Tuesday, 26 March 2024

سلامتی کونسل کا پہلی بار غزہ میں فوری فائر بندی کا مطالبہ

جنگ کے آغاز کے تقریباً چھ ماہ بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پہلی بار غزہ پٹی میں ’فوری جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ ویٹو پاور امریکہ نے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور اسی وجہ سے یہ قرارداد منظور ہو سکی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر پچیس مارچ کے روز اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا۔ امریکہ کی جانب سے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا گیا۔ اس قرارداد میں تمام مغویوں کی بھی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے باقی 14 اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جسے سلامتی کونسل کے دس منتخب اراکین نے تجویز کیا تھا۔ امریکہ آج تک غزہ پٹی میں جنگ بندی سے متعلق قرارداد کے متن میں 'جنگ بندی‘ کے الفاظ کے استعمال کے خلاف تھا اور اس نے اپنے اتحادی ملک اسرائیل کی حمایت میں ماضی میں اپنی ویٹو پاور کا استعمال بھی کیا تھا۔ لیکن عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج کی ووٹنگ میں امریکہ قرارداد کو ویٹو کرنے کی بجائے غیر حاضر رہا۔

سلامتی کونسل کی قرارداد میں ''پوری غزہ پٹی میں شہریوں کے تحفظ کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کے بہاؤ کو بڑھانےکے ساتھ ساتھ اس کو تقویت دینے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے جبکہ بڑے پیمانے پر انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے مطالبے کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔‘‘

اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے سلامتی کونسل کا اجلاس شروع ہونے سے کچھ ہی دیر قبل اطلاع دی تھی کہ اگر امریکہ نے یہ قرارداد ویٹو نہ کی تو اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اپنا واشنگٹن کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیں گے۔ امریکہ ابھی تک غزہ کی جنگ کے حوالے سے سلامتی کونسل کی تین قراردادوں کو مسترد کر چکا ہے۔ تاہم امریکہ ان دو قراردادوں میں غیر حاضر رہا، جن میں غزہ کے لیے امداد کو بڑھانے اور جنگ بندی کے وقفے میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا تھا۔


اسرائیل کا ردعمل
سلامتی کونسل کی طرف سے ''رمضان فائر بندی‘‘ کی قرارداد کی منظوری کے فوراً بعد اسرائیل نے اپنے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو امریکہ بھیجنے کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کے مطابق امریکی پوزیشن میں تبدیلی نے جنگ اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

دریں اثنا امریکہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ امریکہ نے یہ بھی کہا ہے، ''غزہ میں جنگ بندی صرف اسی صورت شروع ہو سکتی ہے اگر حماس یرغمالیوں کی رہائی شروع کرے۔‘‘ دوسری جانب فرانس نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کی طرف سے منظور کردہ ''رمضان فائر بندی‘‘ کی قرارداد کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہونا چاہیے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے بھی پیر کے روز کہا تھا کہ اسرائیل کو فائر بندی کی ضرورت کے بارے میں بتانے کے لیے بین الاقوامی اتفاق رائے بڑھ رہا ہے جبکہ رفح پر اسرائیلی حملہ وسیع تر انسانی تباہی کا سبب بنے گا۔ رفح کا علاقہ مصر کے ساتھ غزہ پٹی کی جنوبی سرحد پر دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی آخری پناہ گاہ ہے اور یہ بھی ان علاقوں میں شامل تھا، جو اسرائیل کے تازہ ترین حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

