ہر طرح کا قانون صرف مسلمانوں کے لیے !
اتواریہ : شکیل رشید
اِن دنوں عام لوگوں کے بیچ ایک ’ طلاق ‘ اور ایک ’ شادی ‘ کا معاملہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ۔ طلاق کا معاملہ ایک نیوز اینکر چترا ترپاٹھی کا ہے ، اور شادی کا تعلق دھرمیندر اور ہیمامالنی سے ہے ۔ درمیان میں ایک ’ محبت ‘ بھی گھس آئی ہے ، عامر خان کی نئی نئی محبت ، ایک ایسی خاتون سے ، جو ایک بچے کی ماں ہے ۔ چترا ترپاٹھی کو لوگ بی جے پی کی ہمدرد اینکر کے طور پر جانتے ہیں ، ان کی جس شخص سے طلاق ہوئی ہے ، اُس کا نام اتل اگروال ہے ، جو خود ایک بی جے پی نواز جرنلسٹ ہے ۔ بھلا کیوں طلاق کی یہ خبر موضوعِ بحث ہے ؟ اس کا ایک بڑا سبب اس جوڑے کا سولہ سال تک ایک ساتھ رہنا ہے ۔ دونوں کا ایک بیٹا بھی ہے ۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ سولہ سال کے طویل عرصہ تک ساتھ ساتھ رہنے کے بعد بھلا ایسا کیا ہوا کہ دونوں میں علاحدگی ہو گئی ؟ اس سوال کا جواب اس جوڑے نے تو نہیں دیا ہے ، لیکن یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ طلاق کا سبب کوئی ایسی بات ہوگی ، جس نے دونوں کے لیے ایک دوسرے کے وجود کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہوگا ۔ اور جب میاں بیوی کے لیے ایک دوسرے کا وجود برداشت سے باہر ہو جائے تو بہتر علاحدہ ہونا ہی ہوتا ہے ، اور زندگی میں ایسا موقع کبھی بھی آ سکتا ہے ۔ یہ وہ بات ہے ، جو ’ طلاقِ ثلاثہ ‘ کے کیس میں سمجھانے کی کوشش کی جا رہی تھی ، لیکن اسلامو فوبیا کے بخار میں تپتے ہوئے لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی تھی ۔ چترا ترپاٹھی نے اُس موقعے پر ، طلاق ثلاثہ کے بہانے ، مسلم فرقے پر طنز کسنے کا ، ذلیل کرنے کا اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے زہریلے ’ ڈیبیٹ ‘ کرانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا تھا ۔ بات صرف طلاق ثلاثہ تک رہتی تو بھی غنیمت تھا کہ لوگ یہ کہہ سکتے تھے کہ ایک غیر مسلم خاتون اینکر مسلم عورتوں کی حمایت میں کھڑی ہے ، لیکن بات طلاقِ ثلاثہ سے آگے بڑھ کر پوری اسلامی شریعت کو نشانہ پر لینے تک پہنچ گئی تھی ، جو افسوس ناک تھا ۔ اب لوگ چترا ترپاٹھی سے سوال کر رہے ہیں کہ محترمہ دیکھا کبھی کبھی طلاق کا لینا یا طلاق کا دینا کیوں ضروری ہوجاتا ہے ! اس لیے کہ زندگی میں جو پریشانیاں در آئی ہیں ، جو مسائل کھڑے ہو گیے ہیں ، وہ چھٹ جائیں ۔ میں کسی کے طلاق کے حق میں نہیں ہوں ، لیکن طلاق کے نام پر کسی کے مذہب کو نشانہ بنانے کے خلاف ہوں ۔ اور اگر کوئی عورت یا مرد طلاق کے لیے کوشاں ہے ، اور جائز وجوہ کی بنیاد پر کوشاں ہے ، تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ طلاق لے ، یہ چترا ترپاٹھی کا حق تھا ، لیکن یہ بات اُسے دیر سے سمجھ میں آئی ۔ رہی بات دھرمیندر اور ہیما مالنی کی تو دونوں نے چونکہ مسلم مذہب اپنا کر شادی کی تھی ، اس لیے ان دنوں دونوں خبروں میں ہیں ۔ ہیما مالنی کے ، اوڈیشہ کے جگناتھ پوری مندر میں جانے پر ، پجاری بہت ناراض ہوئے تھے کہ یہ تو مسلمان ہے یہ کیسے مندر میں آ گئی ! بات تو سچ ہی ہے ۔ یہ اور دھرمیندر اس لیے مسلمان بنے تھے کہ ان کی شادی ہو سکے ، دھرمیندر کی پہلے ہی سے ایک بیوی ہے جس کا نام پرکاش کور ہے ، اور ہندو دھرم میں ایک بیوی کے رہتے دوسری عورت سے شادی غیر قانونی ہے ، لیکن یہ کام ان دونوں نے ، جن میں سے ایک ہیما مالنی اب بی جے پی کی ایم پی ہے ، اور دھرمیندر بی جے پی کے سابق ایم پی ہیں ، کیا ۔ یہ اسلام مذہب سے ، کم از کم ہیما مالنی تو خود کو کٹر ہندوتوادی جتاتی ہیں ، نفرت کرتے ہیں لیکن اپنے مطلب کے لیے اسلام کا ہی دامن تھامتے ہیں ! کیا اس سے یہ نہیں لگتا کہ یہ ہندوتوادی بس ’ مفاد پرست ‘ یا ’ موقع پرست ‘ ہیں ؟ رہے عامر خان تو حاجی بن گیے ہیں لیکن ’ لو جہاد ‘ کو اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے ہیں ، پہلے رینا سے شادی کی ، پھر کرن راؤ سے اور اب گوری اسپراٹ نامی ایک بچے کی ماں پسند آ گئی ہے ! ان کی بیٹی ارا خان نے ایک ہندو سے شادی کی ہے ، بہن نکہت کے نام کے ساتھ ہیگڈے لگا ہوا ہے ! کیا ہندو تووادی تنظیموں کو یہ نظر نہیں آ رہا ہے ؟ یا بڑے لوگوں کو ہر طرح کی چھوٹ ہے اور ہر طرح کا قانون صرف غریب مسلمانوں کے لیے ہے ؟
_______::::______
درسی کتابوں کی غلطیاں
قسط نمبر 21
اعتراض نمبر 147
عمران امین
11 نومبر 2020
(یوم تعلیم)
اساتذۂ کرام
السلام علیکم!!!
گذشتہ قسط میں راشٹر گیت کی ایک فاش غلطی کی نشاندہی کیا تھا. آج آپ لوگوں کی خدمت میں "بھارت کا آئین" (تمہید ) میں ادارہ بال بھارتی، کمار بھارتی اور یوک بھارتی کی ایک ایسی غلطی کی نشاندہی کررہا ہوں جو پہلی جماعت سے بارہویں جماعت تک اردو کے مختلف مضامین کی تقریباً 70 کتابوں میں دہرائی گئی ہے، ملاحظہ فرمائیں:
اعتراض نمبر 147
بھارت کا آئین
تمہید
ہم بھارت کے عوام متانت و سنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کو ایک مقتدر سماج وادی، غیر مذہبی جمہوریہ بنائیں اور اس کے تمام شہریوں کے لیے حاصل کریں :
انصاف، سماجی، معاشی اور سیاسی؛
آزادی خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت؛
یہاں انصاف ذیلی سرخی کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اس لیے اس کے بعد کوما نہیں لگے گا.
انصاف کے ذیل میں سماجی، معاشی اور سیاسی آتا ہے یعنی بھارت کے عوام یہ عزم کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے تمام شہریوں کے لئے سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف حاصل کریں گے لیکن انصاف کے بعد کوما لگ جانے سے مفہوم بدل رہا ہے.
اعتراض نمبر 148
اسی طرح آزادی کے ضمن میں خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت آتے ہیں. یعنی بھارت کے عوام خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت کے معاملے میں تمام شہریوں کے لیے آزادی چاہتے ہیں. یہاں آزادی اور خیال کے درمیان کوما نہیں لگا (یعنی اوپر جو غلطی تھی وہ یہاں نہیں دہرائی گئی) لیکن چونکہ آزادی ذیلی سرخی ہے اس لیے اسے کچھ واضح کیا جانا چاہیے تاکہ ذیلی سرخی نظر آئے اور قاری کو سمجھ میں آئے کہ یہاں خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت کی آزادی مذکور ہے.
اردو، انگریزی یا دوسری زبانوں کے قواعد میں ان اوقاف اور علامات کو بہت اہمیت حاصل ہے اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو مفہوم کچھ سے کچھ بلکہ بعض اوقات تو اس کے بالکل اُلٹ ہو جاتا ہے.
" بھارت کا آئین" کی تمہید کو گذشتہ سال یوم آئین ہند یعنی 26 نومبر 2019 سے مہاراشٹر کی اسکولوں میں اسمبلی میں پڑھنا لازمی قرار دیا گیا ہے. بچے درسی کتابوں میں دیکھ کر اسے پڑھتے ہیں. جب کتابوں میں ہی یہ غلط طریقے سے تحریر ہے تو بچے کیوں کر اسے درست پڑھ سکیں گے. اس غلطی کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ ہر قاری اسے غلط پڑھتا ہے. رموز اوقاف کی ایسی فاش غلطیوں کو درست کرنا نہایت ضروری ہے. درسی کتابوں کو مرتب کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسے ترتیب دینے کے لیے محض انگریزی کا لفظی ترجمہ کافی نہیں ہے بلکہ اردو کے رموز اوقاف کے استعمال کی باریکیوں کو سمجھ بوجھ کر ترجمہ کرنا ضروری ہے .
