Monday, 10 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






ملیالم اداکار دلیپ شنکر ہوٹل میں مردہ پائے گئے
تھروونتھپورم(ایجنسیاں)ملیالم اداکار دلیپ شنکر اتوار کو تھروونتھپورم شہر میں واقع ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ ان کی موت کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی ہے، مقامی میڈیا کے مطابق وہ 19 دسمبر سے اس ہوٹل میں موجود تھے۔ ان کے ساتھی اداکار انہیں فون کر رہے تھے لیکن فون نہیں اٹھایا گیا، جس کے بعد وہ انہیں چیک کرنے آئے اور ہوٹل کے اسٹاف کو بتایا، جس پر جب دروازہ کھولا گیا تو وہ کمرے میں مردہ پائے گئے۔

معلوم ہوا ہے کہ وہ ٹی وی سیریز پنچنگنی کی شوٹنگ کے لیے یہاں آئے تھے، شو کے ڈائریکٹر نے پولیس کو بتایا کہ دلیپ شنکر کافی بیمار تھے اور ان کا علاج چل رہا تھا۔پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے، دلیپ شنکر ملیالم ٹیلی ویژن شوز جن میں اماں اری ایتے، پنچنگنی اور سنداری کا حصہ رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں ٹی وی شو ’امیری یاتھے‘ میں دلیپ شنکر کے ’پیٹر‘ کے کردار کو لوگوں نے خوب پسند کیا تھا۔ مداحوں نے ان کی اداکاری کی جم کر تعریف کی تھی۔ اداکار دلیپ کی اچانک موت سے ان کے ساتھی اداکاروں کو بھی کافی صدمہ ہوا ہے۔ اداکارہ سیما جی نائر نے دلیپ کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک نوٹ شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’یہ افسوسناک ہے، آپ نے 5 روز پہلے ہی مجھے فون کیا تھا لیکن میں تب آپ سے ٹھیک سے بات نہیں کر پائی تھی۔ اب حال ہی میں ایک جرنلسٹ نے مجھے فون کر کے اس بات کی جانکاری دی۔ اِس وقت میں مزید کچھ اور لکھنے سے قاصر ہوں۔‘‘

ملیالم اداکار دلیپ کی اچانک موت سے ملیالم اندسٹری میں سوگ کی لہر دور گئی ہے۔ کسی کو یقین نہیں ہو پا رہا ہے کہ ان کے ہردلعزیز اداکار کی اچانک کیسے موت ہو گئی۔ ملیالم اداکار دلیپ شنکر نے ٹی وی کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اداکار دلیپ شنکر کو آخری بار سیریل ’پنج گنی‘ میں چندر شینن کے کردار میں دیکھا گیا تھا۔



شام میں باغی تنظیم 'ہیئت تحریر الشام' کے سربراہ ابو محمد الجولانی کون ہیں؟ 
قاہرہ: ابو محمد الجولانی اسلامی اتحاد تنظیم کے رہنما ہیں، جس نے ایک ایسے حملے کی قیادت کی جس کے بارے میں باغیوں کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد کا تختہ پلٹ کیا اور شام میں ان کی پانچ دہائیوں کی حکمرانی کا خاتمہ کیا۔ محمد الجولانی ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے سربراہ ہیں، اس شامی باغی تنظیم کی جڑیں ماضی میں القاعدہ سے منسلک رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ابو محمد الجولانی ہیئت تحریر الشام کے سربراہ ہیں، جو شام میں سب سے طاقتور باغی تنظیم ہے۔ شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت سے لڑنے والی باغی تنظیم ہیئت تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے گزشتہ دنوں یہ اعلان کیا تھا کہ شام میں حالیہ بغاوت کا مقصد صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ پلٹ کرنا ہے۔

الجولانی نے مزید کہا کہ شام کے سرکاری ادارے تاحال سابق وزیر اعظم کے ماتحت رہیں گے۔ ایچ ٹی ایس سربراہ نے دمشق میں تمام اپوزیشن قوتوں اور باغی جنگجوؤں کو سرکاری اداروں پر قبضہ کرنے سے منع کیا ہے۔ انہوں نے کہا "یہ ادارے فی الوقت تک سابق وزیر اعظم کی نگرانی میں رہیں گے جب تک اسے سرکاری طور پر ہمارے حوالے نہیں کر دیا جاتا"۔

کون ہیں ابو محمد الجولانی؟
ابو محمد الجولانی شام کی باغی تنظیم ہیئت تحریر الشام کے سربراہ ہیں۔ ان کا اصل نام احمد حسین الشرا ہے، وہ 1982 میں سعودی عرب کے ریاض میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پیٹرولیم انجینئر تھے، ان کا خاندان 1989 میں شام واپس آگیا، جہاں وہ لوگ شہر دمشق کے قریب آباد ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دمشق میں گزارے دنوں کے بارے میں ان کے حوالے سے زیادہ جانکاری نہیں ہے، لیکن اتنا پتہ چلتا ہے کہ سال 2003 میں وہ عراق منتقل ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے امریکا کی جارحیت کے خلاف القاعدہ میں شمولیت اختیار کی۔

