ اتی کرمن یعنی راستوں پر ناجائز قبضے صرف فٹ پاتھوں کو نہیں، انسانی ضمیر کو بھی تنگ کرتے جا رہے ہیں۔ بلیک میلنگ، مخبری، اور بدنیتی یہ سب وہ سانپ ہیں جو ہماری دیواروں پر بل کھاتے پھر رہے ہیں۔جوان لڑکیاں جن کے ہاتھوں میں قلم یا دعا ہونی چاہیے تھی، آج چوراہوں پر بھیک مانگ رہی ہیں، اور معصوم چہروں پر زناکاری کے داغ ثبت ہو رہے ہیں۔ بچے اور نوجوان، جنہیں قوم کا چراغ ہونا چاہیے تھا، وہ موبائل اور انٹرنیٹ کے زہریلے دریا میں بہتے جا رہے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، دل کو چیر دینے والی بات یہ کہ بے دینی، خدا فراموشی، اور روحانی اندھاپن نے ہماری راتوں سے سکون اور دنوں سے روشنی چھین لی ہے۔یہ سب فقط برائیاں نہیں یہ ہمارے ایمان، تربیت اور شعور کے ٹوٹے ہوئے چراغوں کا اندھیرا ہے،اور جب چراغ گل ہو جائیں، تو صرف اندھیرا نہیں آتا راہ بھی گم ہو جاتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس گہری سیاہی کو روشنی میں کیسے بدلاجائے؟اس اخلاقی زوال، فکری و روحانی گمراہی، اور سماجی بگاڑ کے اندھیرے کو کس چراغ سے جلایا جائے؟کیسے اس معاشرے کو خوابِ غفلت سے جگایا جائے جو مسجدوں کی اذان پر جاگتا ہے، مگر کردار کی گھنٹی پر سوتا ہے؟اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ ہم انکار کی عینک اتار کر اعتراف کی بینائی پہنے۔جب تک ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بگاڑ ہے، ہم اس کا حل کبھی نہیں ڈھونڈ سکیں گے۔یہ اصلاح فقط حکومت یا پولیس سے نہیں آئے گی۔نہ ہی کسی ایک جلسے، تقریر، یا پوسٹر سے۔بلکہ یہ اجتماعی شعور، مسلسل محنت، اور باہمی اتحاد سے آئے گی مسجد کے منبر سے لے کر بازار کی پگڈنڈی تک، مدرسے کے کمرے سے لے کر ماں کی گود تک، ہر جگہ پر روشنی بانٹنے والے ہاتھ، اور بیداری پھیلانے والے دل درکار ہیں۔ہمیں ان چراغوں کو جلانا ہوگا ۔ مسجد کو صرف نماز کا مرکز نہیں، سماجی تربیت کا ادارہ بنائیےمسجد وہ مرکز تھی جہاں سے حضرت عمرؓ نے عدالتی فیصلے کیے، جہاں حضرت بلالؓ اذان دیتے تھے، اور جہاں سے فقراء، یتیم، مظلوم اور محروموں کی کفالت ہوتی تھی۔مالیگاؤں کی ہر مسجد کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبوں میں صرف فضائل اور فروعی اختلافات پر بات نہ ہو، بلکہ موجودہ برائیوں پر واضح زبان میں گفتگو کی جائے خودکشی، نشہ، تعلیم کی تجارت، عورتوں کا استحصال، نوجوانوں کی فکری گمراہی ، مسجد کمیٹیاں اصلاحی پروگرامز کا انعقاد کریں جن میں سیرت، معاشرت، والدین کی ذمہ داریاں، ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال، اور اسلامی معیشت جیسے موضوعات ہوں۔"مسجد یوتھ ڈیسک" قائم کی جائے جو نوجوانوں کو دینی، نفسیاتی، تعلیمی و روزگار کی سمت رہنمائی فراہم کرے۔ علمائے کرام منبر سے نکل کر میدان میں آئیںمالیگاؤں میں علمائے کرام کی تعداد الحمدللہ بہت زیادہ ہے۔ مگر ان میں سے اکثر یا تو منبر تک محدود ہیں، یا حلقہ درس تک۔ضرورت اس بات کی ہے کہ علماءنوجوانوں سے براہِ راست رابطے میں آئیں، انہیں ان کی زبان میں بات سمجھائیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اذانوں سے آگے کا سفر شروع کریں۔ وہ سفر جو صرف مسجد کے محراب تک محدود نہ ہو بلکہ دلوں کے محراب میں چراغ روشن کرے۔ ہمیں رسمِ دین سے نکل کر روحِ دین کی طرف پلٹنا ہوگا۔ مسجد کو صرف عبادت کا مقام نہیں، تربیت کا مرکز بنانا ہوگا۔ منبر کو محض تقریر کا نہیں، انقلاب کا منبع بنانا ہوگا۔ہمیں اپنے بچوں کے ہاتھوں میں صرف عمامے نہیں، علم، شعور، اور بصیرت کے چراغ دینے ہوں گے۔ ماں کی گود کو مدرسہ بنانا ہوگا، اور باپ کے کاندھے کو اعتماد کا مینار۔ جب تک مسجد کے دروازے سے لے کر بازار کے در و دیوار تک دین کی خوشبو نہ پھیلے، تب تک ہماری اذانیں ہواؤں میں گم رہیں گی، اور ہم گمراہی کے اندھیروں میں۔آئیے، آج ہم ایک اجتماعی عہد کریں کہ مسجد کے سائے میں صرف سجدہ نہیں، خدمت اور کردار بھی ہوگا۔ کہ ہم دین کو صرف نماز، روزہ، اور ریش میں نہیں، بلکہ انصاف، محبت، حیاء، دیانت اور علم میں ڈھالیں گے۔یہی وہ دینِ محمدی ﷺ ہے، جو قرآن میں ہے، جو صحابہ کے کردار میں تھا، اور جس کی روشنی نے صحراؤں کو گلزار بنایا تھا۔اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو شاید اذانیں تو باقی رہیں گی... مگر سننے والے دل ختم ہو جائیں گے۔🍁
حسینیہ مسجد میں عمرہ تربیتی کلاس کا انعقاد
مالیگاؤں :22 جون 2025 بروز اتوار بعد نمازِ عشا فوراً حسینیہ مسجد نیا اسلام پورہ میں عمرہ تربیتی کلاس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جس میں خلیفہ فضيلة الشيخ السيد بشير الحسني البغدادي وحضور قائد ملت مفتی عسجد رضا خان صاحب قبلہ و حضورمحدث کبیر و اشرف الفقھاء حضرت الحاج علامہ مفتی مدثر حسین ازہری صاحب (پرنسپل: جامعہ حنفیہ سنیہ) معتمرین کی تربیت فرمائیں گے۔ خواتین اسلام کے لیے علاحدہ نشست کا اہتمام ہے۔واضح رہے کہ نمازِ عشا کی جماعت کا وقت نو بجے (9:00) ہے، اس لیے وقت کا خیال رکھتے ہوئے شرکت کی گزارش ہے۔بالخصوص جو لوگِ عازمِ حج و عمرہ ہیں وہ اس اہم موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں۔ایسی اطلاع منتظمین مسجد اہلسنّت حسینیہ نے ارسال کی۔
ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کو المصطفیٰ اکیڈمی، عراق کی جانب سے بین الاقوامی ایوارڈ تفویض
اردو زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے ممتاز ادیب، شاعر و محقق ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کو عراق کی معتبر ادبی و ثقافتی تنظیم، المصطفیٰ اکیڈمی فار کلچر اینڈ لٹریچر کی جانب سے "بین الاقوامی ایوارڈ برائے شعر و سخن و ثقافت" تفویض گیا ہے۔ یہ باوقار ایوارڈ 14 جون 2025 کو ممبئی کے انجمن اسلام، سی ایس ٹی میں اقبال ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ ایک پروقار تقریب میں معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر عبدالعقیل نے ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کو تفویض کیا۔ اس موقع پر ملک بھر سے تشریف لائی ہوئی ادبی، تعلیمی، سماجی و ثقافتی شخصیات کثیر تعداد میں موجود تھیں۔
واضح رہے کہ المصطفیٰ اکیڈمی فار کلچر اینڈ لٹریچر، عراق کو امریکن بورڈ اور کیمبرج اکیڈمی سے باضابطہ ایکریڈیشن حاصل ہے جو اس ایوارڈ کی بین الاقوامی سطح پر اہمیت اور وقار کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کو اس سے قبل مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی، پاسبانِ ادب، اور دیگر معتبر ادبی اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کے ادبی و تعلیمی تراجم، تحقیقی مقالات، شاعری