اسرائیل کی جانب سے غزہ میں 45 روزہ جنگ بندی کی پیشکش، یہاں جانیں کیا ہیں شرائط - NEW CEASEFIRE OFFER
غزہ: فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں موجود باقی ماندہ یرغمالیوں میں سے نصف یرغمالیوں کو رہا کرنے کے بدلے 45 دن کی فائر بندی کی پیشکش کی ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق، حماس کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ اسرائیل نے حماس سے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے غیر مسلح ہونے کی شرط بھی رکھی ہے۔
العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حماس عہدیدار کے مطابق مصری ثالثوں نے اسرائیل کی طرف سے ایک تجویز پہنچائی ہے، جس میں معاہدے کے پہلے ہفتے نصف مغویوں کی رہائی کے بدلے کم از کم 45 دن تک جنگ بندی میں توسیع کرنے اور غزہ میں امداد کی فراہمی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ 18 ماہ سے جاری جنگ کے آغاز سے اب تک کے بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے۔
حماس کے ذریعہ 7 اکتوبر 2023 کو یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں میں سے تقریباً 58 اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔ حالانکہ ان میں سے 34 کو اسرائیلی فوج مردہ قرار دیتی ہے۔
العربیہ کے مطابق، فلسطینی تنظیم کے عہدیدار نے جانکاری دی کہ، اسرائیلی تجویز میں غزہ کی پٹی میں حماس اور تمام فلسطینی مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کو جنگ کے مستقل خاتمے کی شرط کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حالانکہ حماس مزاحمت کے معاملے میں کوئی سودے بازی نہیں کرنا چاہتا۔
حماس کے ایک اہلکار نے پیر کو بتایا کہ فلسطینی عسکریت پسند گروپ غزہ میں جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ جنگ بندی کے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک وفد خلیجی ریاست قطر بھیج رہا ہے۔
حماس کے عہدیدار نے کہا کہ ٹیمیں قاہرہ میں حالیہ دنوں میں جنگ بندی کے نئے معاہدے کی شرائط پر بات چیت کر رہی ہیں، جس میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ حماس غزہ میں قید آٹھ سے دس یرغمالیوں کو رہا کرے۔ لیکن حماس کے عہدیدار نے کہا کہ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ آیا جنگ کسی نئے معاہدے کے حصے کے طور پر ختم ہو گی۔
حماس کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ میڈیا کے ساتھ حساس بات چیت کے بارے میں بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔ اسرائیل اور قطر کے حکام نے فوری طور پر اس بارے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اسرائیل اور حماس نے جنوری میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ماہ جنگ دوبارہ شروع کر دی گئی۔ جنگ بندی کے ابتدائی معاہدے کا مقصد فریقین کو جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کی طرف لانا تھا۔حالانکہ حماس آج بھی مستقل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلاء اور امداد کی فراہمی کی اپنی شرائط پر قائم ہے۔
بڑھتی عمر کے ساتھ صحت مند رہنے کے لیے کون سی غذائیں فائدہ مند؟
ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پھل، سبزیاں، اناج، گری دار میوے، پھلیاں اور کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات والی غذاؤں کا صحت سے بنیادی تعلق ہے جبکہ اسی طرح سوڈیم، شوگر ڈرنکس، ٹرانس فیٹس، سرخ گوشت اور پراسیس شدہ گوشت کو صحت کے لیے مضر پایا گیا۔
ہارورڈ ٹی ایچ چن سکول آف پبلک ہیلتھ، یونیورسٹی آف کوپن ہیگن اور یونیورسٹی آف مونٹریال کے محققین کی طرف سے کی گئی یہ تحقیق نیچر میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج ایک لاکھ سے زائد افراد کے کھانے پینے اور صحت کے جائزوں کی بنیاد پر اخذ کیے گئے۔فریڈرک جے سٹیر پروفیسر آف نیوٹریشن اینڈ ایپیڈیمولوجی اور ہارورڈ چان سکول میں نیوٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے چیئر فرینک ہو نے کہا کہ ’اس سے قبل ہونے والی تحقیق میں لوگوں کی غذاؤں کی بنیاد پر مخصوص بیماریوں یا وہ کتنے عرصے زندہ رہتے ہیں پر توجہ مرکوز ہوتی تھی۔ ہمارا ایک کثیر جہتی نقطہ نظر رہا، یہ پوچھتے ہوئے کہ خوراک لوگوں کے زندگی گزارنے اور عمر کے ساتھ اچھے معیار زندگی سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت کو کیسے متاثر کرتی ہے؟‘
