Thursday, 28 September 2023

اسلامو فوبیا کی لعنت سے نمٹنا ہوگا

اسلامو فوبیا کی لعنت سے نمٹنا ہوگا 

شکیل رشید ( ایڈیٹر، ممبئی اردو نیوز) 

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوگان نے ، نئی دہلی میں جی 20 کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے قرآن پاک کی توہین ، اور بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا پر ، جس سخت لہجے میں ردعمل کا اظہار کیا اور انتباہ دیا تھا کہ ایسی حرکتیں برداشت نہیں کی جائیں گی ، اُس سے کہیں زیادہ سخت لہجے میں انہوں نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے ، قرآن پاک کی توہینِ کرنے والوں کو ، اور اسلامو فوبیا میں لتھ پتھ عناصر کو لتاڑ لگائی ہے ۔ اقوام متحدہ کے ۷۸ ویں سیشن میں اردوگان کا خطاب جس دن تھا ، اُسی دن سوئٹزرلینڈ میں حجاب پر پابندی کے قانون کو حتمی منظوری دینے کی خبر آئی تھی ، اسی روز حیدرآباد سے ایک خبر آئی تھی کہ ہندو مسلم نفرت کو فروغ دینے کے لیے ’ رضاکار ‘ کے نام سے حیدرآباد ’ پولیس ایکشن ‘ پر فلم بنائی گئی ہے ، جس میں بتایا گیا ہے کہ حیدرآباد میں نظام کی ’ اسلامی حکومت ‘ تھی ، اور نظام ایک بے حد ظالم حکمراں تھا ، ہندوؤں پر مظالم ڈھاتا تھا ۔ یہ تمام خبریں دنیا میں ، بالخصوص ہندوستان میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی مثال دینے کے لیے پیش کی جا سکتی ہیں ۔ یوں تو آج کے دنوں میں دنیا کے کچھ ہی ممالک ہیں جو اسلاموفوبیا کی لعنت سے محفوظ ہیں ، لیکن اُن ملکوں میں ہندوستان کا نام نہیں لیا جا سکتا ۔ حالیہ دنوں میں مسلمانوں کو ذلیل کرنے ، ڈرانے دھمکانے کی کئی خبریں اخباروں کی سرخیاں بنی ہیں ، جن میں اسلامو فوبیا کی سب سے شرم ناک خبر ، پارلیمنٹ کے اندر ایک مسلم رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کو ، بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے ذریعے گالیاں دینے کی تھی ۔ اس خبر کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بی جے پی کے کسی لیڈر نے اس کی نہ مذمت کی ہے اور نہ ہی اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا دکھ کا اظہار ، اور معافی مانگنے کا عمل مخلصانہ نہیں کہا جا سکتا ۔ ان کے جملے پر غور کریں ، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ کنور دانش علی سے معافی مانگتے ہیں ، یہ کہا کہ اگر کسی ممبر پارلیمنٹ کو تکلیف پہنچی ہو تو وہ معافی مانگتے ہیں ۔ انہیں خوب پتہ ہے کہ بدھوڑی کی گالیاں دانش علی کے لیے تھیں ، اس لیے انہیں راست ان سے معافی مانگنی چاہیے تھی ۔ اس معاملے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ایکس ( سابق ٹوئٹر) اور سوشل میڈیا پر اسلامو فوبک مغلظات کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے ، بدھوڑی کی جئے کے نعرے لگ رہے ہیں ، اور دانش علی کو پاکستان سے لے کر افغانستان اور شام تک بھیجنے کے نفرت بھرے پیغامات لکھے جا رہے ہیں ۔ سدرشن ٹی وی کے سریش چوہانکے نے زہریلی پوسٹوں کا ایک سلسلہ شروع کردیا ہے ، ان کے مطابق کٹوا کہنا یا ملا کہنا غلط نہیں ہے ، کیونکہ یہ سب کہنا جھوٹ نہیں سچ ہے ۔ دانش علی کے معاملہ کے بعد راجستھان ، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش سے اسلامو فوبیا کی انتہائی تشویش ناک خبریں سامنے آئی ہیں ۔ ان تینوں میں سے دو ریاستوں راجستھان اور مدھیہ پردیش میں جلد ہی اسمبلی کے الیکشن ہونا ہیں ، اور تجزیہ کاروں کی مانیں تو الیکشن آنے تک اشتعال انگیزیاں بڑھ سکتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ حالات کشیدہ ہوئے تو اقلیت کے لیے مشکلیں کھڑی ہو جائیں گی ۔ مذکورہ تینوں ہی ریاستوں میں آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں بالخصوص وی ایچ پی اور بجرنگ دل نے مزاروں اور مسجدوں کے خلاف تحریک شروع کی ہے ، اس تحریک کا بنیادی مقصد اِن ریاستوں سے مزاروں اور مسجدوں کو ختم کرنا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ تحریک اپنے آپ میں ایک خطرناک تحریک ہے ، اور اس کا مقصد مسلمانوں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کر کے انہیں ووٹ ڈالنے سے روکنا ہے ۔ اور اگر اس اشتعال انگیزی سے فسادات پھوٹ پڑے تو اس کا فائدہ اٹھانا ہے ۔ یہ اسلامو فوبیا کی ایک کھلی ہوئی اور شرم ناک مثال ہے ۔ ان دنوں ملک کے کئی حصوں میں اسلامو فوبیا کے ایسے ہی واقعات روزانہ پیش آ رہے ہیں ، لیکن ان پر قابو پانے کی کوئی بھی کوشش نہیں کی جا رہی ہے ۔ بیرونی ممالک کی بات کریں تو ناروے ، ڈنمارک اور سویڈن و فرانس اور یوروپ کے دیگر کئی ممالک اسلامو فوبیا کی لہر سے متاثر ہیں ۔ نعوذ بالله کئی ملکوں میں قرآن سوزی کے شرم ناک جرائم پیشہ آ چکے ہیں ، اور کئی ملکوں میں قرآن پاک کی توہینِ کی جسارت کے ساتھ مسجدوں پر حملے بھی ہوئے ہیں ۔ یہ وہ پس منظر ہے جس میں اردوگان کا اقوام متحدہ کا خطاب اہمیت اختیار کرجاتا ہے ۔ انہوں نے ایک بہت حساس مسئلے پر ساری دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے ۔ وہ اس مسئلے پر پہلے بھی کئی بار بات کر چکے ہیں ۔ کچھ پہلے ہی عالمی میڈیا میں ان کا یہ بیان شہ سرخیوں میں آیا تھا کہ یورپی یونین کی رکنیت کے مقابلے انہیں قرآن پاک کی حرمت عزیز ہے ، اور وہ یورپی یونین کی رکنیت کو لات بھی مار سکتے ہیں ، اگر قرآن پاک کی حرمت سے کھلواڑ ہوتا رہا ۔ ان بیانات کو ایک مسلم حکمراں کا جذباتی بیان سمجھ کر نظر انداز کرنا ایک ایسے مسئلے سے آنکھیں پھیرنے کے مترادف ہوگا جو ساری مسلم دنیا کو بے چین کر سکتا ہے ، اور ملکوں کے درمیان خوش گوار تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے ۔ یہ مسئلہ اگر حل نہ کیا گیا ، اسلامو فوبیا پر قابو پانے کا لائحہ عمل طے نہیں کیا گیا ، تو کئی ملکوں میں تشدد کے واقعات بھی ممکن ہیں ، جیسے کہ ہندوستان میں ، جہاں آج حکمراں طبقہ اور سنگھی تنظیمیں بے لگام ہیں ۔ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملہ میں مداخلت دیے بغیر عالمی قیادت کو اردوگان کی تشویش پر غور کرنا ، اور دنیا بھر میں امن و امان اور فرقوں میں بھائی چارہ برقرار رکھنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہی ہوگا ۔
_____
عالمی افسانہ میلہ2023
افسانہ نمبر 10
" اگر وہ ہوتی "
سارا احمد
لاہور ۔ پاکستان 
وہ ایک ڈمی سے ڈر گیا تھا- رات گئے گھر لوٹتے ہوئے راستے میں بِنا چہرہ کے وہ ڈمی اس کی ٹھوکر میں آ گئی- اس کے بے چہرہ پلاسٹک کے جسم پر حقیقت کا گمان ہوتا تھا- اس کی نظر ایک منزلہ خستہ حال مکان کی بالکنی کی طرف اٹھ گئی- اتنی بڑی گلی میں ایک لیمپ پوسٹ کی روشنی جہاں نہیں پہنچتی تھی وہاں سائے رینگنے لگتے تھے- اسے لگا وہاں بھی کوئی ڈمی ہے لیکن وہ انسانی کلبوت تھا- وہ بھی کوئی بے چہرہ لڑکی تھی جو نیچے بالکنی میں جھکی اور پھر نظروں سے اوجھل ہو گئی- 
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے جسم میں چیونٹیاں سی رینگتی ہوئی محسوس کرنے لگا- وہ تیزی سے اپنے گھر کی طرف بڑھا- اس کے ہاتھوں میں لرزش، ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کے قطرے اور دل وساوس کی آماجگاہ سیکنڈوں میں بن گیا-
