Saturday, 30 September 2023

خدیجہ بنت خویلد

خدیجہ بنت خویلد (پیدائش: 556ء – وفات: 30 اپریل 619ء) مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ اور 25 سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی زوجہ اور غمگسار شدید ترین مشکلات میں ساتھی تھیں۔ بقیہ تمام ازواج النبی ان کی وفات کے بعد زوجہ بنیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری کی ساری اولاد خدیجہ سے پیدا ہوئی اور صرف ابراہیم جو ماریہ قبطیہ سے تھے جو اسکندریہ کے بادشاہ اور قبطیوں کے بڑے کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کی گئی تھیں۔خدیجہ نے 10 نبوی کو انتقال فرمایا۔
خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر ان کا خاندان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خاندان سے مل جاتا ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا اور لوی بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد سے تھیں۔

خدیجہ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ مکہ آکر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصی کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل خدیجہ پیدا ہوئیں، [7] سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پر طاہرہ[8]کے لقب سے مشہور ہوئیں۔

خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ۔
حضرت خدیجہ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زید بن اصم بن رواحہ بن حجر بن عبد بن معیص بن عامر بن لوی تھا۔ فاطمہ کی ماں کا نام ہالہ بنت عبد مناف بن حارث بن عبد بن منقد بن عمرو بن معیص بن عامر بن لوی تھا۔ ہالہ کی والدہ کا نام فلانہ (یا بقول ابن ہشام قلابہ) بنت سعید بن سعد بن سہم بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لوی تھا۔ فلانہ کی ماں کا نام عاتکہ بنت عبد العزی بن قصی تھا۔ عاتکہ کی ماں کا نام ریطہ بنت کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی تھا۔ ریطہ کی ماں کا نام فیلہ بنت حذافہ بن جمح بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لوی تھا۔ فیلہ کی ماں کا نام امیمہ بن عامر بنت حارث بن فہر تھا۔ امیمہ کی ماں قبیلہ خزاعہ کے سعد بن کعب بن عمرو کی بیٹی تھی اور اس کی ماں فلانہ بنت حرب بن حارث بن فہر تھی۔ فلانہ کی ماں کا نام سلمیٰ بنت غالب بن فہر تھا اور سلمی کی ماں محارب بن فہر کی بیٹی تھی
اہل تشیع محققین کے مطابق آپ کی پہلے کوئی شادی نہ ہوئی تھی اور صرف نبی اکرم ہی آپ کے اکلوتے شوہر تھے۔ مگر اہل سنت کے تاریخ نویسوں کے بقول آپ کے والد گرامی نے ان کی اعلی صفات کا لحاظ رکھ کر ان کی شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادر زادہ اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، کو منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابو ہالہ ہند بن بناش بن تمیم سے نکاح ہو گیا۔[10][11]
ابو ہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزوم کے عقد نکاح میں آئیں۔[11]

اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں خدیجہ کے والد لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے[12]یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔
خدیجہ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا لیکن کارکنان قضا و قدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑ چکی تھی، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مال تجارت لے کر شام سے واپس آئے تو خدیجہ نے شادی کا پیغام بھیجا۔ نفیسہ بنت مینہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیرہ) اس خدمت پر مقرر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منظور فرمایا،[15] اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، خدیجہ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے۔ عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بنا پر خدیجہ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کیے۔

تاریخ معین پر ابو طالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں آپ کے بہنوئی اور نبی اکرم کے چچا حمزہ بن عبد المطلب بھی تھے، خدیجہ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمرو بن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی درہم مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ حرم نبوت ہو کر پہلی ام المومنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے تھے اور خدیجہ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔[16] آپ پچیس سال اکلوتی حرم نبی تھیں۔
ام المومنین خدیجہ نکاح کے بعد ربع صدی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی شریک حیات رہیں۔ شادی کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سنہ 10 نبوی (ہجرت سے تین سال قبل)[25] انتقال کیا، اس وقت ان کی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے ان کا جسد مبارک اسی طرح دفن کر دیا گیا۔

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خود ان کی قبر میں اترے اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، خدیجہ کی قبر حجون قبرستان میں ہے۔[26] اور زیارت گاہ خلائق ہے۔

ام المومنین خدیجہ کی وفات سے تاریخ اسلام میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) فرمایا کرتے تھے کیونکہ ان کے اٹھ جانے کے بعد قریش کو کسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے ناامید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...