Friday, 18 April 2025

*🔴سیف نیوز اردو*





*بی جے پی ’پارٹی اور سرکار‘ مودی کے بغیر ؟*
*🔴حسن کمال ممبئی*
  *🌸بہ شکریہ :- انقلاب ممبئی کے شکریے کے ساتھ*
 
اب نریندر مودی کے ریٹائر ہونے کی جب بات آئی تو یہ سوال ہوا کہ پارٹی مودی کے بغیر کیا کام کرلے گی۔ حالیہ الیکشن میں بھی ساری دنیا کو یہ علم ہوا کہ مودی جی کا وہ چمتکار کہ کوئی ان کا نام لیتے ہی الیکشن جیت جاتا تھا اب کارگر نہیں رہا۔
 پچھلے دنوں سے یہ خبر کچھ عام ہے کہ مبینہ طور پر اس سال ۱۷؍ستمبر کو نریندر مودی عملی سیاست سے تو نہیں لیکن عملی اقتدار سے خود کو محروم کرلیں گے، یاد رہے کہ ۱۷؍ستمبر شاید نریندر مودی کی سالگرہ کا دن بھی ہے۔ اس خبر کو ہم افواہ تو نہیں سمجھ سکتے کیو ں کہ خبر بہت عام ہے لیکن مصدقہ بھی نہیں کہہ سکتے کیوں کہ پارٹی یا سرکار نے نہ تو اس کی کوئی تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔اس خبر کے عام ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کا جواز خود نریندر مودی نے مہیا کیا تھا۔ یادرہے کہ۲۰۱۹ءکا الیکشن بے تحاشہ طور پر جیتنے کے بعد اب مودی کو کسی اور کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی ہے یا انہیں کوئی اور نہیں چاہئے تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ نریندر مودی کو اس عہدے پر پہنچانے کیلئے لال کرشن اڈوانی کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔الیکشن کے بعد مودی کو نہ تو لال کرشن اڈوانی کی کوئی ضرورت تھی او رنہ ہی رام منوہر جوشی کی، حالانکہ دونوں کے دونوں بی جے پی میں کافی بااثر تھے۔یاد رہے کہ لال کرشن اڈوانی کی پارٹی میں موجودگی الیکشن کے بعد بھی برقرار رہی۔ پارٹی کے اندر بھی اور پارٹی کے باہر بھی ان کی عزت و تکریم کی جاتی تھی ۔ شاید نریندر مودی کو یہ بھی منظور نہیں تھا۔چنانچہ ہوا یہ کہ کسی جگہ جہاں اڈوانی بھی موجود تھے اور نریندر مودی بھی، نریندر مودی نے موجود لوگوں سے مصافحہ کیا ، جب وہ لال کرشن اڈوانی کے پاس سے گزرے تو اڈوانی نے ہاتھ جوڑ کر بہت ادب سے انہیں نمسکار کہا لیکن نریندر مودی نے نمسکار قبول کرنے کے بجائے صرف ان کی طرف دیکھا اورچپ چاپ آگے گزر گئے۔ ہندی بھاشا میں نمسکار کو اس طرح ردّ کرنے کو ترسکار بھی کہتے ہیں چنانچہ جب یہ بات ویڈیو کے ذریعہ لوگوں کے سامنے آئی تو انہیں خیال آیا کہ مودی نے اڈوانی کا ترسکار کیا تھا۔ اب آپ کو کچھ اور چیزیں بھی یاد دلادیں ۔ 
 گجرات کے مسلم کش فسادات کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے یہ فرمایا تھا کہ ہر حاکم کو راج دھرم کا پالن کرنا چاہئے اور یہ بات انہوں نے کھل کر تو نہیں کہی لیکن ساری دنیا میں عام ہوگئی کہ واجپئی کو نریندر مودی کا رویہ بہت خوشگوار نہیں لگا تھا۔یہ بھی خبر تھی کہ ممکن ہے واجپئی نریندر مودی کو پارٹی سے ہٹا دیں ، لیکن بعد میں الیکشن کے قریب آتے آتے مودی کی شکل ایک مہیب شکل بن گئی۔ واجپئی اس کے خلاف تھے لیکن لال کرشن اڈوانی نے انہیں سمجھایا کہ اگر واجپئی نے نریندر مودی کا ترسکار کیا تو ملک کے خصوصاً شمالی ہند کے تمام ہندو ووٹ بی جے پی سے کٹ جائیں گے اس لئے انہیں مودی کی مخالفت میں بہت دور نہیں جانا چاہئےچنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ واجپئی کے ذریعہ راج دھرم کا پالن کی ہدایت دئے جانے کے بعدبھی اگر نریندر مودی اپنے عہدے پر قابض رہے تو اس کی وجہ اڈوانی کا ساتھ تھا۔ 