اگر اس سے پہلے گھر میں کوئی موجود ہوا تو۔۔۔ اور وہ بھی بے چہرہ.....!! اسے لگا وہ تالا کھول کر اپنے گھر کے اندر اکیلا داخل نہیں ہوا- اس کے ساتھ ہی کسی اور نے بھی دہلیز پر قدم رکھے تھے- اسے ان قدموں کی دھمک واضح سنائی دی تھی- نہیں۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا!! وہ اپنے دل کو جھٹلانے میں لگ گیا- اس نے ایک بار پھر گھر کا دروازہ کھول کر باہر جھانکھا- اس وقت پوری گلی سائیں سائیں کر رہی تھی- اس گلی میں رات کے وقت گھومنے پھرنے والے کتے بھی اس کی بُو سے مانوس تھے- کوئی اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا- سوئی بلیاں بھی دیوار کے ساتھ لگی اسے سَر اٹھا کر نہ دیکھتیں- رات کے آخری پہر اس کے گھر کے راستے تک کوئی اسے ڈراتا اور نہ وہ کسی سے ڈرتا- کسی کو ڈرانے کا خیال تو کبھی اسے آیا ہی نہ تھا- آج لیکن وہ عورت کی اس ڈمی سے ڈر گیا تھا اور پھر اسی ڈمی کو انسانی جسم میں ڈھلے اس نے چھت کی بالکنی سے نیچے جھکے بھی متصور کیا ورنہ بھلا ایسا آج کیوں ہوتا جو برسوں کی لگی بندھی زندگی میں نہ ہوا تھا- اس کے زندگی میں دن اور رات ایسے ہی آتے تھے- ان کے ہیر پھیر میں وہ اب بس چکا تھا- آہستہ آہستہ دن کی طرف سرکتی ہوئی رات وہ اپنی نیند سے روک لے گا اور شام جب تھکن زدہ دن کی پھٹی ہوئی ایڑیوں میں بھربھری مٹی بھرنے لگے گی وہ ملگجی روشنی میں ڈوبتے سورج کے ساتھ ذرا سا دَم لے کر اپنے آپ کو پھر سے زندگی کی گاڑی میں جوتے گا-
گھر میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا- وہ اس ایک یقین کو اپنے ساتھ برسوں سے باندھے ہوئے تھا- اس کا کھانا کھانے کو بالکل بھی جی نہیں چاہا- اپنے لیے چائے بنانے کی بھی ہمت نہیں تھی- اس نے باورچی خانے میں سنک میں رکھے گندے برتنوں میں سے کیتلی نکال کر دھوئی اور چولہے پر چائے کا پانی ابلنے کے لیے رکھ دیا- وہ جب تک پیٹ کا دوزخ نہ بھرتا نیند بھی اچھی نہ آتی- 
باورچی خانے کے باہر چھوٹے سے سُرخ اینٹوں والے صحن میں لکڑی کی گول میز اور دو کرسیاں رکھی تھیں- میز پر پرانا اخبار میز پوش کی جگہ بچھا ہوا تھا- جس پر جگہ جگہ سالن اور چائے کے داغ تھے- چائے کے داغ بھی کپ کی گولائی کے نشانوں کی صورت دائروں میں تھے-
وہ بھی دائروں میں ہی سفر کرتے ہوئے اپنی ذات کے ایک نقطے کے گرد گول گول گھوم رہا تھا- وہ کون تھا اور کیا تھا- کیا وہ بھی ایک ڈمی تھا- اس کے اندر کوئی احساسات نہیں تھے- محبت، دکھ اور جدائی جیسے الفاظ سے اس کا جسم ناآشنا تھا- کیا اس کے جسم کے روؤں نے ایسا کوئی لمس اپنی زندگی میں محسوس کیا تھا یا پھر وہ پتھر کا تھا- ایک ایسا پتھر جسے وہ روشنی اور اندھیرے میں کبھی باہر دنیا والوں کے سامنے رکھتا اور کبھی لڑھکا کر گھر کے اندر لے آتا- اس پتھر پر ٹھوکروں کے کتنے نشان تھے لیکن اسے درد نہیں ہوتا تھا- اپنی ذات کے لیے بالکل نہیں ہوتا تھا- چائے کے کپ کو اس نے اخبار پر بنے کئی گول دائروں میں سے بنے ایک گول دائرے پر رکھ دیا- اس کے نیچے بھی کوئی اشتہار تھا جس میں کسی لڑکی کا چہرہ قید ہو گیا تھا- آج تک وہ خود ان دائروں میں قید رہا تھا کبھی کسی لڑکی کو قید نہیں کیا تھا- کیا لڑکی اس کی طرح چپ چاپ قید کاٹے گی یا چیخے چلائے گی- اس کے اہلِ محلہ پہلے ہی اسے اپنے خول میں بند ایک خبطی سا انسان سمجھتے تھے جسے احساسِ زندگی کے کسی باب سے کوئی غرض نہیں تھی صرف ایک پرچہ اس کے ہاتھ میں کسی نے تھما دیا تھا جس پر اس کی معمولاتِ زندگی کے اوقات درج تھے-
