Wednesday, 12 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*




یورک ایسڈ کیا ہے؟ بچاؤ کیلیے کون سی غذائیں ضروری ہے؟
اگر آپ کو اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا ہے یا جوڑوں اور پیر کے انگوٹھوں میں سوزش کی شکایت ہے تو یاد رکھیں یہ کہ یہ کیفیت آپ کے جسم میں یورک ایسڈ میں اضافے کا پیش خیمہ ہے۔

یورک ایسڈ ایک قدرتی فضلہ یا تیزابی مادہ ہے جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے، یہ مادہ پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ہوتا رہتا ہے اور اس کا اصل کام جسم میں گرمی پیدا کرنا ہوتا ہے۔

یہ پیورین کی وجہ سے ہر روز جسم میں بنتا ہے، پیورین ایک کیمیائی مادہ ہے جو ہمارے جسم میں خلیوں کے ٹوٹنے سے قدرتی طور پر بنتا ہے جب کہ اس کا کچھ حصہ غذا سے بھی پیدا ہوتا ہے۔

خون میں یورک ایسڈ کی موجودگی معمول کی بات ہے لیکن اگر اس کا لیول صحت مند سطح سے بڑھ جائے تو یہ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بن سکتا ہے۔

جسم میں اس کا بڑھنا ایک عام مسئلہ ہے تاہم کبھی کبھی اس میں اضافے کی وجہ سے جسم میں سوزش اور درد کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے، جو پریشانیوں کا باعث بنتا ہے۔

اگر جسم میں یورک ایسڈ کی سطح کو کنٹرول کیا جائے تو اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ سردیوں میں اس کے بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس موسم میں تلی ہوئی چیزیں زیادہ مقدار میں استعمال کی جاتی ہیں۔

اس کے لیے ہمیں اپنے کھانے پینے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے، آج ہم آپ کو اس مضمون کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ اس مسئلے سے بچاؤ کیلیے کون سی غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے؟

کن غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے
یورک ایسڈ کے مسئلے سے بچنے کے لیے ڈاکٹرز پھول گوبھی، بند گوبھی، برسیلز، اسپراؤٹس اور مشروم نہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان میں پیورین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان چیزوں کو کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

نان ویجیٹیبل غذاؤں میں پیورین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے جسم میں اس کے بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس لیے گوشت کھاتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ گوشت کے بعض اعضاء جیسے جگر، گردے وغیرہ کا استعمال نہ کیا جائے۔

اس کے علاوہ سی فوڈ میں شامل کیکڑے یا جھینگے کو اپنے غذا میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تمام چیزیں جسم میں اس کی سطح میں اضافہ کرتی ہیں۔

جنک فوڈ کا استعمال
یورک ایسڈ کے مریضوں کو جنک فوڈ، فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی چیزیں، مصالحہ دار کھانا، سفید روٹی، کیک، بسکٹ، کوکوا، آئس کریم، خمیری غذا، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹ کے علاوہ زیادہ چکنائی والی غذائیں نہیں کھانی چاہئیں۔

ان تمام چیزوں کو کھانے سے یورک ایسڈ کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

پروٹین والی غذائیں
اپنی خوراک میں زیادہ پروٹین کا استعمال یورک ایسڈ کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس لیے پروٹین اور پیورین سے بھرپور غذا جیسے دودھ، دہی، بادام، سبز مٹر، پالک، دال وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں۔

اس علاوہ یورک ایسڈ کے مریضوں کو دہی کھانے سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔ اس میں موجود ٹرانس فیٹس جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار کو مزید بڑھاتے ہیں۔

میٹھے مشروبات سے پرہیز
یورک ایسڈ کے مریضوں کو کولڈ ڈرنکس، سافٹ ڈرنکس، سوڈا، شکنجی اور پیک شدہ پھلوں کے جوس سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنی خوراک میں شہد، سویا دودھ، مکئی کا شربت اور زیادہ فرکٹوز والی غذائیں شامل نہ کریں۔

