از: عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر)مالیگاوں
یوں تو آئے دن کسی نہ کسی شخصیت سے منسوب تعزیت نامے لکھے جاتے ہیں جن میں ” بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا“ ، ” مرحوم کا جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے“ ، ” مرحوم کے جانے سے جو خلاء واقع ہوا ہے وہ پُر نہیں ہوسکتا“ جیسے مصرعوں اور جملوں کا استعمال ہوتا ہے ۔ بعض تعزیت ناموں میں یہ جملے محض رسمی معلوم ہوتے ہیں مگر صوفی ملت حضرت صوفی غلام رسول قادری صاحب کی رحلت پر مذکورہ تمام جملے صد فیصد صادق آتے ہیں۔ آپ کی شخصیت پورے مالیگاﺅں کے لیے سائباں کی مانند تھی۔سماج میں آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔دینی، تہذیبی، ثقافتی، تعلیمی، معاشرتی،سماجی اور معاشی پروگرامات میں آپ کی دلچسپیاں یکساں ہوتی تھیں۔ آپ اپنی موجودگی سے ہر شعبے کو تقویت فراہم کرتے تھے ،یا یوں کہہ لیجیے کہ صوفی ملت ایک روشن چراغ تھے جن سے ہزاروں لوگوں نے بھرپور فائدہ استفادہ کیا اور اس چراغ سے اپنے اپنے چراغ روشن کیے -
*میں چراغِ رہ گزر ہوں مجھے شوق سے جلاو*
کے مصداق آپ بلاتفریق مذہب و مسلک شہر ی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک مشفق باپ اپنی اولاد کے تابناک مستقبل کے لیے جس طرح کوشاں رہتاہے، اسی طرح دینی ، ملی اور سماجی تنظیموں کی بقا و سلامتی کے لیے صوفی ملت اپنی خدمات کا دائرہ وسیع رکھتے تھے۔ ہاں! ایسا بھی نہیں تھا کہ آپ صد فی صد موم ہی تھے کہ من چاہا بن جائے بلکہ عزم، حوصلہ، یقین، خود اعتمادی اور استقامت کی مضبوط دیوار کا نام تھا ”صوفی غلام رسول قادری“ ۔ آپ جو بھی عہد کرتے تھے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی مکمل کوشش کرتے تھے ۔آپ میں جوہر شناسی کا مادہ فطرتاً موجود تھا۔ آپ میں اپنی بات رکھنے کا عجیب ہنر موجود تھا۔ بڑے بڑے اسکالر، ریسرچر، کلکٹر ، کمشنر اور انتظامی عہدیداران کی موجودگی میں اپنے خیالات کا نہ صرف اظہار کرتے بلکہ اسے منوانے کا طریقہ بھی جانتے تھے۔ آپ کو انتظامی قابلیت میں یدطولیٰ حاصل تھا ۔ آپ کی شخصیت میں غربا پروری، مسکینوں اور مفلسوں کی گاہے بگاہے امداد جیسے اوصاف حمیدہ بھی موجود تھے۔
اختلافات ، الزامات اور بہتان تراشیوں سے کون محفوظ رہا ہے جو صوفی ملت کی شخصیت محفوظ رہتی۔ انھیں بھی نشانہ حدف بنایا گیا۔ اللہ کی وسیع و عریض سرزمین ان پر بھی تنگ کی گئی۔ ان کی رحلت پر گھڑے مردے اُکھاڑنے سے بہتر ہے کہ مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی جائے اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا جائے۔ ویسے بھی کہا گیا ہے کہ مرحوم کو اچھے اوصاف سے یاد کرنا چاہیے ۔ رہی بات میرے ذاتی تجربات کی تو میں نے انھیں اپنے حق میں ہمیشہ بہتر پایا ہے۔ راقم کے گھرانے سے صوفی ملت اور ان کے اہل خانہ کے تعلقات پچیس تیس سالوں پر مشتمل ہے ۔ہم نے ان کی زندگی کا وہ پہلو بھی دیکھا ہے جو سماج سے مخفی ہے۔ طالب علمی کی زمانے سے اب تک ہر مشکل مسئلے میں صوفی ملت کو رہنمائی کے لیے سینہ سپر پاتا ہوں ۔ آج ان کے سانحہ پر دل اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے قاصر تھا مگر اللہ کی رضا پر راضی رہنا ہی ایک سچے مومن کا شیوہ ہے۔ بارگاہِ صمدیت میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
___________
افسانہ
*گھر توڑنے والیاں __لمحہء دستک*
🔖 *شگفتہ سبحانی*
میں بہت غور سے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر رّتی برابر بھی شرمندگی نہیں تھی.