 اب نریندر مودی کے ریٹائر ہونے کی جب بات آئی تو یہ سوال ہوا کہ پارٹی مودی کے بغیر کیا کام کرلے گی۔ حالیہ الیکشن میں بھی ساری دنیا کو یہ علم ہوا کہ مودی جی کا وہ چمتکار کہ کوئی ان کا نام لیتے ہی الیکشن جیت جاتا تھا اب کارگر نہیں رہا۔ یہ ہم نے حالیہ الیکشن میں بھی دیکھا کہ تقریباً بی جے پی کے ہر امیدوار نے نریندر مودی کا نام لینے کے ساتھ ساتھ ان کیلئے قسمیں بھی کھائیں لیکن عوام اس سے صرف اتنا ضرور محسور ہوئے کہ بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن گئی لیکن ایسی پارٹی نہیں بن سکی جو اپنے آپ حکومت بنالے۔ حالت ایسی تھی نریندر مودی بھی او ران کی سرکار بھی بیساکھیوں کے بغیر دو قدم بھی نہیں چل سکتی تھی ، یہ دو بیساکھیاں تیلگو دیشم کے لیڈر چندرا بابو نائیڈو اور بہار کے جے ڈی یو لیڈر نتیش کمار نے مہیا کی تھیں ۔ چنانچہ اب یہ سوال ہےکہ اگر مودی جی نے واقعی اپنی سالگرہ پر اقتدار سے محروم ہونے کا اعلان کردیا تو پارٹی کا کیا ہوگا؟
 نریندر مودی کے بعد پارٹی میں دوسرا نام نتن گڈکری کا تھااو روہ نام بھی اس لئے تھا کہ مہاراشٹر میں ایک وقت ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا تھا اگر گڈکری چاہیں تو شیو سینا ان کی مدد کرسکتی ہے ، اس کا موقع تو ا بھی نہیں آیا لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ نتن گڈکری نے سہراب الدین شیخ کے معاملے میں امیت شاہ کو کافی دوڑا یا تھا، انہیں اپنے آفس سے باہر رکھا تھا اندر نہیں آنے دیا تھا۔ شیو سینا کو یہ بات معلوم تھی لیکن سوال یہ ہے کہ مہاراشٹر کے علاوہ بی جے پی کے اندر نتن گڈکری کی کتنی اہمیت ہے۔ کیا یو پی، بہار اور شمال کے دوسرے صوبوں میں کوئی گڈکری کو پہچانتا بھی ہے؟ اور کیا وہ پارٹی پر ویسا ہی جادو چلا سکتے ہیں جو نریندر مودی نے چلایا تھا۔ اس کا جواب نہیں اور ہرگز نہیں ہے۔ بی جے پی کی اپنی نوعیت بھی کچھ نہ کچھ بدل ضرور رہی ہے۔انہیں معلوم ہے کہ ہندو مسلم میں اختلاف کئے بغیر نریند رمودی نے جو جادو چلایا تھا اس میں اب جان نہیں رہی۔ ووٹر اب ہندو اور مسلم بن کر ووٹ نہیں دیتے بلکہ خالص ووٹر بن کر ووٹ دیتے ہیں اور ووٹر کے معاملات ہندو مسلم اختلاف ہوتےہی نہیں ۔ ووٹر اپنا، اپنے شہر کا اپنے صوبے کا مفاد دیکھتے ہیں اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرتے ہیں ۔چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار نے یہی کیا بھی تھا۔ بی جے پی کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہندو مسلم اختلاف کے علاوہ نہ اس کے پاس کوئی ایشو ہے او رنہ ہی کوئی ایشو رہے گا
کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہندو مسلم اختلافات کا کچھ ذکر ہے بھی تو وہ شمالی ہندوستانی خصوصاً یو پی میں ہے۔ یہاں بھی ہندو مسلم اختلاف بہت دور نہیں جاتا۔ یاد رہے کہ بی جے پی اپنے ووٹروں کو اب بھی یقین دلانا چاہتی ہے کہ وہ ہندو مسلم اختلافات کوہی اپنی سیاست کی جڑ سمجھتی ہے اور کوئی موقع ایسا نہیں جانے دیتے جسے پارٹی یہ سمجھ کر کہ وہ ان اختلافات سے کام لے سکتی ہے، اسے چھوڑ بھی سکتی ہے۔ مسلمانوں کے وقف بل کا معاملہ اس کی ایک مثال ہے۔ یہ بل اگر پاس ہو بھی گیا اور اگر ہوا بھی تو بھی اس کا نفاذ صوبوں کی سرکار پر ہوگا۔ دیدی نے پہلے ہی کہہ دیا کہ وہ بنگال میں اس بل کو نافذ نہیں کریں گی۔ رہا جنوبی ہندوستان کا سوال تو وہاں بھی اس بل کا کوئی زور نہیں ہے بلکہ تمل ناڈو میں بھی یہ اعلان ہوا ہے کہ چنئی اس بل کے حق میں نہیں ہے۔ چنانچہ مودی کے بغیر پارٹی اور سرکار کا کیا ہوگا سوالیہ نشانات کے نرغے میں ہے۔
________
افسانہ ** بوجھ **

