Thursday, 1 May 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






*یکم مئی عالمی یوم محنت کشاں کے ساتھ ہی یوم مہاراشٹر کے طور پر بھی منایا جاتا ہے*

*ریاست مہاراشٹر کا قیام اور مہاراشٹر کا سرکاری ترانہ جئے جئے مہاراشٹر ماجھا*

*دہلی میں منعقدہ 98،ویں مراٹھی ساہتیہ سمیلن میں کشمیری گلوکارہ شمیمہ اختر نے مراٹھی ادیبوں کا دل موہ لیا تھا*

*مالیگاؤں (احرار نیوز نیٹ ورک) یکم مئی* 1889ءکے بعد سے شکاگو میں آٹھ گھنٹہ ڈیوٹی کے تحریک کی کامیابی پر ہر سال یکم مئی کو عالمی یوم محنت کشاں (International Labour Day) کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد مزدور تحریکوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ اس دن زیادہ تر ممالک ریلیوں اور ثقافتی تقریبات کے ساتھ قومی تعطیل کا اعلان کرتے ہیں، کچھ ممالک تاریخی سیاق و سباق کے حوالے سے مختلف طریقے سے جشن کا اہتمام کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے بینر تلے انٹرنیشنل لیبر ڈے یعنی مزدوروں کا عالمی دن، یکجہتی، سماجی انصاف اور مزدوروں کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کی ایک مضبوط علامت ہے۔ اسی کیساتھ مہاراشٹر میں یکم مئی کو یوم مہاراشٹر بھی منایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے ملک بھارت نے 15 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی۔ تاہم، مہاراشٹر ایک آزاد ریاست نہیں تھی۔ جب ملک کو آزادی ملی تو ملک کا نقشہ بالکل مختلف تھا۔ راجپُوتانہ، خاندیش، سوراشٹر، مراٹھواڑہ،دکن، اور مختلف بولیوں کے نام پر مختلف صوبے تھے بعد میں، ملک آہستہ آہستہ زبان اور علاقے کی بنیاد پر مختلف ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔

ریاستوں کی تنظیم نو کے ایکٹ 1956 کے تحت بہت سی ریاستیں بنائی گئیں۔ اس ایکٹ کے تحت کرناٹک کی ریاستیں کنڑ بولنے والوں کے لیے، آندھرا پردیش تیلگو بولنے والوں کے لیے، ملیالم بولنے والوں کے لیے کیرالہ اور تمل بولنے والوں کے لیے تمل ناڈو بنائی گئیں۔ مراٹھی اور گجراتی بولنے والے لوگ اس وقت کے صوبہ بمبئی میں تھے، یعنی اسی ریاست میں۔ لیکن بعد میں دیگر ریاستوں کی طرح ہمارے ہاں بھی ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ مراٹھی اور گجراتی کی بنیاد پر لسانی صوبوں کی تشکیل کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔ گجراتی بولنے والے اپنی الگ ریاست چاہتے تھے۔ اس دوران مراٹھی بولنے والے شہری بھی آزاد ریاست کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس مطالبے کے لیے کئی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ 

ممبئی جو اُس وقت بمبئی اور بامبے کے نام سے جانا جاتا تھا اس کو نئی ریاست مہاراشٹر میں شامل کرنے کیلئے چگہ جگہ عوامی مباحثوں، جلسوں اور احتجاجوں میں غصے کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ احتجاج شروع ہو چکا تھا۔ اسی دوران 21 نومبر 1956 کا دن طلوع ہوا۔ ممبئی میں مظاہرین نے اس وقت کی حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ نکالا۔ ممبئی سمیت متحدہ مہاراشٹر کا مطالبہ کرنے والے نعروں نے ممبئی کو ہلا کر رکھ دیا۔ فلورا فاؤنٹین کے پاس پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ لیکن مشتعل مظاہرین کو روکنا ممکن نہیں تھا۔ مظاہرین سے لاٹھی چارج برداشت نہیں ہوا۔ آخر کار ممبئی ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ مرار جی ڈیسائی جو بمبئی کو گجرات میں شامل کرنے کے حامک تھے انہوں نے گولی چلانے کا حکم دے دیا۔ پولیس کی فائرنگ سے 15 مظاہرین ہلاک ہو گئے۔ 300 مظاہرین زخمی ہوئے۔

