Sunday, 27 April 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






کیا آپ نے کبھی مکھانے کا رائتہ کھایا ہے؟ آسان ترکیب
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں موجود پروٹین، فائبر، اینٹی آکسیڈنٹس، کاربوہائیڈریٹس اور منرلز جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔ یہ بات 2017 میں جرنل آف فوڈ سائنس میں شائع ہونے والی ‘مکھانہ (Euryle Ferox Salisb)’کے عنوان سے ہونے والی ایک تحقیق میں بھی سامنے آئی تھی۔

گرمیوں میں ہر گھر میں روزمرہ کی خوراک میں کسی نہ کسی شکل میں دہی کو شامل کیا جاتا ہے کیونکہ اس موسم میں دہی جسم کو صحت مند رکھنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے، جب کہ مکھانہ کے فوائد سے کون واقف نہیں، ایسے میں اگر مکھانہ اور دہی کا امتزاج ایک ہی ترکیب میں پایا جائے تو کیا کہا جاسکتا ہے۔

مکھانہ رائتہ بنانے کی ترکیب :
اس کے اجزاء میں ایک کپ دہی، ایک کپ مکھانے، ایک چائے کا چمچ رائتہ مسالہ، ، ایک چمچ چاٹ مسالہ، ایک چائے کا چمچ گرم مسالہ، دیسی گھی ایک چمچ، ایک چائے کا چمچ باریک کٹا دھنیا اور لال مرچ اور نمک حسب ذائقہ لے لیں۔

ترکیب
مکھانہ رائتہ بنانے کے لیے سب سے پہلے ایک پین لیں اور اسے درمیانی آنچ پر گرم کریں پھر اس میں ایک چمچ دیسی گھی ڈالیں اور جب تھوڑا گرم ہو جائے تو مکھانے ڈال کر بھون لیں جب مکھانوں کا رنگ ہلکا سنہری ہو جائے تو گیس بند کر دیں اور مکھانوں کو پلیٹ میں نکال کر ایک طرف رکھ دیں، جب مکھانے ٹھنڈے ہو جائیں تو انہیں مکسچر میں ڈال کر موٹا موٹا کُوٹ لیں۔

اب ایک برتن میں دہی ڈال کر اچھی طرح پھینٹ لیں جب دہی اچھی طرح مکس ہوجائے تو اس میں چاٹ مسالہ، گرم مسالہ، لال مرچ پاؤڈر، رائتہ مسالہ اور حسب ذائقہ نمک ڈال کر اچھی طرح مکس کرلیں۔

اب اس میں موٹا پسا ہوا مکھانہ ڈال کر مکس کریں۔ اگر رائتہ تیار کرنے کے بعد گاڑھا لگے تو حسب ضرورت پانی ڈال دیں، آپ کا مزیدار مکھانہ رائتہ تیار ہے۔ اب اسے ہرے دھنیے سے گارنش کرکے دسترخوان پر سجا دیں۔











غزہ کے ملبے میں ’خاموش قاتل‘، وہ زہریلا مواد جو پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے
غزہ میں اسرائیل کی تباہ کن فوجی کارروائی نے یہاں ایک خاموش قاتل ایسبسٹوس کو ہر طرف پھیلا دیا ہے۔

یہ معدنی مادہ جسے کبھی تعمیراتی کاموں میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا جب یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے تو یہ زہریلا مادہ ہوا میں پھیل جاتا ہے جو پھیپھڑوں سے چپک سکتا ہے اور بعد میں کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

آج کل دنیا بھر میں اس کے استعمال پر پابندی ہے لیکن یہ اب بھی بہت سی پرانی عمارتوں میں موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کے مطابق غزہ کے آٹھ شہری پناہ گزین کیمپوں میں بنیادی طور پر ایسبیسٹوس کو چھتوں میں استعمال کیا گيا ہے۔ یہ کیمپ سنہ 1948-49 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اپنے گھروں سے بھاگنے یا اپنے گھروں سے بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں کے لیے قائم کیے گئے تھے۔

یو این ای پی نے اکتوبر سنہ 2024 میں ایک جائزہ پیش کیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ غزہ کے 23 لاکھ ٹن تک کے ملبے میں ایسبیسٹوس کے مادے ہو سکتے ہیں۔

لندن میں نیشنل سینٹر فار میسوتھیلیوما ریسرچ کے ڈائریکٹر پروفیسر بل کُکسن کا کہنا ہے کہ 'غزہ کا ملبہ لوگوں کے لیے ایک بہت ہی زہریلا ماحول پیدا کر رہا ہے۔ لوگوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا جس کا اثر دیر پا ہو گا۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بچوں پر زندگی بھر اثرات رہ سکتے ہیں۔'