اسرائیل کی جنگی کارروائیاں جاری
فلسطینی طبی حکام کا کہنا ہے کہ رفح میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حالیہ چند ماہ کے دوران رفح کی آبادی میں لاکھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ غزہ کے باقی حصوں سے بے گھر ہو کر آنے والے لاکھوں فلسطینی اس علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سات بچوں کے والد ابو خالد کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ''رفح میں ہونے والی ہر بمباری کے بعد ہمیں یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ ٹینک یہاں داخل ہونے والے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے ہمارے رفح میں منتقل ہونے کے بعد کے بدترین دنوں میں سے تھے۔‘‘ ابوخالد کا ایک چیٹ ایپ کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہنا تھا، ''رفح میں ہم خوف میں رہتے ہیں، ہم بھوکے ہیں، ہم بے گھر ہیں اور ہمارا مستقبل نامعلوم ہے۔ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو ہم مارے جائیں گے یا پھر ہم شمال یا پھر جنوب (مصر) کی طرف دوبارہ بے گھر ہو سکتے ہیں۔‘‘

ہسپتالوں کے اردگرد لڑائی
فلسطینی عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جنوبی شہر خان یونس میں الامل اور ناصر ہسپتالوں کا بھی محاصرہ کر لیا ہے۔ ایک ہفتہ قبل اسرائیلی فورسز غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال میں بھی داخل ہو گئی تھیں، جو اس پٹی کا مرکزی ہسپتال ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس غزہ کے ہسپتالوں کو اپنے اڈوں کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ حماس اور طبی عملے نے اس اسرائیلی دعوے کی تردید کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ آیا تازہ حملوں کے دوران ہلاک ہونے والوں میں کوئی جنگجو بھی شامل تھا۔

بین الاقوامی اتفاق رائے میں اضافہ
غزہ میں محکمہ صحت کے مطابق اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں اس فلسطینی علاقے میں اب تک 32 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 74 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے اپنی فوجی مہم اس وقت شروع کی تھی، جب حماس کے عسکریت پسندوں نے سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں ایک حملہ کرتے ہوئے تقریباﹰ 1150 اسرائیلیوں کو ہلاک اور 253 کو اغوا کر لیا تھا۔

قطر اور مصر کی طرف سے امریکی حمایت یافتہ ثالثی اب تک اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی میں ناکام رہی ہے۔ اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کے شہریوں کو امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کے بارے دونوں میں سے ہر فریق ابھی تک اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے۔

اروند کیجریوال نے ای ڈی حراست سے جاری کیا حکم، سوربھ بھاردواج نے کہا- ’وزیر اعلیٰ عوام کے لیے فکرمند

نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی حراست سے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے محکمہ صحت کے حوالہ سے ہدایت جاری کی ہے۔ دہلی کے وزیر صحت سوربھ بھاردواج نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کیجریوال حراست میں ہیں لیکن وہ دہلی کے لوگوں کی صحت کو لے کر فکر مند ہیں۔

 نظر ڈی ایم آر سی کا فیصلہ
اس سے پہلے پانی کی وزیر آتشی نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کیجریوال نے انہیں پانی اور سیوریج سے متعلق عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے 'اپنی ہدایات' کے ساتھ ہفتہ کو ای ڈی کی تحویل سے ایک دستاویز بھیجا تھا۔
سوربھ بھردواج نے بتایا کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے انہیں ہدایت بھیجی ہے۔ کچھ ہسپتالوں میں مفت خون کے ٹیسٹ، نمونے دستیاب نہیں ہیں۔ اروند کیجریوال کا خیال ہے کہ ان کے جیل جانے سے لوگوں کو پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ اگر کوئی متوسط طبقے کا فرد ہسپتال جائے تو وہ ادویات خرید سکتا ہے، لیکن غریبوں کے لیے ایسا نہیں ہے، وہ حکومت پر منحصر ہیں۔ بہت سے مریض زندگی بھر دوائیوں پر انحصار کرتے ہیں، مثلاً ذیابیطس کے مریض۔ وہ ان ٹیسٹوں کے لیے ہمارے محلہ کلینک پر انحصار کرتے ہیں۔‘‘


