Wednesday, 5 March 2025

*🔴سیف نیوز اردو*








’ہارٹ اٹیک کے خطرے میں کمی‘، خون کا عطیہ مزید کن بیماریوں سے بچاتا ہے؟
اندازہ کیجیے ایسی صورت حال کا جب کسی کو خون کی اشد ضرورت ہو اور وہ مل نہ رہا ہو، کیونکہ دنیا میں ہر وقت کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی کو ایسے حالات درپیش ہوتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ لوگ عطیات دیتے نہیں مگر ایسا ضرور ہے کہ ان کی تعداد ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔
خون کا عطیہ دینے سے قبل ضروری باتوں جیسے بلڈ ٹیسٹ، عمر، صحت کے ساتھ ساتھ زیادہ تر لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس کے بعد کیا کرنا ہے، مثلا جوسز پینا، اچھی خوراک لینا، تین ماہ تک مزید عطیہ نہ دینا وغیرہ۔تاہم زیادہ تر لوگوں کو سنا سنایا یہ جملہ تو یاد ہے کہ ’اس کے صحت پر اچھے اثرات پڑتے ہیں‘ مگر یہ نہیں پتہ اس طرح وہ کن خطرناک بیماریوں کی پہنچ سے دور ہو جاتے ہیں۔
عرب میگزین سیدتی میں شائع ہونے والے مضمون میں ہیوسٹن ہیلتھ کیئر کا حوالہ دیتے ہوئے اس حوالے سے کافی اہم معلومات دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہر جاتے اور آتے لمحے کے دوران دنیا میں کسی نہ کسی کو خون کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ یہ زندگی کی ڈوری کو بندھے رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
اس کی بدولت جسم کے خلیوں تک غذائی اجزا اور آکسیجن کی رسائی ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس صورت حال کے باوجود بھی خون عطیہ کرنے کے اہل افراد میں صرف تین فیصد ہی سالانہ طور پر عطیات دیتے ہیں۔
خون کا عطیہ دینے سے جہاں انسان کو یہ راحت ملتی ہے کہ وہ کسی کے کام آیا وہیں یہ بھی حقیقت کہ اس سے مریض کی جان بچنے کے امکانات بڑھتے تو ہیں ہی لیکن ساتھ ہی عطیہ دہندہ کو کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں، جن میں مہلک امراض سے بچاؤ بھی شامل ہے۔ہارٹ اٹیک کے خطرات میں کمی
سال میں کم از کم ایک بار خون کا عطیہ دینے سے بہاؤ میں بہتری آتی ہے اور شریانوں کی بندش کے امکانات میں کمی آتی ہے۔
حالیہ کچھ برسوں کے دوران ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں نے خون عطیہ کیا ان میں ہارٹ اٹیک کے خطرات میں اٹھاسی فیصد کمی دیکھی گئی۔
ایتھروسکلروسیس سے بچاؤ
یہ ایسی حالت کو کہتے ہیں جب کولیسٹرول، چربی اور دوسرے کیمیکلز شریانوں کی دیواروں پر تہہ بنا دیتے ہیں، جس سے وہ تنگ ہو جاتی ہیں اور خون کے بہاؤمیں رکاوٹ پڑتی ہے۔ اسی طرح خون میں آئرن کی زیادہ مقدار بھی شریانوں کو سخت کر سکتی ہے، خون کا عطیہ دینے سے آئرن میں کمی آتی ہے اور ایتھروسکلروسیس کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔بنیادی مسائل کا علم
اکثر لوگ باقاعدگی سے چیک اپ نہیں کرواتے تاہم خون کا عطیہ دینے سے ان کا مختصر جسمانی معائنہ بھی ہو جاتا ہے کیونکہ خون لینے سے قبل یہ ضروری ہوتا ہے۔ اس سے عطیہ دہندہ کو اپنےبلڈ گروپ کے بارے میں علم ہو جاتا ہے وہیں اس کی مختصر سی میڈیکل ہسٹری بھی وجود میں آ جاتی ہے۔
اس میں بلڈ پریشر، نبض کی رفتار، جسم کا درجہ حرارت، کولیسٹرول ٹیسٹ اور ہیموگلوبن کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آئرن لیول بھی چیک ہو جاتا ہے۔اس سکریننگ سے انسان کی صحت کے متعلق مسائل کا پتہ چلانے میں بھی مدد ملتی ہے، اسی طرح اسی مختصر معائنے میں اریتھمیا کا پتہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔
اس دوران اگر کوئی ایسی علامات بھی سامنے آتی ہیں جو کسی خطرے کی طرف اشارہ کرتی ہیں تو اس پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے، جس سے مرض کا بروقت پتہ لگ جاتا ہے اور علاج میں آسانی رہتی ہے۔ کینسر کی روک تھام
ماہرین کے مطابق خون میں آئرن کا زیادہ ہونا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ عطیہ دے کر اس ذخیرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق آئرن کا تعلق کینسر پیدا کرنے والے فری ریڈیکلز سے ہوتا ہے۔ اس لیے خون عطیہ کرنے سے چونکہ آئرن میں کمی آتی ہے اس لیے کینسر کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔
عطیہ دینے سے قبل کیا کرنا ضروری ہے
اگر کوئی خون کا عطیہ دینا چاہتا ہے تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ وہ زیادہ مقدار میں پانی پیے کیونکہ اس سے جسم ہائیڈریٹ ہوتا ہے اور رگوں کو تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اسی طرح صحت مند خوراک لینے میں بھی سستی نہیں کرنی چاہیے۔
ورزش کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر کوئی خون کا عطیہ دینے جا رہا ہے تو اس سے قبل ورزش کر سکتا ہے تاہم عطیہ دینے کے بعد پرہیز کرنا چاہیے۔








