Monday, 7 April 2025

*🔴سیف نیوز اردو*




سی اے اے بنتا جارہا وقف بل... سپریم کورٹ میں ایک کے بعد ایک عرضیاں، جانئے اب تک کتنی داخل ہوئیں
نئی دہلی : پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پر گرما گرم بحث ہوئی۔ لیکن دونوں ایوانوں میں گرما گرم بحث کے باوجود اسے منظور کر لیا گیا۔ اس بل کو صدر دروپدی مرمو نے ہفتہ کی دیر رات منظوری دے دی ہے۔ اب وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ میں کئی عرضیوں کے ساتھ قانونی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وقف بل شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) 2019 بن رہا ہے۔ کیونکہ سی اے اے کے خلاف عدالت میں کل 220 سے زیادہ درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں داخل کیں۔ اس کے ٹھیک ایک دن بعد، عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان اور این جی او ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے بھی عرضیاں داخل کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل غیر آئینی ہے اور کئی دفعات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔عرضیوں میں کیا الزامات ہیں؟
عرضیوں میں الزام لگایا گیا کہ وقف بل آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21، 25، 26، 29، 30 اور 300 اے کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ کچھ اپوزیشن پارٹیاں اور لیڈر اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بل نے مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی خودمختاری کو کم کیا، صوابدیدی انتظامی مداخلت کی اجازت دی، اور ان کے مذہبی اور خیراتی اداروں کے انتظام کے حقوق کو کمزور کیا۔

ایڈوکیٹ عادل احمد کے ذریعہ داخل کردہ عرضی میں وقف بورڈ اور سنٹرل وقف کونسل میں غیر مسلم ارکان کی تقرری پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں کسی بھی درجہ بندی کا منطقی تعلق ہونا چاہئے۔ لیکن یہ ترمیم منمانے طور پر مسلم اقلیت کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرتی ہے۔ غیر مسلم مذہبی اداروں پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ترمیم انصاف کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی۔

درخواست میں کہا گیا کہ غیر مسلم مذہبی ادارے مسلمانوں کو اپنے مذہبی امور میں شراکت داری سے روکتے ہیں جو اس ترمیم کے امتیازی اثر کو ظاہر کرتا ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے این جی او نے کہا کہ مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی حالت کمزور ہے اور سرکاری اداروں میں ان کی نمائندگی کم ہے۔

سی اے اے کے خلاف دائر درخواستوں کا کیا ہوا؟
مارچ 2024 تک، شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) 2019 کے خلاف سپریم کورٹ میں 200 سے زیادہ درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ انڈین یونین آف مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) نے سی اے اے کے نفاذ پر روک لگانے کے لیے فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ اسدالدین اویسی نے سی اے اے کی دفعات کے نفاذ پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔درخواست گزاروں کا ماننا ہے کہ یہ قانون آئین کی بنیادی روح اور اقدار کے منافی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے ابھی تک ان درخواستوں پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے اور کیس زیر سماعت ہے۔







غزہ میں حماس کے خلاف احتجاج: ’ہم کسی جماعت یا ملک کے لیے مرنے سے انکار کرتے ہیں‘
غزہ میں حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سینکڑوں لوگ حماس کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

حماس کے نقاب پوش عسکریت پسند، جن میں سے کچھ بندوقوں سے لیس تھے جبکہ کچھ نے لاٹھیاں اٹھائی ہوئی تھیں، نے مداخلت کی اور زبردستی مظاہرین کو منتشر کیا۔

حماس پر تنقید کرنے والے سماجی کارکنوں کے جانب سے سوشل میڈیا پر ایسی بہت سی ویڈیوز پوسٹ کی گئیں جن میں نوجوان شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا کی گلیوں میں مارچ کرتے اور ’حماس یہاں سے نکل جائے‘ کے نعرے لگاتے نظر آئے۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی مذمت کرتا ہے، جو ’مشتبہ سیاسی ایجنڈوں‘ کو آگے بڑھاتے ہیں اور اسرائیل کی بجائے الزام کسی اور پر عائد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مظاہرین نے کیا کہا؟
حماس کے حامیوں نے اس احتجاج میں شرکت کرنے والوں پر غداری کا الزام عائد کیا۔