سوربھ نے مزید کہا، ’’مجھے اس پر جلد از جلد کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تمام ہسپتالوں میں ادویات اور ٹیسٹ مفت دستیاب ہوں اور ان کی دستیابی کو کم نہ کیا جائے۔ اس کی ہدایات ہمارے لیے آسمانی احکامات کی طرح ہیں۔ ہم سب ان کے سپاہی ہیں۔ ان کے لیے 24 گھنٹے کام کریں گے۔‘‘
دریں اثنا، سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے دہلی کی وزیر آتشی کے اس بیان کا نوٹس لیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے انہیں ایجنسی کی تحویل سے پانی اور سیوریج سے متعلق عوامی بہبود کے کام شروع کرنے کی ہدایات بھیجی ہیں۔ آتشی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے آنے والے موسم گرما کے مہینوں سے پہلے پانی کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے ان علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ہے وہاں واٹر ٹینکرز بھیجنے کی بھی ہدایت کی۔

کیجریوال کو 28 مارچ تک ای ڈی کی حراست میں بھیجتے ہوئے، عدالت نے ان کی اہلیہ سنیتا کیجریوال اور پرسنل اسسٹنٹ ببھاو کمار کو ہر روز شام 6 سے 7 بجے کے درمیان آدھے گھنٹے تک ملنے کی اجازت دی تھی۔ اس مدت کا باقی آدھا گھنٹہ کیجریوال کے وکلاء کو ان سے ملنے کے لیے دیا گیا ہے۔

(دستک) سنسنی خیر واقعات سے جھونجتا شہر مالیگاؤں اور ہماری ذمہ داریاں

*(دستک) سنسنی خیر واقعات سے جھونجتا شہر مالیگاؤں اور ہماری ذمہ داریاں*
🔖 *شگفتہ سبحانی* 

گڈ ایوننگ ناظرین! 
نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی وقفے وقفے سے شہر مالیگاؤں میں جرائم اور حادثات کی خبروں نے ذہن و دل کی و مفلوج کردیا ہے 
کچھ واقعات اتنے خطرناک ہوۓ
کچھ تصویریں دہشت کی ایسی تصویریں ہو گئیں جس نے لبوں پر مہر لگادی ہے. پے درپے واقعات سے شہر مالیگاؤں بری طرح دہلا ہوا ہے 
ایک طرف لخت جگر جن کے والدین صدمے سے دوچار ہیں دوسری طرف بیوہ بہنیں جن کے سروں پر قیامت ٹوٹی ہے، 
 اور ٹھیک اسی طرح
گزشتہ روز پیر محمد عرف اننا پر ایسڈ اٹیک کے واقعہ پورے شہر کو سکتے میں ڈال دیا ہے
 
 ننھے کیف کیلئے اٹھتی ہر آواز میں درد کی گہار پائی گئی ہے ہر دل نے نم آنکھوں سے کینڈل جلا کر انصاف اور والدین کیلئے صبر مانگا ہے
یہ شہر کوئی عام شہر نہیں.. 
یہ تقدس کا ایسا روشن قصبہ رہا ہے جس کی ہوائیں کلمہ توحید سے، اللہ اکبر کی مسحور کُن آواز سے مشک بار رہی ہیں.

یہاں کی گلیوں میں عمر رسیدہ اور تجربہ کار نظروں نے ہمیشہ سے باحیاء طلبہ و طالبات کو دینی کتابوں کو سینے سے لگاۓ نظریں نیچی کئے گزرتے دیکھا ہے
یہاں کثیر تعداد میں تعلیم یافتہ افراد کی جیبوں میں رنگ برنگے پینسل، قلم ، روشنائی اور خطاطی کے برش دیکھے گئے ہیں

