Friday, 21 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*







جاپانی ’سلم اینڈ سمارٹ‘ رہنے کے لیے کیا کھاتے ہیں؟
جاپان کے لوگوں کا طرز زندگی ایسا ہے جس سے انہیں وزن کم کرنے میں مد ملتی ہے۔ ان کی خوراک میں توازن اور اعتدال پایا جاتا ہے جس سے ان کا وزن کم ہوتا ہے۔
انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق جاپان کے لوگ غذائیت سے بھرپور اور تازہ خوراک پسند کرتے ہیں جس میں مچھلی، تازہ سبزیاں، خمیر شدہ اشیا اور گرین ٹی شامل ہے۔
1۔ ہارا ہاچی بو
ہارا ہاچی بو طریقے کے مطابق آپ معدے کو پورا طرح بھرنے کے بجائے 80 فیصد تک کھانا کھاتے ہیں اور 20 فیصد کی گنجائش چھوڑتے ہیں۔ اس طرح زیادہ کھانے سے پرہیز کیا جاتا ہے اور کم کیلوریز لی جاتی ہیں۔ نتیجتاً وزن کم ہوتا ہے۔
۔ غذایئت سے بھرپور اور کم کیلوریز والی خوراک
روایتی جاپانی کھانوں میں سبزیاں، چربی کے بغیر گوشت اور ہول گرین شامل ہے۔ غذایئت والی اس خوراک سے وٹامنز اور منرلز حاصل ہوتے ہیں اور میٹابولزم بہتر ہونے سے وزن کم ہوتا ہے۔
 3۔ مچھلی اور سی فوڈ
جاپانیوں کی خوراک مچھلی اور سی فوڈ سے پھرپور ہوتی ہے جو چربی کے بغیر پروٹین اور اومیگا 3 حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ اس سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، میٹابولزم بہتر ہوتا ہے اور چربی کو اعتدال میں لانے میں مدد ملتی ہے جس سے وزن کم ہوتا ہے۔
4۔ چھوٹی پلیٹیں اور پیالے
جاپان کے لوگ کھانے کے لیے چھوٹی پلیٹیں اور پیالے استعمال کرتے ہیں جس سے کم کھانے کی عادت پڑتی ہے کیونکہ چھوٹی پلیٹ بھر کر کھانے سے دماغ کو سگنل جاتا ہے کہ کافی کھا لیا ہے اور اس وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
۔ باقاعدگی سے گرین ٹی کا استعمال
میٹابولزم کو ایکٹیویٹ کرنے کے لیے جاپان میں گرین ٹی کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے۔ اس میں کیٹچنز پایا جاتا ہے جو چربی کی آکسیڈیشن کو بڑھاتا ہے اور کیلوریز کو جلاتا ہے۔ کھانے سے پہلے یا بعد میں گرین ٹی پینے سے نظام ہضم بہتر ہوتا ہے اور وزن میں کمی آتی ہے۔
6۔ جمسانی طور پر ایکٹو لائف سٹائل
مغربی ممالک کے برعکس کاریں اور دیگر ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کے بجائے جاپان کے لوگ پیدل چلنے اور سائیکل کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں جس سے قدرتی طور پر کیلوریز کم کر کے وزن سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے۔
ان عادات کو اختیار کر کے وزن کم کر کے صحت مند لائس سٹائل اپنایا جا سکتا ہے۔




اردو کے معروف شاعر فہمی بدایونی کا انتقال، آبائی وطن میں سپرد خاک
حیدرآباد (نیوز ڈیسک): اردو کے معروف و مشہور شاعر فہمی بدایونی اتوار کو انتقال کر گئے۔ وہ طویل عرصے سے بیمار چل رہے تھے۔ گذشتہ روز 72 برس کی عمر میں وہ اس دار فانی کو الوداع کہہ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ انہیں پیر کے روز ان کے آبائی وطن بدایوں میں سپرد خاک کیا گیا۔