ابو محمد الجولانی کو سال 2006 میں عراق میں امریکی فوج نے گرفتار کر لیا اور 5 سال تک انہیں قید میں رکھا۔ رہا ہونے کے بعد ابو محمد الجولانی کو شام میں القاعدہ کی ذیلی تنظیم 'النصرہ فرنٹ' قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی، جہاں اس تنظیم نے خصوصی طور پر ادلب میں مخالف قوتوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں اپنا دبدبا بڑھایا۔
رپورٹس کے مطابق شروعاتی دنوں میں الجولانی نے ابو بکر البغدادی کے ساتھ کام کیا، جو عراق میں القاعدہ کے اسلامی ریاست کے سربراہ تھے، جسے بعد میں داعش کے نام سے جانا جانے لگا۔

سال 2013 میں البغدادی نے اعلان کیا کہ ان کی تنظیم القاعدہ سے تعلق ختم کر رہی ہے اور شام کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں النصرہ فرنٹ کو ایک نئی تنظیم داعش میں ضم کر دیا گیا۔ تاہم الجولانی نے اس تبدیلی کو مسترد کر دیا اور القاعدہ کے ساتھ اپنی وفاداری برقرار رکھی۔

سال 2014 میں الجزیرہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں الجولانی نے کہا تھا کہ شام کو اسلامی قانون کے تحت چلایا جانا چاہیے اور ملک کی اقلیتوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تاہم جیسے جیسے وقت گزرا الجولانی اپنے اس منصوبے سے دور ہوتے گئے اور وہ شام کی سرحدوں کے اندر اپنے گروپ کو مضبوط بنانے میں لگ گئے۔

سال 2016 میں ابو محمد الجولانی نے القاعدہ سے قطع تعلق کر لیا اور اپنی اس تنظیم کو دوبارہ تحلیل کرکے دیگر گروہوں سے اتحاد کر کے ہیئت تحریر الشام کی بنیاد رکھی۔ رپورٹس کے مطابق القاعدہ سے تعلق توڑنے کے بعد ہیئت تحریر الشام کا مقصد دنیا میں خلافت قائم کرنا نہیں بلکہ شام میں بنیاد پرست مذہبی حکومت قائم کرنا ہے۔

غور طلب ہے کہ باغی تنظیم ہیئت تحریر الشام کا خالص مقصد شام کو صدر بشارالاسد کی آمرانہ حکومت سے آزاد کرانا اور ایک اسلامی قانون کے تحت ریاست قائم کرنا ہے۔

گزشتہ دنوں ابو محمد الجولانی نے امریکی میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "اس حکومت کی شکست کے بیج ہمیشہ سے اس کے اندر تھے، ایران نے اس حکومت کو بحال کرنے اور اس کے لیے مزید وقت لینے کی کوشش کی، جبکہ روس نے بھی اسے پناہ دینے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت کی موت ہوچکی ہے۔"


جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام، حماس کا یرغمالیوں کی رہائی موخر کرنے کا اعلان
حماس نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا طے شدہ پروگرام موخر کر رہا ہے۔
امریکی خبر رساں اداے اے پی کے مطابق حماس ترجمان نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں فلسطینیوں کو بمباری سے نشانہ بنا رہے ہیں۔
حماس اور اسرائیل چھ ہفتوں پر محیط جنگ بندی کے معاہدے کے وسط میں ہیں جس کے تحت حماس 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو دو ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے رہا کر رہا ہے۔
گذشتہ مہینے جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے پانچ دور ہوچکے ہیں جن کے تحت اب تک 21 یرغمالی اور 730 فلسطینی قیدی رہا ہو چکے ہیں۔
قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کا اگلا پروگرام سنیچر کو طے تھا جس کے تحت تین اسرائیلی یرغمالیوں کو سینکڑوں فلسطینیوں کے بدلے رہا کیا جانا تھا۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل منظم طریقے سے جنگ بندی معاہدے کی گذشتہ تین ہفتوں سے خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کو یرغمالیوں کی رہائی کے طے شدہ پروگرام کو موخر کیا جائے گا۔
’مزاحمتی قیادت نے دشمن کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ان کی جانب سے معاہدے کی شرائط کی پاسداری نہ کرنے کو باریک بینی سے مانیٹر کیا ہے۔‘
’خلاف ورزیوں میں بے گھر فلسطینیوں کو شمالی غزہ واپس نہ آنے دینا، فضائی بمباری اور فائرنگ سے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کو نشانہ بنانا اور طے شدہ معاہدے کے مطابق انسانی امداد کی غزہ میں داخل ہونے دینے میں ناکامی شامل ہیں۔‘

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...