یہ شہر جیالوں کا شہر رہا ہے
یہاں ادب کے شہنشاہوں نے بنا تخت و تاج کے بھی دنیا بھر میں اپنے ہنر اور شہنشاہی کی چھاپ چھوڑی ہے
یہ نشہ کا شہر کبھی نہیں رہا.. 
یہ بندوق اور چاپڑ کا شہر کبھی نہیں رہا.. 
یہ حقہ اور چلم کا شہر کبھی نہیں بنا
یہ وہ قصبہ نہیں یہ وہ دیہات نہیں
جہاں چوک چوراہوں پر سٹے کھیلے گئے ہوں
یہ وہ میلے نہیں جہاں تلواریں چلتی ہوں
یہ وہ شہر نہیں جہاں خنخر سے، کٹر سے حملے ہوتے کبھی دیکھے گئے ہوں

پھر یہ شہر کو کس کی نظر لگی
یہ کھنڈر بھرا شہر ہمارا شہر تو نہیں... 
یہ شہر پولس کیسوں کا شہر کیسے بن گیا، اور کتنے کیس اور کتنی سنوائیاں،گستاخی معاف لیکن اگر سارےمضبوط طبقے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اور کیس کباڑی ہی کرتے رہیں تو
شہر کی قیادت کون کرے گا؟ 
کیا ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ کمیونٹی میں سماج میں دکھتی رگیں کون سی ہیں؟ 
صاف صفائی کا فقدان، اناج کی قلت، دوائیوں کی قلت، صحت کے تعلق سے بیزاری، بیماروں کی بھرمار، نئی ٹیکنالوجی کے نام پر کوئی عوامی حاجات کو پورا کرنے والا نہیں، گورنمنٹ کے خزانوں میں اسکیمیں بھری ہیں لیکن ہم اپنی تجوریوں کو بھرنے سے فرصت نہیں

دیکھا جاۓ تو چند مخصوص شہر کو چلا رہے ہیں
جن میں ٹیلنٹ ہے ان کی تو سنوائی کبھی نہیں رہی،
ہمیں اب یہ سوچنا ہوگا کہ شہر کو ہماری آپسی تانہ شاہی سے، آپسی رنجشوں سے آپسی من مٹاوٹ سے کوئی لینا دینا نہیں رہا ہے

شہر کو ایک پلیٹ فارم سے سمیٹنے کی ضرورت ہے، شہریوں کی پریشانیوں کو دقتوں کو سمجھنے اور ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے
کیا پریس کانفرنس اسی لئے رہ گئی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بارے میں ہی باتیں کریں؟ 
ہمیں اب ترقی پر بات کرنی ہوگی
ہم سب کو اب جرائم سے نمٹنے کے حل پر ایک ٹیبل پر بیٹھ کر بات کرنی ہوگی
یہ وقت عوام کیلئے بہت کٹھن ہے خدا کیلئے اپنی رنجشوں کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ
اور لوگوں کی آہ و فغاں پر غور کرتے ہوۓ اب کام کرنا ہے، جرائم پیشہ افراد کے بڑھتے حوصلوں کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکنے بلکہ ان کے آگے اب ہمیں کھڑا ہونا ہوگا 
یہ شہر ہیروں کا شہر ہے.. 
یہاں بے شمار چہرے اپنی فیلڈ میں نمایاں ہیں
، ہمیں پورے سماج کیلئے کام کرنا ہوگا اور یہی ہمارا مقصد ہونا چاہئے.
گزشتہ روز پیر محمد پر ہوا حملہ پورے مالیگاؤں کیلئے شرم سے ڈوب کرمرنے کا مقام ہے

کسی کی زندگی کوئی کھیل تماشہ نہیں، ایسے افراد جو کمزور ہیں
جو لاچار ہیں ان کے ساتھ زیادتی قہر خدا کو آواز دیتی ہے
میں شگفتہ بنت سلطان سبحانی پورے سماج کی جانب سے پیر محمد پر، محمد کیف پر اور ان جیسے معصوم لوگوں پر حملے کی پر زور مخالفت کرتی ہوں، 
حیوانیت مردہ باد 
ظلم و جبر مردہ باد 
اندھ بھکتی اور اندھ وشواس مردہ باد