اس قربانی سے عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا، جس وقت یہ تحریک مہاراشٹر میں چل رہی تھی، وہیں گجرات میں بھی مہاگجرات تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ اس لیے یہ مسئلہ مرکز کے لیے مسئلہ بن گیا۔ 1956 کے بعد کی تحریکوں اور سمیوکت مہاراشٹر سمیتی کے دباؤ کی وجہ سے، حکومت نے آخر کار نرمی اختیار کی اور 1960 میں بمبئی کی تنظیم نو کا ایکٹ منظور کیا، جس نے دو الگ ریاستیں مہاراشٹر اور گجرات کی تشکیل کی۔ اس طرح ایک عظیم جدوجہد اور شہیدوں کے خون بہانے کے بعد یکم مئی 1960 کو مہاراشٹر ایک آزاد ریاست بن گیا۔ 
یکم مئی 1960ء کو مہاراشٹر کی تشکیل کے بعد یشونٹ راؤ چوہان مہاراشٹر کے پہلے وزیز اعلیٰ بنے اور مہاراشٹر کی ترقی کا دور شروع ہوا۔ مراٹھی زبان کی بنیاد پر مہاراشٹر کی تشکیل ہوئی اسلئے مراٹھی کو ریاستی زبان کا درجہ دینے کے ساتھ ہی مراٹھی ادب پر بھی کوششیں ہوئیں ابھی حال ہی میں 21،22،23،فروری کو دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں مراٹھی ساہتیہ سمیلن کی جانب سے تین دن تک مراٹھی پروگراموں کو ترتیب دیا گیا۔ ان میں کوی سمیلن، مختلف کتابوں کی اشاعت، کتاب میلے، سیمینارجیسے پروگرام شامل تھے۔ 

دہلی میں منعقدہ مراٹھی ادبی کانفرنس میں عوام نے بھرپور شرکت کی۔ اس کانفرنس میں نہ صرف مہاراشٹر کے مراٹھی لوگوں نے شرکت کی بلکہ دہلی میں رہنے والے بہت سے لوگوں نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ دہلی اور پڑوسی ریاستوں کے آس پاس رہنے والے مراٹھی لوگوں کے ساتھ ساتھ کرناٹک، گوا اور دیگر ریاستوں میں رہنے والے مراٹھی لوگ بھی اس ادبی کانفرنس میں شریک ہوئے۔
دہلی میں منعقدہ مراٹھی ساہتیہ سمیلن کی 98،ویں کانفرنس کا افتتاح ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے کیا جبکہ مہاراشٹر کے مراٹھا لیڈر شرد پوار مہمان خصوصی رہے سب سے اہم بات یہ کہ پروگرام کی شروعات جئے جئے مہاراشٹر ماجھا کے ریاستی گیت سے کی گئی جس کو کشمیر کی مشہور گلوکارہ شمیمہ اختر نے اپنی آواز دیکر نریندر مودی سمیت تمام. شرکاء کو حیرت میں ڈال دیا تھا بلکہ کشمیری ہونے اور اردو بولنے کے ناطے مراٹھی ادیبوں کا دل موہ لیا تھا واضح رہے کہ جئے جئے مہاراشٹر ماجھا مہاراشٹر کا سرکاری ترانہ ہے ۔ یہ ایک حب الوطنی کا گیت ہے جس میں ریاست مہاراشٹر کی تعریف کی گئی ہے۔ گیت کے اصل بول راجہ بڈھے نے لکھے تھے اور موسیقی سری نواس کھلے نے ترتیب دی تھی ۔ یہ گیت لوک گلوکار کرشن راؤ عرف شہیر سابلے نے گایا تھا۔ یہ گیت مہاراشٹر حکومت کے سرکاری پروگراموں میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے 