تحریر : ڈاکٹر انصاری مختار احمد
حسن پورہ مالیگاوں ضلع ناسک (مہاراشٹر) 

        روز مرہ کی طرح شام 5.30 کو آفس ختم ہونے پر میں 6.50 کی بوریولی فاسٹ لوکل ٹرین کے ذریعہ گھر جانے کے لئے روانہ ہوا - دو اسٹیشن کے بعد ہی میرے دوست رمیش کا مجھے فون آیا - 
یار سمیر مجھے اپنے آفس کے لئے کچھ سامان اور اسٹیشنری خریدنا ہے تم ملاڈ اسٹیشن پر اتر کر میرا انتظار کرو ،میں کچھ ہی دیر میں پہنچ رہا ہوں. 
یار رمیش تمہیں معلوم ہے کہ کل اتوار کو چھٹی ہونے کی وجہ سے میں نے اپنی فیملی کے ساتھ پکنک جانے کا پروگرام بنایا ہے اور مجھے گھر پہنچ کر اس کی تیاری بھی کرنا ہے، تم ایسا کرو کہ پیر کے روز یہ سب خریدنے کا پروگرام رکھو- 
ہم جاکر لے لیں گے، میں نے جواب دیا. 
 پیر کے روز ہمارے آفس میں آڈٹ ہونے والا ہے اور باس نے کل چھٹی کے دن سبھی اسٹاف کو آفس آنے کے لئے کہا ہے، تاکہ آڈٹ کی تیاری مکمل ہوجائے. اسی لئے آج سامان لینا بہت ضروری ہے - 
پلیز میری مدد کرو - تم ملاڈ اسٹیشن اتر کر ایم-ایم - ہوٹل کے پاس میرا انتظار کرو. رمیش بہت اصرار کررہا تھا - میں نے بھی حامی بھر لی. 
ملاڈ اسٹیشن کے باہر نکلتے ہی سکینہ کا فون آگیا. 
کہاں ہو تم ؟ بوریولی فاسٹ ٹرین مِس تو نہیں کر دی؟ مجھے ٹرین کی آواز بھی نہیں آرہی ہے. کب تک گھر پہنچو گے؟ بچے تمہارا انتظار کر رہے ہیں. 
 یہ بیویاں بھی نا - نہ جانے کتنے سوال کرتی رہتی ہیں، اور شوہر کی پل پل کی خبر رکھتی ہیں - 
میں من ہی من بڑبڑایا - 
آج دیر ہو جائے گی اور رمیش کے آفس کے سامان کی خریداری کے بارے میں تفصیل دی - سکینہ نے جھّلا کر فون بند کر دیا. 
ایم. ایم ہوٹل کے باہر آہنی جالیوں سے بنے چبوترے پر بیٹھ کر میں رمیش کا انتظار کرنے لگا - 
تبھی اچانک ایک بزرگ جن کی عمر لگ بھگ 70 برس ہوگی، سر پر پگڑی باندھے ، آنکھوں پر موٹے شیشے کی عینک لگائے ، میلے کپڑوں میں ملبوس، پیروں میں سادہ سی چپل پہنے میرے قریب آئے 
اور میرے پیر پکڑ کر کہنے لگے - بیٹا -
مجھے ایک وڑا پاو دلا دو - بہت زوروں کی بھوک لگی ہے-
 میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے - 
اچانک کسی بزرگ کے میرے پیر پکڑ لینے سے میں گھبرا سا گیا، یہ کیا طریقہ ہے بھیک مانگنے کا ؟ میں نے ممبئی میں بہت سے بھکاری دیکھے ہیں - جو بھیک مانگنے کے لئے روزانہ نِت نئے حَربے استعمال کرتے رہتے ہیں. 
مگر یہ بزرگ کسی بھی زاوئیے سے مجھے بھکاری نہیں لگ رہے تھے، ہاں مگر کچھ پریشان ضرور تھے. 