محققین نے نرسوں کے ہیلتھ سٹڈی اور ہیلتھ پروفیشنلز کے فالو اَپ سٹڈی کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 39 سے 69 سال کی عمر کے ایک لاکھ پانچ ہزار افراد پر تحقیق ہے۔
تحقیق میں شامل ان خواتین اور مردوں کی خوراک اور حتمی صحت کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے باقاعدگی سے غذائی سوالنامے مکمل کیے جس پر محققین نے نوٹ کیا کہ انہوں نے آٹھ صحت مند غذا کے نمونوں پر کتنی اچھی طرح سے عمل کیا۔
ان میں متبادل صحت مند کھانے کے انڈیکس، آلٹرنیٹیو میڈیٹیرینین انڈیکس، ہائی بلڈ پریشر کو روکنے کے لیے غذائی نقطہ نظر (ڈی اے ایس ایچ)، میڈیٹیرینین کے صحت بخش کھانے، پودوں پر مبنی غذا (ایچ پی ڈی آئی)، پلانیٹری ہیلتھ ڈائیٹ انڈیکس (پی ایچ ڈی آئی) کی تفصیلات بھی تحقیق میں شامل افراد نے بتائیں جن کی بنیاد پر ماہرین نے نتائج اخذ کیے۔
محققین کے مطابق ان میں سے ہر ایک غذا جن میں پھل، سبزیاں، مکمل اناج، غیر حل شدہ چکنائی، گری دار میوے اور پھلیاں نہایت صحت بخش ثابت ہوئیں جن کے کھانے والوں کا معیارِ زندگی بہتر رہا۔اسی طرح مچھلی اور دودھ سے حاصل کی گئی کھانے کی بعض مصنوعات (ڈیری پراڈکٹس) بھی صحت کے مفید ثابت ہوئیں۔
محققین نے شرکاء کے الٹرا پروسیس شدہ کھانوں کی مقدار کا بھی جائزہ لیا، جو صنعتی طور پر تیار کیے جاتے ہیں، جن میں اکثر مصنوعی اجزاء یعنی شکر، سوڈیم اور غیرصحت بخش چربی شامل ہوتی ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق الٹرا پروسیسڈ فوڈز، خاص طور پر پراسیسڈ گوشت اور میٹھے اور مشروبات کا زیادہ استعمال صحت مند بڑھاپے کے امکانات کو کم کر دیتا ہے۔
’انسٹاگرام اور واٹس ایپ بیچنا پڑ سکتا ہے‘، مارک زکربرگ کو کس نئے چیلنج کا سامنا ہے؟
معروف ٹیک کمپنی میٹا کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انسداد اجارہ داری کے مقدمے کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں اسے انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ کی وفاقی ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کی جانب سے کیے گئے مقدمے میں میٹا پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ میٹا نے انسٹاگرام اور واٹس ایپ خرید کر غیر قانونی طور پر حریف پلیٹ فارمز کو دبانے کی کوشش کی۔
ایف ٹی سی میٹا کو انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی تنظیم نو یا فروخت کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور یہ صدر ٹرمپ کے بڑی ٹیک کمپنیوں کی جانچ پڑتال کے وعدوں میں سے ایک ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رؤئٹرز کے مطابق پیر کے روز واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت میں میٹا کے سی ای او مارک زکر برگ کو کمپنی کے دفاع کے لیے کٹہرے میں بلایا گیا۔
گہرے رنگ کا سوٹ اور ہلکے نیلے رنگ کی ٹائی پہنے ہوئے، زکربرگ نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ درحقیقت ہماری ایپلی کیشن کی واحد ترجیح دوستوں اور خاندان کے افراد کی آپس میں سوشل شیئرنگ اور دیگر مواد کی تلاش تھی۔
زکربرگ نے کہا ’کمپنی نے 2018 میں فیصلہ کیا کہ فیس بک صارفین کے دوستوں کی جانب سے شیئر کیے مواد کو دکھانے پر ترجیح دے گا مگر وہ صارفین کے میسجز کے ذریعے مواد شیئر کرنے کے باعث بدلتے رجحانات کو سمجھ نہیں سکے۔‘
انہوں نے کہا ’ہم سمجھ نہیں سکے کہ سوشل انگیجمنٹ کس طرح بدل رہی ہے۔ لوگ زیادہ سے زیادہ ایسے مواد کے ساتھ مشغول رہتے ہیں جو ان کے دوستوں کی جانب سے شیئر کیا گیا نہیں ہوتا۔‘
انہوں نے اندازہ لگایا کہ اب فیس بک پر تقریباً 20 فیصد مواد اور انسٹاگرام پر 10 فیصد مواد صارفین کے دوستوں کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے، ان اکاؤنٹس کے برعکس جو وہ مفادات کی بنیاد پر فالو کرتے ہیں۔ایف ٹی سی نے ان ای میلز کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں زکربرگ نے ممکنہ فیس بک حریف کو بے اثر کرنے کے طریقے کے طور پر فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کو حاصل کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انکرپٹڈ میسجنگ سروس واٹس ایپ سوشل نیٹ ورک میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
میٹا نے دلیل دی ہے کہ اس کی 2012 میں انسٹاگرام اور 2014 میں واٹس ایپ کی خریداری سے صارفین کو فائدہ ہوا ہے، اور بائٹ ڈانس کے ٹِک ٹاک، گوگل کے یوٹیوب اور ایپل کی نئی میسجنگ ایپ سے مسابقت کے درمیان زکربرگ کے ماضی کے بیانات اب متعلقہ نہیں ہیں۔
صارفین سوشل میڈیا پر کس طرح وقت گزارتے ہیں اور کن سروسز کو وہ قابل تبادلہ خیال سمجھتے ہیں اس مقدمے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔
میٹا دلیل دے گا کہ جنوری میں امریکہ میں ٹک ٹاک کی مختصر پابندی کے دوران انسٹاگرام اور فیس بک پر ٹریفک میں اضافہ براہ راست مقابلے کو ظاہر کرتا ہے۔
ایف ٹی سی کا دعویٰ ہے کہ میٹا کے پاس ایسے پلیٹ فارمز پر اجارہ داری ہے جو دوستوں اور خاندان کے ساتھ مواد شیئر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جہاں امریکہ میں اس کے اہم حریف سنیپ چیٹ اور می وی ہیں۔
ایف ٹی سی نے دلیل دی ہے کہ پلیٹ فارم جہاں صارفین مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مواد شیئر کرتے ہیں جیسے کہ ٹک ٹاک، ایکس، یوٹیوب، ریڈیٹ وہ میٹا کے پلیٹ فارمز سے مختلف ہیں۔
امریکہ کے ڈسٹرکٹ جج جیمز بواسبرگ نے نومبر میں ایک فیصلے میں کہا تھا کہ ایف ٹی سی کو ’اس بارے میں سخت سوالات کا سامنا ہے کہ آیا اس کے دعوے مقدمے کی سماعت میں برقرار رہ سکتے ہیں۔‘
مقدمے کی سماعت جولائی تک ہو سکتی ہے۔ اگر ایف ٹی سی یہ جیت جاتا ہے تو اسے الگ سے ثابت کرنا ہو گا کہ میٹا کو انسٹاگرام یا واٹس ایپ کو فروخت کرنے پر مجبور کرنے سے اجارہ داری ختم ہوسکتی ہے۔
انسٹاگرام کو کھونا میٹا کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
واضح رہے میٹا اپنی ایپ سے متعلق مخصوص آمدنی کے اعداد و شمار جاری نہیں کرتا ہے، اشتہاری تحقیقی فرم ’ای مارکیٹیر‘ نے دسمبر میں پیش گوئی کی تھی کہ انسٹاگرام اس سال 37.13 بلین ڈالر کا کاروبار کرے گا، جو میٹا کی امریکی اشتہاری آمدنی کا نصف سے زائد ہے۔
ای مارکیٹر کے مطابق انسٹاگرام فی صارف فیس بک سمیت دیگر پلیٹ فارمز سے بھی زیادہ کماتا ہے۔
واٹس ایپ کا آج تک میٹا کی کل آمدنی میں کردار کم ہی رہا ہے لیکن یہ روزانہ استعمال کرنے والوں کے لحاظ سے کمپنی کی سب سے بڑی ایپ ہے اور چیٹ بوٹس جیسے ٹولز سے پیسے کمانے کی کوششوں کو تیز کر رہی ہے۔ یہ کیس ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کے دوران شروع ہونے والے بگ ٹیک کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔
میٹا ٹرمپ کے حالیہ انتخاب کے بعد سے باقاعدگی سے قربت بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے، اور یہاں تک کہ ٹرمپ کی کانٹیٹ ماڈریشن اور سینسرشپ پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود صدارتی تقریب میں ایک ملین ڈالر کا عطیہ بھی کیا۔ زکربرگ نے حالیہ ہفتوں میں متعدد بار وائٹ ہاؤس کا دورہ بھی کیا ہے۔
واضح رہے ماضی میں ایمازون، ایپل۔ الفابیٹ (گوگل) کو بھی عدم اعتماد کے مقدمات کا سامنا رہا ہے۔
کئی بڑی ٹیک کمپنیاں انتخابات کے بعد سے ٹرمپ کے ساتھ صف بندی میں لگی ہیں اور وائٹ ہاؤس کے ساتھ براہ راست مشغول بھی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران کمپنیوں نے جو جارحانہ لہجہ اختیار کیا تھا، اس میں تبدیلی کے باوجود بھی عدم اعتماد کے معاملات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