سینئر صحافی و شاعر سلیم شیرازی کے شعری مجموعے’بلائے جاں‘ کی رونمائی 
نئی دہلی: بزرگ صحافی اور استاذ شاعر سلیم شیرازی کے شعری مجموعے’بلائے جاں‘کی رونمائی غالب اکیڈمی میں ایک پر وقار تقریب عمل میں آئی۔ جس کی صدارت تسمیہ ایجوکیشنل این سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر سید فاروق نے کی۔ کتاب کا اجرا ممتاز شاعرو ادیب اور اردو اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے کیا۔

معروف اسکالر پروفیسر اخترالواسع اور سید جلال الدین ایڈوکیٹ مہمان عالی وقارکے طور پر جلسے میں موجود تھے۔ دہلی یونیورسٹی کے سابق استاذ پروفیسر عبدالعزیز اور اردو نیوز چینل عالمی سہارا کے ایڈیٹر لئیق رضوی مہمانان خصوصی تھے۔ نظامت کے فرائض پروگرام کے کنوینر اور سینئر جرنلسٹ ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے انجام دیے۔ واضح رہے کہ سلیم شیرازی کاشعری مجموعہ’بلائے جاں‘ معروف شاعر وادیب معین شاداب نے ترتیب دیا ہے۔ اس سے قبل لندن میں اس کتاب کا اجرا ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر سید فاروق نےصدارتی کلمات میں سلیم شیرازی کی طویل مدتی صحافتی و شعری خدمات کی ستائش کی اور انھیں نیک خواہشات پیش کیں۔ مہمان عالی وقار پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ ایک شاعر اور صحافی کے طور پر سلیم شیرازی نے اردو کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔انھوں نے مصحفی کی طرح لکھنؤ اور دہلی کے درمیان ایک پل کا کام کیاہے۔غمِ جاناں و غم دوراں سے لبریز سلیم شیرازی کی شاعری ہم سب کی حکایت روزگار ہے۔

پروفیسر شہپر رسول نےکہا کہ سلیم شیرازی پرگو اور پختہ فکر شاعر ہیں ،ان کے شعری تجربات ان کی غیرمعمولی فنکاری کا ثبوت ہیں۔انھوں نے کہا کہ سلیم شیرازی کے شعری مجموعے کی رونمائی کی یہ تقریب دراصل کتاب کا جشن ہے۔

