پاکستانی صحافیوں کا دورۂ اسرائیل توہین آمیز، تحقیقات کی جائیں: پی ایف یو جے
اسرائیلی فوج نے پیر کو رفح کے بیشتر علاقوں سے انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں، اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ جلد ہی غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر میں ایک اور بڑا زمینی آپریشن شروع کر سکتی ہے۔
صحافیوں کے اس دورے کے بعد پاکستان میں بڑے پیمانے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور ان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔
پاکستان نے تسلسل کے ساتھ سنہ 1967 سے قبل کی سرحدوں اور بین الاقوامی سطح پر متفقہ معیارات کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔
پاکستان غزہ میں اسرائیل کے جاری فوجی آپریشن کا کھلا ناقد ہے اور وہ اسے فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ قرار دیتا ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے سخت الفاظ پر مبنی اپنے بیان میں پاکستانی صحافیوں اور انفلوئنسرز کے اس دورے کی مذمت کرتے ہوئے اسے صحافتی اخلاقیات کے منافی، آزادی صحافت اور انسانی حقوق کے لیے عالمی جدوجہد کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔
بیان میں کے مطابق ’پی ایف یو جے نے حکام پر زور دیا کہ وہ اس بات کی مکمل تحقیقات شروع کریں کہ ان صحافیوں نے یہ سفر کیسے اور کیوں کیا، اس طرح کے اقدامات پاکستان کے دیرینہ سفارتی موقف سے متصادم ہیں۔‘
’پی ایف یو جے نے اس دورے کو دنیا بھر کے اُن صحافیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی، جنہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے شورش زدہ علاقوں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا یا وہ زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘
صحافیوں کے اس دورے کے بعد پاکستان میں بڑے پیمانے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور ان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں۔
پاکستان نے تسلسل کے ساتھ سنہ 1967 سے قبل کی سرحدوں اور بین الاقوامی سطح پر متفقہ معیارات کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔
پاکستان غزہ میں اسرائیل کے جاری فوجی آپریشن کا کھلا ناقد ہے اور وہ اسے فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ قرار دیتا ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے سخت الفاظ پر مبنی اپنے بیان میں پاکستانی صحافیوں اور انفلوئنسرز کے اس دورے کی مذمت کرتے ہوئے اسے صحافتی اخلاقیات کے منافی، آزادی صحافت اور انسانی حقوق کے لیے عالمی جدوجہد کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔
بیان میں کے مطابق ’پی ایف یو جے نے حکام پر زور دیا کہ وہ اس بات کی مکمل تحقیقات شروع کریں کہ ان صحافیوں نے یہ سفر کیسے اور کیوں کیا، اس طرح کے اقدامات پاکستان کے دیرینہ سفارتی موقف سے متصادم ہیں۔‘
’پی ایف یو جے نے اس دورے کو دنیا بھر کے اُن صحافیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی، جنہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے شورش زدہ علاقوں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا یا وہ زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔‘پی ایف یو جے نے کہا کہ اس دورے کا وقت خاص طور پر پریشان کن تھا، یہ دیکھتے ہوئے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ میں 150 سے زیادہ صحافی (جن میں اکثریت فلسطینیوں کی تھی) مارے جا چکے ہیں۔
یونین نے خبردار کیا کہ اس طرح کے دوروں سے ان ہلاکتوں کو قانونی حیثیت دینے اور فلسطین، کشمیر، افغانستان اور دیگر جگہ پر تنازعات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی قربانیوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستانی میڈیا پروفیشنلز نے اسرائیل کا سفر کیا ہو۔ سنہ 2022 میں اسی طرح کے ایک وفد میں بین المذاہب ہم آہنگی اور سفارتی روابط کی کوششیں کرنے والے صحافی اور پاکستانی نژاد امریکی شامل تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔اس حالیہ دورے کے بارے میں میڈیا رپورٹس کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے بارے میں ملک کا موقف ’تبدیل نہیں ہوا ہے۔‘
دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستانی پاسپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ اس پر اسرائیل کا سفر نہیں کیا جا سکتا۔‘
’پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کرتا ہے، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔‘
اسرائیلی فوج کا رفح کے بیشتر علاقے کو خالی کرے کا حکم، زمینی آپریشن کا عندیہ
اسرائیل نے رواں ماہ کے آغاز میں فلسطین کے عسکری گروپ حماس کے ساتھ جنگ بندی ختم کر کے اپنی فضائی اور زمینی دوبارہ شروع کردی تھی۔مارچ کے آغاز میں اسرائیل نے غزہ کے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو خوراک، ایندھن، ادویات اور انسانی امداد کی تمام ترسیل بند کر دی تھی تاکہ حماس پر جنگ بندی کے معاہدے میں تبدیلیاں قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
انخلا کے یہ احکامات تقریباً پورے شہر اور آس پاس کے علاقوں کے لیے دیے گئے ہیں۔ فوج نے فلسطینیوں کو حکم دیا کہ وہ ساحل کے ساتھ پھیلے ہوئے خیمہ کیمپوں سے مواصی کے علاقے کی طرف بڑھیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ احکامات ایسے موقعے پر جاری کیے گئے ہیں جب مسلمان رمضان کے روزوں کے بعد عیدالفطر کا تہوار منا رہے ہیں۔
اسرائیل نے گذشتہ برس مئی میں مصر کے ساتھ سرحد پر واقع رفح میں ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا جس سے اس علاقے کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے سرحد کے ساتھ سٹریٹجک اہمیت کی حامل ایک راہداری اور مصر کے ساتھ رفح کراسنگ پر قبضہ کر لیا، یہ غزہ کا بیرونی دنیا کے رابطے کا واحد راستہ تھا جس پر اسرائیل کا کنٹرول نہیں تھا۔
اسرائیل نے امریکی دباؤ پر جنوری میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا جس کے بعد اسے اس راہداری سے دستبردار ہونا تھا۔
تاہم اسرائیل نے بعد میں یہ یہ کہہ کر اسے خالی کرنے سے انکار کر دیا کہ ہتھیاروں کی سمگلنگ روکنے کے لیے اس علاقے میں اس کی فوج کی موجودگی ضروری ہے۔
بھوک، پیاس اور نیند، روزے کو کیسے آسان بنایا جائے؟
رمضان کا آخری عشرہ چل رہا ہے اور بہت سے لوگ نئی روٹین کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئے ہیں مگر شروع کے ایام کچھ مشکل محسوس کرتے ہیں، جبکہ کچھ کے لیے شاید اب بھی زیادہ آسان نہ ہو، تاہم سوال یہ ہے کہ باقی ماندہ روزوں کو خوشگوار طور پر کیسے گزارا جائے۔
اس کا جواب عربی میگزین سیدتی کی رپورٹ میں دیا گیا ہے اور کچھ ایسے کچھ نکات کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر عمل سے نہ صرف روزے اچھے گزریں گے بلکہ ان سے لطف اندوز بھی ہوا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کربک یونیورسٹی کی ماہر نفسیات سوزانا جوز کے چند ایسے مشورے شامل کیے گئے ہیں جو اس مہینے کو خوشگوار بناتے ہیں۔تاہم پہلے اس تبدیلی پر نظر ڈالتے ہیں جو 11 مہینے تک لگی بندھی زندگی میں اچانک داخل ہوتی ہے اور شروع کے دنوں میں ’مشکل‘ کیوں محسوس ہوتی ہے۔
الارم کا ڈرامائی روپ
ویسے تو عام دنوں میں الارم بجنا عام سی بات ہی ہوتی ہے اور عموماً اس کی آواز ناگوار نہیں گزرتی، تاہم رمضان میں یہ معاملہ کچھ ڈرامائی سا ہو جاتا ہے اور اس کی کچھ وجوہات بھی ہیں۔
چونکہ زیادہ تر لوگ نماز تراویح پڑھتے ہیں اس لیے سونے میں نسبتاً دیر ہو جاتی ہے جبکہ اس کے کچھ ہی گھنٹے بعد پھر سے سحری کے لیے اٹھنا پڑتا ہے، اور کھانے پینے اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد جب بستر میں گھستے ہیں تو یہ کافی مشکل ہو جاتا ہے کہ چند گھنٹے بعد اٹھ کر کام پر جایا جائے اور چونکہ یہ بات آپ کو الارم یاد دلاتا ہے اس لیے اس کی آواز ناگوار سی لگتی ہے، جبکہ کام پر جانے کے بعد بھی ایسا محسوس ہوتا رہتا ہے کہ دماغ فلائٹ موڈ میں ہے۔