عمران امین (ممبئی)
9867325358
___________
کتاب : ادھوری تخلیق (افسانوی مجموعہ)
مصنف :عظمت اقبال
تبصرہ : فرحان دِل
چار جنوری دوہزار چوبیس دوپہر دو بجے کے آس پاس بڑے بھائی عظمت اقبال صاحب کی کال آئی اور میں ان سے ملاقات کی غرض سے ہزار کھولی عابد سوڈا والے کی دوکان کے پاس پہنچا جہاں موصوف میرے انتظار ہی میں بیٹھے تھے ۔ ملاقات کافی دلچسپ رہی اور موصوف نے مجھے اپنا افسانوی مجموعہ " ادھوری تخلیق" بغرضِ مطالعہ و تبصرہ عنایت فرمایا ۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے موصوف اسکولی تعطیلات کی مناسبت سے شہر آئے اور مجھے کال بھی کی مگر اتفاق سے ہمارا ملنا ممکن نہیں ہورپارہا تھا ۔ اس دن میں نے خود انہیں کال کی اور بتایا کہ میں ایک کام کے سلسلے میں آگرہ روڈ پر آرہا ہوں وہیں ملاقات کرلیں، موصوف نے بھی بتایا کہ وہ قریب ہی ہیں اور اس طرح ہماری ملاقات ہوئی ۔ کافی دیر ادب پر سیر حاصل گفتگو ہوئی اور طبیعت میں خود بخود ادبی روانی آگئی جو کہ کسی بھی ادیب یا شاعر سے ملاقات پر آہی جاتی ہے اور ہم جیسے قلم سے جڑے افراد کے لیے باعثِ تسکین ہوتی ہے۔
میں نے موصوف سے وعدہ کیا تھا کہ جلد ہی آپ کا افسانوی مجموعہ پڑھوں گا اور اپنا تبصرہ لکھوں گا ۔
کچھ دنوں بعد ایک رات میں نے ادھوری تخلیق کے افسانے پڑھنے شروع کیے اور ایک ہی نشست میں تمام افسانے پڑھ لیے ۔
مجھے علم نہیں تھا کہ عظمت اقبال کیسا لکھتے ہیں اور ان کا اسلوب کیسا ہے ۔
جب میں ان سے کتاب لے کر ایک دوست کی دوکان پر آیا تب سرسری طور پر ان کا سب سے آخری افسانچہ پہلے پڑھ لیا تھا جس سے مجھ پر ان کا کوئی اچھا تاثر نہیں چھوٹا تھا اور مجھے لگا کہ یہ بھی ایک ایسے ہی افسانہ نگار ہیں جو بس گھر سے نکل کر جو بھی واقعہ دیکھتے ہیں اسے کاغذ پر اتار دیتے ہیں ۔
افسانہ مسلکی اختلاف پر تھا کہ ایک مسجد میں پاجامے یا پینٹ پائنچہ موڑ کڑ نماز پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور دوسری مسجد میں پائنچہ موڑنے پر پابندی ہے ۔ یہ کوئی آفاقی موضوع نہیں ہے اور اس طرح کے ہزاروں افسانے لکھے جاسکتے ہیں اور لکھے جا رہے ہیں ۔یہ کسک دل میں آتی ہی ہے مگر جب اپنے ہم اپنے اگلوں کی تحاریر پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ موضوع اور ماحول چاہے گھر کے ایک کمرے کا کیوں نہ ہو اس میں پیغام بہت واضح اور بڑا ہونا چاہیے۔حالانکہ ایسے پیغام بھی عوام میں جانے چاہئیں مگر پتا نہیں کیوں افسانچوں میں بات مختصر ہونے کی وجہ سے وہ معیار تخلیق نہیں ہونے پاتا جو ایک قلمکار کی دوسری طویل تحاریر میں نظر آتا ہے ۔
یہ میرا پہلا تاثر تھا مگر جب میں نے گھر جاکر ان کے بقیہ افسانے ابتداء سے پڑھنے شروع کیے ان کے قلم کے کئی پہلو مجھ پر کھلے اور تب یہ منکشف ہوا کہ وہ ایک اچھے افسانہ نگار بھی ہیں،ایک اچھے اسٹوری رائٹر بھی ہیں اور ایک بہترین انشائیہ نگار بھی ہیں ۔ یہاں میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ منظر نگاری، جزئیات نگاری اور ذہنی کیفیات کا بیانیہ ایک افسانے کے لوازمات تو ہو سکتے ہیں مگر ان کا تناسب اتنا بھی نہ بڑھے کہ ذہن پر بار محسوس ہو ۔ پہلا افسانہ "ادھوری تخلیق"پڑھا ۔ اس افسانے میں شروعات سے لے کر ہر کردار اور ہر منظر نگاری ہر مکالمہ بہت خوب ہے کہانی بہترین تسلسل کے ساتھ اختتام تک پہنچتی ہے مگر بس اختتام آنے پر ایک خیال آتا ہے کہ اس کہانی میں کچھ نیا اس لیے نہیں ہے کہ ایسے بہت سارے افسانے ہیں جس میں مرکزی کردار ایک لاش دیکھتا ہے اور وہ لاش اس کی خود کی ہوتی ہے ۔ اپنے آپ ہی کو مرا ہوا دیکھنے والا یہ افسانہ کوئی پہلا افسانہ نہیں ہے ۔