پہلگام سانحہ کے بعد ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ لیکن حب الوطنی کبھی حالات سے متاثر نہیں ہوتی پہلگام کے سانحہ کے بعد بھی متعدد ویڈیوز اور خبریں ہماری نظروں سے گذر رہی ہیں جن میں مہاراشٹر کے باشندوں کو اپنی جان پر کھیل کر بچانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ دہلی میں منعقدہ مراٹھی ساہتیہ سمیلن میں ایک کشمیری گلوکارہ شمیمہ اختر کے ذریعہ جئے جئے مہاراشٹر ماجھا کی ترتیب ہمیں پیغام دیتی ہیکہ حب الوطنی کی نہ کوئی ذات ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مذہب ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے وطن اور سرزمین کیلئے اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔










*سائنسی ایجادات اور بنی نوع انسان*
از: رضوان سر(اے ٹی ٹی ہائی اسکول، مالیگاؤں، ناسک، مہاراشٹر)

سائنس ایک منظم شعبہ ہے جو تجرباتی مفروضات اور دنیا کے بارے میں پیشن گوئیوں کی شکل میں علم کو بناتا اور منظم کرتا ہے۔ یورپ نے عرب اور مسلمانوں کے ایجاد کردہ علوم اور اصولوں کو لے کر ان پر نہایت یکسوئی اور جانفشانی سے کام کیا اور انہیں ترقی دی، وسعت دی اور تجدید کے نتیجے میں آج زمام اقتدار ان کے ہاتھوں میں ہے۔ دنیا کوکٹھ پتلی بنا کر دیگر قوموں کا استحصال کرنا کبھی بھی سائنس کا مقصد نہیں رہا مگر یہی سائنس آج بھی اس استحصالی نظام اور برائی کے خاتمے کا ہنر رکھتی ہے۔

