ہم سے چھین کر غیر مسلموں کو دے دیا، یہ بل اور بھی خطرناک، AIMPLB بتائی وقف بل کی خامیاں
لکھنؤ : لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش کردیا گیا ہے ۔ بل پیش کئے جانے سے پہلے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل بہت سوچ سمجھ کر اور منصوبہ بندی کے ساتھ لایا گیا ہے۔ اے آئی ایم پی ایل بی نے کہا کہ جے پی سی کے اعتراضات میں سے کسی پر بھی غور نہیں کیا گیا۔ حکومت نے ہماری کوئی تجویز قبول نہیں کی۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ بل ہماری کمیونٹی کے لیے اور بھی خطرناک ہو گیا ہے۔
اے آئی ایم پی ایل بی نے کہا کہ وقف مسلمانوں سے چھین کر غیر مسلموں کو دیا گیا ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد وقف کا سی ای او غیر مسلم ہو گا جو کہ قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد ڈی ایم کسی بھی جائیداد کے بارے میں فیصلہ کریں گے کہ وہ وقف ہے یا نہیں، جس کی وجہ سے وقف تقریباً ختم ہو گیا ہے۔اس دوران بورڈ کے جنرل سکریٹری عبدالرحیم نے کہا کہ اس بل کے خلاف 5 کروڑ ای میلز موصول ہوئی تھیں، لیکن حکومت نے ان میں سے کسی پر غور نہیں کیا۔ عبدالرحیم نے بی جے پی کے اتحادیوں سے اپیل کی کہ وہ اس بل کی مخالفت کریں۔
جے ڈی یو نے وقف ترمیمی بل پر مرکزی حکومت کی حمایت کا کیا اعلان، کل پارلیمنٹ میں بل ہوگا پیش
پٹنہ : بہار سے بہت بڑی خبر ہے۔ نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو نے وقف ترمیمی بل پر مرکزی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا ہے۔ پارٹی کے چیف وہپ دلیشور کامت نے کہا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر حکومت کی حمایت میں مضبوطی سے ووٹ دیں گے۔ اس کے لیے پارٹی کے تمام اراکین پارلیمنٹ کو وہپ جاری کر دیا گیا ہے۔ بتادیں کہ چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی اور چراغ پاسوان کی پارٹی ایل جے پی کی حمایت کے بعد نتیش کمار کی جے ڈی یو کی حمایت مرکزی حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ وقف ترمیمی بل بدھ کو لوک سبھا میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے جے ڈی یو نے مرکزی حکومت کو کچھ تجاویز دی تھیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کچھ تجاویز کو مرکزی حکومت نے قبول کر لیا ہے اور اب نتیش کمار کی پارٹی نے اس بل کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اہم اتحادیوں کی حمایت سے مرکز کی نریندر مودی حکومت ایوان میں اکثریت حاصل کر لے گی اور یہ بل آسانی سے پاس ہو جائے گا۔ذرائع کے مطابق وقف بل میں کئی اہم ترامیم کی گئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی یعنی جے پی سی کی سفارشات کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ این ڈی اے کی اہم اتحادی جے ڈی یو نے کئی تجاویز دی تھیں ، جنہیں جگہ دی گئی ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی جو کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ‘ریاستی حکومت کلکٹر کے عہدے سے اوپر کے افسر کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کر سکتی ہے کہ کوئی جائیداد وقف ہے یا نہیں۔’ یہی نہیں، موجودہ پرانی مساجد، درگاہوں یا دیگر مسلم مذہبی مقامات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ ایک اور بڑی تبدیلی جو کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قانون پرانی تاریخ سے لاگو نہیں ہوگا۔ جے ڈی یو کی طرف سے یہ ایک بڑی تجویز تھی جسے قبول کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جے ڈی یو نے حکومت سے کہا ہے کہ چونکہ زمین ریاست کا موضوع ہے، اس لیے نئے قانون میں بھی اسی ترجیح کو برقرار رکھا جانا چاہئے۔ جے ڈی یو کی دوسری تجویز یہ ہے کہ نیا قانون سابقہ اثر کے ساتھ لاگو نہیں ہوگا، بشرطیکہ وقف جائیداد رجسٹرڈ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رجسٹرڈ وقف املاک متاثر نہیں ہوں گی، لیکن کسی بھی متنازعہ یا سرکاری جائیداد کے مستقبل کا فیصلہ وقف بل میں طے شدہ معیارات کے مطابق کیا جائے گا۔ نتیش کی پارٹی کی تیسری تجویز یہ ہے کہ اگر کوئی وقف جائیداد سرکاری زمین پر ہے تو اس کا فیصلہ بھی بل کے مطابق ہوگا۔ حکومت نے ان تجاویز کو بل میں شامل کیا ہے۔خیال رہے کہ اس سے پہلے لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) یعنی ایل جے پی آر نے وقف بورڈ ترمیمی بل پر مرکزی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اپنے ارکان پارلیمنٹ کے لیے حکومت کی حمایت میں ووٹ دینے کے لیے وہپ بھی جاری کیا تھا ۔ پارٹی کے تمام ممبران پارلیمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ 2 اور 3 اپریل کو پارلیمنٹ میں موجود رہیں۔ ایل جے پی آر کے چیف وہپ ارون بھارتی نے وہپ جاری کیا۔
3 دہشت گرد گھر میں گھسے، 500 روپے کے نوٹ دکھا کر مانگا پانی، پھر کھایا کھانا...کٹھوعہ انکاونٹر سے پہلے کی کہانی
: جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں فوج اور دہشت گردوں کے درمیان جاری انکاونٹر فیصلہ کن مرحلے پر ہے۔ اسی دوران منگل کو ایک کنبہ سامنے آیا اور اپنی آب بیتی بیان کی۔ یہ دہشت گرد کٹھوعہ میں اس خاندان کے گھر میں زبردستی گھس گئے تھے۔ دہشت گرد کافی بھوکے تھے۔ پانی مانگنے کے بہانے تینوں دہشت گردوں نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ پھر وہ زبردستی اندر داخل ہوگئے اور ہتھیاروں کی مدد سے سب کو قابو کرنے کے بعد کچن میں موجود کھانا کھانے لگے۔ کسی طرح یہ خاندان اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا اور اپنے ہی گھر سے فرار ہوگیا۔
اہل خانہ نے سیکورٹی فورسز کو بتایا کہ کل شام تین مشتبہ دہشت گرد ان کے گھر میں گھس گئے۔ تینوں بھوکے پیاسے تھے۔ انہوں نے پہلے گھر کے باہر پہنچ کر پانی مانگا اور پھر زبردستی کچن میں گھس گئے۔ فیملی کی خاتون نے بتایا کہ وہ مجھے پیسے دے رہے تھے، لیکن میں نے نہیں لیا۔ اس کے بعد وہ کچن میں گئے اور پین سے سبزیاں اور روٹی نکال کر خود کھانے لگے۔ ہم نے انہیں کئی بار کہا کہ وہ ہمارے گھر کے اندر نہ جائیں، لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔ خاتون کے مطابق وہ ہندوستانی کرنسی کے 500 روپے کے نوٹ دے رہے تھے ۔ انہوں نے بھاری بیگ اٹھائے ہوئے تھے اور کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ہم ڈرتے ڈرتے گھر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد کچن میں جو بھی کھانا ملا اسے کھا کر وہ چلے گئے ۔فوج نے علاقے کو چاروں اطراف سے گھیرا
کٹھوعہ میں پیر کی دیر رات سے ہندوستانی فوج اور دہشت گردوں کے درمیان یہ انکاونٹر جاری ہے۔ سیکورٹی فورسز نے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا ہے۔ باقی کی تلاش جاری ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ جنگلوں میں کل تین سے چار دہشت گرد موجود ہو سکتے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 8 دنوں میں دہشت گردوں کے ساتھ ان کا یہ تیسرا انکاونٹر ہے۔ اس خاندان کے گھر میں زبردستی کھانا کھانے کے بعد سیکورٹی فورسز نے ان کی تلاش میں آس پاس کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ اس دوران دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی۔دہشت گردوں کو نہیں چھوڑے گی فوج
جانچ ٹیم کا کہنا ہے کہ رام کوٹ پٹی کے پنچتیرتھی علاقے میں آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔ انکاونٹر کے پیش نظر جنگل میں پھنسے تینوں دہشت گردوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لئے رات کو گھیرا بندی کی گئی تھی۔ اس سے پہلے دن میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس شیو کمار شرما نے بتایا تھا کہ آخری دہشت گرد کے مارے جانے تک آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے سرحد کے قریب رہنے والے لوگوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