نصال ایک بہترین افسانہ ہے ایک بچے کی کیفیات کو اچھے انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ بچہ ایک دھماکے میں اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے اور پھر اس کے سارے رشتہ دار اس کے سامنے ٹکڑوں میں پڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور پھر اس کی روح بھی قفسِ عنصری سے پرواز کرجاتی ہے ۔ شاید یہ فرقہ وارانہ فسادات کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے جس کا ایک ہلکا سا اشارہ ایک جملے میں ملتا ہے کہ اس کے ماں باپ شہر چھوڑ کر اور کہیں جانے کی بات کرتے ہیں۔
"عورت کہیں کی"ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو اپنی مرضی سے اپنا جسم بیچتی ہے ورنہ کوئی اسے ہاتھ تک نہیں لگا سکتا ۔ ایک فلم pink آئی تھی جس میں امیتابھ بچن وکیل کا کردار نبھاتے ہوئے نظر آئے تھے اور اس فلم میں یہی میسیج دیا گیا تھا کہ عورت چاہے فاحشہ کیوں نہ ہو مگر اس کی اپنی مرضی مقدم ہوتی ہے ۔
"مکتی"مرد اور عورت کی محبت اور نفرت کے بیچ گھومتی ہوئی کہانی ہے اور اس افسانے کا اختتام ڈرامائی ہے ۔ مرد خود اپنی بیوی سے تنگ آکر خودکشی کا ارادہ کرتا ہے مگر بیوی واپس آجاتی ہے اور اس سے معافی مانگ لیتی ہے اور پھر اسے زہر دے کر مار دیتی ہے مگر وہ مرنے سے پہلے ہی سوئسائیڈ نوٹ لکھ چکا ہوتا ہے جس میں اس نے اپنی ساری پراپرٹی اپنی سکریٹری کے نام کر دی ہوتی ہے اور عورت کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ۔
"عنوان" افسانہ بس ایک تخلیق کار کی ذہنی کشمکش میں الجھتی ہوئی تحریر ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایک قلمکار اپنی تخلیق کو لے کر اتنا زیادہ پریشان ہوتا ہوگا ۔ شاید کوئی قلمکار اتنا پریشان ہوتا بھی ہو مگر مجھے لگتا ہے بس یہ ایک کہنے کی بات ہے کہ تخلیق خونِ جگر سے لکھی جاتی ہے ۔ کل ملا کر الفاظ اور ذہنی کیفیات کا ایک مسلسل کرب اور کشمکش سے بھرا افسانہ ہے زبان و بیان کا ایک اچھا افسانہ ہے ایک قلمکار کی تمام کیفیات کو اس افسانے میں اجاگر کیا گیا ہے مگر مجھے یہ افسانہ بوجھل لگا اور کئی افسانوں میں راوی کے تخیلات کی کشمکش کچھ اتنی زیادہ ہے کہ اس کے علاوہ افسانے میں کچھ نظر ہی نہیں آتا ۔ کل ملا کر بہت سارے افسانوں میں یہی کیفیت رہی کہ قاری افسانے سے کوشش کے باوجود آسانی سے جڑ نہیں پاتا ۔یہ الگ بات کہ کچھ دیر میں افسانے کا موضوع سمجھ میں آ ہی جاتا ہے مگر ایک کشش کی کچھ کمی محسوس ہوتی ہے ۔
افسانہ "آگ" بھی فرقہ وارانہ فسادات پر مبنی ہے مگر اس کی ابتدائی کہانی اور تسلسل نے اسے ایک بہترین افسانہ بنایا ہے ۔
"تعزیرِ نفس" ایک لاجواب افسانہ ہے عظمت اقبال صاحب کو مبارکباد ۔
"مایا مائی لائف" بھی ایک بہترین افسانہ ہے جس میں مرکزی کردار اپنے روزنامچے میں اپنی دلی کیفیات قلم بند کرتا ہے اور ہمیں تاریخ سے سمجھ میں آتا ہے کہ زندگی سے بیزار ایک شخص کو ایک زندگی سے ہاری ہوئی عورت مل جاتی ہے اور دونوں کو جینے کی ایک راہ مل جاتی ہے مگر آخری دن جب وہ شخص اپنی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ اپنی محبوبہ کو دینے کا ارادہ کرتا ہے اسی دن اس کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے اور وہ مر جاتا ہے ۔ آخر میں اس کے آفس کے ایک دوست کے ذریعے اس کہانی کو آگے بڑھایا گیا ہے جس میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ڈیوڈ نے اپنا ایک اسکیچ بنایا تھا جس پر اس نے لکھا تھا مایا مائی لائف ۔ کل ملا کر ناکام محبت کی ایک داستان ہے جو قاری کو مایوس اور مذہبی کردیتی ہے ۔
