Saturday, 30 September 2023

مالیگاؤں کمیپ جلوس جشن عید میلاد النبی ﷺ

زیر قیادت.. جانشینِ صوفئ ملّت صوفی نورالعین صابری صاحب

زیرِ سرپرستی.. مولانا محمد یوسف چشتی صاحب...

مہمانانِ خصوصی.. حضرت علامہ مدثر حسین ازہری صاحب...

زیر نگرانی... نوجوانان اہلسنت کمیپ...

انڈیا اتحاد ’پھوٹ ڈالو، راج کرو‘ پالیسی کے خلاف

برسراقتدار بی جے پی کے ذریعہ ملک میں اپنائی جا رہی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی پالیسی سے فکرمند اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ مہاتما گاندھی کی 154ویں سالگرہ یعنی 2 اکتوبر کو ممبئی میں ’میں بھی گاندھی‘ امن مارچ نکالے گا۔ ممبئی کانگریس صدر پروفیسر ورشا گائیکواڈ سمیت انڈیا اتحاد کے سرکردہ لیڈران نے آج ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا اور کہا کہ ممبئی کے ساتھ ساتھ باقی مہاراشٹر میں بھی نفرت کے واقعات لگاتار ہو رہے ہیں جو فکر انگیز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مودی حکومت کی ’نئی تعلیمی پالیسی‘ تاریخ کو ختم کرنے کی کوشش: کانگریس
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ورشا گائیکواڈ نے کہا کہ ’’نفرت انگیز واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سماج میں خیر سگالی پیدا کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ انڈیا اتحاد 2 اکتوبر کو پیدل مارچ کے ذریعہ سے لوگوں کے درمیان گاندھی جی کی محبت، امن اور خیر سگالی کی تعلیمات کو عام کرے گا۔‘‘ ورشا گائیکواڈ نے مزید کہا کہ ’’ہم بی جے پی کے دوہرے پن کی مذمت کرتے ہیں۔ جب وزیر اعظم نریندر مودی بیرون ممالک جاتے ہیں تو وہ مہاتما گاندھی اور گوتم بدھ کے مجسمہ کے سامنے جھکتے ہیں، لیکن گھر واپس آ کر اپنے ان مریدوں کو کچھ نہیں کہتے جو گاندھی جی کے قاتلوں کی تعریف کرتے ہیں، قومی پرچم اور قومی ترانہ کی بے عزتی کرتے ہیں۔ ریاستی حکومت ان لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہی ہے؟‘‘
اس پریس کانفرنس میں سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی، سابق رکن اسمبلی اور این سی پی لیڈر ودیا چوہان، این سی پی سٹی صدر راکھی جادھو، عآپ سٹی صدر پریتی شرما، سی پی آئی لیڈر پرکاش ریڈی، ڈی ایم کے ریاستی چیف، سی پی آئی ایم کے شیلندر کامبلے، پیجنٹ اینڈ ورکرس پارٹی کے لیڈر سامیہ کورڈے، جنتا دل یو لیڈر امت جھا، آر جے ڈی لیڈر محمد اقبال کے علاوہ انڈیا اتحاد کے کئی دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں : راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مسئلہ اٹھایا
انڈیا اتحاد کے لیڈران نے کہا کہ گاندھی جی اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی جینتی کے موقع پر پیر کے روز دوپہر میٹرو سنیما سے منترالے تک ’میں بھی گاندھی‘ پیدل مارچ میں ہزاروں لوگوں کے شامل ہونے کی امید ہے۔ پیدل مارچ میں تشار گاندھی، ڈاکٹر جی جی پاریکھ، فیروز میٹھی بوروالا، گڈی ایس ایل، رام پنیانی، عرفان انجینئر، سندھیا گوکھلے، نرنجنی شیٹی، پریرنا دیسائی، علی بھوجانی جیسے گاندھی وادی اور سیکولر شخصیات شامل ہوں گی۔

اب 7 اکتوبر تک بدلے جا سکیں گے 2000 روپے کے نوٹ

جن کے پاس اب بھی 2000 روپے کے نوٹ پڑے ہوئے ہیں، انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آر بی آئی نے اس نوٹ کو بدلنے کی آخری تاریخ یعنی 30 ستمبر میں توسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے ہفتہ کے روز ایک پریس ریلیز جاری کیا ہے جس میں بتایا کہ ہے کہ اب 2000 روپے کے نوٹ بدلنے کی آخری تاریخ 7 اکتوبر 2023 کر دی گئی ہے۔ یعنی آپ کے پاس اگر 2000 روپے کے نوٹ ہیں تو آپ 7 اکتوبر تک اسے بدل سکتے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے جانکاری دی ہے کہ ریویو کیے جانے کے بعد فیصلہ لیا گیا کہ نوٹ بدلنے کی تاریخ میں 7 اکتوبر تک توسیع کی جائے۔

آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق اب تک 93 فیصد 2000 روپے کے نوٹ بینک میں واپس آ چکے ہیں۔ 19 مئی 2023 کو آر بی آئی نے 2000 روپے کے نوٹ کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ آر بی آئی نے صارفین سے کہا تھا کہ آپ بینک میں جا کر اپنے نوٹ بدل سکتے ہیں اور دیگر قدروں کے نوٹ کو حاصل کر سکتے ہیں۔