میسوتھیلیوما یوکے کی سی ای او لیز ڈارلیسن کہتی ہیں کہ 'ابھی جانوں کا زیاں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہونے والا ہے۔ یہ نسل در نسل جاری رہیں گی۔'

جب ایسبسٹوس کسی ہوائی حملے جیسی چیز سے منتشر ہوتا ہے تو اس کے ذرات یا ریشے اس ماحول میں سانس لینے والے افراد کے پھیپھڑوں میں پہنچ کر اس پر جم سکتے ہیں اور اپنا کام کر سکتے ہیں۔ یہ ریشے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انسانی آنکھ اسے دیکھ نہیں سکتی۔کئی سالوں یا کئی دہائیوں میں وہ ایسے داغ کا سبب بن سکتے ہیں جو پھیپھڑوں کی سنگین حالت ایسبیسٹوسس کا باعث بن سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں تو یہ پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک جارحانہ شکل اختیار کر سکتے ہیں جسے میسوتھیلیوما کہتے ہیں۔

پروفیسر کُکسن کہتے ہیں کہ ''میسوتھیلیوما ایک خوفناک اور ناقابل علاج بیماری ہے۔'

انھوں نے مزید کہا 'اس کی واقعی تشویشناک بات یہ ہے اس کی مقدار معنی نہیں رکھتی کیونکہ سانس کے ذریعے ایسبیسٹوس فائبر کی چھوٹی مقدار بھی اندر جا کر بعد میں میسوتھیلیوما کا سبب بن سکتی ہیں۔'

'یہ پھیپھروں کے پردے کے سوراخوں کے اندر جمع ہوتا ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس کی ہمیشہ دیر سے تشخیص ہوتی ہے۔ اور یہ ہر قسم کے علاج کے خلاف کافی مزاحم ہوتا ہے۔'

عام طور پر جو لوگ میسوتھیلیوما کا شکار ہوتے ہیں ان میں ایسبیسٹوس کے ایکسپوژر کے 20 سے 60 سال بعد آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ یعنی پورے علاقے میں ممکنہ اثر محسوس ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ کہ بھی کہا جاتا ہے بہت زیادہ یا طویل عرصے تک اس کے ساتھ رہنے سے بیماری تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

ڈاکٹر ریان ہوئے جن کی تحقیق کا حوالہ یو این ای پی نے دیا ہے، کا کہنا ہے کہ ایسبسٹوس فائبر کے سانس کے ذریعے اندر جانے بچنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ'"واقعی چھوٹے ذرات ہیں جو ہوا میں تیرتے ہیں جو پھیپھڑوں میں بہت گہرائی تک جا سکتے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ ان سے بچنا اور بھی مشکل ہے، کیوں کہ غزہ بہت 'گنجان آباد' ہے۔

اس علاقے میں تقریبا 20 لاکھ ملین افراد رہتے ہیں اور اس کا رقبہ 365 مربع کلومیٹر ہے جو لندن کے سائز کا تقریبا ایک چوتھائی ہے۔وہاں موجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائی کے فوری خطرات کی وجہ سے لوگ ایسبسٹوس یا گرد و غبار سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے سے قاصر ہیں۔

'اس وقت دھول میں سانس لینا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے لوگ تشویش ناک چیز سمجھیے ہوں۔'

غزہ میں این جی او میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کے میڈیکل کوآرڈینیٹر چیارا لودھی کا کہنا ہے کہ 'ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور وہ بموں سے ہلاک ہونے سے زیادہ ڈرتے ہیں۔'

غیر سرکاری تنظیم ایس او ایس چلڈرن ولیجز کے ایک ترجمان نے کہا،'ایسبسٹوس کے خطرات کے بارے میں آگاہی کی کمی، اور اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کی کوشش میں جاری چیلنجوں کی وجہ سے وہ اپنی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے قاصر ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ دھول اور ملبے کے مضر اثرات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔

سنہ 2009 میں غزہ میں ہونے والے تنازعے کے بعد اقوام متحدہ کے ایک سروے میں پرانی عمارتوں، شیڈز، عارضی عمارتوں کی توسیع، چھتوں اور مویشیوں کے باڑوں کی دیواروں کے ملبے میں ایسبسٹوس پائے گئے تھے۔

ایسبسٹوس کی کئی اقسام ہیں جن میں 'سفید ایسبسٹوس' سے لے کر'" نیلا' یا کروسیڈولائٹ ، جو سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں انتہائی کارسینوجینک کروسیڈولائٹ ایسبسٹوس پایا گیا تھا۔

