Pakistan-Afghanistan Clash: ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان جنگ کے دہانے پر ہیں۔ یہاں افغانستان کی طالبان فورسز نے ہفتے کے روز پاکستان کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ افغان وزارت دفاع نے اسے پاکستان کے حالیہ فضائی حملے کا جواب قرار دیا ہے۔ اس حملے میں کم از کم 46 افراد مارے گئے تھے جن میں کئی خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ طالبان حکومت نے تب بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا، جو اس نے آج ان حملوں سے پورا کرلیا ہے۔
افغان وزارت دفاع نے اپنے ایک بیان میں پاکستان کا نام نہیں لیا لیکن کہا کہ یہ حملے ‘خیالی لکیر’ کے اس پار کیے گئے۔ افغان حکام یہ اصطلاح پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ طویل متنازعہ سرحد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
افغان وزارت دفاع نے کہا کہ جنوب مشرقی سمت سے جوابی کارروائی کے تحت خیالی لکیر کے پار کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ مقامات ان عناصر اور ان کے حامیوں کے ٹھکانے تھے جو افغانستان میں منظم اور مربوط حملے کر رہے تھے۔
اس سرحد کو ڈورنڈ لائن کہا جاتا ہے جو برطانوی نوآبادیاتی دور میں 19ویں صدی میں کھینچی گئی تھی۔ افغانستان اس سرحد کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے اور اسے متنازعہ سمجھتا ہے۔
طالبانی فورسیز کے اس حملے میں کتنے لوگوں کی موت ہوئی یا زخمی ہوئے ہیں یا کن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اس بارے میں کوئی معلومات شیئر نہیں کی گئی ہے۔ جبکہ پاکستانی فوج اور وزارت خارجہ نے تاحال اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
بتادیں کہ اس سے پہلے بدھ کو افغان حکام نے پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔ ان حملوں میں کئی افغان شہریوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ وہیں پاکستان نے کہا تھا کہ اس نے سرحد کے نزدیک موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