Tuesday, 8 April 2025

*🔴سیف نیوز اردو*







ممبئی کے خلاف ساتویں آسمان پر چڑھا وراٹ کوہلی کا پارہ، کنگ کوہلی کو کس نے بھڑکایا
نئی دہلی : رائل چیلنجرز بنگلورو کی ٹیم اس سال ایک نئے کپتان کے ساتھ کھیلنے اتری ہے اور رجت پاٹیدار کی ٹیم نے کیا شاندار کھیل دکھایا ہے۔ ٹیم 4 میں سے 3 میچ جیت کر کے پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر ہے۔ ٹیم نے چنئی سپر کنگز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست دی اور اب 10 سال بعد وانکھیڑے میں ممبئی انڈینز کو شکست دی۔ پیر کو کھیلے گئے میچ کے دوران وراٹ کوہلی کا پارہ چڑھ گیا۔ اس کے پیچھے ان کی اپنی ٹیم کے کھلاڑی تھے۔

ممبئی میں ہوم ٹیم کے خلاف وراٹ کوہلی کی نصف کے بعد RCB نے کپتان رجت پاٹیدار اور جیتیش شرما کی شاندار اننگز کی بدولت 5 وکٹوں پر 221 رنز کا بڑا اسکور بنایا۔ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ہاردک پانڈیا کی شاندار اننگز نے ٹیم کو جیت کے قریب پہنچا دیا لیکن آخری اوور میں کرونال پانڈیا نے بازی پلٹ دی۔ اننگز کے دوران وراٹ بالکل خوش نہیں تھے جب ان کی ٹیم نے سوریہ کمار یادو کو آؤٹ کرنے کا آسان موقع گنوا دیا۔یش دیال نے سوریہ کمار یادو کو سلو گیند کی جسے وہ ٹائم کرنے سے چوک گئے اور گیند ہوا میں اٹھ گئی۔ گیند باز یش دیال اور وکٹ کیپر جیتیش شرما کے درمیان تال میل نہ ہونے کی وجہ سے کیچ چھوٹ گیا ۔ دونوں کھلاڑی ایک دوسرے سے ٹکرا گئے اور ٹیم نے سوریہ کو آؤٹ کرنے کا موقع گنوا دیا۔ یہ کیچ ڈراپ ہونے کے بعد وراٹ کوہلی کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔کیچ چھوٹنے کے بعد کوہلی نے جو ردعمل دیا اس نے سبھی کا دھیان کھینچ لیا ۔ وہ اس سادہ سی غلطی پر ناراض نظر آئے اور مایوسی میں چیختے ہوئے نظر آئے۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی ٹوپی زمین پر پھینک دی۔ جب یہ کیچ چھوٹ گیا تو ممبئی کی ٹیم میچ میں واپسی کر رہی تھی۔ سب جانتے ہیں کہ سوریہ کمار یادو کتنے خطرناک ہیں اور اسی وجہ سے وراٹ کوہلی غصے میں آگئے۔حالانکہ آر سی بی نے جلد ہی جوابی اٹیک کیا جب یش دیال نے ایک اور موقع فراہم کیا اور دھیمی گیند نے سوریہ کمار کو ایک بار پھر مات دی۔ شاٹ مارنے کی کوشش کے دوران سوریہ کو لیام لیونگسٹن نے کیچ کر لیا، جو اسکوائر لیگ کے علاقے میں فیلڈنگ کر رہے تھے۔ اس میچ میں بنگلورو نے کرونال پانڈیا کی شاندار گیند بازی کی وجہ سے جیت حاصل کی۔ انہوں نے مجموعی طور پر چار وکٹیں حاصل کیں جن میں آخری اوور میں تین وکٹیں بھی شامل تھیں کیونکہ بنگلورو 12 رنز سے جیت گیا۔