        پرانے وقتوں میں بنی نوع انسان کے بیشتر قصے کہانیوں کے کردار آج سائنس کی وجہ سے حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر خواب و خیال سے پرے ایسی ایسی ایجادات کو جنم دیا ہے کہ عقل حیرت کے سمندر میں غوطہ زن رہ جاتی ہے۔ گھریلو استعمال سے لے کر خلاء تک پھیلی ہوئی تقریبا تمام چیزوں پر تصرف سائنس کی مدد سے ممکن ہو سکا ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ چاہے تجارت ہو، پیغام رسانی ،نقل وحمل، زراعت، تعلیم، صنعت و حرفت، سائنس کے کرشمات سے بھری پڑی ہے۔ آج تفریح کے مختلف ذرائع بھی سائنس کی ہی مرحون منت ہیں۔ ذراعت میں نت نئی ایجادات نے بھوک جیسے عفریت سے ہمیں نجات دی۔ بن جامن فرینکلن نے بجلی کی دریافت کر کے انسانیت کو گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر اجالے کا حوصلہ دیا اور تھامس ایلوا ایڈیسن نے بجلی کی پیداوار، مواصلات، آوازوں کو محفوظ کر کے اور محرک تصاویر کی دریافت سے سائنس کو نئی جہت عطا کی۔ جون گٹن برگ، نے چھاپہ خانہ بنا کر انسانیت کو تہذیبی ترقی دی، فولاد کی دریافت کر کے ہینری بسمر نے دنیا کا رخ موڑ دیا۔ آواز کو قید کر کے، ٹیلی فون کے دریافت کر کے الیکزنڈر گراہم بیل نے ایک انقلاب برپا کر دیا ۔جیمس واٹ نے دخانی انجن اور سٹیفنسن نے ریل گاڑی بنا کر عوام کو کثیر تعداد میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا موقع دیا ۔ فوٹوگرافی جیسی دریافت کر کے نیپسے برادران اور لوئی جیک ڈیگرے نے چیزوں کی تصاویر کو صدیوں محفوظ رکھنے کا جواز عطا کیا۔ ربر دریافت کر کے چارلس گڈایئر نے دنیا کو مہذب اور تیز رفتار بنا دیا، اگرچہ وہ اس دریافت کے دوران شدید معاشی تنگی سے گزرا اور افلاس کی حالت میں وفات پائی۔
      پرندوں کی طرح پرواز کرنا انسان کا پرانا خواب تھا اس کی تعبیر گو بیسویں صدی کے آغاز تک پوری نہ ہو سکی لیکن اس حد تک کامیاب ہو چکا تھا کہ زمین سے بلند ہو کر ہوا میں جا سکے، اور یہ غبارے کی مدد سے ممکن ہوا ۔مشہور انگریزی کیمیادان کیوندش نے ثابت کیا کہ ہائیڈروجن نام کی گیس معمولی ہوا سے ہلکی ہے، اسے تھیلے میں بھری جائے اور اس تھیلے کے نیچے ٹوکری باندھ دی جائے تو یہ تھیلا اس ٹوکری کو ہوا میں بلند کر دے گا۔ آگے چل کر رائٹ برادران نے ہوائی جہاز تخلیق کرکے وقت اور فاصلوں کو سمیٹ دیا۔ خلائی سائنس میں ناسا اور اسرو جیسے اداروں کی خدمات دنیا سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان نے صرف تعلیمی مقاصد کے لیے جی سیٹ تھری جسے "ایڈوسیٹ" کہا جاتا ہے ، 2004 میں خلاء میں کامیابی سے بھیجا اور تعلیم کو عام کردیا۔ لوہے اور فولاد کے دریافت سے بلند و بالا عمارتیں وجود میں آئیں اور لوگوں کی رہائش کے مسائل حل ہوئے۔ میڈیکل اورطبی شعبے میں بے پناہ ترقی سے نئے، فائدہ مند و نقصان دہ خوردبینی جانداروں کی دریافت ہوئی، بیماریوں کی تدارک کے لیے انجکشن ،ٹیکے اور ڈوز دریافت ہوئے۔ اعضاء کی پیوندکاری سے انسانیت کو سہارا ملا۔ ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھ کر کمپیوٹر اورمشینوں کے ذریعے مریضوں کا آپریشن کرنا آسان ہوا۔ یہ سب سائنس اور ٹیکنالوجی کی دین ہے، جس نے ہماری صحت اور طرز زندگی کے ہر شعبے کو بام عروج تک پہنچایا، ہم کہہ سکتے ہیں کہ سائنس دانوں نے فکر و تحقیق دی، اساتذہ نے سائنس کو لوگوں تک منتقل کیا اور ڈاکٹروں اور ماہرین شعبہ نے سائنس کو برت کر انسانیت کی لازوال خدمت کی۔
پرانے وقتوں میں طاعون جیسی متعدی بیماریوں نے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا مگرآج سائنس نے ان سے زیادہ خطرناک بیماریوں کے جراثیموں کو کھوج نکالا۔ کرونا جیسے امراض پر قابو پانے کے ٹیکے ایجاد کر لیے۔ چونکہ انسانی فطرت بے لگام گھوڑے کی طرح ہے، جیسے آئنسٹائن کے شروعاتی نظریات اور کوششوں کو عملی جامہ پہناکر امریکی سائنسدانوں نے ایٹم بم بنا لیے اور ان کے استعمال سے تباہی بربادی کی وہ تاریخ رقم کی کہ انسانیت لرز اٹھی ۔ نیوکلیئر جنگ کے خدشات سے دنیا ہر وقت بے چین اور صدمے میں رہتی ہے۔ جدید ہتھیاروں کی تیاری اور ان سے منافع کمانے کی دوڑ نے کروڑوں جانداروں کو موت کے گھاٹ اتار دئیے۔ آرام دہ اور طلسماتی زندگی کی چاہت نے فضاء، زمین اور سمندر کو زیر و زبر کر کے رکھ دیا۔ صنعتوں اور ایٹمی ریکٹر سے خارج گیسوں، زہریلے مادوں اور ریڈیائی کچرے نے بہتوں کو بے موت مار دیا۔ گلوبل وارمنگ سے انسان مختلف بیماریوں، خدشات اور پریشانیوں میں گھر چکا ہے۔ بے پناہ ترقی کے باوجود ہرجاندار موت کے خطرات سے دوچار ہے ۔بہرحال سائنس نے انسانیت کی خدمت اور بربادی کے دونوں پہلو عیاں کر دیے ہیں، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ مثبت پہلوؤں کو بروئے کار لاتے ہوئے روئے زمین کے جانداروں کی راحت کا سامان پیدا کیا جائے۔





*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...