ان تمام چیزوں کو کھانے سے جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے یورک ایسڈ کے مریضوں کو دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شراب، کالی چائے اور کافی سمیت زیادہ چینی والے پھلوں کے جوس پینے سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔

دال، چاول سے پرہیز
یورک ایسڈ کے مریضوں کو سونے سے پہلے رات کے کھانے میں دال، چاول کا بلکل استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ یہ جسم میں یورک ایسڈ کے مقدار میں اضافہ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انگلیوں اور جوڑوں میں گٹھیا کا درد بڑھ جاتا ہے۔

اپنی خوراک میں چھلکے والی دالوں کو شامل کرنے سے مکمل طور پرہیز کریں۔ متوازن مقدار میں تھوڑا تھوڑا کھانا کھائیں۔ ایک بار میں زیادہ کھانا کھانے سے بھی کئی مسائل پیدا ہوں گے۔


چرواہے اور تسبیح کے دانے
اردو ادب کی بے مثال اور لاجواب تحریروں اور حکمت و دانائی، فلسفہ و فکر کے موتیوں سے بھرے ہوئے مضامین میں انشائیہ نگاری کو امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ اردو ادب میں ڈاکٹر وزیر آغا کو دانش ور اور باکمال انشائیہ نگار کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور یہ انہی کا ایک خوب صورت انشائیہ ہے۔

چرواہے کی چھڑی دراصل ہوا کا ایک جھونکا ہے اور ہوا کے جھونکے کو مٹھی میں بند کرنا ممکن نہیں۔ اسے تو دیکھنا بھی ممکن نہیں۔

البتہ جب وہ آپ کے بدن کو مَس کرتے ہوئے گزرتا ہے تو آپ اس کے وجود سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔ وجود ہی سے نہیں آپ اس کی صفات سے بھی آگاہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ بنیادی طور پر ہر جھونکا ایک پیغام بر ہے۔ وہ ایک جگہ کی خوشبو کو دوسری جگہ پہنچاتا ہے۔ یہی کام چرواہے کا بھی ہے۔ تمام لوگ گیت چرواہوں کے ہونٹوں پر لرزتے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے رہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بہت قدیم زمانے میں قبائل نے جو نقل مکانی کی، اس کے بارے میں تاریخی کوائف ناپید ہیں، البتہ جن راستوں سے یہ قبیلے گزرے اور جن خطوں میں چند روز ٹھہرے وہاں انہوں نے اپنے نقوش پا چھوڑ دیے جنہیں آج بھی ’’پڑھا‘‘ جا سکتا ہے۔ یہ نقوشِ پا وہ منورّ الفاظ ہی ہیں جو ان کے ہونٹوں سے ٹپکے اور پھر راستوں اور خطّوں میں بولی جانے والی زبانوں کے دامن پر کہیں نہ کہیں موتیوں کی طرح اٹک کر رہ گئے اور صدیوں تک اپنے بولنے والوں کے سفر کی داستان سناتے رہے… مگر لوک گیتوں کا قصّہ دوسری نوعیت کا ہے۔

لوک گیت قبیلوں کے نہیں بلکہ چرواہوں کے نقوشِ پا ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ کسی خطّے کا چرواہا کہاں کہاں پہنچا کیونکہ وہ جہاں کہیں گیا اپنے ساتھ گیت کی لَے اور خوشبو اور تمازت بھی لے گیا۔ پھر وہ خود تو وقت کی دست بُرد سے محفوظ نہ رہ سکا اور مآلِ کار زمین کا رزق بن گیا مگر اس کا گیت ایک لالۂ خود رو کی طرح عہد بہ عہد اس خطّے کی زمین سے برآمد ہوتا اور خوشبو پھیلاتا رہا۔ بس یہی چروا ہے کا وصفِ خاص ہے کہ وہ جگہ جگہ گیتوں کے بیج بکھیرتا پھرتا ہے… بیج جو اس کے نقوشِ پا ہیں، جنہیں وقت کا بڑے سے بڑا سیلاب بھی نابود نہیں کر سکتا۔

