لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی، پہلگام حملہ کے دہشت گردوں کو امت شاہ کی سخت وارننگ
نئی دہلی : مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پہلگام حملے میں ملوث دہشت گردوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ یہ نہ سوچیں کہ انہوں نے جنگ جیت لی ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد اپنے پہلے عوامی تبصرہ میں امت شاہ نے کہا کہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہیں (دہشت گردوں کو) یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ انہوں نے ہمارے 26 لوگوں کو مارنے کے بعد جنگ جیت لی ہے۔ وہ بوڈوفا اپیندرناتھ برہما کی وراثت کے احترام کے لیے سڑک اور مجسمے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بزدلانہ حملہ کرکے سوچتا ہے کہ یہ ان کی بڑی جیت ہے تو ایک بات سمجھ لیں، یہ نریندر مودی کی حکومت ہے، کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔ ہمارا عزم ہے کہ اس ملک کے کونے کونے سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور یہ پورا ہوگا۔ نہ صرف 140 کروڑ ہندوستانی بلکہ پوری دنیا اس لڑائی میں ہندوستان کے ساتھ کھڑی ہے۔امت شاہ نے مزید کہا کہ دنیا کے تمام ممالک متحد ہیں اور اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میں اس عزم کو دہرانا چاہتا ہوں کہ جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہماری لڑائی جاری رہے گی اور جنہوں نے اسے انجام دیا ہے، انہیں یقینی طور پر مناسب سزا دی جائے گی۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ آج میں عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم 90 کی دہائی سے کشمیر میں دہشت گردی چلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر مضبوطی سے لڑ رہے ہیں، آج انہیں (دہشت گرد) یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ انہوں نے ہمارے شہریوں کی جان لے کر جنگ جیت لی ہے۔ میں دہشت پھیلانے والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جنگ کا خاتمہ نہیں ہے، ہر ایک کو جواب دیا جائے گا ۔22 اپریل کو پہلگام کی وادی بیسرن میں دہشت گردانہ حملے میں ایک غیر ملکی سمیت 26 افراد کو بے دردی سے گولی مار دی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ہندوستان نے سخت ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف سفارتی تعلقات کم کیے بلکہ پاکستانی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی ہیں۔
پاکستان: اسحاق ڈار کو نظر انداز کرکے مارک روبیو نے کیوں وزیراعظم شہباز شریف سے کی بات؟ جانئے
Mark Rubio Calls Shahbaz Sharif : ہندوستان پہلگام میں دہشت گرد حملے کا فوجی جواب ضرور دے گا، سفارتی جوابی حملہ بھی جاری ہے۔ پورا ہندوستان ناراض ہے اور امریکہ سمیت پوری دنیا محتاط ہے۔ لیکن اس پورے واقعے میں پاکستان کو سفارتی طمانچہ مارا گیا ہے اور وہ بھی کھلے عام ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بات کی۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن پاکستان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے فون پر براہ راست بات چیت کی۔ جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ یہ بات اب اسلام آباد کے پاور کوریڈورز میں موضوع بحث بن گئی ہے کہ روبیو نے ڈار سے بات کیوں نہیں کی۔
کیا ’ڈرٹی ورک‘ والا بیان تو نہیں لے ڈوبا؟
سوال بڑا ہے، اور جواب بہت واضح ہے۔ امریکہ اب پاکستان کی خوف و ہراس پھیلانے والی زبانوں سے تنگ آچکا ہے۔ خواجہ آصف جیسے لیڈر کھلے عام بکوس اور بے بنیاد بیانات دے رہے ہیں جیسے کہ ’ہندوستان میں گندہ کام امریکہ پاکستان سے کروا رہا ہے‘۔ اب امریکی ایم پی اور انڈیا کاکس کے شریک چیئرمین رچ میک کارمک نے خود اس کا سختی سے جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر ہندوستان کے خلاف گندہ کام کروانے کا الزام لگانا انتہائی گھنونا ہے۔ تمہیں یہ کہنے کی ہمت کیسے ہوئی؟
ایسے میں امریکہ نے اب فیصلہ کیا ہے کہ جب معاملہ سنگین ہو ، تو اعتماد کی ڈور کمزور ہاتھوں میں نہیں دی جائے گی۔ اسحاق ڈار یا خواجہ آصف جیسے ’لوز کینن‘ سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی لئے مارکو روبیو نے وزیراعظم شہباز شریف کو براہ راست فون کیا تاکہ پیغام واضح ہو اور بات چیت پر بھی اعتماد برقرار رہے۔جے شنکر سے کیا بات ہوئی؟
روبیو اور جے شنکر کے درمیان ہوئی بات چیت میں دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی گئی، سازش کرنے والوں کو سزا دینے کی بات ہوئی اور ہندوستان کے ساتھ امریکہ کی یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت میں جانچ میں تعاون کرنے ، دہشت گردوں کو سزا دینے اور ہندوستان کے ساتھ براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کی بات ہوئی ۔
بلیک آؤٹ کو ملی حمایت سے مسلم پرسنل لاء بورڈ پرجوش، جانئے ڈاکٹر قاسم رسول نے کیا کہا؟
نئی دہلی : آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک پر ’’بتی گل‘‘ کا پروگرام ( 30؍اپریل 2025) کامیاب رہا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان و تحفظ اوقاف مہم کے کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ پورے ملک سے جو خبریں موصول ہوئی ہیں وہ بڑی ہی حوصلہ افزاء ہیں۔ نہ صرف مسلم محلوں میں گھروں، دکانوں، کارخانوں، بازار اور کاروباری مراکز میں 15 منٹ تک مکمل بلیک آؤٹ رہا بلکہ برادران وطن نے بھی اس میں شرکت کرکے مسلمانوں کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ مساجد میں بھی عین عشاء کی نماز کے وقت لائٹ آف رہی۔ کیا شیعہ کیا سنی، کیا دیوبندی کیا بریلوی، بتی گل کے پروگرام میں سب کی مکمل شمولیت رہی۔ بعض وہ لوگ بھی جو اس علامتی پروگرام کے معترض تھے۔ لیکن ملت کے اتحاد و یکجہتی کی خاطر اس مظاہرہ میں شامل ہوکر’’پیوستہ رہ شجر سے، امید بہار رکھ‘‘ کا منظر پیش کیا۔انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے پوری امت مسلمہ ہندیہ ، ملک کے اقلیتی طبقات، سول سوسائٹی موومنٹس، دلت، آدی باسی اور او بی سی طبقات کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا کہ ان تمام حضرات و خواتین اور نوجوان دوستوں نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے غیر معمولی محنت و جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، جس کے خوشگوار اثرات و نتائج سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آئندہ بھی آپ بورڈ کی آواز پر لبیک کہتے رہیں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ وقف قانون میں کی گئیں یہ غیرقانونی اور دستور مخالف ترمیمات واپس نہیں لے لی جاتیں۔ ڈاکٹر الیاس نے مسلمانوں سے کہا آپ کے جن غیر مسلم دوستوں اور احباب نے اس پروگرام میں حصہ لیا ان کا شکریہ ضرور ادا کریں۔