ویسے آر بی آئی نے 7 اکتوبر کے بعد بھی 2000 روپے کے نوٹ بدلنے کا ایک راستہ لوگوں کے لیے کھلا رکھا ہے۔ سنٹرل بینک نے اپنے سرکلر میں کہا ہے کہ توسیع شدہ تاریخ یعنی 7 اکتوبر تک اگر 2000 روپے کے نوٹوں کو نہیں بدلا جاتا ہے، یعنی اس کے بعد بھی اگر کسی کے پاس 2000 روپے کے نوٹ رہ جاتے ہیں تو آپ اسے بھلے ہی بینک میں جمع اور بدل نہیں سکیں گے، لیکن آر بی آئی کے 19 علاقائی دفاتر میں یہ بدلا جا سکے گا۔ حالانکہ ایک بار میں 20 ہزار روپے سے زیادہ کے نوٹ نہیں بدلے جا سکیں گے۔

جمعیتِ علماء سلیمانی چوک کے زیر اہتمام تاریخ ساز

 *جمعیتِ علماء سلیمانی چوک کے زیر اہتمام شہرِ عزیز کی مختلف مساجد میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے 14 پروگرامات بحسنِ خوبی اختتام پذیر ہوئے، الحمد للہ جمعیتِ علماء کی یہ دیرینہ روایت ہے کہ ہر سال ماہ محرم الحرام میں امت مسلمہ کو بدعات و خرافات سے بچانے کے لیے دس روزہ پروگرامات اور جلسہ اصلاح معاشرہ اور اسی طرح ماہ ربیع الاول میں امت مسلمہ کو سیرتِ طبیہ سے روشناس کرانے کے لئے پروگرامات کے انعقاد کا اہتمام کیا جاتا ہے، جمعیتِ علماء مسلمانانِ ہند کی وہ متحدہ جماعت ہے جو اپنے قیام کے روز اول سے لیکر اب تک ہر موڑ پر امت مسلمہ کی مکمّل رہبر و رہنمائی کا فریضہ انجام دی رہی ہیں، یہ ان اکابرین کی قائم کردہ جماعت ہے جو نیک و صالح، خوف و خشیت، اخلاص و للاہیت سے لبریز ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کے نشیب وفراز پر ان کی مکمّل گرفت تھی، اور وہ موجِ حوادث کے طلاطم خیز طوفان کو روکنے اوراس پر قدغن لگانے کے ہنر سے بخوبی واقف تھے اور اسی طرح وہ اکابرین مسلمانانِ ہند کے سدابہار مستقبل کی آبیاری کے تئیں ہمہ وقت مستعد و کوشاں رہتے تھے،ان ہی اکابرین نے جمعیت کے کاز میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر پروگرامات کو بھی شامل کیا تاکہ اصلاحِ عوام کے ساتھ امت مسلمہ کو سیرتِ طبیہ سے متعارف کرایا جاسکے، کیونکہ اہل ایمان کا ایمان وجودِ نبوی پر موقوف ہے، اس لیے اپنی زیست کی شناسائی سے زیادہ اپنے نبی کی معرفت ضروری ہے اور معرفتِ نبوی اتباع و محبتِ رسول کا زینہ ہے اور اتباع و محبت دخولِ جنت کی ضمانت ہے اسی مناسبت سے ان پروگرامات کے انعقاد کا اہتمام کیا گیا، جن میں عقیدت و محبت سے لبریز عاشقانہ و والہانہ انداز میں تعبیرات کے شہ پارے، خطابت کے شاہکار، منظوم جواہر پارے، لے کر مقرر و ناظم اور شاعر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مختلف گوشوں کو اُجاگر کیا، خصوصاً آپ کے عفو و کرم، عدل و انصاف، حیا پاکدامنی، اخلاق عالیہ، ولادت با سعادت سے قبل کے حالات و مناظر، انوار و برکات ،دعوت و تبلیغ، امت کے تئیں فکرمندی، حقِ شفاعت، آپ کے اسوئے و نمونہ کی پیروی، سنت سے محبت، سعادتِ ابدی اور حقیقی کامیابی کی کنجی پر گرانقدر انداز میں روشنی ڈالی، یہ ساری باتیں درج ذیل مقررین نے بیان فرمائی، مولانا عصام الحق صاحب رشیدی ،مفتی حامد حسین صاحب ملی، مولانا آصف شعبان صاحب ،مولانا خالد رشیدی صاحب ،مفتی محمد اسلم جامعی ،حافظ انیس اظہر ملی صاحب مولانا جمال ناصر ایوبی صاحب ، مولانا فیضان انجم محمدی صاحب، مولانا شرجیل ملی صاحب ،جناب ابو سفیان ایم آر صاحب ،قاری عبد اللہ فیصل صاحب مولانا سلمان تجویدی صاحب مولانا رمضان حبیب ندوی صاحب، اور ان پروگرامات کی نظامت کے فرائض مولانا انیس احمد ملی صاحب ،اور قاری اخلاق احمد جمالی صاحب نے اپنے مسحور کن انداز میں ادا کئے، اسی طرح آخری نعتیہ پروگرام میں شہرِ عزیز کے نامور و چیدہ شعراء کرام نے رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں گلہائے عقیدت و محبت اور اپنے دلی جذبات و احساسات کو نعتیہ اشعار کی شکل میں حاضرین کے روبرو پیش کیا، تو چراغِ محبت کی روشنی میں اور اضافہ ہوگیا، اور ہر ایک کی آنکھوں میں عقیدت کا نور اور محبت کا سرور جھلکنے لگا، تقریباً تین گھنٹوں تک شعراء کرام نے ارمغانِ نعت سے ایک سماں باندھ دیا، اور سامعین سے دادِ تحسین وصول کرتے رہے، رات ایک بجے صدرِ عالی قدر مولانا آصف شعبان صاحب کے مختصر خطاب اور دعا پر عقیدت و محبت سے لبریز اس پُر بہار بزم کا اختتام عمل میں آیا، ان 14 پروگرامات کو از اول تا آخر بحسنِ خوبی کامیابی سے ہمکنار کرانے میں* 
*قاری اخلاق احمد جمالی صاحب، حافظ عبدالعزيز رحمانی صاحب، خلیل احمد ایم ایم مدنی، صابر شیخ اور دیگر احباب کی کافی محنت رہی ان تمام پروگراموں میں عوام الناس کثرت تعداد موجود تھے اور بڑی سراہنا کی*

اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن و صدر الشریعہ

آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بعثت مبارک کے قبل و بعد بھی ہر دور میں نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی خوشی منائی جاتی رہی ہے ان کی ولادت کے مبارک و مسعود موقع پر محفل جشن صبحِ بہاراں کا انعقاد ہوتا چلا آرہا ہے اس عظیم برکتوں والی ولادت پاک کی محفل سے ہر دور کے مسلمان فیضیاب ہوتے رہے ہیں اس سال بارہ ربیع الاول شریف 28 ستمبر 2023 بروز بدھ کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے موقع پر اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن، مالیگاؤں و صدر الشریعہ اکیڈمی کے زیر اہتمام محفل صبحِ بہاراں کا انعقاد کیا گیا تھا اس محفل میں شہر کے معروف نعت خواں حضرات بالخصوص شہنشاہ ترنم جناب امتیاز رضا صابری صاحب و عندلیب رضا قاری عتیق احمد رضوی، محمد عارف رضوی، محمد مصطفےٰ رضوی (ماما) کے علاوہ دیگر نعت خواں حضرات نے بزرگانِ دین کے کلام بارگاہ رحمت العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں پیش کئے جبکہ اِس روحانی و عرفانی محفل کی سرپرستی خلیفہ حضور محدث کبیر و اشرف الفقہاء حضرت علامہ مولانا مفتی نعیم رضا مصباحی صاحب قبلہ نے فرمائی موصوف نے بھی بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں نذرانہ عقیدت پیش کیا. 
اخیر میں سلام باقیام پڑھا گیا شجرہ خوانی اور حضرت مفتی نعیم رضا مصباحی صاحب قبلہ نے ل خصوصیت کے ساتھ دین و ایمان کی حفاظت، و صیانت، محفل صبح بہاراں کی برکتوں سے تمام مشکلات کے حل، بیماروں کو شفاء، دین پر ثبات قدمی، اسلام کی سر بلندی، گناہوں سے توبہ آئندہ نہ کرنے کا عزم، اس طرح کے دعائیہ الفاظ کے ساتھ رقت آمیز دعا فرمائی جبکہ کثیر تعداد میں حاضر آئے عاشقان رسول اکرم علیہ السلام کی بارگاہوں میں شیرینی تقسیم کی گئی نماز فجر کے بعد محفل اختتام پذیر ہوئی. 

رپورٹ :- محمد مدثر حسین رضوی مالیگ 
اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن مالیگاؤں

فیڈریشن آف آل مائناریٹی ایجوکشنل آرگنائریشن

مالیگاؤں :(نامہ نگار ) سورج مانڈھرے کا نام مالیگاؤں شہر کے لئے کوئی نیا نہیں بلکہ کورونا کال اور لاک ڈاؤن کے ایام میں ناسک ضلع کلکٹر کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے انھوں نے جس فعالیت اور تحرک کا ثبوت پیش کیا تھا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ ان کی کارکردگی نہ صرف کورونا پر قدغن لگانے کا کام کیا تھا بلکہ لاک ڈاؤن کے نامساعد حالات سے نبرد آزما ڈر اور خوف میں مبتلا شہریان کو کورونا کے دہشت زدہ ایام سے نکالنے کے لئے حتی المکان کوششیں کی تھیں آج وہی سورج مانڈھرے ضلع ناسک کلکٹر سے تبادلہ کے بعد ریاست مہاراشٹر کے عظیم عہدہ ایجوکیشن کمشنر کی حیثیت سے اپنی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہیں یہی وجہ رہی ہے کہ وائس آف مائناریٹیز کے قومی صدر اور فیڈریشن آف آل مائناریٹی ایجوکشنل آرگنائریشن کے ریاستی کورآرڈینیٹر شبیر شاکر
نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست مہاراشٹر کے اقلیتی تعلیمی اداروں کے مسائل و ان کے تدارک ،ریاست مہاراشٹر ان تعلیمی مراکز کی نشاندہی کی جو کسی نہ کسی کی مرہون منت رہی ہیں. بوگس تعلیمی مراکز اور ایسی اسکولوں کے خلاف گفتگو کی جہاں ڈگری یافتہ مدرسین کی بجائے ایسے بچہ مدرسین کو معمولی تنخواہ پر درس و تدریس کے لئے رکھا گیا ہے جنھیں رکھنا قانونأ درس و تدریس سے کھلواڑ کرنا کہا جاتا ہے. فیڈریشن آف آل مائناریٹی ایجوکشنل آرگنائریشن کے ریاستی کورآرڈینیٹر شبیر شاکر نے ثبوت و شواہد کی بنیاد پر ایجوکشین کمشنر شری سورج مانڑھرے اس بات کا اعادہ کیا کہ شہر میں جاری بوگس اسکولوں اور ایسی اسکولوں میں درس و تدریس پر مامور بوگس مدرسین پر سخت سے سخت کاروائی کی جائے نیز اقلیتی اسکولوں اور اقلیتی طلبہ کے مسائل پر فورأ سے ہیشتر ان کا دیر پا حل تلاش کیا جائے تاکہ مرکز کی اسکیمیوں سے وہ بہرہ ور ہو جائیں. ایجوکشین کمشنر سورج مانڈھرے نے فیڈریشن آف آل مائناریٹی ایجوکشنل آرگنائریشن کے ریاستی کورآرڈینیٹر شبیر شاکر
کو تیقن دیا کہ وہ ان کی جانب سے پیش کردہ گذارش کی روشنی میں تمام تر نکات پر عمل در آمد کرنے کی کوشش کریں گے. یاد رہے کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کے ایام میں سابق ضلعی کمشنر سورج مانڈھرے کی بے مثال خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اب تک ایجوکیشن کمشنر کے ذریعے نہ صرف ان کی بے مثال خدمات کا اعتراف کیا گیا بلکہ ان کی خدمت میں گلوں کا نذرانہ بھی پیش کیا گیا.