ہاں ہاں - میں وڑا پاو لاتا ہوں مگر پہلے میرے پیروں کو چھوڑو تو سہی ، بزرگ نے میرے پیروں کو چھوڑ دیا، میں چبوترے سے اتر کر کھڑا ہوگیا اور جیب سے 100 روپے کا نوٹ نکال کر ان کی جانب بڑھایا اور کہا، بابا وہ سامنے ہوٹل میں جاکر اطمینان سے کھانا کھالو.  
 مگر انہوں نے روپے لینے سے انکار کر دیا. مجبوراً میں ہی ہوٹل سے دو وڑا پاو اور پانی کی بوتل لاکر انہیں دی - 
  وہ بزرگ زمین پر بیٹھ کر وڑا پاو کھانے لگے - 
 تبھی انہوں نے اپنی بغل سے چمڑے کی بیگ نکال کر سامنے رکھی جس میں کھانے کا ایک ٹفن بکس صاف نظر آرہا تھا، مجھے بہت حیرت ہوئی مگر میں نے کچھ کہا نہیں - 
ان کے قریب جا کر پوچھ تاچھ شروع کردی. 
بابا تم کہاں سے آئے ہو؟ 
تمہیں کہاں جانا ہے؟ 
یہاں ممبئی میں کس کی تلاش ہے؟ 
بیٹا کیا کہوں اور کیسے کہوں - 
میں سانگلی ضلع سے آیا ہوں، سانگلی کے قریب ایک دیہات کا رہنے والا ہوں، تمہاری عمر کا میرا اکلوتا بیٹا یہاں ایک بڑی کمپنی میں انجینئر ہے - 
 تھوڑی بہت کھیتی کی زمین بیچ کر بڑے ہی ارمانوں سے اس کی پڑھائی مکمل کی تھی - 
دو سال پہلے اپنی کمپنی میں کام کرنے والی ایک لڑکی سے محبت میں شادی کی ہے - 
اُس کی بیوی بھی کافی پڑھی لکھی ہے -  
مگر اسے ہم جیسے دیہاتی اور پرانے خیالات کے سَاس سسُر پسند نہیں- 
وہ ہمیں اک بوجھ سمجھتے ہیں -اس لئے ہمیں اپنے ساتھ نہیں رکھتے اور ہمیں گاوں میں ہی رہنا پڑتا ہے میرا بیٹا پہلے پہل تو 3 - 4 مہینے میں ایک بار ہم سے ملنے گاؤں آجاتا تھا، بہت سارے روپے بھی دے جاتا، مگر اب وہ بھی نہیں آتا.
پرسوں اس کا فون آیا تھا - امریکہ میں میاں بیوی کو اچھی نوکری مل گئی ہے 5 سال کے لئے جانا ہے.
اب 5 برس کون جیتا ہے- اس لئے میں ہی اک بار اس سے مل آتا ہوں یہی سوچ کر یہاں چلا آیا - کہتے ہوئے بزرگ کا گلا رُندھ گیا.
کل شام سے میں ہوائی اڈہ ڈھونڈ رہا ہوں مگر لوگ کہتے ہیں ملاڈ میں کوئی ہوائی اڈہ نہیں ہے-
 انھوں نے اپنی جیب سے ایک کاغذ کا پُرزہ نکال کر مجھے دکھایا. 
ہاں لوگ بالکل صحیح کہتے ہیں ملاڈ میں کوئی ہوائی اڈہ نہیں ہے، میں نے جواب دیا.
مگر پرسوں اس نے فون پر یہی پتہ لکھوایا تھا - 
اور اب میرے موبائل پر اس کا فون بھی نہیں آرہا ہے - انہوں نے اپنا فون اور کاغذ کا پرزہ مجھے دیا.