اور ثقافتی سرگرمیوں میں فعال شرکت نے اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس ایوارڈ کے حصول کو ادبی حلقوں میں ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر کی مسلسل ادبی و ثقافتی خدمات کے عالمی اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اسی عزم و استقامت کے ساتھ اردو ادب و ثقافت کی خدمت جاری رکھیں گے- مالیگاؤں کی ادبی انجمنوں کے علاوہ ادب نواز شخصیات بالخصوص انصاری محمد رمضان مکی و رضوان ربانی سر نے مبارکباد پیش کی ہے-
فعال مدرس انصاری محمد رمضان محمد مکی کو اعزازی پی ایچ ڈی ڈگری سے نوازا گیا
رپورٹ:
ممبئی، 14 جون:
تدریس کے میدان میں تین دہائیوں تک نمایاں خدمات انجام دینے والے معروف مدرس انصاری محمد رمضان محمد مکی کو آج ممبئی میں ایک پُر وقار تقریب میں اعزازی پی ایچ ڈی ڈگری سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز بین الاقوامی سطح پر معروف تعلیمی ادارے بشپ وکٹر یونیورسٹی کی جانب سے دیا گیا۔
اس موقع پر خصوصی طور پر مدعو کیے گئے ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر عبدالعقیل نے انصاری محمد مکی کو یہ اعزازی ڈگری تفویض کی۔ تقریب میں علمی، ادبی اور سماجی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور انصاری محمد رمضان صاحب کی تعلیمی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
انصاری محمد رمضان محمد مکی نے تدریس کو صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن کے طور پر اپنایا۔ انھوں نے نہ صرف طلبہ کو علمی و تعلیمی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ان میں اخلاقی اقدار، روحانی بیداری، سماجی شعور اور خود اعتمادی جیسے اوصاف پیدا کرنے میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد قومی و علاقائی اداروں اور انجمنوں نے انہیں ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا ہے، اور آج کا اعزاز بھی ان کی مسلسل محنت اور خلوص کا بین ثبوت ہے۔
تعلیمی میدان سے وابستہ افراد نے اس اعزاز کو پورے تعلیمی حلقے کے لیے فخر کا باعث قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ انصاری محمد رمضان صاحب کا یہ سفر نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔
سردار پرائمری اسکول میں جوش و خروش سے نئے تعلیمی سال کا آغاز
شہر عزیز مالیگاؤں کے مشہور و معروف تعلیمی کیمپس سٹیزن ویلفیئر ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر انصرام جاری سردار پرائمری اسکول میں نئے تعلیمی سال ٢٠٢٥-٢٦ کا جوش و خروش سے آغاز ہوا- نئے تعلیمی سال کے پہلے ہی دن طلباء و طالبات کی کثیر تعداد میں شرکت سے پورا ماحول تعلیمی ہو گیا- سردار پرائمری اسکول کی فعال معلمات نے طلباء و طالبات کا گرم جوشی سے استقبال کیا- نئے تعلیمی سال کا آغاز خداوند قدوس کی حمد و ثناء سے ہوا- معلمات نے طالبات کو گل دے کر استقبال کیا اور تعلیم کی اہمیت و افادیت اور موجودہ وقت میں اسکی ضرورت پر روشنی ڈالی- ہیڈ مسٹریس محترمہ ایوبی پروین میڈم کی ایماء پر تعلیمی سال کا پہلا دن طلباء و طالبات کے لئے انتہائی خوشگوار و یادگار رہا- کیمپس کے روح رواں و چیرمین محترم الحاج ڈاکٹر منظور حسن ایوبی صاحب کی نیک خواہشات و دعائیں بھی شاملِ حال رہی-
ش ن الف سردار پرائمری اسکول مالیگاؤں