پروفیسر عبدالعزیز نے سلیم شیرازی کے ساتھ گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کئی واقعات سنائے۔ انھوں نے سلیم شیرازی کے شعری محاسن بیان کرتے ہوئے کہا کہ سلیم شیرازی کی چھوٹی بحروں کی غزلیں دل میں تیر کی طرح اتر جاتی ہیں۔لئیق رضوی نے اپنی تقریر میں کہا کہ سلیم شیرازی حساس انسان،کھرے صحافی اور دیدہ ور شاعر ہیں۔ان کامشاہدہ وسیع ہے،انھوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور وہ تلخ تجربات سے بھی گذرے ہیں۔ انھیں تجربات و مشاہدات کی کوکھ سےان کی شاعری کا خمیرپیدا ہوتا ہے۔سید جلال الدین ایڈووکیٹ نے سلیم شیرازی کو پر خلوص ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ وہ اسی طرح شعرو ادب کی خدمت کرتے رہیں۔
معین شاداب نے خیرمقدمی کلمات میں سلیم شیرازی کے ہمہ جہت اوصاف بیان کرتے ہوئے اس کتاب کی اشاعت کا قصہ بیان کیا۔ جلسے کی نظامت تقریب کے کنوینر سینئر جرنلسٹ ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے کی۔ انھوں سلیم شیرازی کی خدمت میں سپاس نامہ بھی پیش کیا۔سلیم شیرازی شعری مجموعے کی اشاعت، اور اس جلسے کے انعقاد کے تعلق سے اپنے رفقا اور احباب کے تئیں اظہار تشکر کیا۔

مزید پڑھیں: عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر راحت اندوری کا 75واں یوم پیدائش منایا گیا

اس موقع پر ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا جس کی صدارت سلیم شیرازی اور نظامت مشہور براڈ کاسٹر عرفان اعظمی نے کی ۔جن شعرا نے کلام پیش کیا ان میںسلیم شیرازی، متین امروہوی، منیر ہم دم، عرفان اعظمی ،رؤف رامش،ارشد ندیم، شاہد انور،معین شاداب، ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی،عمران راہی، شاہ رخ عبیر، علی ساجد، حمزہ عجمی، نسیم بادشاہ ، نو شاہی نور علی، آبگینہ عارف اور شارقہ ملک کے نام شامل ہیں۔









کابل ایئرپورٹ حملے کے ’ماسٹر مائنڈ‘ کی گرفتاری: صدر ٹرمپ نے پاکستان کا شکریہ کیوں ادا کیا اور یہ کیوں اہم ہے؟
امریکی صدر ٹرمپ نے کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں سنہ 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر امریکی فوجیوں پر ہونے والے خودکش حملے کے ایک منصوبہ ساز کی گرفتاری میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد کانگریس سے اپنا پہلے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کی انتظامیہ نے سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر امریکی اہلکاروں پر خودکش حملے کے ذمہ دار مرکزی دہشت گرد کو پکڑ لیا ہے اور اس میں مدد کرنے پر وہ ’حکومت پاکستان‘ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہےکہ سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والا مرکزی ملزم پکڑا گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ 26 اگست 2021 کو کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ جسے جنوبی دروازہ بھی کا جاتا ہے پر دو خودکش بمباروں اور مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔ اس وقت وہاں ملک چھوڑنے کی کوشش میں ہزاروں افغان باشندے بھی موجود تھے۔

اس حملے میں تقریباً 160 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اپریل 2023 میں چار سینیئر امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے دوران دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خودکش بم دھماکے کے ذمہ دار شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے کمانڈر اور مرکزی ملزم کو ہلاک کر دیا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حکام نے کابل خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے رشتہ داروں کو فون پر مطلع کیا تھا کہ شدت پسند تنظیم کے کمانڈر کو حالیہ ہفتوں میں طالبان کی سکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کو اپریل کے اوائل میں معلوم ہوا تھا کہ حملے کا ماسٹر مائنڈ، جس کی شناخت بتانے سے انھوں نے گریز کیا تھا افغانستان میں طالبان کی کارروائی میں مارا جا چکا ہے۔ لیکن حکام نے اس کی مبینہ ہلاکت کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا تھا۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کیا کہا؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کانگریس سے اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر امریکی اہلکاروں پر خودکش حملے کے ذمہ دار مرکزی دہشت گرد کو پکڑ لیا ہے اور اس میں مدد کرنے پر وہ حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