"اوٹوپسی" کو میں افسانے کے زمرے میں نہیں رکھ پارہا ہوں کہ اس میں ڈرامائی انداز ہے اور کل ملا کر یہ ایک ڈرامہ یا شارٹ فلم ہی کہا جاسکتا ہے ۔ افسانے کا انداز اس میں نہیں ہے ۔یہ سری ادب میں شمار ہوسکتا ہے ۔
"تقصیر" افسانہ بھی پڑھنے میں بہت اچھا ہے مگر افسانہ نگار اس افسانے سے کیا پیغام دینا چاہ رہا ہے میری کم علمی کے باعث میری سمجھ میں نہیں آ سکا ۔
شاید سماج میں پھیلی اس برائی کی سمت اشارہ ہے جس میں مرد کسی عورت کو محبت کے جال میں پھنسا کر اسے دھوکہ دیتا ہے اور پھر اس کے مقدر میں یا موت ہوتی ہے یا پاگل پن ۔
"چھپاک" ایک بہترین افسانہ ہے ۔ افسانہ نگار واقعی مبارکباد کے قابل ہیں۔
"جنگلی کتے" ایک حساس افسانہ ہے اور بہت ہی نازک موضوع پر لکھا گیا قابلِ تعریف افسانہ ہے اور اس افسانے میں افسانہ نگار نے یہ ثابت کیا ہے کہ فسادات اور مذہب و مسلک سے اٹھ کر ایک دل کو چھو لینے والا افسانہ بھی لکھا جاسکتا ہے اور ادب کو آج ایسے ہی افسانوں کی ضرورت ہے ۔
" ہم نفس" ایک احساسِ کمتری کے شکار شخص کہانی ہے جس کی ایک خوبصورت بیوی ہوتی ہے جو ہر حال میں شوہر کی خوشی چاہتی ہے مگر پھر اس کے رویےاور کردار میں افسانہ نگار میں ایک بدلاؤ یہ بھی دکھایا کہ وہ اپنے شوہر کے ماں باپ کو اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتی اور شوہر بھی اپنے ماں باپ کی طرف سے آنکھیں بند کرلیتا ہے اور نتیجتاً اس کے بچے بھی اس کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتے ہیں۔
"اچھے دن" ایک اچھا افسانہ ہے مگر یہ بھی فرقہ وارانہ فسادات پر مبنی ہے ۔ ماب لنچنگ کے موضوع پر لکھا گیا ایک اچھا افسانہ ہے جس میں ابتدائی کہانی نے آخر تک قاری کو خود سے جوڑے رکھا ہے اور اللہ رکھا کی موت پر علماء کی جماعت کی جانب سے ملنے والی رقم پر اس کی بیمار ماں کا یہ سوچنا کہ" اچھے دن آگئے" بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے ۔
"دیوار" افسانہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے کہ انسان جب تک اپنا مذہب یا مسلک نہیں بتاتا وہ اچھا ہی ہوتا ہے مگر جیسے ہی مذہب کی نشاندہی ہوتی ہے مقابل کا رویہ بدل جاتا ہے ۔ کل ملا کر یہ افسانہ بھی بہترین ہے اور شاید یہ افسانہ نگار کے ساتھ ہوا ایک سچا واقعہ بھی ہو ۔
افسانہ "کٹھ پتلیاں" ایک سچے واقعے کی طرف اشارہ ہے جس میں آج موبائل اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ کرنے والے اس دور کے انسانوں کی بے حسی دکھائی گئی ہے کہ مدد کے نام پر کوئی آگے نہیں بڑھتا مگر ایک حادثے کے منظر کو اپنے کیمرے میں قید کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ اور یہ کہ اب کسی بھی حادثے کو ٹی وی پر دیکھنے کے بعد لوگ اسے بھی تفریح کا ذریعہ ہی سمجھ بیٹھے ہیں ۔
اس افسانے پر مجھے اپنا ایک قطعہ یاد آگیا کہ
ہے کون درد کی تاثیر کھینچنے والا
ہر ایک ہاتھ ہے بس تیر کھینچنے والا
میں اپنا زخم زمانے پہ کھول سکتا تھا
مگر یہ دور ہے تصویر کھینچنے والا
