Thursday, 24 April 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





پانچ غذائیں جو آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں
وٹامن اے اچھی نظر کے لیے ضروری ہے اور یہ آنکھ کو کم روشنی میں بھی دیکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ آنکھ کے کورنیا کو فعال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جو آنکھ کی حفاظتی بیرونی تہہ ہے۔امریکن اکیڈمی آف آفتھالمالوجی کے مطابق وٹامن اے کی کمی رات کی نظر کی خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔
کچھ ریسرچز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن اے سے بھرپور غذا کی مدد سے بند موتیے اور عمر سے متعلق میکولر ڈژنریشن کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
کئی غذائیں وٹامن اے کے بہترین ذرائع ہیں جو آنکھ کی صحت کو مختلف طریقوں سے بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
گاجریں
گاجریں وٹامنز کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ گاجریں بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں، جسے آپ کا جسم وٹامن اے میں تبدیل کرتا ہے۔گاجریں فائبر، پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہیں۔
پتوں والی سبزیاں
پتوں والی سبزیاں، خاص طور پر گوبھی اور پالک، وٹامن اے اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو آنکھوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
انڈے
انڈے کی زردی وٹامن اے کا اچھا سورس ہے جو نظر کو بہتر بنانے میں مدد فراہم سکتی ہے۔
ڈیری مصنوعات
زیادہ تر ڈیری مصنوعات بھی وٹامن اے کے اچھے ذرائع ہیں۔وٹامن اے دودھ اور پنیر میں بھی پایا جاتا ہے۔
شکر قندی
شکر قندی بیٹا کیروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے۔
شکر قندی کا استعمال نظر اور آنتوں کی صحت کو بہتر بناتا ہے اور قوت مدافعت کو بھی بڑھاتا ہے۔
آنکھوں کے لیے فائدہ مند دیگر غذائی اجزاء
بہت سے وٹامنز اور غذائی اجزاء آنکھوں کی فعالیت کو بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
ان میں وٹامن ای، سی، بی6، بی9 اور بی12، اومیگا-3 فیٹی ایسڈز، تھیامین اور رائبوفلاوین شامل ہیں۔









وزیرِاعظم کے زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، انڈین اقدامات پر اہم فیصلے متوقع
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے جس میں انڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر ردعمل کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔
انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور واہگہ اٹاری بارڈر بند کرنے سمیت کئی دیگر سخت فیصلوں کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس طلب کیا ہے۔
اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت کی موجودگی میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔​بدھ کو انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے کابینہ کمیٹی برائے سکیورٹی (سی سی ایس) میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ ’سندھ طاس معاہدے کو فوری طور پر معطل کر دیں گے۔ اٹاری چیک پوسٹ کو فوری طور پر بند کیا جائے گا۔ پاکستانی شہریوں کو انڈیا آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انڈیا میں موجود پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنا ہو گا۔‘
اس اعلان کے بعد پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے انڈین حکومت کی جانب سے آج شام جاری ہونے والے بیان کا جواب دینے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جمعرات 24 اپریل کی صبح کو طلب کر لیا ہے۔‘
خیال رہے کہ منگل کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں عسکریت پسندوں نے سیاحوں پر حملہ کیا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے کو گذشتہ ایک برس کے دوران کا بدترین حملہ قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی پہلگام حملے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی دنیا میں کہیں بھی ہو پاکستان اس کی پرزور مذمت کرتا ہے اور یہ ہمارا مؤقف ہے۔ 
’پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، پاکستان کس طرح دہشت گردی کی پشت پناہی کر سکتا ہے؟ ہم تو آخری قوم ہوں گے جو دہشت گردِی کی پشت پناہی کرے گی۔‘انڈین سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے حوالے سے مزید کہا تھا کہ ’پاکستان ہائی کمیشن میں ایئر، نیوی اور آرمی ایڈوائزرز کے عہدے کو ناپسندیدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن سے تین سروس ایڈوائزرز اور معاون عملے کے پانچ افراد کو واپس بلا رہے ہیں۔ سفارت خانوں میں امدادی عملے کی تعداد 55 سے کم کر کے 30 کر دی جائے گی۔‘
حملے کی ذمہ داری ’کشمیر ریززٹنس نامی‘ ایک گروپ نے قبول کی ہے۔ انڈین سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ گروپ ’ریززٹنس فرنٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور عسکریت پسند تنظیموں لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین سے منسلک ہے۔
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق تنازع کے بعد 19 ستمبر 1960 کو ورلڈ بینک کی ثالثی میں ان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اسے سندھ طاس معاہدہ کہا جاتا ہے۔
اس معاہدے پر دونوں ممالک کی جانب سے دستخط کے بعد مشترکہ مفادات کے لیے ایک مستقل انڈس کمیشن بھی قائم کیا گیا تھا جو انڈیا اور پاکستان کے کمشنرر پر مشتمل تھا۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں سندھ جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریاؤں راوی، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر انڈیا کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی سنہ 1965، سنہ 1971 اور سنہ 1999 کی جنگوں کے دوران بھی یہ معاہدہ قائم رکھا گیا تھا۔
سیاسی مبصرین پہلگام واقعے کے بعد یہ معاہدہ معطل کرنے کے اعلان کو انڈیا کا انتہائی غیرمعمولی اقدام قرار دے رہے ہیں۔