ہم لوگ کھانا کھا کر بہت سکون سے بات کر رہے تھے میرا سر میرے شوہر کے کاندھے پر تھا اور اچانک ان کا فون بجا اور میرا شوہر جتنی عجلت سے فون اٹھا کر اپنی گرل فرینڈ سے آواز دبا کر یہ کہتا ہے کہ *بس دس منٹ میں کال بیک کرتا ہوں* اور بڑی گڑبڑ میں اٹھنے کی کوشش میں میرے ڈوپٹے سے پیر الجھنے پر سیدھا مجھ پرہی آگرتا ہے جب میں انہیں سہارا دے کر اٹھا کر یہ پوچھتی ہوں کہ اس لڑکی کا نام کیا ہے. بس وہ گالیاں اور مار دھاڑ کے سلسلے شروع ہوتے ہیں جن سب کیلئے میں ذہنی تیار تھی
ابھی ابھی ندیم کے فون پر جو رنگ بجی وہ یہ تھی،، *عشق کی دھن میں روز بجاؤں* " ، بیوی سائرہ کے ہوش اڑ گئے، اس نے حیرت سے موبائل-فون کی اسکرین دیکھی جس پر نام درج تھا " *میری جان*"
میرا نام شگفتہ ہے، میرے ساس سسر نے میری شادی ان کے بوڑھے بدصورت بیٹے سے کروادی مرتی کیا نا کرتی رو پیٹ کر قسمت پر صبر کرلیا مگر حیرت اس وقت ہوئی جب میرا بوڑھا شوہر اپنی 21 سال کی گرل فرینڈ علیزہ سے معاشقہ کا اظہار کر رہا تھا اور میں نے پوری آنکھیں کھول کر دیکھا، اس ڈرامہ باز کی آنکھوں میں بہت سے آنسو تھے.
گڈ ایوننگ ناظرین!
اوپر کی جھلکیاں اس بات کی غماز ہیں کہ بیشتر جگہ مسلم معاشرے میں نکاح کے بعد بھی معاشعوں کے سلسلے بڑی تیزی سے عام ہوتے جارہے ہیں
اور حیرت مجھے ان عورتوں پر ہیں جنہیں عام زبان میں *گھر توڑنے والیوں* " کے نام سے پکارا جاتا ہے، ذہنی عیاشی اور ذہنی تفریح کے مراحل سے گزرتے ہوۓ انسان اپنی بقا اپنا اصل بھول جاتا ہے
ہم وہ قوم ہیں جو مسلمان ہیں اور ہمارے یہاں living relationship کا تصور ہی،فرسودہ اور ناقابل قبول گردانا جاتا ہے، ہم زناکاری اور بدکاری کو بہت ہی برا تصور کرتے ہیں اور گناہ کبیرہ گردانتے ہیں
لیکن رکئے، بات کرتے ہیں نکاح کی
نکاح کو اسلام میں پسندیدہ اور بہترین عبادت کے طور پر دیکھا گیا ہے یہ وہ پاکیزہ اور حلال رشتہ ہے جس سے ازدواجی زندگی کو صحیح روش پر گزارنے کی تلقین ملتی ہے. کتابیں نکاح کی برکتوں سے پُر ہیں اور اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے نکاح کرنے پر زور دیا ہے اور مذہب اسلام میں مسلمان، مرد و عورت کو نکاح کے بعد ایک دوسرے کے بہترین جیون ساتھی سے تعبیر کیا گیا ہے
بات اب پھر سے دوسرے رخ پر آتی ہے کہ اسلام نے ایک مرد کو چار شادی کی اجازت دی ہے. اور اسلام نے نکاح کرنے اور بدکاری و زناکاری سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، یہ باتیں اپنی جگہ وزن دار ہیں
نکاح کرتے وقت ایک مسلمان بالغ مرد، آیتوں کے حصار میں ایجاب و قبول کے ذریعے ایک مومنہ عورت کو اپنے نکاح میں لاتا ہے اور یہ عہد و پیمان مقدس ہوتا ہے اور پاکیزگی کے ساتھ اللہ رب العزت کو حاضر و ناظر جان کر گواہان کی موجودگی میں طے پاتا ہے.