ویسے عجیب بات ہے کہ چرواہے کے مسلک کو آج تک پوری طرح سمجھا ہی نہیں گیا، مثلاً اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ گلّے کا رکھوالا بھی ہے اور پولیس مین بھی! یعنی وہ اپنی چھڑی کی مدد سے ہر اُس زمینی یا آسمانی بلا پر ٹوٹ پڑتا ہے جو اس کے گلّے کو نظر بد سے دیکھتی ہے اور اسی چھڑی سے وہ گلّے سے بھٹکی ہوئی ہر بھیڑ کو راہِ راست پر لانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ مگر کیا چرواہے کا مقصدِ حیات صرف یہی ہے؟…غالباً نہیں! وجہ یہ کہ جب چرواہا گلّے کو لے کر روانہ ہوتا ہے تو اُسے مجبوراً اِسے سیدھی لکیر پر چلانا پڑتا ہے تا کہ ریوڑ بحفاظت منزلِ مقصود تک پہنچ جائے۔ واپسی پر بھی اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اپنی تمام بھیڑوں کو سمیٹ کر یک مُشت کر دے تا کہ وہ بغیر کسی حادثے کے اپنے گھر پہنچ جائیں۔ مگر یہ تو سفر کے بالکل عارضی سے مراحل ہیں۔ اصل اور دیرپا مرحلہ وہ ہے جب چرواہا اپنے گلّے کو کسی سر سبز و شاداب میدان، جھاڑیوں سے اٹے ہوئے صحرایا کسی پہاڑ کی ڈھلان پر لا کر آزاد کر دیتا ہے۔ جس طرح تسبیح کا دھاگا ٹوٹ جائے تو منکے فرشِ خاک پر گرتے ہی لڑھکنے اور بکھرنے لگتے ہیں، بالکل اسی طرح جب گڈریا اپنے ریوڑ کو آزاد کر تا ہے تو وہ دانہ دانہ ہو کر بکھر جاتا ہے۔ معاً ہر بھیڑ کی ایک اپنی منفرد شخصیت وجود میں آ جاتی ہے۔ گلّے کے شکنجے سے آزاد ہوتے ہی ہر بھیڑ محسوس کرتی ہے کہ بے کنار آسمان اور لامحدود زمین کے عین درمیان وہ اب یکہ و تنہا کھڑی مرکزِ دو عالم بن گئی ہے۔ مگر بات محض بھیڑوں ہی کی نہیں۔
خود چرواہے کو بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے بدن کے حصار سے باہر آکر چاروں طرف بکھرنے لگا ہے، جیسے اس کے ہاتھ یکایک اتنے لمبے ہو گئے ہیں کہ وہ اپنی جگہ سے جنبش کیے بغیر ہی درخت کی پھُننگ، پہاڑ کی چوٹی اور ابر پارے کی جھالر کو چھو سکتا ہے بلکہ پتھّروں، پودوں اور پرندوں حتیٰ کہ رنگوں اور روشنیوں سے بھی ہم کلام ہو سکتا ہے۔ کسان بے چارے کو تو زمین نے جکڑ رکھا ہے اور بنیے کو زر نے، مگر چرواہا ایک مردِ آزاد ہے، وہ اپنے گلّے کا بھی مطیع نہیں۔ وہ میدان یا پہاڑ کی ڈھلوان پر پہنچتے ہی اپنی مٹھی کھول دیتا ہے اور سارا گلاّ اس کی انگلیوں کی جھریوں سے دانہ دانہ ہو کر ہر طرف بکھر جاتا ہے، اس کے بعد وہ خود بھی بکھرنے لگتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے خاک و افلاک پر ایک ردا سی بن کر چھا جاتا ہے، مگر چرواہا آخر چرواہا ہے، اس کا کام محض بکھرنا ہی نہیں سمٹنا بھی ہے۔