یہ مکان اس نے کچھ عرصہ پہلے خریدا تھا اور اکیلا ہی اسے گھر بنانے کے جتن میں لگا رہا- یہاں کتنا کچھ ادھورا تھا- اگر ایک عورت اس کے ساتھ رہ رہی ہوتی تو اب تک یہ ایک مکمل گھر بن چکا ہوتا- وہ کیا کرتا- کسے کہتا کہ اسے ایک لڑکی لا دیں- وہ انھیں پیسے تھما دیتا اور ایک لڑکی اس کے گھر آجاتی- اسے پیسوں سے لڑکی خریدنے والا خیال اچھا لگا- اس طرح کوئی اس کے ماضی کی کھوج کرید کرے گا نہ اس پر انگلی اٹھائے گا اور نہ اس سے کسی قسم کی ضمانت مانگے گا-
اسے لگا پہلے اسے اپنے علاوہ کسی اور کو اپنے ساتھ گھر میں رکھنے کی عادت ہونی چاہیے- وہ چائے کے کپ کے کناروں پر دائرے میں اپنی انگلیاں پھیرنے لگا- اس لڑکی کو خریداری کرتے ہوئے یہ جملہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ چائے اپنی پسند کے کپ میں ہی پینے کا مزا ہے- پوری دکان میں اس لڑکی کو اپنی پسند کا ایک بھی کپ نہ ملا اور وہ وہاں سے چلی گئی- اس نے اپنی پسند کا مگر ایک کپ لے لیا- جس پر ایک کھوپڑی کھدی تھی اور اس کے منہ میں ایک سگریٹ دبی تھی- اس کے لیے یہ بالکل نئی بات تھی- اس نے لفظ پسند اس لڑکی کے منہ سے سُن کر پہلی بار اس کے مفہوم تک رسائی پائی تھی- وہ تمام عمر پسند ناپسند سے بے نیاز اپنی ضرورتوں کے لیے جیتا آیا تھا- اس کی سوچیں کسی کنارے نہ لگیں تو وہ کپ گندے برتنوں کے ساتھ رکھ کر واپس وہیں آ کر بیٹھ گیا- صحن میں ایک چارپائی بھی بچھی تھی جو گرمیوں کے موسم میں باہر ہی پڑی رہتی- بارش آنے کی صورت میں وہ اسے گھسیٹ کر برآمدے میں کر لیتا- اس پر بچھی چادر اور گدے کو سو کر اٹھنے کے بعد تکیے سمیت لپیٹ کر سرہانے کی طرف کر لیتا- نیند نہ آنے کی صورت میں پہلے تھوڑی دیر اس سے کمر لگا کر بیٹھتا اور پھر بستر بچھا کر صحن میں ٹہلنے لگتا- صحن میں کپڑوں کے لیے باندھی گئی تار جو اس کے سَر سے اونچی تھی اس پر اکثر اس کی بنیان اور کپڑے جھولتے رہتے-  
سویر نہیں ہو رہی تھی اور اس کا جسم تپ رہا تھا- آج اسے اپنے اکیلے پن میں ایک سناٹا سا محسوس ہوا- اس سناٹے کی گونج اسے آسمان کے پرلی طرف سے بھی سنائی دے رہی تھی- اس نے صحن کی سُرخ اینٹوں کی گنتی ادھوری چھوڑ دی- اسے آسمان کے تاروں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی- وہ انہیں گن گن کر اپنی یاداشت میں محفوظ نہیں رکھ سکتا تھا- 
اس نے کرسی سے اٹھ کر کسی انجانے خیال سے دروازے کی جھری سے باہر گلی میں جھانکا اور چٹخنی گرا دی- اس کی نگاہیں راستے میں راہگیروں کی ٹھوکر میں پڑی اس ڈمی پر جا کر ٹک گئیں- ایک بے چہرہ اور بے جان وجود اگر اس کے گھر میں چار دن گزار لے گا تو وقت پر کونسا اثر پڑے گا- دن اتنا ہی رہنا تھا جتنا کسی نے اس کا بوجھ محسوس کرنا تھا اور رات اتنی ہی طویل جتنا کسی نے انتظار کھینچنا تھا-
وہ اپنے بوجھل قدموں کو اس ڈمی تک گھسیٹ کر لایا- وہ ہلکی گلابی ڈمی روشنی اور اندھیرے کے آدھے آدھے حصوں میں اوندھی گِری ہوئی کوئی جاندار مخلوق لگ رہی تھی- اس نے بازو سے اُسے اوپر اٹھایا تو وہ اسے بے وزن لگی- وہ اسے اپنے کندھے پر ڈال کر گھر لے آیا- ڈمی اس کے ساتھ گھر میں دوسری بار داخل ہوئی تھی- پہلی بار اس کے خیالوں میں جب اس نے دروازے کا تالا کھول کر قدم اندر رکھا تھا- 
وہ اسے گھر میں کہاں رکھتا کہ کسی کی نظر نہ پڑتی- اسے ڈرائنگ روم میں پردے کے پیچھے والی جگہ مناسب لگی- ادھر وہ شاذ و ناظر ہی جا کر بیٹھتا تھا- ایک صوفے، میز اور چار کرسیوں والے گنجائش کے ڈرائنگ روم کی طرف کسی کا دھیان بھی نہ جاتا- اس کا جی نہ چاہا کہ اس وقت وہ اس گلابی بدن والی ڈمی کو سَر تا پا غور سے دیکھتا- اس کے بیضوی چہرے پر کوئی نقوش نہ تھے- گردن سے اوپر والا یہ حصہ بے چہرہ تھا- اس نے اپنے سَر کو کھجاتے ہوئے گھڑی میں وقت دیکھا- فجر کی اذان کے ساتھ ہی صبح ہونے والی تھی-