یہ بات بھی درست ہے
لیکن ان عورتوں کا کیا.... جو معاشرہ میں فحاشی، بدکاری، زناکاری، پھیلانے میں پیش پیش ہوتی جارہی ہیں، وہ لڑکیاں جو تنگ برقعے پہن کر، وہ لڑکیاں جو نیم عریاں تصاویریں بھیج کر وہ عورتیں جو کسی مرد کو فیمیلی میں سیٹل دیکھ کر ان پر بری طرح فریفتہ ہونے کا ڈھونگ کرتی ہیں اور مردوں کی عقل پہ پردے ڈال کر نکاح کرنے کیلئے یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ *پہلی بیوی کو طلاق دو ورنہ ہم زہر کھالیں گے*
یہ کونسا معاشرہ ہے بھائی؟
یہ ہوکیا رہا ہے،،،چار چار بچوں کی ماں کے طلاق کرواۓ جارہے وہ عورتیں جن کی پوری دنیا ان کے شوہر ہوتے ہیں، جن کی چادریں کبھی سر سے نہیں سرکتیں، جن کی آنکھیں ہمیشہ حیاء سے جھکی رہتی ہیں وہ عورتیں کہاں جائیں گی؟ یہ ایک گونج ہے جس آواز کو اب سماج کو سننا پڑے گا
جن عورتوں کا سب کچھ ان کے شوہر ہوں پھر وہ شوہر چاہے شرابی ہو یا آوارہ مزاج، وہ عورتیں جو بچہ جننے کی انتہا سے زیادہ تکلیف سے گزری ہوں
جو شوہر کی مار کھا کر بھی فاقے کر بھی کبھی دکھ ظاہر نا کرتی ہو، جو صبر کی مثالیں ہوں ان پر کون لکھے گا؟
جو گھر میں ساس سسر کے طعنوں تشنوں کے علاوہ شوہر کی ایک محبت بھری نظر کو ترستی ہوں اور وہ شوہر کی ہوس زدہ نظریں، بائیک چلاتی لڑکیوں پر ہوں، تنگ اسکرٹ والی لڑکیوں پر ہوں، دوسروں کی بیویوں پر فریفتہ ہوں
ان کی عورتوں کو کیا کرنا چاہئے؟؟؟؟ - - - -
جن کے طلاق کروادئیے جارہے ہیں ،جنہیں خلع لینے پر مجبور کیا جاتا ہے جنہیں اس درجہ ذہنی اذیتیں دی جاتی ہوں
انہیں کیا کہا جاۓ گا
تحریر کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ ایسا ہی ہورہا ہے، بلکہ بیشتر جگہ اس سے بھی زیادہ برا ہورہا ہے جسے لکھتے وقت قلم شرمندہ ہیں
جن عورتوں کی گھرستی اجاڑنے میں وہ عورتیں، وہ مرد وہ کلائینٹ، وہ گراہک آگے آگے ہیں
ان سے اپیل کی جاتی ہے کہ *خدا کیلئے مسلم معاشرے میں کسی کا گھر اجاڑنے والی تخریبی کاروائیوں سے باز رہیں*
وہ لڑکیاں جن پر ان کے بھائی باپوں کی تربیت نہیں، وہ ناکام بوڑھے عاشق جن کے بچے جوان ہورہے ہوں انہیں چاہئے کہ اپنی شادی کا چھوڑ کر اپنے بچوں کے اخراجات کا سوچیں،
کیونکہ مکافات عمل طے ہے
کسی کی بیٹیوں کو اذیتیں دینے کے بعد اپنی باری کا انتظار ضرور کیجئے گا
اگر فروغ دینا ہے تو مسلم مردو عورتوں کو چاہئے کہ نکاح کو فروغ دیں، اور جو دو بیوی کے خرچ نہیں اٹھا سکتے وہ ایک بیوی رکھیں اور یہ یاد کریں کہ اس پہلی بیوی نے کہیں آپ کا ہاتھ اس وقت تو نہیں تھاما تھا جب آپ کے پاس پھوُٹا موبائل اور جیب میں مہر کے پیسے بھی نہیں تھے
دوسری عورتوں کا گھر توڑنے والیاں کبھی کسی کا گھر اجاڑ کر بس نہیں سکتیں اور یہ طے ہے کہ جلد یا بدیر کسی کی آہ ان کے تعاقب میں ہوگی اور وہ اپنے اخیر انجام تک ضرور پہنچیں گی
*جنگ لڑتے ہیں اصولوں سے قبیلے لیکن*
*"عشق" کے نام پہ اپرادھ کیا جاتا ہے*
(عثمان ملک)
▪️▪️
___________::
غزل
ترے جلوؤں کی تابش چار سُو معلوم ہوتی ہے
نظر اب کامیابِ جستجو معلوم ہوتی ہے
تمہارے التفاتِ خاص نے وہ تازگی بخشی
جوانی پر مری ہر آرزو معلوم ہوتی ہے
جب انجامِ بہارِ گلستاں پر غور کرتا ہوں
یہ دنیا اک فریبِ رنگ و بُو معلوم ہوتی ہے
نہیں میں ہی اکیلا شاد فیضِ عام ساقی سے
خدائی کی خدائی سرخرو معلوم ہوتی ہے
سمٹتی جارہی ہیں ظلمتیں بھی نارمرادی کی
فروزاں آج شمعِ آرزو معلوم ہوتی ہے
اجازت ہو تو میں لب بند کرلوں صورتِ غنچہ
اگر بے کیف میری گفتگو معلوم ہوتی ہے
پگھل کر سوزِ غم سے دل بھی اب بہنے لگا شاید
شرؔر ہر بوند اشکوں کی لہو معلوم ہوتی ہے
*★ :: پیشکش::
*بزمِ تنویرِ ادب وہاٹس ایپ گروپ