سادہ زبان اور منفرد انداز بیان

فہمی بدایونی کا شمار موجودہ دور کے اردو کے بڑے شعراء میں ہوتا ہے۔ وہ شعری دنیا میں اپنے منفرد انداز بیان اور سادہ زبان کے لیے جانے جاتے ہیں۔ جب وہ اسٹیج پر اپنے سادہ سے پہناوے اور عام سماجی حلیے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں بڑی بڑی باتیں عام فہم لفظوں میں پیش کرتے تو لوگوں کے دلوں میں سما جاتے تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کے متعدد ویڈیوز وائرل ہوئے اور عام و خاص سبھی کے بیچ یکساں مقبولیت پائی۔ دنیائے ادب کے افق پر اس درخشندہ ستارے کے غروب کو ایک ناقابل تلافی نقصان مانا جا رہا ہے۔

حالات زندگی

ان کی ولادت 4 جنوری 1952ء کو بدایوں کے بسولی قصبہ میں پٹھان ٹولہ میں ہوئی۔ فہمی کا اصل نام زماں شیر خان عرف پتن خان تھا لیکن شعر و شخن کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے "فہمی بدایونی" کا تخلص اختیار کیا اور اسی نام سے شہرت پائی۔
انہوں نے پڑھائی کے بعد خاندان کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے انہوں نے کم عمری میں ہی لیکھ پال کی ملازمت اختیار کی لیکن بعد میں اسے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ریاضی اور سائنس کی کوچنگ کو ذریعہ روزگار بنایا جو سخن وری کے ساتھ ساتھ جاری رہا۔ ان کی تین شعری مجموعے "پانچوی سمت"، "دستکیں نگاہوں کی" اور "ہجر کی دوسری دوا" کافی مشہور ہوئے۔




تیسری عالمی جنگ زیادہ دور نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ - WORLD WAR III

میامی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو میامی میں ایف آئی آئی کی ترجیحات کے سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ، تیسری عالمی جنگ زیادہ دور نہیں۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی قیادت میں امریکہ اسے روک دے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ جاری رہتی تو دنیا میں جنگ جاری رہتی۔ انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آپ اس سے زیادہ دور نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے کہا، اب میں آپ کو بتاتا ہوں۔ آپ اس سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ ان میں سے کسی بھی جنگ میں حصہ نہیں لے گا لیکن وہ انہیں روک دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو ان کبھی نہ ختم ہونے والی احمقانہ جنگوں سے روکیں گے۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ، ہم خود ان میں حصہ نہیں لیں گے، لیکن ہم کسی سے بھی زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوں گے۔ اگر کبھی جنگ ہوتی ہے تو کوئی ہمارے قریب نہیں آسکتا، لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ ایسا کبھی ہونے والا ہے۔

ٹرمپ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ایلون مسک کا حوالہ دیا اور کہا کہ یوکرین کے بارے میں صدر کی جبلت بالکل درست ہے۔ یہ واقعی افسوسناک ہے کہ اس بے معنی جنگ میں بہت سے والدین اپنے بیٹے کھو چکے ہیں، اور بہت سے بیٹے اپنے والدین کو کھو چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز یوکرین میں جاری جنگ پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ، امریکہ نے یورپ سے 200 بلین امریکی ڈالر زیادہ خرچ کیے ہیں جب کہ یورپ کا مالی تعاون ضمانت ہے اور امریکہ کو کوئی واپسی نہیں ملے گی۔

ٹرمپ نے زیلنسکی پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ کو ایسی جنگ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کر رہا ہے جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ جیت نہیں سکتے۔ انہوں نے وسائل کی تقسیم اور یورپ کی طرف سے مساوی مالی تعاون کی کمی پر سوال اٹھایا۔

ٹرمپ نے زیلنسکی کو بغیر انتخابات کے ڈکٹیٹر بھی کہا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا، ذرا تصور کریں، ایک اعتدال پسند کامیاب کامیڈین وولوڈیمیر زیلنسکی نے امریکہ کو 350 بلین ڈالر خرچ کرنے کے لیے ایک ایسی جنگ میں جانے کے لیے راضی کیا جو جیتی نہیں جا سکتی، اسے کبھی شروع نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن ایک ایسی جنگ جسے وہ امریکہ اور ٹرمپ کے بغیر کبھی حل نہیں کر سکیں گے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...