’امریکہ ایک بار پھر بنیاد پرست اسلامی شدت پسند قوتوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ساڑھے تین سال قبل افغانستان سے (امریکہ کے) تباہ کن انخلاء کے دوران کابل کے بین الاقوامی حامد کرزئی ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ پر شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے حملے میں 13 امریکی فوجی اور سینکڑوں افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے انخلا کیا گیا وہ ’شاید ہمارے ملک کی تاریخ کا سب سے شرمناک لمحہ تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہم نے اس حملے کے مرکزی ملزم کو پکڑ لیا ہے اور اسے یہاں لایا جا رہا ہے۔ وہ امریکہ کے فوری انصاف کا سامنا کرنے کے لیے اپنے راستے پر ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’میں اس عفریت کی گرفتاری میں مدد کرنے پر حکومت پاکستان کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ ان 13 خاندانوں کے لیے ایک بہت ہی اہم دن ہے جن کے پیارے اس حملے میں مارے گئے تھے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ اور زخمیوں سے رابطے میں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بہت ہولناک دن تھا۔‘ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ اور زخمیوں سے رابطے میں ہیں اور ان کی آج فون پر ان سے بات ہوئی ہے۔پاکستانی وزیراعظم کا ردعمل
صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے تعاون پر شکریہ ادا کرنے پر پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ردعمل دیا ہے۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطے میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار اور حمایت کو تسلیم کرنے اور سراہنے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے ہمیشہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور پاکستان دہشت گردوں اور عسکریت پسند گروپوں کو کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی کو روکنے پر یقین رکھتا ہے۔ ہم دہشت گردی سے نمٹنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں۔ اس کوشش میں پاکستان کے 80,000 سے زیادہ بہادر فوجیوں اور شہریوں نے جانیں قربان کیں۔ اور ہم علاقائی امن اور استحکام کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھیں گے۔‘امریکی حکام کا کیا کہنا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے بعد امریکی خفیہ ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کشیپ پٹیل نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ 'جیسا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی اعلان کیا ہے، تو اب میں بتا سکتا ہوں کہ آج رات ایف بی آئی، ڈی او جے اور سی آئی اے ایبے گیٹ پر حملے کے ذمہ داروں میں سے ایک کو گرفتار کر کے امریکہ لے آئے ہیں۔ آج جان کا نذرانہ دینے والے یہ امریکی ہیروز اور ان خاندان انصاف کے مزید ایک قدم قریب ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے ناقابل یقین شراکت داروں اور بہادر ایف بی آئی اہلکاروں کا شکریہ جنھوں نے یہ معرکہ سرانجام دیا۔ آپ نے اپنے ملک کی شاندار انداز میں نمائندگی کی۔‘امریکہ کی اٹارنی جنرل پامیلا بانڈی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نام نہاد دولت اسلامیہ (خراسان) کے اس شیطان صفت دہشت گرد نے 13 بہادر امریکی میرین فوجیوں کے وحشیانہ قتل کی منصوبہ بندی کی۔ صدر ٹرمپ کی زیر قیادت امریکہ کا محکمہ انصاف اس بات کو یقینی بنائے گا کہ محمد شریف اللہ جیسے دہشت گردوں کو کوئی محفوظ پناہ گاہ دستیاب نہ رہے، اسے اس نوعیت کی کوئی اور کارروائی کرنے کا موقع نہ ملے۔۔۔‘
ڈسٹرکٹ آف ورجینیا کے اٹارنی ایرک ایس سائیبرٹ کا کہنا ہے کہ ’(شریف اللہ کے خلاف) آج اعلان کیے گئے الزامات ایک ناقابل تردید پیغام دیتے ہیں کہ امریکہ اُن تمام لوگوں کو جوابدہ ٹھہرانے کا عزم رکھتا ہے جو ہمارے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں سہولت کاری فراہم کرتے ہیں یا ایسی کارروائیاں سرانجام دیتے ہیں۔ ان خوفناک جرائم سے متاثر ہونے والوں کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ آپ کو فراموش نہیں کیا گیا ہے۔ ہم انصاف کی تلاش جاری رکھیں گے چاہے اس میں ہمیں کتنا وقت لگے۔‘

’پاکستان امریکہ تعلقات چوراہے پر ہیں‘تجزیہ کار اور ماہرین صدر ٹرمپ کی جانب سے کانگریس خطاب کے دوران نہ صرف پاکستان کا ذکر کرنے بلکہ کابل ائیر پورٹ حملے میں ملوث داعش کے اہم کمانڈر کی گرفتاری میں تعاون کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنے کو بہت اہم کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