ڈاؤن ہوتی بیٹری
اندازہ کریں کہ آپ پورا دن ایک ایسی ڈیوائس کے ساتھ گزار رہے ہیں جس کا چارجر موجود نہیں اور بیٹری ختم ہونے والی ہے۔روزے کے اوقات میں آپ کے جسم کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوتا ہے آپ کے خون میں گلوکوز کی سطح آہستہ آہستہ گرتی ہے، اسی لیے سستی محسوس ہوتی ہے اور دماغ آپ کو آرام کرنے کے سگنل بھیجنا شروع کر دیتا ہے۔
اس کے بعد آسان کام بھی مشکل لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔
اگر آپ صبح کے وقت کافی یا چائے پینے کے عادی ہیں تو اسی وقت اس کی طلب بھی محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
جو ظاہر ہے روزے کی وجہ سے آپ نہیں لے سکتے جس سے سر میں درد اور موڈ میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔
گھڑی کو کیا ہو گیا؟
عام دنوں میں گھڑی کی رفتار کافی کم محسوس ہوتی ہے اور لگتا ہے وقت گزرنے میں کچھ زیادہ ہی سستی کا مظاہرہ کر رہا ہے، حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس کی وجہ بار بار وقت دیکھنا ہوتا ہے۔
لنچ کے وقت کے قریب صورت حال عجیب سی ہو جاتی ہے، اس کے بعد بھی وقت کا سفر جاری رہتا ہے جس کو کسی نہ کسی طور کاٹنا ہی ہوتا ہے۔
کیا کیا جائے؟
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شروع کے چند ایام میں مشکل پیش آنا معمول کی بات ہے جس کو بہترین انداز میں کور کیا جا سکتا ہے۔نیند سے لڑیں مت
بار بار الارم سے الجھنے اور نیند کے ساتھ لڑنے کے ساتھ مسائل بڑھیں گے ہی کم نہیں ہوں گے۔
اس لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی نیند کو رمضان کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔
جتنی جلدی ممکن ہو سو جائیں اور دن کے وقت اپنی توانائی کو بحال کرنے کے لیے دوپہر کے وقت بھی تھوڑی دیر کے لیے سوئیں تو طبعیت فریش رہے گی۔
اسی طرح بستر پر لیٹنے کے بعد موبائل فون کا استعمال نہ کریں کیونکہ اسی کی وجہ سے اکثر دیر ہو جاتی اور اگلے روز نیند کا غلبہ رہتا ہے۔
سحری سوچ سمجھ کر
آپ کے دن بھر کا انحصار اس چارجنگ پر ہے جو آپ نے سحری کے وقت لی، اس وقت جو آپ کھاتے ہیں وہ آپ کو دن بھر چست بھی رکھ سکتا ہے اور سست بھی کر سکتا ہے اس لیے اچھے فوڈ کا انتخاب کریں، جس میں پروٹین، فائبر اور صحت مند چکنائی ہو جیسا کہ دودھ، گری دار میوے، دلیہ اور روٹی وغیرہ، اس وقت زیادہ میٹھی اور چکنائی والی اشیا سے پرہیز کریں کیونکہ یہ انسان میں سستی لاتی ہیں۔اسی طرح چونکہ کافی گھنٹے کے لیے کچھ پیا نہیں جایا جا سکتا ہے اس لیے افطار اور سحری کے درمیانی دورانیے میں پانی کی مناسب مقدار لیتے رہیں کیونکہ تھکاوٹ کی وجہ بعض اوقات بھوک نہیں ہوتی بلکہ جسم میں مائع جات کی کمی کے باعث ہوتی ہے۔
کام کا طریقہ بدلیں
چونکہ صبح کے وقت انسان میں توانائی زیادہ ہوتی ہے اس لیے کام کا زیادہ حصہ اسی وقت نمٹانے کی کوشش کریں جبکہ آخری گھنٹوں کو نسبتاً آسان ٹاسکس کے لیے مختص کریں۔
فون کا زیادہ استعمال بھی بند کر دیں اور جسم کو حرکت بھی دیتے رہیں اور اپنے دفتر کے اردگرد ہی تھوڑی بہت چہل قدمی کر لیا کریں کیونکہ اسے جسم کو توانائی حاصل ہوتی ہے۔بھوک اور تھکاوٹ
اگرچہ رمضان کے پہلے ہفتے کے دوران ان چیزوں کا احساس زیادہ ہوتا ہے تاہم ان کو اپنے اعصاب پر سوار کرنے سے گریز کریں اور گھنٹے گننے کے بجائے کچھ مثبت تکنیکس کا استعمال کریں۔ اپنے کام سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کریں، کام کے دوران دلچسپ اور حوصلہ افزا پوڈ کاسٹ سنیں۔
سوچنے کا انداز بدلیں
اسی طرح سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے کے حوالے سے اپنی سوچ کے انداز کو بدلیں اس کو کسی رکاوٹ کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک ایسے موقع پر دیکھیں جو آپ میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے علاوہ اندرونی طاقتیں دریامت کرنے میں مدد دے رہا ہے۔