Friday, 21 February 2025

*🔴سیف نیوز اردو*






اگر بھارت پاکستان کو ہرا دیتا ہے تو سیمی فائنل میں جگہ تقریباً یقینی ہے، پاکستان ایک ہی جھٹکے میں باہر ہو سکتا ہے
نئی دہلی: آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا پہلا میچ ہارنے کے بعد میزبان پاکستان کو باہر ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف عبرتناک شکست نے اس کا کھیل خراب کر دیا۔ بھارتی ٹیم کے خلاف کھیلا جانے والا میچ کرو یا مرو کی صورتحال بن گیا ہے۔ اتوار کو جب پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف میدان میں اترے گی تو اسے جیت سے کم کچھ نہیں چاہیے۔ اب اگر ٹیم ایک میچ بھی ہارتی ہے تو اس کا سیمی فائنل تک کا راستہ تقریباً بند ہو جائے گا۔

بھارت نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا آغاز مضبوط جیت کے ساتھ کیا جبکہ پاکستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل کی دوڑ شروع ہو گئی ہے اور پاکستانی ٹیم کو پہلی شکست کے بعد باہر ہونے کا خطرہ ہے۔ گروپ اے کی چاروں ٹیموں نے ایک ایک میچ کھیلا ہے۔ نیوزی لینڈ نے پاکستان کو شکست دی جبکہ بھارت نے بنگلہ دیش کو شکست دی۔ اگر میزان پاکستان اپنے بقیہ میچوں میں سے ایک بھی جیت جاتا ہے تو اس کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں زندہ رہیں گی۔

پاکستانی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے براہ راست باہر ہو سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کے بعد اگر ہندوستان اسے شکست دیتا ہے تو ان کی تمام امیدیں بنگلہ دیش کے خلاف میچ پر ٹکی ہوں گی۔ اگر وہ یہاں بھی ہار گیا تو پاکستان فوراً ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گا۔

پاکستان سیمی فائنل میں کیسے پہنچے گا؟ پہلے میچ میں شکست کے بعد پاکستان کو اب اپنے بقیہ دونوں میچ جیتنا ہوں گے۔ ٹیم بھارت اور بنگلہ دیش کو شکست دے کر اپنے طور پر سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتی ہے۔ بھارت نے 23 فروری کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلنا ہے اور پاکستان کو 27 فروری کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلنا ہے۔ اگر پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف ہار جاتی ہے اور بنگلہ دیش کے خلاف جیت جاتی ہے تو معاملہ نیٹ رن ریٹ پر چلا جائے گا۔

بھارت سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا۔ پاکستان کو شکست دے کر بھارت سیمی فائنل میں اپنی جگہ تقریباً محفوظ کر لے گا۔ بنگلہ دیش کو شکست دے کر ٹورنامنٹ کی شروعات کرنے والی ٹیم انڈیا اپنی دوسری جیت کے ساتھ اگلے راؤنڈ میں جگہ حاصل کر لے گی۔ اگر ہندوستان نیوزی لینڈ کے خلاف آخری لیگ میچ جیت جاتا ہے تو وہ براہ راست سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا۔





فلسطین کے غزہ پٹی کو لے کر امریکی منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا : ایران
نئی دہلی : ہندوستان کے دورے پر آئے ایرانی سیاستداں اور ایرانی پارلیمنٹ کے سابق چیئرمین غلام علی حداد عادل نے دہلی میں صحافیوں سے ایک رسمی ملاقات کے دوران کہا کہ فلسطین کے غزہ پٹی خطے کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا۔ حماس اور دوسرے عسکری گروپ اپنی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایران زمین پر جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔دہلی میں ایران کلچر ہاؤس میں صحافیوں کے ساتھ رسمی ملاقات کے دوران ایک سوال کے جواب میں ایرانی پارلیمنٹ کے سابق صدر اور چار بار کے رکن پارلیمنٹ غلام علی حداد عادل نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعے پیش کیا گیا غزہ پٹی خطے کے لیے منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا ۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سابق چیئرمین نے کہا کہ دراصل ایران ہی نہیں اس منصوبے کی مخالفت میں دنیا کے بیشتر ممالک ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبہ کو سبھی نے مسترد کر دیا ہے۔ایسا کیسے ممکن ہے کہ 12 ہزار کلومیٹر دور بیٹھا ایک ملک کہے کہ یہ خطہ ہمارا ہے نہ تو میزبان تیار ہے اور نہ ہی مہمان کو خوش امدید کہا گیا ہے۔ مجھے نہیں لگتا امریکہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگا۔
غلام علی حداد عادل نے کہا حماس اور فلسطین کے لوگوں کو جن حالات کا سامنا ہے اس کو لے کر جو مزاحمت حماس اور فلسطینی عوام نے کی وہ اس کا اختیار رکھتے ہیں اور یہ ان کو کرنا ہی چاہیے تھا جس کسی کے بھی وطن پر حملہ ہوتا ہے وہ وہی کرتا ہے جو حماس نے کیا جس طرح ہندوستان نے انگریزوں کے خلاف آزادی کی لڑائی لڑی بالکل اسی طرح حماس نے کیا اور یہ اسے کرنا چاہیے تھا۔ ایران نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت کی ہے لیکن ایران زمینی سطح پر اتر کر جنگ میں شامل نہیں ہوگا ۔