افسانہ "سنگلاخ" حق پسندی اور سچائی کی راہ پر چلنے والوں کے لیے ایک حوصلہ بخش افسانہ ہے جس میں ایک شخص بچپن ہی سے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور وہ حکومت اور سسٹم کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھتا ہے کمزور ہوتے ہوئے بھی اس کے حوصلوں میں کمی نہیں آتی ۔ ایک حقیقی کردار کو افسانوی رنگ دے کر مصنف نے اپنا احتجاج حکومت کے خلاف درج کروایا ہے اور یہ ان کی ہمت کی مثال ہے ۔
"روزی میں برکت" ایک چور کی کہانی ہے جو چوری تو کرتا ہے مگر ایک مجبور عورت کی مدد کردیتا ہے جس پر عورت اسے دعا دیتی ہے کہ اوپر والا تیری روزی میں برکت دے۔ افسانہ عظمت اقبال صاحب کے قلم کی اونچائی کو کم کرتا ہے ایسے افسانوں سے بچنا چاہیے ۔ ایسے افسانے بہت لکھے جاتے ہیں اور یہ ایک آسان کام ہے جو دنیا کررہی ہے ۔ مگر جنگلی کتے لکھنے والا افسانہ نگار ایسے افسانے لکھنے سے بچ کر رہے تو مناسب ہوگا کیونکہ ایسا طنز افسانے کو لطیفہ بنا کر رکھ دیتا ہے ۔
افسانہ "لیکن" ایک اچھا افسانہ ہے اور میاں بیوی کے رشتے پر اور اس کی حساسیت پر ایک بہترین تحریر ہے ۔ ایسے افسانے طویل ہوں یا مختصر مگر قاری پر ایک اچھا تاثر چھوڑتے ہیں اور آج ایسے ہی افسانوں کی ضرورت ہے ۔ میں اس افسانے پر بھی عظمت اقبال صاحب کو مبارکباد پیش کروں گا ۔ افسانے کا اختتام ایسا ہی ہونا چاہیے جس پر قاری کو کوئی الجھن نہ ہو اور ایک اچھا پیغام بھی معاشرے تک پہنچ سکے۔
"ہم سفر" ایک ہلکی پھلکی مگر پرلطف اور زندگی سے بھرپور تحریر ہے ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ عورت کی خوبصورتی سے کہیں زیادہ اہم اس کی سیرت معنی رکھتی ہے اور گھر ایسی عورتوں سے جنت بنتا ہے ۔ دکھاوے پر نہ جاکر اپنی عقل لگانے والے قول پر عمل ہی اصل زندگی کا مظہر و غماز ہے ۔نفرت سے بھرے اس ماحول میں جہاں لوگ ایسے ہی زندگی سے بیزار ہیں وہاں ایسی تحاریر انسان کو فرحت بخشتی ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے احساسات اور جذبات سے مزین ایسے افسانے یا کہانی ہمارے لیے ایک درس کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس اندازِ بیاں اور اسلوب پر عظمت اقبال صاحب کو مبارکباد۔
افسانہ "جلتے بجھتے دیے" بہترین اور مکمل افسانہ ہے ۔
دل کو طمانیت عطا کرنے والا ایک خوشگوار افسانہ جس میں زندگی کی رمق بھی ملتی ہے اور حوصلہ بھی ۔ حالانکہ ایک شخص کی بیوی مر جائے اور اسے بالکل اسی شکل کی ایک اور عورت مل جائے اور وہ بھی اس کی قسمت میں لکھ دی جائے تھوڑا ڈرامائی انداز ضرور ہے شکل کا ملنا کوئی اہم بات نہیں تھی اس کے بغیر بھی افسانہ اپنی جگہ مکمل ہے ۔ اس افسانے پر بھی افسانہ نگار کو داد اور مبارکباد ۔
یہاں کچھ باتیں کہہ کر آگے بڑھنا چاہوں گا کہ افسانہ ایک کہانی چاہتا ہے اور اس کا ایک منطقی اختتام چاہتا ہے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ افسانہ ایک انجام پر لاکر چھوڑ دیا جائے کہ اب قارئین اپنی اپنی ذہنیت کے مطابق اس کا انجام یا نتیجہ اخذ کریں پھر وہ لوگ وحدتِ تاثر کا کیا جواز پیش کریں گے جو کہ افسانے کے لوازمات میں سے ایک ہے ۔ مطلب یہ کہ پڑھنے والوں پر افسانے کا انجام ایک ہی تاثر چھوڑے ۔ یہ نہیں کہ شاید ایسا ہوا ہوگا یا شاید ویسا ہوا ہوگا ۔