 * چھترپتی شیواجی مہاراج ہوائی اڈہ ایم، ایم ہوٹل کے سامنے ملاڈ پچھم ممبئی * کاغذ پر لکھے پتہ کو پڑھ کر میں سمجھ گیا کہ بیٹے نے اپنے باپ کو ٹالنے کے لئے غلط پتہ لکھوایا ہے. 
بابا تم ہی اسے فون کرکے پوچھ لو نا- میں نے کہا. بیٹا مجھے کسی کو فون لگانا نہیں آتا - 
جب کوئی فون آتا ہے تو ہرے رنگ کا بٹن دبا کر بات کرلیتا ہوں - انہوں نے جواب دیا .
میں ان کے موبائل میں دو دن پہلے آئی ہوئی کال پر فون لگایا مگر دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی.
دوسری مرتبہ پھر کال لگائی، مگر پھر کاٹ دی گئی- اب سب کچھ واضح ہو چکا تھا، ان کا بیٹا اور بہو جس ہوائی جہاز میں سوار ہو چکے ہیں، اب اُن کی سمت کبھی واپس نہیں آئے گا.
مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بیٹے کا یہ رَویّہ اور فریب دہی باپ کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی یا سب کچھ جان کر بھی وہ انجان بن کر اسے قبول کررہے تھے.
تبھی رمیش نے پیچھے سے آواز دی - 
بس کچھ ہی دیر میں چلتے ہیں - میں نے کہا. 
اور دوبارہ بزرگ سے مخاطب ہوا، بابا مجھے لگتا ہے اب تمہارے بیٹے سے ملاقات نہ ہو سکے گی - 
اس کا جہاز امریکہ کے لئے روانہ ہو چکا ہوگا - 
اس لئے اب تم اپنے گاؤں واپس چلے جاؤ - 
تمہاری بیوی تمہارا انتظار کررہی ہوگی. 
بزرگ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، چمڑے کی بیگ سے ٹفن بکس نکال کر میری جانب بڑھا کر کہا- اسے اب تم ہی رکھ لو.
کیا ہے اسمیں ؟ میں نے پوچھا.
بیسن کے لڈو ہیں، میرے بیٹے کو بہت پسند ہے - اسی لئے گاؤں سے آتے وقت اُس کی ماں نے بڑے ہی چَاو سے تیار کرکے دیا تھا.
اب میں گھر جاکر اُسے کیا جواب دوں گا ؟ 
بزرگ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا. 
 اب میری آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے - 
بیٹے کی تلاش میں بھوک سے بےحال - مجھ سے ایک وڑا پاو کھانے کا سوال کرنے والا باپ - 
اپنے بیٹے کی محبت میں ٹفن بکس سے ایک لڈو بھی نکال کر کھا نہ سکا - 
جانے کیسی محبت ہے؟ 
میں نے ٹفن بکس اور سانگلی کے لئے ٹکٹ کے روپے ان کے ہاتھ میں رکھے اور رمیش کے ساتھ آگے بھیڑ میں نکل گیا.
دیر رات تک بستر پر مجھے نیند نہیں آرہی تھی -
میں نے سکینہ سے بزرگ کی تفصیل بیان کی - 
اس کی بھی آنکھیں نمناک ہوگئی. 
میرے ذہن میں بار بار ایک ہی سوال کچوکے لگا رہا تھا - بیٹا جس بوجھ کو چھوڑ کر بیرون ملک روانہ ہو گیا ہے - 
کیا واپس آکر کبھی اُس بوجھ کو اٹھا پائے گا ؟

ختم شد؛
__________

➖ غزل ➖
      ڈاکٹر اشفاق عمر، مالیگاؤں 
 
ہنستی آنکھوں کا درد دیکھو نا
تم ہو نباض درد سمجھونا

مرے دل پر تمہاری نظریں ہوں
کوئی دیکھے نہ، تم ہی دیکھو نا

وقت تو چل گیا ہے اپنی چال
جینا مرنا ہنر ہے، سیکھو نا

اس کے تو ہاتھ ہی تھے خنجر سے
بس کرو، دوستوں کو پرکھو نا

جان جاتی ہے جائے میری بلا
چپ ہو ، مٹی کے جیسے مادھو نا

ایسے کیا تشنگی بجھے گی کبھی
جاو دریا تلک، یوں بیٹھو نا

سن لو! اشفاق ہے بڑا نٹ کھٹ
بچ گیا پھر، نشانہ سادھو نا
________
ایک غزل...... غزل 
پہلے لہو سے جسم کو عاری کیا گیا
یوں ہی نہیں چمن کو گلابی کیا گیا

گلدان اس کا گُل سے سجانے کے واسطے
راضی نہیں تھا میں مجھے راضی کیا گیا

ہم نے وفا کے دیپ جلائے ہیں ہر جگہ
تم سے تو بس یہ کام خیالی کیا گیا

لپٹی ہوئی تھیں پاؤں سے گھر کی ضرورتیں 
ایسے ہی تھوڑی خون کو پانی کیا گیا

رکھتے نہیں ہیں عشق مجازی پہ ہم یقیں
ہم سے تو صرف عشقِ حقیقی کیا گیا

اک گھونٹ ہی شراب تھی اس میں ندیم جی
جو جام ایک سانس میں خالی کیا گیا

عرفان ندیم مالیگاؤں

*🛑سیف نیوز اُردو*

صبح کافی سے پہلے برش دانتوں کی صحت کے لیے کیوں ضروری ہے؟ اگر آپ بھی صبح اٹھتے ہی ڈرامہ ’ٹو اینڈ اے ہاف مین‘ کے کردار...