غلام علی حداد عادل نے کہا اسرائیل اور سیہونی حمایتی ممالک چاہتے تھے ایران کو جنگ میں شامل کر لیا جائے اور جنگ کا دائرہ وسیع کر دیا جائے پورے خطے کو جنگ میں جھونک دیا جائے لیکن ایران نے حکمت عملی کے تحت جنگ کا دائرہ پھیلانے سے انکار کر دیا اور جنگ کو ایک محدود خطے میں مقید رکھا۔وہ چاہتے تھے ایران کے ساتھ ایران میں جنگ ہو جائے ایسا ہم نے ہونے نہیں دیا۔

غلام علی حداد عادل نے ہندوستان اور ایرانی ثقافت اور کلچر اور تاریخی رشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہندوستان کی جدوجہد آزادی سے ایران کے عوام کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی ہوئی ایرانی عوام پر ہندوستانی آزادی کا بہت زیادہ اثر ہوا۔ اس پورے موضوع پر ریسرچ ہونا چاہیے۔ غلام علی حداد عادل نے ہندوستان اور ایران کے درمیان چل رہے چاہ بہار پروجیکٹ کو لے کر بھی امید ظاہر کی یہ پروجیکٹ پورا ہوگا





یوکرین کے ’نایاب معدنی ذخائر‘ جن پر ٹرمپ کی نظر ہے




یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک کے 500 ارب ڈالر کے معدنیاتی ذخائر تک رسائی فراہم کرنے کی تجویز کو ٹھکراتے ہوئے جب جمعرات کے دن کہا کہ وہ اپنا ’ملک بیچ نہیں سکتے‘ تو بہت سے لوگ یہ سوال کرنے لگے کہ یوکرین کے پاس ایسی کون سی قیمتی معدنیات ہیں جن میں ٹرمپ دلچسی رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ یوکرین میں نایاب زیرزمین معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں تاہم ان میں سے بہت سے ذخائر ایسے علاقوں میں موجود ہیں جن پر اس وقت روسی فوج کا قبضہ ہے۔

ٹرمپ نے تجویز دی تھی کہ اگر یوکرین، روس کے خلاف امریکہ کی حمایت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ یہ ذخائر امریکہ کو دے دے۔ تاہم اس تجویز کے جواب میں صدر زیلینسکی نے کہا کہ ’یہ کوئی سنجیدہ گفتگو نہیں ہے، میں اپنا ملک نہیں بیچ سکتا۔

تاہم ٹرمپ کی تجویز نے یہ تو واضح کر دیا کہ یوکرین میں موجود معدنیاتی ذخائر امریکہ کے لیے اہم ہیں۔ لیکن یہ معدنیات کیا ہیں، اور امریکہ ان سے کو کیوں حاصل کرنا چاہتا ہے؟

’ریئر ارتھ منرلز‘: نایاب زیرزمین معدنیات کیا ہیں؟
نایاب زیرزمین معدنیات جنھیں ’ریئر ارتھ‘ کہا جاتا ہے کہ 17 ملتی جلتی کیمیائی خصوصیات والی معدنیات ہیں جن کا جدید ٹیکنالوجی میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ معدنیات سمارٹ فون، کمپیوٹر، طبی سامان اور کئی دیگر اشیا کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں سکینڈیئم، یٹریئم، لانتھانم، سیریئم، پراسیوڈائمیئم، نیوڈیئم، پرومیتھیئم، سماریئم، یوروپیئم، گاڈولینیئم، ٹیربیئم، ڈسپروسیئم، ہولمیئم، اربیئم، تھولیئم، یٹیربیئم اور لٹیٹیئم نامی معدنیات شامل ہیں۔

انھیں نایاب اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کا خالص حالت میں مل جانا بہت غیرمعمولی سمجھا جاتا ہے تاہم دنیا بھر میں ان کے ذخائر موجود ہیں۔