نہار منہ کشمش کا پانی پینے کے آزمودہ فوائد

کشمش کے متعلق لوگوں کو اتفاقی طور پر پتہ چلا جب 2000 قبل مسیح کے آس پاس انگوروں کی بیل پر انہیں خشک انگور ملے اور یہ اس وقت تک کی سب سے اہم خوراک کی دریافتوں میں سے ایک تھی۔ یہ ایک سپر فوڈ ہے کیونکہ یہ وٹامنز، فائبر اور معدنیات سے بھرپور خشک میوہ جاتے ہیں جس کے استعمال کا مشورہ ڈاکٹر اور غذائی ماہرین دیتے ہیں۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ہم رات کو کشمش بھگو کر رکھیں تو یہ اور بھی مفید ہو سکتا ہے ۔کیونکہ پانی کشمش اور اس کی جلد کے تمام معدنیات اور غذائی اجزاء کو تحلیل کرتا ہے اور اس طاقتور پھل کی خصوصیات میں اضافہ کرتا ہے۔
نہار منہ کشمش کا پانی پینے کے فوائد
کشمش صحت کے لئے افادیت سے بھرپور ایک خشک میوہ ہے، ہم یہاں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کشمش کا پانی ہمارے جسم کے لئے کیسے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

۔1 زہریلے مادوں سے نجات
آیوروید کے ماننے والے طویل عرصے سے جگر اور آنتوں کی صفائی کے لئے کشمش کا پانی استعمال کر رہے ہیں، درحقیقت اس خشک میوہ میں اینٹی آکسیڈینٹس اور غذائی ریشہ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو( ڈیٹاکسیفائنگ) جسم میں سے زہریلے مادے نکالنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اینٹی اکسیڈینٹس ہمارے جگر کو صحیح طریقے سے کام کرنے اور جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج کو ممکن بناتے ہیں۔

آنتوں کو حرکت میں لاتا ہے
اس میں موجود ریشے پاخانہ میں اضافہ کرتے ہیں اور آنتوں کو حرکت میں لانے کے لئے مدد گار ثابت ہوتے ہیں، آنتوں کی صفائی کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ خالی پیٹ کشمش کا پانی پینے سے یہ اور بھی تیزی سے کام کریگا، بس آپ نے بھیگی ہوئی کشمش کو پانی کے ساتھ ملا کر کھانا ہے۔
توانائی کو فروغ
سائنسدانوں اور کھیلوں کے ماہرین کا خیال ہے کہ کشمش انرجی بار کی جگہ ایک اچھے متبادل کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔ کشمش میں مائیکرونیوٹرینٹس اور فائبر کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور اس میں کوئی اضافی چینی یا مصنوعی ذائقہ موجود نہیں ہوتا ہے ،اس کی یہ خصوصیات انہیں مصنوعی انرجی بار سے منفرد اور مفید بناتی ہے اور یہ ایک بھرپور ناشتہ ہو سکتی ہیں۔

خدیجہ بنت خویلد

خدیجہ بنت خویلد (پیدائش: 556ء – وفات: 30 اپریل 619ء) مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ اور 25 سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی زوجہ اور غمگسار شدید ترین مشکلات میں ساتھی تھیں۔ بقیہ تمام ازواج النبی ان کی وفات کے بعد زوجہ بنیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری کی ساری اولاد خدیجہ سے پیدا ہوئی اور صرف ابراہیم جو ماریہ قبطیہ سے تھے جو اسکندریہ کے بادشاہ اور قبطیوں کے بڑے کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کی گئی تھیں۔خدیجہ نے 10 نبوی کو انتقال فرمایا۔
خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر ان کا خاندان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خاندان سے مل جاتا ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا اور لوی بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد سے تھیں۔

خدیجہ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ مکہ آکر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصی کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل خدیجہ پیدا ہوئیں، [7] سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پر طاہرہ[8]کے لقب سے مشہور ہوئیں۔

خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ۔
حضرت خدیجہ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت زید بن اصم بن رواحہ بن حجر بن عبد بن معیص بن عامر بن لوی تھا۔ فاطمہ کی ماں کا نام ہالہ بنت عبد مناف بن حارث بن عبد بن منقد بن عمرو بن معیص بن عامر بن لوی تھا۔ ہالہ کی والدہ کا نام فلانہ (یا بقول ابن ہشام قلابہ) بنت سعید بن سعد بن سہم بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لوی تھا۔ فلانہ کی ماں کا نام عاتکہ بنت عبد العزی بن قصی تھا۔ عاتکہ کی ماں کا نام ریطہ بنت کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی تھا۔ ریطہ کی ماں کا نام فیلہ بنت حذافہ بن جمح بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لوی تھا۔ فیلہ کی ماں کا نام امیمہ بن عامر بنت حارث بن فہر تھا۔ امیمہ کی ماں قبیلہ خزاعہ کے سعد بن کعب بن عمرو کی بیٹی تھی اور اس کی ماں فلانہ بنت حرب بن حارث بن فہر تھی۔ فلانہ کی ماں کا نام سلمیٰ بنت غالب بن فہر تھا اور سلمی کی ماں محارب بن فہر کی بیٹی تھی
اہل تشیع محققین کے مطابق آپ کی پہلے کوئی شادی نہ ہوئی تھی اور صرف نبی اکرم ہی آپ کے اکلوتے شوہر تھے۔ مگر اہل سنت کے تاریخ نویسوں کے بقول آپ کے والد گرامی نے ان کی اعلی صفات کا لحاظ رکھ کر ان کی شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادر زادہ اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، کو منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابو ہالہ ہند بن بناش بن تمیم سے نکاح ہو گیا۔[10][11]
ابو ہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزوم کے عقد نکاح میں آئیں۔[11]

اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں خدیجہ کے والد لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے[12]یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔
خدیجہ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا لیکن کارکنان قضا و قدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑ چکی تھی، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مال تجارت لے کر شام سے واپس آئے تو خدیجہ نے شادی کا پیغام بھیجا۔ نفیسہ بنت مینہ (یعلی بن امیہ کی ہمشیرہ) اس خدمت پر مقرر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منظور فرمایا،[15] اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، خدیجہ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے۔ عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بنا پر خدیجہ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کیے۔

تاریخ معین پر ابو طالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں آپ کے بہنوئی اور نبی اکرم کے چچا حمزہ بن عبد المطلب بھی تھے، خدیجہ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمرو بن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی درہم مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ حرم نبوت ہو کر پہلی ام المومنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے تھے اور خدیجہ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔[16] آپ پچیس سال اکلوتی حرم نبی تھیں۔
ام المومنین خدیجہ نکاح کے بعد ربع صدی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی شریک حیات رہیں۔ شادی کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سنہ 10 نبوی (ہجرت سے تین سال قبل)[25] انتقال کیا، اس وقت ان کی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے ان کا جسد مبارک اسی طرح دفن کر دیا گیا۔

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خود ان کی قبر میں اترے اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، خدیجہ کی قبر حجون قبرستان میں ہے۔[26] اور زیارت گاہ خلائق ہے۔

ام المومنین خدیجہ کی وفات سے تاریخ اسلام میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) فرمایا کرتے تھے کیونکہ ان کے اٹھ جانے کے بعد قریش کو کسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے ناامید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔

ہارون الرشید

 ہارون اور مامون - عقل کا دور

 پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد، پی ایچ ڈی نے تعاون کیا۔

 یہ تاریخ کا ایک لمحہ تھا جب اسلامی تہذیب نے مشرق اور مغرب سے نئے خیالات کے لیے اپنے دروازے کھولے۔ پراعتماد مسلمانوں نے ان خیالات کو لیا اور انہیں ایک منفرد اسلامی سانچے میں ڈھالا۔ اس کالڈرون سے اسلامی فن، فن تعمیر، فلکیات، کیمسٹری، ریاضی، طب، موسیقی، فلسفہ اور اخلاقیات نکلے۔ درحقیقت فقہ کا عمل اور معاشرتی مسائل پر اس کا اطلاق اس زمانے کے تاریخی تناظر سے بہت زیادہ متاثر تھا۔

 ہارون الرشید المنصور کا بیٹا تھا اور عباسی خاندان کا چوتھا نمبر تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر تخت پر چڑھنا 22 سال 786 میں، اسے فوری طور پر اندرونی بغاوتوں اور بیرونی حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ افریقہ میں علاقائی بغاوتوں کو کچل دیا گیا، مصر میں قیس اور قزہ سے قبائلی بغاوتوں پر قابو پالیا گیا اور علویوں کی فرقہ وارانہ بغاوتوں پر قابو پالیا گیا۔ بازنطینیوں کو خلیج میں رکھا گیا اور خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور کیا گیا۔ 23 سال تک اس نے ایک ایسی سلطنت پر حکومت کی جس نے زمین کے ایک وسیع قوس کو جوڑ دیا تھا جو چین سے ہندوستان اور بازنطیم کی سرحد سے بحیرہ روم کے ذریعے بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا تھا۔ اس میں مرد، مادی اور نظریات آزادانہ طور پر براعظمی تقسیم میں بہہ سکتے ہیں۔ تاہم، ہارون کو اس کی سلطنت کی تعمیر کے لیے نہیں، بلکہ ایک شاندار تہذیب کی عمارت کی تعمیر کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔
 یہ اسلام کا سنہری دور تھا۔ یہ سلطنت کی شاندار دولت یا عربی راتوں کی پریوں کی کہانیاں نہیں تھیں جنہوں نے اسے سنہری بنا دیا۔ یہ اس کے خیالات کی طاقت اور انسانی سوچ میں اس کی شراکت تھی۔ کے طور پر سلطنت پروان چڑھ چکی تھی، اس کا رابطہ کلاسیکی یونانی، ہندوستانی، زرتشتی، بدھ مت اور ہندو تہذیبوں کے نظریات سے ہوا تھا۔ عالمی نظریات کے ترجمے اور تفہیم کا عمل المنصور کے زمانے سے جاری تھا۔ لیکن اسے ہارون اور مامون کی طرف سے ایک کوانٹم فروغ ملا۔