دہشت گردی، تشدد اور خون خرابے پر منتخب اشعار، جنگ و جدال پر شعرا کا کلام - SHAYARI ON TERRORISM

کسی کو مار کے خوش ہو رہے ہیں دہشت گرد

کہیں پہ شام غریباں کہیں دوالی ہے

شارب مورانوی

امن کا قتل ہو گیا جب سے

شہر اب بد حواس رہتا ہے

صابر شاہ صابر

بادلوں نے آج برسایا لہو

امن کا ہر فاختہ رونے لگا

ظفر حمیدی
یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے

علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

چرن سنگھ بشر


بہ نام امن و اماں کون مارا جائے گا

نہ جانے آج یہاں کون مارا جائے گا

نسیم سحر

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف

گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

ساحر لدھیانوی

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

آگ اور خون آج بخشے گی

بھوک اور احتیاج کل دے گی

ساحر لدھیانوی

شہر میں امن و اماں ہو یہ ضروری ہے مگر

حاکم وقت کے ماتھے پہ لکھا ہی کچھ ہے

شمیم قاسمی

خدائے امن جو کہتا ہے خود کو

زمیں پر خود ہی مقتل لکھ رہا ہے

ظفر صہبائی

امن اور آشتی سے اس کو کیا

اس کا مقصد تو انتشار میں ہے

عزیز انصاریامن کیفیؔ ہو نہیں سکتا کبھی

جب تلک ظلم و ستم موجود ہے

اقبال کیفی

امن عالم کی خاطر

جنگ یگوں سے جاری ہے

اسلم حبیب

پرواز میں تھا امن کا معصوم پرندہ

سنتے ہیں کہ بے چارہ شجر تک نہیں پہنچا

کرامت بخاری

سنا ہے امن پرستوں کا وہ علاقہ ہے

وہیں شکار کبوتر ہوا تو کیسے ہوا

فراغ روہوی

رہے تذکرے امن کے آشتی کے

مگر بستیوں پر برستے رہے بم

انور شعور

عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں

کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے

ملک زادہ منظور احمد

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں

آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

بشیر بدر

امن اور تیرے عہد میں ظالم

کس طرح خاک رہ گزر بیٹھے

قلق میرٹھی

اپنے دیش میں گھر گھر امن ہے کہ جھگڑے ہیں

دیکھو روز ناموں کی سرخیاں بتائیں گی

بسمل نقشبندی

مل کے سب امن و چین سے رہیے

لعنتیں بھیجیے فسادوں پر

ہیرا لال فلک دہلوی


*🛑سیف نیوز اُردو*

صبح کافی سے پہلے برش دانتوں کی صحت کے لیے کیوں ضروری ہے؟ اگر آپ بھی صبح اٹھتے ہی ڈرامہ ’ٹو اینڈ اے ہاف مین‘ کے کردار...