لیکن اکثر یہ نایاب معدنیات تھوریئم اور یورینیئم جیسے تابکاری عناصر کے ساتھ موجود ہوتا ہے اور ان کو الگ کرنے کے لیے بہت سے زہریلے اجزا کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور اسی لیے ان کو نکالنے کا عمل پیچیدہ اور مہنگا ہوتا ہے۔

یوکرین میں کون کون سی نایاب معدنیات پائی جاتی ہیں؟
یورپی یونین کی جانب سے جن 30 اجزا کی ’انتہائی اہم مواد‘ کے طور پر تعریف کی گئی ہے ان میں سے 21 یوکرین میں پائی جاتی ہیں اور دنیا میں موجود نایاب معدنیات کے ذخائر کا پانچ فیصد اسی ملک میں ہے۔

جن علاقوں میں یہ ذخائر موجود ہیں ان میں سے زیادہ تر یوکرین کے ’کرسٹلائن شیلڈ‘ نامی علاقے کے جنوب میں ازوو سمندر میں ہیں اور زیادہ تر علاقے روس کے قبضے میں ہیں۔

تاہم کیئو، مڈل بز، ونیٹسیا اور زٹومیر خطوں میں بھی ان کے ذخائر ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں اشیا کی شناخت ہوئی ہے لیکن ان میں سے چند ہی کو نکالنا معاشی اعتبار سے سودمند ہو گا۔

ایڈم ویب ’بینچ مارک منرل انٹیلیجنس‘ میں بیٹری سے متعلقہ معدنیات کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اب تک جو تخمینے یا اندازے لگائے گئے ہیں وہ صرف اندازے ہی ہیں۔‘
ان کے مطابق ان معدنیاتی ذخائر کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے لیے بہت کام کی ضرورت ہے۔ فوربز یوکرین کے مطابق دیگر اہم معدنیات میں سے 70 فیصد ڈونیٹسک، لوہانسک اور ڈنیپروپیٹروسک خطوں میں واقع ہیں اور ان میں سے زیادہ تر علاقے روس کے زیراثر ہیں۔

یوکرین کی حکومت کے مطابق ملک میں ساڑے چار لاکھ ٹن لیتھیئم کے ذخائر ہیں۔ روس نے دو لیتھیئم ذخائر پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔

ٹرمپ یہ معدنیات کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
امریکہ کی ان معدنیات تک رسائی کی خواہش کی ایک بڑی وجہ چین سے مقابلہ ہے جو دنیا میں ایسی نایاب معدنیات کی رسد اور فراہمی کا بڑا کھلاڑی ہے۔

گزشتہ دہائیوں کے دوران چین نایاب معدنیات نکالنے اور انھیں پروسیس کرنے میں عالمی سطح پر بہت آگے نکل گیا اور اس کے پاس ناصرف 60 سے 70 فیصد تک کی پروڈکشن موجود ہے بلکہ 90 فیصد پروسیسنگ بھی چین کے پاس ہی ہے۔

اور چین پر یہ انحصار ہی امریکہ کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ آخر یہی معدنیات جدید ٹیکنالوجی کے لیے ضرروی ہیں جس میں الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر اسلحہ تک شامل ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کے ماحولیاتی نامہ نگار نوین سنگھ کا تجزیہ
ٹرمپ نے بائیڈن کی پالیسیوں کو ترک کر کے روایتی ایندھن کی طرف واپس جانے کا عندیہ دیا ہے لیکن ساتھ ہی وہ اہم معدنیات بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو توانائی کے منصوبوں کے لیے بھی اہم ہیں۔

یہی معدنیات الیکٹرانکس، عسکری ضروریات سمیت مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ڈیٹا مراکز کی تیاری کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔

ٹرمپ مصنوعی ذہانت انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے لیے ان معدنیات کی بہت زیادہ مقدار درکار ہو گی خصوصی طور پر کاپر، سیلیکون، پالاڈیئم اور نایاب زیرزمین معدنیات۔

اور ان معدنیات کی فراہمی ایک مسئلہ ہے کیوں کہ اب ان کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان معدنیات پر چین کا کنٹرول ہی امریکہ اور چین کی چپقلش کی مرکزی وجہ ہے۔

چین قدرتی گریفائیٹ اور ڈسپرسیئم کی 100 فیصد، کوبالٹ کی 70 فیصد اور لیتھیئم اور مینگنیز کی 60 فیصد رسد کا مالک ہے۔ افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں موجود ان معدنیات کی بڑی کانوں کی ملکیت چین کے پاس ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں مسلح افواج کی کمیٹی نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں کہا تھا کہ ’چین کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ خود اہم اور سٹریٹیجک معدنیات حاصل کرے۔‘

ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اسی لیے یوکرین اور گرین لینڈ جیسی جگہوں پر نظر جما رکھی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟ ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت...