حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ منگل کو جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں سات یرغمالیوں کی موت ہوگئی ہے، جن میں تین غیر ملکی پاسپورٹ کے حامل تھے۔
غزہ : حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ منگل کو جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں سات یرغمالیوں کی موت ہوگئی ہے، جن میں تین غیر ملکی پاسپورٹ کے حامل تھے۔ حماس نے 7 اکتوبر کو اس وقت تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا، جب اس کے ملی ٹینٹوں نے اسرائیلی شہروں پر حملہ کیا تھا ۔ وہیں گروپ نے دو امریکی شہریوں سمیت چار شہریوں کو بھی رہا کر دیا ہے جب کہ اسرائیلی فوج حماس کی قید سے ایک فوجی کو چھڑانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
اسرائیل نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ اس کے ایک فضائی حملے میں حماس کے ایک کمانڈر کی موت ہوگئی ۔ حالانکہ حماس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کے کسی کمانڈر کی اس حملے میں موت ہوئی ہے ۔ فلسطینی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں 50 شہری مارے گئے ہیں۔ غزہ میں حماس کے زیرانتظام حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ شہر کے قریب پناہ گزینوں کے کیمپ میں رہائشی عمارتوں کو مسلسل دوسرے دن فضائی حملوں سے نشانہ بنایا، جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ غزہ پٹی کے اندر زمینی لڑائی میں "دردناک نقصانات" کے باوجود حماس کے خلاف ملک کی جنگ جاری رہے گی۔ منگل کو فوج کی جانب سے زمینی لڑائی میں کم از کم 11 فوجیوں کے مارے جانے کی تصدیق کے بعد نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ "ہمارے پاس بہت سی اہم کامیابیاں ہیں، لیکن دردناک نقصانات بھی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا ہر سپاہی ایک پوری دنیا ہے"۔