واضح رہے کہ شمالی غزہ میں حماس کے خلاف یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا، جب ایک ہی دن قبل عسکریت پسند تنظیم ’اسلامی جہاد‘ نے اسرائیل پر راکٹ لانچ کیے۔ اس کے بعد اسرائیل نے بیت لاہیا کے بڑے حصوں کو خالی کروانے کا فیصلہ کیا جس سے علاقے کے لوگوں میں غصہ پیدا ہوا۔

دو ماہ کی جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے غزہ میں اپنا ملٹری آپریشن پھر بحال کر دیا ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس نے اس جنگ بندی معاہدے میں توسیع کے لیے امریکی سفارشات کو مسترد کر دیا۔

دوسری جانب حماس الزام عائد کرتا ہے کہ اسرائیل نے جنوری میں ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا۔

18 مارچ کو اسرائیل نے غزہ میں فضائی حملوں سے اپنے ملٹری آپریشن کو بحال کیا جس میں سینکڑوں فلسطینی ہلاک جبکہ ہزاروں نقل مکانی کر گئے ہیں۔

مظاہرین میں شامل محمد دائب نے بتایا کہ ’اس جنگ میں ان کا گھر تباہ ہو گیا جبکہ ایک برس قبل اسرائیلی فضائی حملے میں ان کا بھائی مارا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم کسی پارٹی کے ایجنڈے یا کسی دوسرے ملک کے مفادات کے لیے مرنے سے انکار کرتے ہیں۔‘

’حماس کو پیچھے ہٹ جانا چاہیے اور ان لوگوں کی آواز کو سننا چاہیے جو دکھی ہیں۔ یہ آواز ملبے کے ڈھیر کے نیچے سے آتی ہے۔ یہ سب سے سچی آواز ہے۔‘حماس کئی فلسطینی عسکریت پسند گروہوں میں سب سے بڑا گروپ ہے۔ حماس کے چارٹر (منشور) کے مطابق یہ گروہ اسرائیل کی تباہی کے لیے پُرعزم ہے۔

ابتدا میں حماس کے دو بنیادی مقصد تھے جن میں سے ایک فلسطینیوں کے لیے معاشرتی بہبود کے پروگرام چلانا اور دوسرا اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا تھا۔ مسلح جدوجہد کرنے کی ذمہ داری بنیادی طور پر حماس کے عسکری ونگ ’عز الدين القسام بریگیڈ‘ کی تھی۔

سنہ 2006 میں حماس نے فلسطین کے قانون ساز انتخابات میں فتح سمیٹی اور سنہ 2007 میں اس وقت کے صدر محمود عباس کی فتح تحریک پر سبقت لیتے ہوئے غزہ پر اپنا سیاسی کنٹرول مستحکم کیا

غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سڑکوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر حماس پر تنقید میں اضافہ ہوا لیکن ابھی بھی ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو اس تنظیم سے انتہائی وفادار ہیں۔حماس کا ردعمللیکن یہ جنگ شروع ہونے سے قبل بھی حماس کے خلاف مخالفت پائی جاتی تھی لیکن لوگ خوف کے مارے چھپے رہتے تھے۔

غزہ سے محمد النجر نے فیس بک پر لکھا کہ ’معذرت کے ساتھ لیکن حماس کو کیا چاہیے؟ وہ ہمارے خون کے ساتھ کھیل رہے ہیں ایسا خون جس کو پوری دنیا صرف نمبروں کے طور پر دیکھتی ہے۔‘

’حتیٰ کے حماس بھی ہمیں نمبروں کی طرح دیکھتی ہے، پیچھے ہٹ جائیں اور ہمارے زخموں پر مرہم رکھیں۔‘حماس کے ایک عہدیدار ڈاکٹر بسیم نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لوگوں کو دکھ اور درد میں رونے کا حق ہے‘ لیکن انھوں نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین کے ’مشتبہ ایجنڈے ہیں۔‘ انھوں نے سوال کیا کہ یہ مظاہرے مغربی کنارے میں کیوں نہیں ہو رہے۔

انھوں نے کہا کہ غزہ میں جاری بحران سے فائدہ اٹھا کر اسرائیل سے الزام کو ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ غزہ میں حالیہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب 7 اکتوبر 2023 میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا۔ اس حملے میں 1200 افراد مارے گئے جبکہ 251 کو یرغمال بنا لیا گیا۔

اسرائیل نے اس حملے پر ردعمل دیتے ہوئے عزہ پر حملہ کیا اور حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اب تک 50 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