 ہارون نے ترجمہ کا ایک مکتب بیت الحکمہ (حکمت کا گھر) قائم کیا اور اپنے آپ کو اہل علم سے گھیر لیا۔ اس کا نظم و نسق غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل وزیر برمیسائیڈز کے ہاتھ میں تھا۔ ان کے درباریوں میں عظیم فقیہ ڈاکٹر، شاعر، موسیقار، منطق دان، ریاضی دان، ادیب، سائنسدان، ماہرین ثقافت اور فقہ کے علماء شامل تھے۔ ابن حیان (متوفی 815)، جس نے کیمسٹری کی سائنس ایجاد کی، ہارون کے دربار میں کام کیا۔ جو علماء ترجمہ کے کام میں مصروف تھے ان میں مسلمان، عیسائی، یہودی، زرتشتی اور ہندو شامل تھے۔ یونان سے کام آیا سقراط، ارسطو، افلاطون، گیلن، ہپوکریٹس، آرکیمیڈیز، یوکلڈ، بطلیموس، ڈیموستھینز اور پائتھاگورس۔ ہندوستان سے برہما گپت کے سدھانت، ہندوستانی ہندسوں، صفر کا تصور اور آیورویدک ادویات کے ساتھ ایک وفد پہنچا۔ چن سے کیمیا کی سائنس اور کاغذ، ریشم اور مٹی کے برتنوں کی ٹیکنالوجیز آئیں۔ زرتشتی انتظامیہ، زراعت اور آبپاشی کے شعبوں میں لائے۔ مسلمانوں نے ان ذرائع سے سیکھا اور دنیا کو الجبرا، کیمسٹری، سماجیات اور لامحدودیت کا تصور دیا۔ جس چیز نے مسلمانوں کو دوسری تہذیبوں کا سامنا کرنے کا اعتماد دیا وہ ان کا ایمان تھا۔ وحی پر مضبوطی سے جڑے اعتماد کے ساتھ، مسلمانوں نے دوسری تہذیبوں کا سامنا کیا، جو انہیں درست معلوم ہوا اسے جذب کیا اور اسے اپنے عقیدے کی شکل میں تبدیل کیا۔ قرآن مردوں اور عورتوں کو فطرت سے سیکھنے، اس کے نمونوں پر غور کرنے، فطرت کو ڈھالنے اور شکل دینے کی تاکید کرتا ہے تاکہ ان میں عقل پیدا ہو۔ ’’ہم انہیں افق پر اور ان کی روحوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے‘‘ (قرآن، 41:53)۔ اسی دور میں ہم کلاسیکی اسلامی تہذیب کے آثارِ قدیمہ کا ظہور دیکھتے ہیں، یعنی حکیم (یعنی عقلمند شخص)۔ اسلام میں سائنس دان وہ ماہر نہیں ہے جو فطرت کو باہر سے دیکھتا ہے، بلکہ وہ عقلمند آدمی ہے جو فطرت کو اندر سے دیکھتا ہے اور اپنے علم کو ایک ضروری کلی میں ضم کرتا ہے۔ حکیم کی جستجو صرف علم کی خاطر علم نہیں ہے بلکہ اس ضروری وحدانیت کا ادراک ہے جو مخلوق میں پھیلی ہوئی ہے اور ان باہمی ربط کا جو خدا کی حکمت کو ظاہر کرتی ہے۔ ہارون نے جو شروع کیا اسے اس کے بیٹے مامون نے مکمل کرنے کی کوشش کی۔ مامون اپنی ذات میں ایک عالم تھے، طب، فقہ، منطق کی تعلیم حاصل کی تھی اور حافظ قرآن تھے۔ اس نے قسطنطنیہ اور ہندوستانی اور چینی شہزادوں کی عدالتوں میں وفود بھیجے اور ان سے کہا کہ وہ کلاسیکی کتابیں اور علماء بھیجیں۔ انہوں نے مترجمین کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں شاندار انعامات سے نوازا۔ شاید اس دور کی کہانی اس دور کے عظیم آدمیوں نے بہترین انداز میں بیان کی ہے۔ اسلام کے پہلے فلسفی الکندی (متوفی 873) نے اس وقت عراق میں کام کیا۔ مشہور ریاضی دان الخوارزمی (متوفی 863) نے مامون کے دربار میں کام کیا۔ الخوارزمی ریاضی کے مسائل کو حل کرنے کے بار بار چلنے والے طریقہ کار کے لیے مشہور ہے، جسے آج بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اسے الگورتھم کہا جاتا ہے۔ اس نے کچھ عرصہ بغداد میں تعلیم حاصل کی اور بتایا جاتا ہے کہ اس نے ہندوستان کا سفر بھی کیا۔ الخوارزمی نے الجبرا کا لفظ ایجاد کیا (عربی لفظ j-b-r سے، جس کا مطلب زبردستی، مارنا یا ضرب کرنا ہے)، ہندوستانی عددی نظام کو مسلم دنیا میں متعارف کرایا (جہاں سے اس نے یورپ کا سفر کیا اور "عربی" عددی نظام بن گیا)، ادارہ جاتی ریاضی میں اعشاریہ کا استعمال اور تجرباتی طریقہ ایجاد کیا (علم کی بنیاد پر پیمائش) فلکیات میں۔ انہوں نے جغرافیہ اور فلکیات پر متعدد کتابیں لکھیں اور پوری دنیا میں ایک قوس کے فاصلے کی پیمائش میں تعاون کیا۔ دنیا آج تک الخوارزمی کے نام کو سائنس اور انجینئرنگ کے ہر شعبے میں "الگورتھمز" استعمال کرکے مناتی ہے۔ یہ ہارون و مامون کے زمانے میں پیدا ہونے والا فکری دھماکہ تھا جس نے سائنس کو علم کے میدان میں آگے بڑھایا اور اسلامی تہذیب کو پانچ سو سال تک علم کا مینار بنا دیا۔ بغداد کے ترجمے کے اسکولوں کے کام نے طبیب الرازی (متوفی 925)، مؤرخ المسعودی (متوفی 956)، طبیب ابو علی سینا (متوفی 1037)، طبیعیات دان الحزن (متوفی 1037) کے بعد کے کاموں کو ممکن بنایا۔ 1039، مورخ البیرونی (متوفی 1051)، ریاضی دان عمر خیام (متوفی 1132) اور فلسفی ابن رشد (متوفی 1198)۔