سماجی انصاف کیلئے بڑا قدم، وقف پر بحث کی جڑ میں پولرائزیشن کی سیاست: وقف قانون پر وزیراعظم مودی نے کیا کہا
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے وقف ایکٹ کو سماجی انصاف کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2025 کے پہلے 100 دنوں میں منظور ہوا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ وزیراعظم مودی نے وقف ایکٹ منظور کرنے پر پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نیا وقف ایکٹ غریب مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔ سی این این نیوز 18 کے پروگرام ‘رائزنگ بھارت سمٹ’ میں وزیراعظم مودی نے پارلیمنٹ میں وقف بل پر ہونے والی بحث کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ وقف پر بحث کی جڑ میں پولرائزیشن کی سیاست ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ پولرائزیشن کی سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے، اس پولرائزیشن کے بیج آزادی کے وقت بوئے گئے تھے، دو قومی نظریہ عام مسلمان کا فیصلہ نہیں تھا۔ کانگریس نے پولرائزیشن کی سیاست کے ذریعے اقتدار حاصل کیا، لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے کیا ملا؟ 2013 کی ترامیم لینڈ مافیا کو خوش کرنے کے لیے تھیں۔ نیا وقف قانون سبھی کیلئے ، خاص طور پر ہاشیے پر رہنے والوں کیلئے، وقار کو یقینی بنائے گا ۔وزیراعظم مودی نے اس دوران کانگریس پر بھی نشانہ سادھا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو پولرائزیشن کی سیاست میں اقتدار ملا، کچھ بنیاد پرست لیڈروں کو دولت ملی، لیکن سوال یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو کیا ملا؟ غریب پسماندہ مسلمانوں کو کیا ملا… انہیں نظر اندازی، ناخواندگی، بے روزگاری ملی، جبکہ مسلم خواتین کے ساتھ شاہ بانو جیسی ناانصافی ہوئی، میں ملک کی پارلیمنٹ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اب پورے معاشرے میں مسلم مفاد کا عظیم قانون بنایا گیا ہے۔ وقف کی روح کی بھی حفاظت کی جائے گی اور پسماندہ غریب مسلمانوں، خواتین اور بچوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔100 دنوں کے کام کاج کا ذکر
وزیراعظم مودی نے اپنے خطاب کی شروعات حکومت کے 100 دنوں کے کام کاج سے کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 100 دنوں میں فوج کے لیے میڈ ان انڈیا لائٹ کمبیٹ ہیلی کاپٹر کی خریداری کو گرین سگنل دے دیا گیا اور وقف ایکٹ میں ترامیم کا بل منظور کیا گیا، یعنی سماجی انصاف کے لیے ایک بڑا اور ٹھوس قدم اٹھایا گیا، یہ 100 دن 100 فیصلوں سے بھی بڑھ کر ہیں ۔









وقف ترمیمی ایکٹ 2025 لاگو، حکومت نے جاری کیا نوٹیفکیشن
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو 8 اپریل 2025 سے لاگو کر دیا ہے۔ ترمیمی ایکٹ کا نوٹیفکیشن پیر کو جاری کیا گیا۔ اس قانون کے تحت وقف املاک کے انتظام اور کنٹرول سے متعلق نئی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ کئی سیاسی جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس قانون سے مسلم اداروں پر مرکز کا کنٹرول بڑھتا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سیکشن 3D کو ‘مساجد اور درگاہوں پر حملہ’ قرار دیا۔ وہیں حکومت کا کہنا ہے کہ یہ شفافیت اور بہتر انتظام کے لیے ضروری ہے۔ وقف ایکٹ کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے سیاسی لیڈروں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) اور جمعیۃ علماء ہند کی عرضیوں سمیت 10 سے زیادہ عرضیاں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔ وکلاء نے کہا کہ درخواستیں 15 اپریل کو بینچ کے سامنے سماعت کے لیے لسٹ ہونے کا امکان ہے، حالانکہ یہ ابھی تک سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر نظر نہیں آ رہا ہیں۔ادھر مرکزی حکومت نے منگل کو سپریم کورٹ میں ایک ‘کیویٹ’ داخل کیا اور وقف ایکٹ کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر کوئی حکم دینے سے پہلے سماعت کی درخواست کی۔ ‘کیویٹ’ ایک فریق کی طرف سے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں دائر کی جاتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی حکم سنے بغیر نہ دیا جائے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

محترم جناب انیس لعل خان سر کی والدہ محترمہ کا مقدس سرزمین مکۃ المکرمہ میں انتقال اسد الدین اویسی کی ’وندے ماترم‘ کو ...