Wednesday, 26 March 2025

*🔴سیف نیوز اردو*



 *مسٹر انڈیا 2025 نیشنل باڈی بلڈنگ مقابلہ میں 💪🏻✨العزیز جمخانہ✨💪🏻 کے ارباز شیخ نے سلور میڈل حاصل کیا* 
شہر مالیگاوں کی عوام کو یہ خبر دیتے ہوئے نہایت مسرت ہورہی ہے کہ 24 سے 26 مارچ کے درمیان شیرڈی میں *مسٹر انڈیا* باڈی بلڈنگ مقابلہ کا انعقاد کیا گیا اس مقابلے میں العزیز جمخانہ کے باڈی بلڈر ارباز شیخ علیم نے فزیکل چیلنج کیٹیگری (Handicap) میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے دوسرا نمبر حاصل کرکے سلور میڈل اپنے نام کیا ۔
اس بہترین کامیابی پر *العزیز جمخانہ* کے ہیڈ *محمد آصف ماسٹر* ٫ *فرقان ماسٹر* اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اسی طرح آئندہ مقابلوں میں بھی کامیابی سے ہمنکار کرے۔ آمین ثم آمین۔

 *دعاگو:* 
💐 *شفیق احمد* (انجم سائزنگ)
💐 *سلیم احمد* (اسماعیل بیڑی)
💐 *کیتن بھائ* ( انڈین بوٹک )
💐 *سنجے کلنتری* (کرشنا اسٹیل)
💐 *قاری ریحان* (نگراں مسجدومدرسہ عکرمہ)
💐 *بابو سنگھانیہ* (ہزار کھولی)
💐 *راشد مصطفیٰ KT* (یارن والے) 
💐 *زاہد انجم* (انجم سائزنگ)
💐 *منصور اکبر پترکار* (سیف نیوز) 
💐 *ماجد احمد* (گارڈن پیلیس)
💐 *رضوان و رفیق بھائی* (سارہ لینڈ ڈیولپر)
💐 *رفیق احمد عطاری* (نائس کٹ پیس)
💐 *فہیم باکسر* (باکسر گروپ)
 *وسیم بلڈر٫کلیم پہلوان٫عادل باغبان٫ اینڈ آل مالیگاوں واٹس ایپ گروپس*











پنجاب کا 2.36 لاکھ کروڑ کا بجٹ، وزیر خزانہ ہرپال چیمہ نے چوتھا بجٹ کیا پیش
پنجاب کی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کیا۔ وزیر خزانہ ہرپال سنگھ چیمہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ 2 لاکھ 36 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں بجٹ سے متعلق خاص باتیں۔ وزیر خزانہ چیمہ نے کہا، ‘بڑی عاجزی اور گہری وابستگی کے ساتھ، میں اس معزز ایوان میں عام آدمی پارٹی کی حکومت کا چوتھا بجٹ پیش کرنے جا رہا ہوں۔ میرے لیے یہ ایک قابل فخر لمحہ ہے کہ ایک بار پھر اس معزز ایوان کے سامنے کھڑا ہو کر پچھلے تین سالوں کے تبدیلی کے سفر کی تصویر پیش کروں گا اور مستقبل کے لیے ایک روڈ میپ کا خاکہ پیش کروں گا جو پنجاب اور اس کے عوام کے لیے امیدوں اور امکانات سے بھرپور ہے۔