 ہارون و مامون کا زمانہ بھی تضادات کا دور تھا۔ درحقیقت، اسلامی تاریخ کا کوئی دوسرا دور اپنی تاریخ کے بارے میں مسلمانوں کے شیزوفرینک رویہ کو اس طرح واضح نہیں کرتا، جیسا کہ ہارون اور مامون کا دور تھا۔ ایک طرف مسلمان اس کے کارناموں پر فخر کرتے ہیں۔ دوسری طرف، وہ ان اقدار کو مسترد کرتے ہیں جن پر وہ کامیابیاں مبنی تھیں۔ مسلمان اس زمانے کے سائنس دانوں اور فلسفیوں پر خاص طور پر مغرب کے ساتھ اپنی جدلیات پر بہت فخر کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس فکری بنیاد کو مسترد کرتے ہیں جس پر ان سائنسدانوں اور فلسفیوں نے اپنے کام کی بنیاد رکھی تھی۔

 ہارون اور مامون کی عمر عقل کی عمر تھی۔ مامون نے خاص طور پر عقلیت پسندوں کو مکمل گلے لگا لیا۔ معتزلہ اسلام کا عقلی دستہ تھے۔ مامون نے معتزلہ کے عقائد کو سرکاری عدالت کا عقیدہ بنایا۔ تاہم معتزلہ عقلی طریقہ کی حدود سے ناواقف تھے اور اپنی رسائی کو حد سے زیادہ بڑھا دیتے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے طریقہ کار کو کلام الٰہی پر لاگو کیا اور قرآن کے "تخلیق" کا نظریہ پیش کیا۔ آسان الفاظ میں، یہ وہ غلطی ہے جس میں اس وقت پڑتی ہے جب علم کا ایک درجہ بندی بنایا جاتا ہے جس میں وجہ کو وحی کے اوپر رکھا جاتا ہے۔ معتزلہ نے اپنے عقلی آلات کو وحی کے لیے استعمال کیا، بغیر اس کے کہ زمانہ کے مظاہر یا اس کی فزکس کی نوعیت سے مطابقت کو کافی سمجھے۔ اس عمل میں، وہ اپنے چہرے کے بل گر گئے. بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطیوں پر قابو پالیں اور ان کو درست کریں، وہ دفاعی بن گئے اور دوسروں پر اپنے خیالات کو زبردستی مسلط کرنے میں زیادہ جابر بن گئے۔

نیویارک میں سیلاب سے حالات تباہ کن، سڑکیں تالاب میں تبدیل، ایمرجنسی کا اعلان

امریکہ کا شہر نیویارک سیلاب کی وجہ سے تباہ کن حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتظامیہ نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ تیز بارش کے سبب سیلاب والے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں جس کے بعد لوگوں کے گھروں میں پانی گھس گیا ہے۔ سڑک پر کئی لوگ اپنی اپنی کاروں میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے ریسکیو کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کئی علاقے پوری طرح غرقاب ہو گئے ہیں اور ہر طرف پانی ہی پانی دکھائی دے رہا ہے۔

مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے اور ٹریول ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے۔ لوگوں کو کہیں بھی سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ تیز بارش اور سیلاب کے سبب شہر میں میٹرو خدمات کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ عام سڑکوں کے ساتھ ساتھ شاہراہوں پر بھی پانی جمع دکھائی دے رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لاگارڈیا ایئرپورٹ پر کئی پروازوں میں تاخیر ہوئی۔ کچھ علاقوں میں 5 انچ سے بھی زیادہ بارش ہونے کی خبر سامنے آ رہی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ بارش 7 انچ تک پہنچ سکتی ہے۔
اس درمیان نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے اسٹیٹ ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ ہوچل نے کہا کہ شہر کے کچھ حصوں میں پوری رات 5 انچ بارش ہوئی ہے اور دن میں 7 انچ بارش کا امکان ہے۔ حالانکہ افسرا نے بتایا کہ بارش اور سیلاب کے سبب کسی کے ہلاک ہونے کی جانکاری نہیں ہے۔ ویسے ٹریفک نظام پوری طرح سے ٹھپ پڑ گیا ہے۔ پریسیلا فونٹولیوں نامی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ وہ تین گھنٹے تک اپنی کار میں پھنسی رہی۔ فونٹولیوں کے مطابق انھوں نے اپنی زندگی میں ایسی صورت حال کبھی نہیں دیکھی تھی۔

ایشین گیمز: اسکویش میں بھی ہندوستان کو ملا گولڈ

ایشین گیمز میں آج ہندوستان نے اپنا دوسرا طلائی تمغہ حاصل کر لیا ہے۔ ہندوستان کی مردوں پر مشتمل اسکویش ٹیم نے پاکستانی ٹیم کو ایک دلچسپ مقابلے میں شکست دے کر یہ تمغہ حاصل کیا۔ 2014 کے بعد ہندوستانی ٹیم نے پہلی بار ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔ ہندوستان کے لیے 18 سالہ ابھے سنگھ نے فائنل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دباؤ والے حالات میں شاندار کارکردگی پیش کرتے ہوئے ہندوستان کی جھولی میں گولڈ میڈل ڈال دیا۔

ایشیائی کھیلوں میں اسکویش کی بات کی جائے تو آج سے پہلے اس زمرے میں ہندوستان کو واحد طلائی تمغہ 2014 میں حاصل ہوا تھا۔ اس وقت ہندوستان نے ملیشیا کو شکست دے کر تاریخ رقم کی تھی۔ پھر اس کے بعد 30 ستمبر یعنی آج اسکویش میں مردوں کی ہندوستانی ٹیم نے طلائی تمغہ پر قبضہ کیا۔ آج کھیلے گئے فائنل کے تیسرے گیم میں ابھے سنگھ نے پاکستان کے زماں نور کو 7-11، 11-9، 11-7، 9-11، 10-12 سے شکست دے کر ہندوستان کا پرچم سب سے اونچا کر دیا۔ اس سے قبل سورو گھوشال نے اپنے میچ میں محمد عاصم خان کو شکست دی تھی، جبکہ مہیش منگاؤنکر کو ناصر اقبال کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ایشیائی کھیل: روہن بوپنا اور رتوجا بھوسلے نے ہندوستان کو ٹینس میں دلایا طلائی تمغہ
تازہ طلائی تمغہ کے بعد ہندوستان کے تمغوں کی مجموعی تعداد 36 ہو گئی ہے، جن میں 10 طلائی تمغے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی جھولی میں 13 چاندی کا تمغہ اور 13 کانسے کا تمغہ آیا ہے۔ ہندوستان 36 تمغوں کے ساتھ میڈل ٹیبل میں چوتھے مقام پر قابض ہے۔ آج صبح ہندوستان کو پہلا طلائی تمغہ مکسڈ ڈبلز ٹینس سے آیا جس کے فائنل میں روہن بوپنا اور ریتوجا بھوسلے نے جیت کا پرچم لہرایا۔ شروعاتی سیٹ 6-2 سے ہارنے کے بعد ہندوستانی جوڑی نے شاندار واپسی کی اور انھوں نے سپر ٹائی بریک 4-10 سے جیت کر ایشین گیمز چمپئن بننے کا فخر حاصل کیا۔

سوڈان میں ہیضے کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے: ڈبلیو ایچ او

خرطوم: عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ سوڈان میں ہیضے کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ادارہ نے متاثرہ علاقوں میں ریپڈ ریسپانس ٹیمیں تعینات کر دی ہیں۔ ادارہ سوڈانی وزارت صحت کی مدد کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ مشتبہ کیسز کے نمونے صحت عامہ کی لیبارٹری میں منتقل کیے جا سکیں۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ سوڈانی وزارت صحت، عالمی ادارہ صحت اور صحت کے شراکت داروں کے تعاون سے صاف پانی اور صفائی کی سہولیات کی فراہمی کو بڑھانے اور متاثرہ اور خطرے سے دوچار کمیونٹیز کو خطرات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کی کوششوں کو مربوط کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سوڈان شدید بارشوں اور سیلاب کے علاوہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی، بیماریوں کے پھیلاؤ اور غذائی قلت کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق سوڈان میں 70 فیصد ہسپتال ریپڈ سپورٹ فورسز اور سوڈانیوں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے معطل ہو چکے ہیں۔ جو ہسپتال اب بھی چل رہے ہیں وہ بھی بڑی تعداد میں بے گھر افراد کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے منگل کے روز اطلاع دی تھی کہ مشرقی سوڈان میں ہیضے اور ڈینگی بخار کے پھیلنے کی اطلاع ملی ہے جہاں ملکی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان خونریز لڑائی کے باعث ہزاروں افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ تنظیم کے مطابق ہیضے کے 162 مشتبہ کیسز کو ریاست قصارف اور ایتھوپیا کے ساتھ سرحد کے ساتھ دوسرے علاقوں کے ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

’خاموش قاتل‘ ہائی بلڈ پریشر آپ کے دماغ کو کیسے مفلوج کر سکتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا بل...