چنانچہ شام ہوتے ہی وہ پہلے اپنی چھڑی کو جسم عطا کرتا ہے، پھر خود کو تنکا تنکا جمع کرتا ہے۔ مجتمع ہونے، بکھرنے اور دوبارہ جڑ جانے کا یہ عمل جس سے چرواہا ہر روز گزرتا ہے، پوری کائنات کے طرزِ عمل سے مشابہ ہے، مگر یہ دوسرا قِصّہ ہے۔ چرواہے کئی طرح کے ہیں۔ ایسے چرواہے بھی ہیں جو محض مزدوری کرتے ہیں۔ سارا دن مویشیوں کو ہانکنے کے بعد رات کو تھکے ہارے واپس آتے ہیں اور کھاٹ پر گرتے ہی بے سُدھ ہو جاتے ہیں۔ ایسے چرواہوں کو چرواہا کہنا بھی زیادتی ہے۔ پھر ایسے چرواہے بھی ہیں جو چناب کنار بھینسوں یا گائیوں کو چراتے پھرتے ہیں مگر یہ لوگ بھی چرواہے کم اور پریمی زیادہ ہیں۔ گائیوں بھینسوں سے ان کا سارا لگاؤ محض ایک بہانہ ہے۔ وہ دراصل ان کی وساطت سے زیادہ نازک اور خوبصورت گائیوں بھینسوں تک رسائی پانے کے آرزو مند ہوتے ہیں، چنانچہ جب عشق کے انتہائی مراحل میں ان کے گرد جو اپنوں یا خوشیوں کا حلقہ تنگ ہو جاتا ہے تو انہیں یاد بھی نہیں رہتا کہ ان کی اصل گائیں بھینسیں نجانے کب سے ان کی راہ تک رہی ہیں… میں اس قسم کے چرواہوں کا ذکر کر کے آپ کا قیمتی وقت ضائع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، میں تو صرف ان چرواہوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو مویشیوں کے ریوڑ چراتے چراتے ایک روز انسانوں کے ریوڑ چرانے لگتے ہیں۔ تب ان کی چھڑی عصا میں بدل جاتی ہے۔ ہونٹوں پر اسمِ اعظم تھرکنے لگتا ہے۔ وہ انسانی ریوڑوں کو پہاڑ کی چوٹی پر لا کر یا صحرا کے سینے میں اتار کر یا دریا کے کناروں پر بکھیر کر اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ یہ ریوڑ اپنی کہنگی اور یبوست کو گندی اُون کی طرح اپنے جسموں سے اتار پھینکیں۔ پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایسا ہو گیا ہے تو وہ انہیں واپس ان کے گھروں تک لے آتے ہیں۔ اس کے بعد وہ خود تسبیح کے دانوں کی طرح پوری کائنات میں بکھر جاتے ہیں۔

یہ جو بساطِ فلک پر ہر رات کروڑوں ستارے سے چمکتے ہیں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ سب اُسی تسبیح کے ٹوٹے ہوئے دانے ہیں؟




اندھی گولی کا شکار چھت پر کھیلتا بچہ زندگی اور موت کی کشمکش میں


لاہور:
اندھی گولی کا شکار بننے والا چھت پر کھیلتا بچہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوگیا۔

پولیس کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے علاقے مغلپورہ میں چھت پر کھیلتا 6 سالہ بچہ اندھی گولی کا شکار ہوگیا ۔ بچے کے سر میں گولی حرام مغز کو چیرتی ہوئی گردن کے قریب رُک گئی۔

واقعے کے بعد 6 سالہ عمر فاروق کو علاج کے لیے سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا ہے۔

افسوس ناک واقعہ گزشتہ روز پیش آیا تھا، جس کے بعد فائرنگ کرنے والے نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جس میں اقدام قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

پولیس کا ہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو ٹریس کرنے کی کوشش جاری ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...