غزہ کے 21 لاکھ رہائشی بھی اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کو متعدد بار نقل مکانی کرنا پڑی۔

اندازوں کے مطابق غزہ میں 70 فیصد عمارتیں یا تو تباہ ہو چکی ہیں یا انھیں نقصان پہنچا۔ ہیلتھ کیئر اور پانی کا نظام بھی تباہ ہو چکا جبکہ علاقے میں کھانے پینے کی اشیا، ایندھن، اور ادویات کی شدید قلت ہے۔









موسمی الرجی سے محفوظ رہنے کی 6 بہترین تدابیر
آب و ہوا میں موجود گردو غبار اور آلودگی کے باعث نزلہ زکام اور کھانسی کے باعث ہر دوسرا شخص چھینکتا اور گلے کے مسائل کا شکار نظر آتا ہے اس کی بڑی وجہ موسمی الرجی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق موسمی الرجی کا مسئلہ موسمِ سرما میں زیادہ شدت اختیار کرجاتا ہے اور مختلف بیماریوں اور بخار کا بھی باعث بن جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ناقص اور آلودہ پانی اور سیوریج کی صورتحال بھی سانس اور جِلد کی الرجی کا بھی باعث بن سکتی ہے۔

کوئی ایسی چیز کھانا یا جسم پر لگانا، جسے آپ کا جسم قبول نہ کرے تو اس سے الرجی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد جسم پر خارش اور بےچینی محسوس ہوتی ہے۔ مختلف اشیا جیسے مونگ پھلی، اخروٹ، بادام، کاجو، انڈے، گائے کا دودھ اور مخصوص مچھلی کھانے سے بھی لوگ الرجی کا شکار ہوجاتے ہیں،اس کے علاوہ کیڑوں کے کاٹنے، ادویات اور کیمیکلز سے جِلدی الرجی کی شکایات سامنے آتی ہیں۔

بہار کے موسم میں زیادہ تر لوگ تھکاوٹ اور سر چکرانے کی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں جسے "اسپرنگ الرجی” کہا جاتا ہے۔ یہ صورتحال دماغ پر نظر نہ آنے والے اثرات کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

پولن الرجی کو موسم بہار میں سب سے نمایاں صحت کے مسائل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس الرجی میں ناک بھرنے اور کھانسی کے علاوہ چھینک اور آنکھوں میں پانی بھرنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی کے بریگھم اور خواتین کے ہسپتال کی الرجسٹ ڈاکٹر ماریانا کاسٹیلز نے وضاحت کی ہے کہ الرجی نیند کو متاثر کر سکتی ہے اور تھکاوٹ اور چکر کا باعث بنتی ہے۔جب جرگ کے دانے جسم میں داخل ہوتے ہیں تو مدافعتی نظام ہسٹامائن جیسے کیمیکلز کو خارج کرنا شروع کر دیتا ہے جو ٹشوز کو متاثر کرتا ہے اور الرجی کی علامات ظاہر ہونے کا باعث بنتا ہے۔ تاہم موسم بہار کی الرجی سے بچنے کے لیے 5 تجاویز پر عمل کرکے اس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

دروازے کھڑکیاں بند کریں
پہلا قدم کھڑکیوں کو بند کرنا ہے۔ گھر اور گاڑی کی کھڑکیاں بند کرنا ہوں گی۔

دن کے وقت گھر میں قیام کریں
نیز صبح یا دوپہر کے اوقات میں باہر جانے سے گریز کریں۔ یہ وہ اوقات ہیں جب پولن کی سطح اپنے عروج پر ہوتی ہے۔

روزانہ کپڑے تبدیل اور غسل کریں
گھر سے نکلنے کے بعد واپس آکر غسل کرنا اور کپڑے تبدیل کرنا بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔ایئر پیوریفائر استعمال کریں
اس موسم میں ایئر پیوریفائر کا استعمال بھی مؤثر ہے خاص طور پر یہ پولن کی سطح کو کم کرتا ہے۔

دھوپ کا چشمہ
دھوپ کا چشمہ آپ کی آنکھوں کو جرگ سے بچانے میں مدد کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سر پر ٹوپی پولن الرجی کو آپ کے بالوں میں جانے سے روکنے میں مدد کر سکتی ہے۔

اینٹی الرجی ادویات
آخر میں اینٹی ہسٹامائن علامات کو دور کرنے میں مدد کر سکتے ہیں لیکن ان کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...