زبان و بیان کے معاملے میں عظمت اقبال صاحب کے پاس ایک افسانوی لہجہ موجود ہے ۔ شام، دوپہر، رات،سورج، چاند، اور ستاروں کی کیفیات کو بڑے اچھے افسانوی انداز میں پیش کرنے کا ہنر موجود ہے ۔ افسانے کو افسانوی زبان و بیان میں لکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ عظمت اقبال صاحب اس فن سے بخونی واقف ہیں بس یہ کہوں گا کہ لکھنے کے دوران شاید یہ اپنی ذات یا اپنے خیالات میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ انہیں اس بات کا خیال نہیں رہتا کہ کوئی اس افسانے کو پڑھ رہا ہے ۔ قاری کو باندھے رکھنے کے لیے افسانے کو بہت چست رکھنا پڑتا ہے اور سوشل میڈیا کے اس تیز رفتار دور میں تو یہ بات لازمی ہوچکی ہے ۔ لوگوں کے پاس وقت ویسے بھی کم ہوتا ہے اس میں قاری کو تھوڑی ذہنی مشقت بھی بار محسوس ہوتی ہے اس لیے جتنی آسانی سے واقعات قاری کو سمجھ میں آ جائیں اتنا اچھا افسانے کی کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔
دوسرے یہ کہ عظمت اقبال صاحب کے کئی افسانوں میں اختتام اس انداز میں ہوا ہے کہ بات واضح نہیں ہوپاتی کہ ہوا کیا ہوگا ۔
مثال کے طور پر ایک افسانے"ادھورا سچ" میں مرتی ہوئی عالیہ اپنے شوہر سمیر کے سامنے اعتراف کرتی ہے کہ اس کے کمل نامی شخص سے تعلقات رہے ہیں جو اس کا کالج کا دوست تھا مگر پھر وہ اس بات کا یقین بھی دلاتی ہے کہ ہم میں وہ تعلق ایک حد تک ہی تھا اور وہ مر جاتی ہے مگر پھر شوہر کے ذہن میں ایک بات آتی ہے کہ کئی سالوں تک اولاد نہ ہونے کے سبب اس نے اپنی رپورٹ نکلوائی تھی جس میں یہ بات واضح تھی کہ شاید وہ لوگ اولاد کا سکھ نہ پا سکیں۔ اور جب وہ شوہر دوبارہ ڈاکٹر کے پاس اپنی وہ رپورٹ لے کر جاتا ہے تب بھی ڈاکٹر کہتا ہے کہ رپورٹ بالکل واضح ہے اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے اور پھر اسے اپنی بیوی کی باتیں یاد آتی ہیں اور ڈاکٹر انہیں کوئی بچہ گود لینے کا مشورہ بھی دے رہا ہوتا ہے ۔ یہاں افسانہ ختم ہوجاتا ہے اور اب یہ قاری کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ اندازہ لگائے کہ بچہ اس تیسرے شخص کمل کا ہے یا پھر اس کی بیوی نے ایسا کچھ غلط کام نہیں کیا تھا یا پھر وہ بچہ سمیر ہی کا تھا ۔
مطلب یہ بات کسی طور واضح نہیں ہے کہ بچہ کس کا تھا ۔کیونکہ بیوی نے یہ بھی کہا کہ میں نے ایک حد تک ہی تعلق رکھا تھا ۔
تو قاری الجھ جاتا ہے کیونکہ وحدتِ تاثر نہیں ملتی۔
افسانہ" کھلونا" ایک سخت گیر طبیعت کے حامل باپ کی اپنی بیٹی سے محبت پر لکھا گیا ایک کامیاب ترین افسانہ کہا جاسکتا ہے ۔ ایسی روانی اور ایسی زبردست تحریر کم ہی پڑھنے میں آتی ہے ۔ باپ اپنے آپ کو کتنا ہی سخت بنائے رکھے مگر اس کے دل میں خاص طور سے اپنی بیٹی کے لیے جو محبت ہوتی ہے وہ قابلِ فخر ہوتی ہے اور اس افسانے میں اس رشتے کو کو بحسنِ خوبی بیان کیا گیا ہے ۔
افسانہ "دائرہ" شہر مالیگاؤں کے حالات پر لکھا گیا ایک افسانہ ہے جس میں زبان بھی مالیگاؤں کی علاقائی مادری زبان استعمال کی گئی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے لوگ ایک کمرے کے گھر میں رہ کر اپنی اولاد کی شادی کردیتے ہیں جس کے رہنے تک کا بندوبست نہیں ہوتا اور جب وہ بچہ اپنی عملی زندگی میں خواب سجا کر آگے بڑھتا ہے تب تک اس کی اولاد بڑی ہوچکی ہوتی ہے اور اس کے آگے بھی بالکل وہی مسائل ہوتے ہیں ۔ اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا ہی چلا آرہا ہے۔
