کمیٹی سیکریٹریٹ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ہندوستان میں کئی عوامی شخصیات پر حالیہ 'ریاست اسپانسرڈ حملوں' سے نمٹنے کے لئے اپنی آئندہ میٹنگ کے دوران ایپل کے نمائندوں کو بلانے پر غور کر رہی ہے۔
نئی دہلی : 'اسنوپ گیٹ' کے الزامات پر تازہ پیشرفت میں پارلیمنٹ کے آئی ٹی پینل کے سربراہ پرتاپ راؤ جادھو نے نیوز 18 کو بتایا کہ ہم ابھی تک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اس معاملہ میں ایپل کو بلایا جائے یا نہیں۔ کچھ اپوزیشن لیڈروں نے اپنے الزامات میں کہا تھا کہ ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔ کمیٹی سیکریٹریٹ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ہندوستان میں کئی عوامی شخصیات پر حالیہ 'ریاست اسپانسرڈ حملوں' سے نمٹنے کے لئے اپنی آئندہ میٹنگ کے دوران ایپل کے نمائندوں کو بلانے پر غور کر رہی ہے۔
کمیٹی کے سیکریٹریٹ نے 'گہری تشویش' کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملہ کو 'انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔' کچھ اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے جاسوسی کے دعوؤں پر "تشویش" کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے منگل کو تحقیقات کا حکم دیا تھا اور ٹیک کمپنی ایپل کو "مبینہ ریاست اسپانسرڈ حملوں" کے بارے میں حقیقی اور درست معلومات کے ساتھ تحقیقات میں شامل ہونے کیلئے کہا تھا۔
کانگریس کے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اور آئی ٹی کمیٹی کے رکن کارتی چدمبرم نے کئی ممبران پارلیمنٹ کے الزامات کے بعد آئی ٹی کمیٹی کے چیئرمین کو ایک خط لکھ ایپل کو پینل کے سامنے بلانے کی درخواست کی ہے ۔ اپنے خط میں انہوں نے متاثرہ ممبران پارلیمنٹ کو بطور گواہ گواہی دینے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دریں اثنا ایپل نے منگل کو ایک بیان جاری کرکے کہا کہ وہ خطرے کے انتباہات کو کسی خاص ریاست اسپانسرڈ حملہ آور سے منسوب نہیں کرتا ہے ۔ ایسا اس وقت ہوا جب کئی اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے دعوی کیا کہ انہیں ایپل سے پیغام ملا ہے ، جس میں انہیں وارننگ دی گئی ہے کہ ’ریاست اسپانسرڈ حملہ آور ان کے آئی فونز کو دور سے تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