انہوں نے کہا، ‘سب سے پہلے، میں اپنے عزت مآب وزیر اعلیٰ سردار بھگونت سنگھ مان جی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، جن کی دور اندیش قیادت گزشتہ تین سالوں میں پنجاب کی شاندار ترقی کے پیچھے محرک رہی ہے۔ ہمارے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی نے مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے میں ہماری رہنمائی کی ہے اور ایک خوشحال اور بااختیار پنجاب کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔چیمہ نے مزید کہا، ‘ایک وقت تھا جب پنجاب ہندوستان کی سب سے خوشحال ریاست تھی۔ ہندوستان میں جتنی بھی اچھی چیزیں ہوئیں، وہ صرف پنجاب میں ہوئیں۔ یہاں سبز انقلاب آیا۔ لدھیانہ کو ہندوستان کا مانچسٹر کہا جاتا تھا۔ یہ سائیکل کی صنعت کا مرکز بھی بن گیا۔ جالندھر کھیلوں کے سامان کا عالمی دارالحکومت بن گیا۔ 1980 میں پنجاب کی فی کس آمدنی ملک میں سب سے زیادہ تھی۔

بجٹ کے کچھ خاص نکات

یہ تبدیلی کے اقدامات اجتماعی طور پر ہماری حکومت کے ‘رنگلا پنجاب’ کی تعمیر کے عزم کو ٹھوس شکل دیتے ہیں۔ ایک ایسا پنجاب جو جامع، ترقی پسند اور سب کے لیے مواقع سے بھرا ہوا ہو اور مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس سال کا بجٹ اس سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں یہ تبدیلی پنجاب کے ہر گاؤں، ہر شہر کو چھو لے گی، چاہے بڑا ہو یا چھوٹا۔ اس لیے میں اس بجٹ کا تھیم ’’تبدیلی پنجاب‘‘ رکھنے جا رہا ہوں۔ محکمہ ڈیٹا کے پیشگی تخمینوں کے مطابق پنجاب کی معیشت مضبوط ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اس نے رواں سال میں متاثر کن 9% نمو درج کی ہے۔ اس کے نتیجے میں، ریاست کی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (GSDP) موجودہ قیمتوں پر ₹8,09,538 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ رفتار مستقبل میں جاری رہنے کی توقع ہے، موجودہ قیمتوں پر مالی سال 2025-26 میں جی ایس ڈی پی میں 10 فیصد اضافے کا تخمینہ ہے، جو 8,91,301 کروڑ روپے تک پہنچ جائے گا۔ جیسا کہ ہم نے اپنے پہلے بجٹ میں وعدہ کیا تھا، ہم نے پنجاب کی بگڑتی مالی صحت کو بہتر کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے “118 اسکولز آف ایمیننس قائم کیے ہیں اور سنگاپور اور فن لینڈ میں اساتذہ کے اعلیٰ تربیتی پروگرام منعقد کیے ہیں تاکہ ہمارے اساتذہ کو عالمی بہترین طریقوں سے آراستہ کیا جاسکے”۔ مزید برآں، ہم نے 15,947 واٹر چینلز کو بحال کیا ہے۔ اس سے نہری پانی کی آبپاشی کے لیے آخری میل کے کھیتوں تک پہنچنے کو یقینی بنایا گیا ہے، جس سے ہمارے کسانوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور پنجاب کی زرعی معیشت مضبوط ہو رہی ہے۔پنجاب میں وزیر اعلی بھگونت مان حکومت اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ اس بجٹ میں حکومت ریاست میں پھیلے ہوئے منشیات کی لت کو روکنے پر توجہ دے سکتی ہے۔ ساتھ ہی، امید ہے کہ اس بجٹ کے ذریعے اروند کیجریوال دہلی کی سی ایم ریکھا گپتا کو جواب دیں گے۔ دراصل دہلی میں شکست کے بعد سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال پنجاب میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی پنجاب حکومت کے ذریعے دہلی میں پہلی بار بجٹ پیش کرکے ریکھا گپتا کی حکومت کو جواب دے سکتے ہیں۔

اروند کیجریوال بجٹ سے پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ کن مسائل پر توجہ دی جائے گی۔ ایک عوامی خطاب میں، انہوں نے کہا، ‘پنجاب میں ہماری حکومت نے منشیات کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ شروع کی ہے۔ اب اگلے مرحلے میں منشیات کے بڑے سپلائرز پر حملہ کیا جائے گا۔ ایک بھی منشیات فروش یا سپلائی کرنے والے کو نہیں بخشا جائے گا۔ کانگریس، اکالی دل اور بی جے پی کے دور حکومت میں اس نے پنجاب کو ’’اڑتا پنجاب‘‘ کہہ کر بدنام کیا تھا۔ اب لوگ ‘بدلتا پنجاب’ بنانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔

یہ تو بجٹ پیش ہونے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ حکومت کن کن مسائل پر توجہ دے گی۔ اس کے باوجود جن مسائل کی توقع کی جا رہی ہے، ان میں منشیات کی لت سب سے نمایاں ہے۔ مان کی حکومت اپنے تیسرے بجٹ میں منشیات کے استعمال پر سخت موقف اختیار کرتی نظر آنے والی ہے۔ ریاست میں نوجوان اور بچے بڑے پیمانے پر منشیات کی لپیٹ میں ہیں۔ بجٹ میں بچوں کو نشے سے دور رکھنے اور ریاست کو منشیات سے پاک بنانے پر زور دیا جا سکتا ہے۔

منشیات کی مردم شماری جہاں پورے ملک میں مردم شماری اور ذات پات کی بات ہو رہی ہے۔ اسے پورے ملک میں بڑا ایشو بنا دیا گیا ہے۔ لیکن، دہلی کے سابق وزیر اعلی نے اس بجٹ میں پہلی بار منشیات کی مردم شماری کی بات کی تھی۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے کچھ دن پہلے ایک ریلی میں منشیات کی مردم شماری پر بات کی تھی۔سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ ایک بڑا درد سر ہے پنجاب منشیات کی تجارت کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے منشیات کی سمگلنگ کافی آسان ہو جاتی ہے۔ اس بجٹ میں حکومت منشیات کی روک تھام کے لیے ہوم گارڈز کو بھی شروع کر سکتی ہے اور منشیات کی روک تھام کے لیے الگ بجٹ پیش کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب حکومت ایمرجنسی ریسپانس گاڑیوں کی تعداد بڑھا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی نمبر 112 کو مضبوط کرنے کے لیے بجٹ میں خصوصی پروویژن ہو سکتا ہے۔









امریکہ میں عمران خان کی رہائی اور پاکستان کے آرمی چیف پر پابندی سے متعلق بل پیش: ’پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ‘ میں کیا ہے؟
امریکی کانگریس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور ملک میں جمہوریت کی بحالی سے متعلق ایک بِل پیش کیا گیا ہے اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی امریکہ آمد پر پابندی کو بھی اس بِل کا ایک اہم حصہ بنایا گیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں 24 مارچ کو رپبلکن رکن جو ولسن اور ڈیموکریٹ رکن کانگریس جیمز ورنی پنیٹا نے ’پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ‘ کے عنوان سے یہ بِل پیش کیا۔

اس بل میں درج ہے کہ ایسی مخصوص بیرونی شخصیات پر پابندی عائد کی جائے جو پاکستان میں سیاسی حریفوں کو قید کرنے اور ان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

اِس بِل کے حوالے سے رپبلکن رکن جو ولسن کا مطالبہ ہے کہ ’ویزے پر پابندی کے ذریعے پاکستان کی فوجی قیادت پر دباؤ ڈالا جائے تا کہ (پاکستان میں) جمہوریت کی بحالی اور عمران خان کی رہائی ممکن ہو۔‘

امریکی ایوان نمائندگان میں اس بل کے پیش کیے جانے پر بی بی سی نے دفتر خارجہ کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے تاہم ابھی تک ان کا کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹیمی بروس نے عمران خان کی قید پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی ہے۔پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ‘ میں کیا ہے اور اسے پیش کرنے والے کون ہیں؟
جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے تو پاکستان میں یہ بحث زوروں پر تھی کہ آیا وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی پر بات کریں گے۔ پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنماؤں کو یہ امید تھی کہ امریکی صدر انسانی حقوق سے متعلق اپنی آواز بلند کریں گے۔تاہم ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کے معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی انھوں نے ابھی تک عمران خان سے متعلق کوئی بات کی۔ کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں انھوں نے پاکستان کا ذکر ضرور کیا مگر یہ شدت پسند تنطیم نام نہاد دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک شدت پسند کی گرفتاری سے متعلق تھا۔
صدر ٹرمپ نے اگست 2021 میں کابل ایئرپورٹ پر حملے کے ملزم کی گرفتاری میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

دریں اثنا ’پاکستان ڈیموکریسی ایکٹ‘ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ملک کی عسکری و سیاسی قیادت کے خلاف امریکی ویزوں کی پابندی کا ذکر کیا گیا ہے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ ’جب جنرل عاصم منیرعمران خان سمیت سیاسی کارکنان کو رہا کر دیں تو پھر ان پر یہ پابندی اٹھائی جا سکتی ہے۔‘

اپنے ایک ٹویٹ میں اس بل سے متعلق جو ولسن نے لکھا کہ اس میں یہ واضح ہے کہ ’پاکستان میں جمہوریت کی بحالی امریکہ کی پالیسی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ کانگریس میں پیش کیے جانے والا یہ بل پاکستان کے آرمی چیف جنرل ’عاصم منیر پر ایک ماہ کے اندر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘

ان کے مطابق اس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’تمام جرنیلوں اور سرکاری حکام اور ان کے اہل خانہ پر بھی پابندی عائد کرنے کا جائزہ لیا جائے۔‘کے مطابق اس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’تمام جرنیلوں اور سرکاری حکام اور ان کے اہل خانہ پر بھی پابندی عائد کرنے کا جائزہ لیا جائے۔‘

جو ولسن ایوان کی خارجہ امور اور آرمڈ سروسز کی کمیٹیوں کے ایک اہم رکن ہیں۔ وہ رپبلکن پالیسی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔

جوولسن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قریبی دوست سمجھا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ دوسرے رکن ڈیموکریٹ جیمز ورنی پنیٹا ہیں جو امریکی بحریہ کے سابق انٹیلجنس افسر رہ چکے ہیں۔

جو ولسن کچھ عرصے سے عمران خان کی رہائی سے متعلق متحرک ہیں۔جو ولسن نے رپبلکن سٹڈی کمیٹی کے سربراہ آگسٹ پلگر کے ساتھ مل کر گذشتہ ماہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ وہ عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی فوجی قیادت سے بات کریں۔

جو ولسن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد پوسٹس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے متعدد مقدمات میں گرفتار ہیں، جنھیں وہ ’سیاسی‘ قرار دیتے ہیں۔

جو ولسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خط جاری کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اور آگسٹ پلگر وزیر خارجہ مارکو روبیو پر زور دیتے ہیں کہ ’پاکستان میں جمہوریت کو بحال اور عمران خان کو رہا کروایا جائے۔‘پابندی کا امکان نہیں‘
ماہرین اس طرح کی قانون سازی کو انفرادی عمل قرار دے رہے ہیں۔

سینیئر صحافی نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ ’یہ خبر پی ٹی آئی کے لیے اطمینان کا باعث تو ہے‘ مگر اس خوشی کی انھیں کوئی منطق سمجھ نہیں آتی۔ ان کی رائے میں ’یہ ایک انفرادی فعل ہے اور ایسی کسی مجوزہ پابندی کا امکان بھی دور دور تک نظر نہیں آ رہا ہے۔‘

ان کی رائے میں اس قانون سازی پر جاری لابنگ حکومت کے لیے کسی پریشانی کا باعث نہیں بن سکتی ہے۔

وکیل مارگن کیرل کولوروڈو اسمبلی کی سپیکر رہ چکی ہیں۔ وہ قانون سازی کے مرحلے میں لابنگ کرنے والے گروہوں کے خلاف سخت مؤقف رکھتی ہیں۔