ٹرمپ اور حکومت پاکستان کے درمیان معاملات کبھی سیدھے نہیں رہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں نو ایسی ٹویٹس پوسٹ کی تھیں، جن میں پاکستان کا ذکر تھا اور ان میں سے ایک ایسی بھی تھی جو پوسٹ کرنے کے بعد ڈیلیٹ کردی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انھوں نے پچاس بار مختلف موقعوں پر پاکستان کا ذکر کیا۔

’فیکٹ بیس‘ ویب سائٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں سب سے پہلا بیان اکتوبر سنہ 1999 میں جاری ہوا تھا جس میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے خطرے کے حوالے سے پاکستان کا نام لیا تھا۔ اس کے بعد اسی برس نومبر میں انھوں نے شمالی کوریا، چین اور انڈیا کے ساتھ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا ذکر کیا۔

اسی طرح سنہ 31 دسمبر 2017 کو بھی انھوں نے ایک ایسی ٹویٹ کی تھی جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

31 دسمبر کی رات کو ٹویٹ پوسٹ کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان پر امریکہ سے دھوکہ کرنے اور اربوں ڈالرز امداد لینے کی بات کی تھی۔

انھوں نے لکھا تھا کہ ’امریکہ نے 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالرز کی امداد احمقانہ انداز میں دی، اور ہمارے لیڈروں کے بے وقوف سمجھتے ہوئے انھوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ انھوں نے ان دہشت گردوں کو پناہ دی جنہیں ہم افغانستان میں پکڑنا چاہتے۔‘

دو جنوری سنہ 2018 کو انھوں نے ایک اور ٹویٹ پوسٹ کی ’یہ صرف پاکستان ہی نہیں ہے جسے ہم بغیر فائدے کے اربوں ڈالرز دیتے ہیں۔‘تاہم آج ان کی جانب سے کانگرس خطاب کے دوران پاکستان کا شکریہ ادا کرنے کو نہایت اہمیت سے دیکھا جا رہا ہے۔اس کی ایک وجہ پاکستان اور امریکہ کے ماضی میں کشیدہ تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس کا ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور صدارت میں شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ اس حالیہ پیش رفت سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسداد دہشت گردی کے لیے کام جاری ہے تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ اسے بہت بڑی بات نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں ابھی اتنی گرمجوشی نہیں۔

وہ کہتی ہیں اب امریکہ کی نظر میں پاکستان کی وہ اہمیت نہیں رہی جو پہلے تھی۔

ملحیہ لودھی سمجھتی ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوبارہ سے تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے جو ابھی تک نہیں ہو سکا۔ انھوں نے کہا کہ ’تعلقات پچھلے تین چار سال سے چوراہے پر ہیں اور ان کو دوبارہ سے استوار کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد تعلقات میں کمی آئی اب ضرورت ہے کہ تعلقات کو وسیع بنیاد پر استوار کیا جائے۔

اسی ضمن میں عالمی امور کے تجزیہ کار اور ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج ٹرمپ کی جانب سے کابل ائیرپورٹ حملے میں ملوث شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے دہشتگرد کو تلاش کرنے اور پکڑنے میں تعاون کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ سی آئی اے ڈائریکٹر ریٹکلف اور ایف بی آئی کے سربراہ کیشپ پٹیل پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ لگتا ہے کہ پاکستان امریکہ کا انسداد دہشتگردی کے معاملے پر تعاون کا دوبارہ آغاز ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے اس کی اہمیت سے متعلق مزید لکھا کہ ’پاکستان افغانستان میں دہشت گردی کے بارے میں امریکی خدشات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور امریکہ کے ساتھ ایک نئی سکیورٹی پارٹنرشپ قائم کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکی انتظامیہ کا اعتماد جیتنے میں مشکل ہو گی اور امریکہ کو بدلے میں کچھ دینا ہو گا۔ ایبی گیٹ حملے کے منصوبہ ساز کو پکڑنے میں پاکستان کی مدد کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔‘

*🛑سیف نیوز اُردو*

جنگ کے بعد مالال ہوا ایران، جلد ملیں گے اتنے ارب ڈالر، مسعود پزشکیان نے کیا یہ بڑا اعلان ایران صدر کے مسعود پزشکیان ...