اس پر بخار کی دوا لینے کا بھی اثر ہونے لگا- وہ ڈمی پردے کے پیچھے چھپا کر صوفے پر ہی گِر گیا- نیند اس کے وجود سے ہوتی ہوئی اس کے پپوٹوں تک ٹھہری ہوئی تھی- اس نے اس جکڑی ہوئی نیند کو آزاد چھوڑ دیا- 
اس نے کوئی ڈراؤنا خواب نہیں دیکھا تھا لیکن وہ ڈر کر اٹھ گیا- ایک ہی کروٹ کے بل سوئے رہنے سے اس کے جسم کا ایک حصہ پسینے سے بھیگ چکا تھا- دن چڑھ آیا تھا- اسے ابھی بہت سے کام نمٹانے تھے- اسے رات والی کوئی بات فی الحال یاد نہیں تھی لیکن غسل خانے سے نہا کر باہر نکلتے ہوئے جب اس کی نظر الگنی پر جھولتے اپنے کپڑوں پر گئی تو وہ پھر چونک گیا- اسے ایک جھرجھری سی آئی لیکن اس کے قدم ڈرائنگ روم کی بجائے باروچی خانے کی جانب اٹھ گئے- ناشتا بناتے ہوئے وہ یہی سوچتا رہا کہ اگر محلے میں سے کسی کو پتہ لگ گیا تو کوئی کیا سوچے گا- اسے تو گلی کے کتوں نے بھی سونگھ کر چھوڑ دیا تھا- ایک ڈمی کی اوقات ہی کیا تھی- اس نے سوچا آج وہ اس کے لیے بازار سے مناسب سی قیمت میں کوئی ڈھنگ کے کپڑے خرید کر لائے گا- وہ اسے اپنے گھر میں بے لباس تو نہیں رکھ سکتا تھا- اب وہ ڈمی تھی تو اس کی جتنی بھی ضرورت تھی اس کی ذمہ داری تھی- ڈیوٹی پر جانے کے لیے جب وہ سارے کام کاج نمٹا کر گھر سے باہر نکلنے لگا تو اس کا جی چاہا کہ پردے کے پیچھے کھڑی اس ڈمی کو ایک نظر دیکھتا جائے- اس نے اپنے جوتے ریک سے نکال کر رکھے لیکن پہنے نہیں- وہ ننگے پاؤں اپنے ہاتھ میں تالا پکڑے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا لیکن ایک بے نام سی جھجک اس کے قدموں سے لپٹ گئی- ڈرائنگ روم کے دروازے پر تالا لگا کر وہ واپس مڑ آیا- آج گھر سے باہر جاتے ہوئے اسے اپنے ادھورے پن کی ایک کڑی ٹوٹ کر گرتی ہوئی محسوس ہوئی- لوہے کی ایک ان دیکھی زنجیر جس سے اس نے خود کو باندھ رکھا تھا- 
" اگر اس کے چہرے پر خوبصورت نیلی آنکھیں ہوتیں تو وہ مجھے اس گھر میں حیرانی سے دیکھتی- اس کی نیلی آنکھوں میں کتنے ارمان اور سپنے ہوتے- ان آنکھوں پر پلکوں کی گھنی سیاہ جھالر تنی ہوتی اور جب وہ اپنے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی تو ان پر پانی کے قطرے موتی بن کر لرزتے-" 
اسے وقت پر اپنی مطلوبہ بس اور کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ مل گئی- وہ راستے بھر اس کے بارے میں سوچتا رہا- آج سڑکوں پر بھاگتے دوڑتے مناظر میں کوئی احساس جگا ہوا تھا- اسے گھر واپس پہنچنے کی فکر ابھی سے لگ گئی-
" اگر وہ گھر میں اکیلی ڈر گئی تو ۔۔۔۔۔۔ اگر وہ میرے آنے تک وہاں نہ ہوئی تو اگر۔۔۔۔۔اگر۔۔۔۔!!
اگر وہ سچ مچ کی لڑکی ہوتی تو وہ کیا کرتا۔۔۔۔۔؟ وہ کھڑکی میں سے باہر دیکھتے ہوئے ایک اسی دائرے میں اپنی دنیا تعمیر کرنے میں لگا رہا- ابھی تک اس کے دل نے کوئی بھی خواہش پال کر لفظ کاش نہیں کہا تھا-
فیکڑی میں معمول کے مطابق کام کرتے دیکھ کر کسی کو اس پر شائبہ بھی نہ ہوا کہ اس کے اندر ایک اگر کا چکر چل رہا ہے- اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اور وہ کولہو کے بیل کی طرح ایک ڈمی کے گرد گھوم رہا تھا- اسے یہی فکر کھائے جا رہی تھی کہ گھر میں وہ ڈمی تنہا تھی- اتنی بڑی دنیا میں کوئی تنہا رہ جائے اس کے اندر کے آدمی کو یہ سوچنا بھی گوارا نہ تھا- 