انھوں نے اپنے دفتر میں بھی ایسے افراد پر پابندی عائد کر رکھی ہے جو انھیں کسی بھی طرح سے سپورٹ کی آفر کرتا ہے۔ ان کے مطابق وہ جب سپیکر تھیں تو انھوں ایسے افراد پر اپنے دفتر میں داخلے پر پابندی عائد رکھی تھی۔

مارگن کیرل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’امریکی نظام میں لابنگ خود امریکہ کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے۔‘ ان کی رائے میں کوئی بھی قانون سازی کسی خاص گروہ یا شعبے کی ایما پر نہیں کی جانی چاہیے۔

مارگن کیرل کی رائے میں ’جب کوئی بھی سیاسی رہنما دوسرے حلقوں سے کسی بھی قسم کی معاونت حاصل کرتا ہے تو پھر اسے ادائیگی بھی کرنا پڑتی ہے۔‘ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ قانون سازی کے عمل کو لابنگ سے دور رکھا جانا چاہیے۔

پاکستان پر اس قانون سازی کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟
امریکی تھنک ٹینک دا ولسن سینٹر کے جنوبی ایشیا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کے بارے میں امریکی قانون سازی کا ایک اہم ترین حصہ آج متعارف کرایا گیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس بل میں ایسے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے جو پاکستان کے آرمی چیف پر امریکی پابندیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ’اس بل کا قانون بننے کے امکانات بہت کم ہیں، لیکن یہ پاکستان کی قیادت کو خوفزدہ کر دے گا۔‘

امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر عابدہ حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کسی رکن کانگریس کے بیان یا بل پر حکومت نوٹس لینا چاہے تو لے سکتی ہے وگرنہ یہ کوئی ضروری نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ابھی نہیں لگتا کہ حکومت اس ’سٹیج‘ پر عمران خان کو رہا کرے گی۔‘

عابدہ حسین کی رائے میں اس قانون سازی سے بظاہر امریکی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی امریکہ اس پر کوئی ردعمل دے گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ واشنگٹن میں موجود پاکستانی سفارتکاروں کا بھی کام ہے کہ وہ ایسے لابی کرنے والے اراکین پر نظر رکھیں اور ان سے اس طرح رابطے برقرار رکھیں کہ وہ یوں پاکستان اور اس کے اداروں اور اہم شخصیات سے متعلق واضح موقف نہ لے سکیں۔عمران خان کی رہائی کے لیے گذشتہ برس لکھا گیا خط
عمران خان کی رہائی سے متعلق اس سے قبل بھی امریکہ میں ایسے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان کے 60 سے زائد ڈیموکریٹک قانون سازوں نے سابق صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں ان پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستانی جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لیے اسلام آباد حکومت پر واشنگٹن کا اثرو رسوخ استعمال کریں۔

اس خط میں قانون سازوں نے لکھا ’ہم آج آپ پر زور دیتے ہیں کہ آپ پاکستان کے سابق وزیر اعظم خان سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے پاکستان کی حکومت پر امریکہ کا اثرورسوخ استعمال کریں۔‘

اس خط کے محرک امریکی نمائندے گریگ کیسر تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ عمران خان کی رہائی کے لیے امریکی کانگریس کے متعدد اراکین کی طرف سے اس طرح کی پہلی اجتماعی کال ہے۔

خط میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں تاریخی بے ضابطگیاں اور الیکشن فراڈ ہوا جب کہ ووٹرز کو بھی انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوششیں ہوئیں۔

اراکینِ کانگریس نے خط میں کہا کہ ہم عمران خان کی فوری رہائی اور پاکستان میں پارٹی کے اراکین اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر حراست کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جوبائیڈن انتظامیہ پاکستان کی حکومت سے عمران خان کے تحفظ کی ضمانت لے اور امریکی سفارت خانے کے اہلکار جیل میں سابق وزیرِ اعظم سے ملاقات کریں۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...