عالمی سطح پر تقریبا 68 ممالک نے ایسبسٹوس کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے، تاہم کچھ ممالک خصوصی استعمال کے لیے استثنیٰ برقرار رکھتے ہیں۔

برطانیہ میں 1999 میں اس پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اسرائیل نے 2011 میں عمارتوں میں اس کے استعمال پر پابندی عائد کردی تھی۔

میسوتھیلوما کے ساتھ ساتھ ، ایسبسٹوس پھیپھڑوں کے کینسر ،گلے اور بیضہ دانی کے کینسر کی دیگر شکلوں کا سبب بن سکتا ہے۔ایک اور کم معلوم خطرہ سلیکوسس ہے، پھیپھڑوں کی بیماری جو عام طور پر کئی سالوں تک سیلیکا دھول میں سانس لینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔

کنکریٹ عام طور پر 20 سے 60 فیصد تک سلیکا پر مشتمل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ہوئے کا کہنا ہے کہ غزہ میں گرد و غبار کی بڑی مقدار سانس کی نالی کے انفیکشن، اوپری اور نچلے سانس کی نالیوں میں انفیکشن، نمونیا، پہلے سے موجود پھیپھڑوں کی بیماری جیسے دمہ کے ساتھ ساتھ ایمفیسیما اور دائمی رکاوٹ پھیپھڑوں کی بیماری کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

برسوں سے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر نائن الیون کے حملوں کو ماہرین صحت کی جانب سے ایک کیس سٹڈی کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے تاکہ شہری آبادی پر ایک بڑے زہریلے دھول کے بادل کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

ڈارلسن کہتی ہیں کہ 'ٹوئن ٹاورز کسی جنگی علاقے کے وسط میں نہیں تھے، اس لیے یہ ایک ایسی چیز تھی جس کی پیمائش اور پیمائش ہم آسانی سے کر سکتے تھے۔'

دسمبر 2023 تک امریکی حکومت کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر ہیلتھ پروگرام کے ساتھ رجسٹرڈ افراد میں سے 5،249 افراد ایرو ڈائجسٹک بیماری یا کینسر کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں، یہ تعداد حملے میں ہلاک ہونے والے 2،296 افراد سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی عرصے کے دوران مجموعی طور پر 34,113 افراد میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔امریکہ اور عرب ریاستوں کے ایک گروپ نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے مسابقتی منصوبے تجویز کیے ہیں۔

اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ اس عمل کو احتیاط سے منظم کرنا ہوگا تاکہ ایسبسٹوس سے آلودہ ملبے کی بڑی مقدار میں ہلچل نہ ہو۔

ڈارلسن کہتی ہیں کہ 'بدقسمتی سے جن خصوصیات نے ہمیں اس کا بہت زیادہ استعمال کرنے پر مجبور کیا انہی خصوصیات ہیں جن سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔'

یو این ای پی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ملبہ ہٹانے کے عمل سے 'ایسبسٹوس میں حرکت اور ہوا میں خطرناک فائبر کے اخراج کے امکانات بڑھ جائیں گے۔'

یو این ای پی کے ایک جائزے کے مطابق تمام ملبے کو صاف کرنے میں21 سال لگ سکتے ہیں اور اس پر 1.2 ارب تک لاگت آسکتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حماس کے حملے کے جواب میں غزہ پر اپنی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں تقریبا 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں 53 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جاچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

اسرائیل کی دفاعی افواج نے بی بی سی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔











پاکستان کے ساتھ مکمل جنگ کیوں ضروری؟ ٹرمپ کس کا ساتھ دیں گے؟ امریکی پروفیسر کی رائے جانئے - 
حیدر آباد: (وکاس کوشک) اب پاکستان کے ساتھ آدھی جنگ نہیں پوری جنگ ہونی چاہیے اور بھارت پاکستان کو ایسا سبق سکھائے کہ پوری دنیا دیکھتی رہے۔ یہ بیان ڈیلاویئر یونیورسٹی امریکہ کے پروفیسر اور خارجہ امور کے ماہر مقتدر خان کا ہے۔ ہندوستانی نژاد پروفیسر نے ای ٹی وی بھارت سے بات کرتے ہوئے، مقتدر خان نے پہلگام حملے کی شدید مذمت کی اور پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کس قسم کی جنگ سے ہندوستان کو فائدہ یا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ادھر پہلگام حملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔کیا پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر ہیں؟