وہ چلتا رہا چلتا رہا پھر وہ چلتے ہوئے اپنی ذات کے ایک نقطے پر ڈھے کر گِر گیا- اس کے بخار نے کام کر دکھایا- سوچوں کی بھٹی میں اس کے تپتے بدن نے ہار مان کر اپنا آپ چھوڑ دیا- فیکڑی میں ساتھیوں نے اسے نڈھال دیکھ کر علیحٰدہ ایک کمرے میں سفید صاف ستھرے بستر پر لٹا دیا- وہیں موجود ایک ڈاکٹر نے اسے ڈرپ لگا کر اور سکون آور دوا دے کر آرام کرنے کا مشورہ دیا- اس الگ تھلگ کمرے تک مشینوں کا شور نہیں پہنچ رہا تھا- اسے یہاں کام کرتے ہوئے سالوں گزر گئے تھے- اس وقت اس کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ تھی- اس نے کمرے کے چھت کے کونوں میں جالے لگے دیکھے تو مسکرا دیا- آج وہ برسوں بعد مسکرایا تھا- اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہو رہی تھیں- وہ اگر یہاں سوتا رہ گیا تو گھر پر ڈمی۔۔۔۔۔۔؟ وہ اسی اگر پر اندھیروں میں ڈوب گیا- باہر والے کسی آدمی کو یہ احساس نہیں ہوا کہ ڈوبتے ہوئے وہ اپنے ہاتھ پاؤں زور زور سے چپوؤں کی طرح چلا رہا تھا- اسے اندھیرے کے سمندر میں ڈوبتے کسی نے نہیں دیکھا- 
اسے بچپن سے اندھیرے سے ڈر لگتا تھا- اس کی ماں کی گود روشن تھی- ماں کا پلو پکڑ کر وہ ہر جگہ چلا جاتا تھا- وہ اس اندھیرے کونے تک بھی پہنچ جاتا جو اس کے جسم میں روح کی کسی اندھی کھائی کا حصہ تھا- اس کے بچپن کے دن کتنے روشن تھے- موسمِ بہار کی سجری سویر سے زیادہ اجلے اور معطر- اس کی ماں کے گجروں کے خوشبو سے زیادہ مہکے ہوئے- ان کا گھر تنگ سی گلیوں میں ایک سیڑھیوں والے دروازے سے ہو کر اوپر جاتا تھا- اس کے جھروکوں میں پردے کے نام پر پڑے ہوئے رنگ برنگ بوسیدہ کپڑوں کے ٹکڑوں کے چھیدوں سے چاند کتنے پاس سے نظر آتا تھا- وہ روز صبح اسکول جاتا- اپنے جیب خرچ سے وہ سب چیزیں خرید کر کھاتا جنہیں بچپن ایک بار چکھ لے تو جوانی ان پر پھر ہنستی ہے- جوانی کا ذائقہ الگ اور منفرد ہوتا ہے لیکن بچپن کاغذ کی ناؤ پر خوابوں کا بستہ بھول آتا ہے تبھی تو بار بار پیچھے پلٹتا ہے اور ایک دن اپنی گم گشتہ متاع کے لیے بارشوں میں بہہ کر بالآخر سمندر کی تاریکی میں گم ہو جاتا ہے- 
ماں کی گود روشن تھی لیکن اس کی مانگ میں جو ستارے سجے تھے وہ مستعار لیے ہوئے تھے- اس کے بچپن میں کائنات تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ تھا اور وہ اس کے گھر کو جانے والی سیڑھیاں تھیں جو باہر بازار کی طرف نکلتی تھیں- اس نے ایک دن اسکول سے آ کر دروازے کی جھری میں سے دیکھا اس کی ماں کے ہاتھوں پر بھی کاغذی بھوک دھری تھی- روٹی سے پیٹ بھر جائے تو نیند خواب بھر بھر کے لاتی ہے- اس کی ماں اس کے خواب خریدنے کے لیے اپنی آنکھوں کی نیندیں بیچتی تھی- وہ کبھی رات بھر سوئی نہیں تھی- اس نے کبھی آنکھیں موند کر خواب نہیں خریدے تھے- ایک دن وہ اس بازار سے اچانک غائب کر دی گئی- وہ نہ جانے کس دیس کو اپنی ہی صنف کی پُتلیوں کے ساتھ ہانک دی گئی- ایک کشتی اس سمیت سب کو لے کر سمندر کے گہرے پانیوں میں ڈوب گئی- مچھلیوں نے اس کی ماں سمیت اس کے خوابوں کو بھی نگل گیا- وہ کئی دن اس بازار سے پرے ایک درگاہ پر پڑا رہا- لنگر کی روٹی کھا کر بھی اسے ڈراؤنے خواب آتے تھے- گلے میں منکے ڈال کر بھی اور دَم والی پھونکوں سے علاج کروا کر بھی اس کی آنکھیں جلتی تھی- اس کی ماں کی سہیلی اسے اپنے ساتھ لے جانے آئی اور پھر اس کی سرخ آنکھوں کے اندر مردہ مچھلیوں کی قبریں دیکھ کر پلٹ گئی- وہ کہاں سے اس کی ماں اسے لا کر دیتی- وہ تو ڈھونڈنے ہی اپنی ماں کو نکلا تھا- اس کا کھو جانا ہی بہتر تھا- کسی کو بھی جان بوجھ کر کھوئے بغیر گمشدہ متاع نہیں ملتی- ماں جیسی متاع تو کہیں سے بھی نہیں ملتی- اس جیسا لمس کہیں نہیں بکتا ورنہ وہ ضرور خرید لیتا- اسے اپنے لڑکپن کے ابتدائی دنوں میں ایک پرنٹنگ پریس میں دو وقت کی روٹی اور چھت مل گئی- فیکڑی کا مالک ایک رحم دل انسان تھا- اسی نے اسے درگاہ سے اٹھا کر روٹی اور چھت مہیا کی تھی- وہ جب مشینوں کے شور میں اپنے گھٹنے اپنے سینے سے لگا کر سوتا تو ایک لوری میٹھی میٹھی آواز میں اسے ہلکورے دیتی- اس کی ماں بہت سریلا گاتی تھی- وہ اب بھی گا رہی تھی- وہ اس کے لیے گاتی رہے گی- یہ ماں کا اس سے وعدہ تھا-