افسانہ"انگوٹھی" بھی ایک اچھا افسانہ ہے ۔ جس میں ونود دیپا سے پیار کا دعوی کرتا ہے اور اسے ایک انگوٹھی پہناتا ہے مگر جب دیپا کے والدین دیپا کی شادی کہیں اور کرنا چاہتے ہیں تب ونود حالات سے گھبرا کر بھاگ جاتا ہے اور دیپا کو والدین کی پسند کے لڑکے سے شادی کرنی پڑتی ہے ۔ سالوں بعد جب دنود ایک بس میں دیپا سے ملتا ہے تب وہ اپنے بیٹے کاداخلہ کسی اسکول میں کروانے کے لیے دہلی آئی ہوتی ہے تب ونود کو پتا چلتا ہے کہ دیپا کی شادی ٹوٹ چکی ہے اور وہ بچے کی فائل پر وہ بچے کا نام دیکھ کر چونک جاتا ہے کیونکہ بچے کا نام ماسٹر ونود ہوتا ہے ۔ یہاں بھی قاری کو یہ سمجھنا پڑے گا کی وہ بچہ ونود ہی کا ہوتا ہے ۔ اور ونود چاہتا ہے کہ اب دیپا اس ے اپنا ہم سفر بنالے مگر دیپا اسے پچھتاوے کی آگ میں جلتا چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ کل ملاکر افسانہ اچھا ہے ۔
افسانچوں پر بات اس لیے نہیں کروں گا کہ یہ میرے مزاج کی چیز نہیں ہے ۔
عظمت اقبال صاحب سے کچھ باتیں یہی کہوں گا کہ آپ فی الوقت افسانہ لکھنے والوں سے اچھا لکھ رہے ہیں آپ کا اسلوب اچھا ہے آپ کا بیانیہ اچھا ہے آپ کی جزئیات نگاری اچھی ہے آپ کی منظر نگاری اچھی ہے اور آپ کی زبان و بیان بھی بہت خوب ہے مگر بس آپ کے بعض افسانوں میں کشش کم ہے اور آپ افسانوں کو بہتر طور پر ختم نہیں کرتے جس کی وجہ سے وحدتِ تاثر متاثر ہوجاتی ہے اور پورے افسانے پر اثر پڑتا ہے ۔
کچھ افسانوں میں تھوڑا بوجھل پن ضرور محسوس ہوتا ہے۔ بیانیہ، جزئیات نگاری، ذہنی کیفیات کی الجھنیں اور مکالمہ نگاری کا تناسب برقرار رہے تو یہ احساس شاید کم ہوجائے ۔
میری باتوں کو منفی انداز میں نہ لیتے ہوئے ان پر غور کریں تو ان شاء اللہ دنیائے ادب "جنگلی کتے" "چھپاک" "اچھے دن" سنگلاخ"" لیکن"،" ہم سفر"،" جلتے بجھتے دیے اور "کھلونا" جیسے افسانوں کے خالق کو جلد ہی ایک اور اچھا افسانوی مجموعہ شائع کرتے ہوئے دیکھے گی ۔
آخر میں تمام ہی احباب سے گزارش کہ عظمت اقبال صاحب کے اس افسانوی مجموعے کو ضرور بہ ضرور پڑھیں اور افسانوی ادب میں اس اضافے سے ضرور بہ ضرور لطف اندوز ہوں یہ لہجہ آپ کو چونکانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔
🖋️ فرحان دِل ۔مالیگاؤں ۔
📞 9226169933
_______
پر موجود ایک غزل
۔ ۔ ۔ ۔
ارشد عبدالحمید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برابر سارے ایران و ختن ہو جانے والے ہیں
غزال اس دشت کے اک دن ہرن ہو جانے والے ہیں
سموچی خوشبوئیں ڈھلنی ہیں بوےجسم میں اس کی
تمامی پھول اس کا پیرہن ہو جانے والے ہیں
خموشی ہے کہ اوج _کوہ سے جھرنا ابلتا ہے
گھڑی میں ریت سب سنگ_سخن ہو جانے والے ہیں
جلو میں صبر کو رہوار کی صورت لگا لاتے
خبر کس کو تھی رستے ہجر بن ہو جانے والے ہیں
ہمارے خار و خس کو شعلئہ خود خواب کافی ہے
ابھی روشن یہ صحرا ؤ چمن ہو جانے والے ہیں
لہو کی یورشیں اک دن ابھر آنی ہیں پانی پر
نمو کے خواب دریا کی شکن ہو جانے والے ہیں
ہماری شاعری بکھرے ہوئے موتی پرو دے گی
یہ سارے فرد محو _ انجمن ہو جانے والے ہیں
______
ایک تازہ غزل
ضیائے نور کے مدھم نشان سے آگے
زمین پھیل گئی آسمان سے آگے
یہ روشنی ہی ملاقاتِ استعارا ہے
شمارِ ذات کے اندر، زمان سے آگے
لو اٹھ رہی ہیں نگا ہیں ہماری جانب ہی
ہدف میں تیر ہے اپنی کمان سے آگے
سفر نصیب ہو اس عمرِ رائیگان کو اب
دریدہ جسم کے خستہ مکان سے آگے
نکھر کے آئے گی سرخی، گلاب چہرے پر
وصالِ یار کے مہکے گمان سے آگے
لگا رہی ہوں شجر دشت میں، ثمر والے
میں سوچتی ہوں یہاں خاندان سے آگے
ریاضتوں میں گزارے ہیں روز و شب سیما
تھے امتحان بہت امتحان سے آگے
( عشرت معین سیما)