اس سوال پر پروفیسر مقتدر خان نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اس مخمصے کا شکار ہے کہ پاکستان کو کیا جواب دیا جائے۔ فی الحال امریکہ کی ٹیرف پالیسی پوری دنیا اور ہندوستان کی معیشت کو متاثر کرے گی۔ ایسے میں پی ایم مودی کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ اگر وہ پاکستان کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھاتے ہیں تو انہیں بین الاقوامی سطح پر ثابت کرنا ہوگا کہ یہ کارروائی صرف پاکستان کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر سرجیکل اسٹرائیک جیسا قدم اٹھایا گیا تو پاکستان بھی ردعمل ظاہر کرے گا۔

اگر ہم پی ایم مودی اور وزیر دفاع کی بات کریں تو پچھلے کچھ سالوں کے واقعات، دہشت گردی کے واقعات اور ان پر ہندوستان کے ردعمل کی وجہ سے عوام کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہلگام حملے کے بعد ملک بہت سنجیدہ چیز چاہتا ہے۔ اگر بڑے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ملک کے عوام کے غصے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے خلاف مکمل جنگ؟

مقتدر خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف چھوٹی سی جنگ ہوئی تو اس کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ اس لیے کہ ایک چھوٹی سی جنگ میں وہاں کے لوگ فوج اور حکومت کا ساتھ دیں گے۔ لیکن اگر بھارت طویل عرصے سے جاری جنگ یعنی مکمل جنگ لڑتا ہے تو پاکستان کی معیشت تباہ ہو جائے گی، اس کے اثاثے ڈوب جائیں گے اور اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہ نقصان اتنا ہوگا کہ معاشی طور پر کمزور پاکستان 10 سے 15 سال پیچھے دھکیل جائے گا۔ تاہم طویل جنگ میں بھارت کو معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑے گا۔ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ انہیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ یہ لڑائی اتنی بڑی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ بین الاقوامی مسئلہ بن جائے اور نہ ہی اتنی چھوٹی ہو کہ اس کا فائدہ پاکستان کو ملے۔

کیا ٹرمپ واقعی جنگ کی صورت میں مودی کا ساتھ دیں گے؟

ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کی حمایت کی ہے۔ تاہم ان کا پہلا سفارتی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ایسے میں اگر جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو کیا ٹرمپ واقعی ہندوستان کا ساتھ دیں گے؟ اس پر مقتدر خان نے کہا کہ جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے پاکستان کو ان سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ پاکستان بین الاقوامی سطح پر بھی مکمل طور پر تنہا ہو چکا ہے۔ نہ او آئی سی، نہ سعودی، نہ یو اے ای اور نہ ایران، کوئی پاکستان کی مدد نہیں کرنا چاہتا۔

اس کے ساتھ ہی اگر ہم ہندوستان کو امریکہ کی حمایت کی بات کریں گے تو ٹرمپ زبانی کہیں گے کہ تم آگے بڑھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن بہت زیادہ توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی معیشت اور کساد بازاری کے امکان کے حوالے سے اپنے ملک پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ وہ کچھ وقت کے لیے بیرونی چیزوں میں زیادہ الجھنا نہیں چاہیں گے۔

اگر بھارت کچھ بڑا کرتا ہے تو امریکہ دباؤ بنا سکتا ہے

مقتدر خان کا مزید کہنا ہے کہ جہاں تک بھارت اور امریکا کے تعلقات کا تعلق ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کو ایک بڑی معیشت اور دوست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں جب تک بھارت کوئی اتنا بڑا کام نہیں کرتا کہ امریکہ کو بین الاقوامی دباؤ میں کودنا پڑے، بھارت کے پاس ٹرمپ کا لائسنس ہے۔

امریکی نائب صدر کے دورے کے بعد تجارت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

خان کا کہنا ہے کہ سیکرٹری خزانہ نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت دو طرفہ تجارتی معاہدہ کرنے والا پہلا ملک ہو سکتا ہے۔ میرے خیال میں بھارت نے مذاکرات سے پہلے ہی رعایتیں دی تھیں۔ جس چیز نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سب سے زیادہ غصہ دلایا وہ صرف محصولات ہی نہیں بلکہ تجارتی رکاوٹیں بھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی نے نہیں دیکھا کہ گزشتہ ہفتے بھارت نے 7.4 بلین ڈالر کا رافیل خریدا ہے۔ امریکہ نے یہ نہیں دیکھا کہ اگر ہندوستان نے رافیل پر اتنا خرچ کیا ہے تو F35 کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟

*🛑سیف نیوز اُردو*

*ایندھن کی بچت بنی سیاسی سرکس* ✍️ *وسیم رضا خان*                             بھارتی سیاست میں اپیل اور عمل کے درمیان...