اسے نہ جانے کب ہوش آیا لیکن اسے اتنا یاد تھا کہ اسے بازار جانا تھا- ڈاکٹر نے اسے دو دن کی چھٹی کی ہدایت کے ساتھ مزید کچھ دوائیں لکھ دیں- اس وقت شام کے سات بج رہے تھے- وہاں موجود ایک لڑکے نے اسے چائے کی پیالی تھمائی اور بستر کے نیچے سے اس کے جوتے نکال کر اس کے سامنے رکھے- فیکڑی میں اس کے ساتھی اس سے شادی نہ کرنے اور تنہا رہنے کی وجہ پوچھتے تھے- ان کے گمان میں اس کا ماضی ضرور کوئی راز لیے ہوئے تھا- وہ سوائے کام کےکسی سے کوئی بات نہیں کرتا تھا- اس نے ایک بار پھر کمرے کی چھت کے کونوں میں جالے دیکھے اور سَر جھکا کر اپنے قمیض کے کھلے کف بند کرنے لگا- چائے پینے کے بعد وہ خود کو بہتر محسوس کر رہا تھا- اسے جلد از جلد گھر پہنچنا تھا- 
وہ اپنی چلپیں پہن کر راہداری سے گزرا تو مشینوں کے شور سے آزاد ہوتے ہوئے اسے جیسے صدیاں لگ گئیں- اس کی عمر کے کتنے سال موسموں اور دن رات کی پیمائشوں سے آزاد رہے تھے جب تک کہ اسے بازار اور بھوک کی تفریق کی سمجھ نہیں آئی تھی- وہ ایک احساسِ ذمہ داری کو جھیل کر پھر سے عمر کی پٹڑی پر دوڑنا چاہتا تھا- واپسی کا سفر مشکل سہی لیکن ان جگہوں تک پہنچنے کی ٹکٹیں آج بھی فروخت ہوتی تھیں- خریدو فروخت کی منڈی آج بھی لگی تھی- اس نے ایک بوتیک سے ڈمی کے لیے ایک خوبصورت سوٹ پسند کیا- اس کا دل اسے کسی ان دیکھے جزیرے کی طرف لے جانے پر مُصر تھا- ایک ایسے جزیرے کی طرف جو شاید خوابوں کے بھنور میں آباد تھا-
اس نے اپنی مطلوبہ بس پکڑی- بس میں زیادہ رش نہیں تھا- وہ ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گیا- کھانا اور پانی کی بوتل اس کے ہاتھ میں تھی جو اس نے ایک قریبی ہوٹل سے خریدی تھی- اس نے پانی کے دو گھونٹ پی کر کپڑوں والے شاپر سمیت تمام چیزیں اپنی گود میں رکھ لیں- بڑھی ہوئی شیو اور ملگجے کپڑوں کے نیچے پرانی چپلیں پہنے وہ کوئی مزدور ہی نظر آرہا تھا- اس نے اپنے آپ کو کسی اچھے کردار میں ڈھالنے اور عمدہ لباس زیب تن کرنے کی کبھی کوئی شعوری کوشش نہیں کی تھی- وہ کسی کو بھی اپنے ماضی کے بارے میں نہیں بتانا چاہتا تھا لیکن اس کا ماضی جیسے لوگوں کو اس کے چہرے پر لکھا نظر آتا تھا-
بس اسٹاپ سے اس کے گھر کا فاصلہ اتنا نہیں تھا جتنا اسے آج محسوس ہو رہا تھا- اس نے جب سے اس علاقے میں رہائش اختیار کی تھی مشکوک سمجھا جانے لگا تھا- اب وہ لیکن تنہا نہیں تھا- اس کے ساتھ گھر میں کوئی تھا- گلی میں پہنچ کر اس نے سَر پر بندھا ہوا صافہ اتار کر گردن اور چہرے سے اپنا پسینہ پونچا اور جیب سے چابی نکال کر دروازہ کھول دیا- گھر میں داخل ہو کر برآمدے میں فریج کے اوپر رکھی دوسری چابی ٹٹول کر ڈھونڈی اور بھاری قدموں سے ڈرائنگ روم کے دروازے کی طرف بڑھا- دروازہ کھولنے پر اسے ایک بے نام سی ٹھنڈک کا احساس ہوا- وہ بے دھیانی میں جاتے ہوئے شاید ڈرائنگ روم کا پنکھا بند کرنا بھول گیا تھا- ہوا سے پردہ سِرکا ہوا تھا اور ڈمی کے بدن کا دایاں حصہ نظر آرہا تھا- اپنے صافے سے اس نے ڈمی کا چہرہ پوری طرح ڈھک کر پیچھے کی طرف گرہ لگا دی- اسے دنیا کے بازار میں اپنی ماں جیسی نیلی آنکھیں کہیں نہیں ملی تھیں لیکن اسے تن ڈھکنے کو ایک لباس ضرور ملا تھا جو اسے اس ڈمی کو پہنانا تھا- ایک کاسنی پھولوں والا ملبوس جو وہ خرید لایا تھا- اس نے اپنے خوابوں سے باہر آخری بار جب اپنی ماں کو دیکھا تھا تو اس کے گلابی بدن پر کاسنی پھولوں کی بیلیں لپٹی ہوئی تھیں-
_____:

بابا کی آخری ہنسی

میں عمر بھر محروم رہا
باپ کے محبت سے. 
جب میں بچہ تھا تو 
وہ مسافر تھے 
جب میں جوان ہوا 
تو میں مسافر تھا.
 
جب وہ مسافت پر جاتے تو
وہ لمحہ جدائی کا میرے لئے
بہت تکلیف دہ ہوتا.

آخری صبح جب ہم گلے ملے
بابا نے کہا،
کیسے ہو باچا! 
میں نے کہا ٹھیک ہو
میں نے پوچھا کیسے ہو بابا ؟ 
بابا نے کہا،
ٹھیک ہو.

مجھے کیا پتہ تھا کہ
کچھ لمحے کے بعد
بابا مجھے ہمیشہ کے لئے
چھوڑ جائیں گے.
اور آسمان کے طرف پرواز کر جائیں گے.

مستقل جدائی کا وہ لمحہ
تکلیف دہ نہیں
بلکہ 
میرے لئے روز قیامت تھا.
بابا کی آخری ہنسی
میرے حافظہ کا مستقل حصہ ہے.

مشالؔ
______
قدیم چیزیں:

میرے پاس سولہ سال پرانا اکاؤنٹ ہے 
پندرہ سال پرانی بائیک 
تیس سال پرانا گھر 
بچپن سے پڑا پر تجسس دل

اور میرے پاس میرے دل سے بھی پرانی روح ہے

دل پہ ایک بندے کا اختیار ہوتا ہے
جبکہ روح سب کی مشترک ہوتی ہے 

جب میں کہتا ہوں تم میری روح ہو تو تم سب انسانوں کا مشترکہ ورثہ بن جاتی ہو 

اکٹھی چیز پہ سب کا حق ہوتا ہے
اس میں سے کبھی بھی کوئی بول پڑتا ہے 

جمہوریت میں سب کو سننا پڑتا ہے 

انسان ایک ہرڈ کی طرح آگے بڑھا ہے

اکیلا آدمی کہیں بھی شکار ہو سکتا ہے 

میری روح تب بنی تھی
جب روشنی نے ایک گدلاۓ ذرے میں جھانکا تھا

آگ، خاک، گرد، میں لپٹا وہ زرہ
تازہ تازہ کسی آسمانی چٹان سے ٹوٹا تھا 

اور لا وارث بچے کی طرح اپناے جانے کا منتظر تھا

روشنی نے اس کے اندر جھانکا
اور روح برابر جگہ بنا لی

یا اس نے وہ جگہ اس کے لئے خالی کر دی 

جیسے ایک بس میں بٹھنے کے لئے کوئی سیٹ خالی کر دیتا ہے 

تب سے سبھی روح میں چلے آتے ہیں

میرا جسم ایک بس میں ہے جس میں ہر علاقے کی سواری بیٹھی ہے

جسم تھک ہار کے رک جاتا ہے وہ دوسری بس میں بیٹھ جاتے ہیں

وہ اترتے نہیں اور سفر چلتا رہتا ہے 

میرے پاس ایک قدیم دل ہے جو میں بس میں بیٹھی ایک لڑکی کو دے آیا تھا 

وہ اپنے باپ کے ساتھ اپنے سٹاپ پہ اتر گئی تھی

البتہ میں بس میں بیٹھے بیٹھے اس کے گھر تک چلتا گیا 

یہ کافی قدیم بات ہے اسے یہ بات بھول گئی ہو گی 

کیوں کہ میری روح قدیم روح ہے اس لئے مجھ میں کوئی بول پڑتا ہے 

ان کے بولنے کا کوئی ٹائم نہیں یا وہ جہاں ہیں ان کا ٹائم ہم سے مختلف ہے 

جیسے جب میں سو رہا ہوں وہاں دن ہوتا ہے 

نیند میں بھی میں دیکھ سکتا ہوں دھوپ میں لتھڑا ایک دن 

سر جھکاے بھاری قدم لیتی وہ لڑکی 

بس اس سے پھسلتی دور جا رہی تھی 

میرے پاس اس کا قدیم دل ہے جو میری یاد سے پھسلا جا رہا ہے 

طاہر راجپوت

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ مو...