ہرذی روح پر اٹیک پوری انسانیت پر اٹیک ہے
میری سماج کے ذمہ داروں سے درخواست ہے کہ ایسڈ بنانے والے اور بیچنے والوں کو آن ریکارڈ رکھا جاۓ، پولس باریک بینی سے فالو آپ لے، ہتھیاروں اور کٹر، بندوق نیز گٹھکا، اور نشیلی ادوایات کیلئے باقاعدہ ٹرین اسٹاف کو تعینات کیا جاۓ.
مجھے شدید دکھ ہے جو کچھ پیر محمد عرف اننا کے ساتھ ہوا، جو محمد کیف کے ساتھ ہوا، جو لوگ پھانسی پر جھولے یہ سارے تکیلف دہ عمل 
 قابل گرفت فعل ہیں، ناقابل معافی اور ناقابل برداشت عمل ہیں 
کسی کو زندہ دورگور کردینا 
کسی پر ظلم کر کے اپنی باری کا انتظار نا کرنا یہ شیطانوں کا وطیرہ ہے 
سچ تیرتا ہے 
اور پہاڑوں کو چیرتا ہے 
پاتال کو کھنگالتا، ہے اور آخر میں ابھرتا ہے اور فاتح ہوتا ہے 

سمے رہتے جرائم پیشہ افراد کی کی پکڑ تو ہوگئی یا کاروائیاں دراز ہیں لیکن
ہمیں چاہئے کہ اپنے اطراف و گرد و پیش نظر رکھیں، اپنے بچوں کو اپنے قریب رکھیں.
ہمیں ڈرنا نہیں ہے ہمیں ایک جُٹ ہوکر سماج کی فلاح کیلئے کام کرنا ہے
قابل تعریف ہیں وہ تمام افراد جو سماج کو نشہ مکت کرانے میں، بچوں جو سلامتی سے گھر پہنچانے میں، غرباء کے نکاح کو آسان بنانے میں، بیواؤں کی مدد اور یتیم بچوں کی تربیت کرنے میں پیش پیش ہیں
اللہ انہیں جزاۓ خیر دیں
اور اسی کے ساتھ ہم سب کو ایکدوسرے کا مددگار اورسماج کا سچا خادم بناۓ.
ہمارے سماج کو اللہ پاک ہر قسم کے نشہ اور جرائم سے محفوظ رکھے. (آمین)

تو ڈھونڈ فقیروں میں
تو ڈھونڈ گداؤں میں
مل جاؤں گا میں تجھ کو
مظلوم آہوں میں
ادھڑی سے قمیصوں میں
پیوند کی شالوں میں...
فاسق کی سبھی چالیں
اک کُن سے پلٹتا ہوں
کہلاتا ہوں سب کا رَب 
ہاں رب جہاں میں ہوں.. 
تو ڈھونڈ فقیروں میں! 
تو ڈھونڈ گداؤں میں!!
_____________

دیویندر ستیارتھی 28 مئی 1908 کو بھدوڑ، ضلع سنگرور، پنجاب میں پیدا ہوئے ۔ انہوں ے اردو میں 106 کے قریب افسانے لکھے جسے ناقدین نے پسندیدگی کا درجہ بخشا۔ تخلیقی سطح پر دیوندر ستیارتھی نے اپنے افسانوں میں افسانوی اور غیر افسانوی اصناف کی مختلف خوبیوں کو یکجا کرکے افسانوں کو ایک نئی جہت عطا کی ۔ دیوندر ستیارتھی شہرہ آفاق افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے معاصر تھے۔ ان کے موضوعات منٹو کے موضوعات سے ملتے جلتے تھے مگر ان کا اسلوب منٹو سے بالکل مختلف ہے اور ان دونوں کے افسانوں میں موضوعات کی یکسانیت کے سوا دوسری مماثلت مشکل سے ہی ملتی ہے۔ دیوندر ستیارتھی کے ہاں طنز و تمسخر کی بجائے ہمدردی اور درد کو برتنے کا احساس نظر آتا ہے۔ ان کے ایک اور ہمعصر افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی اردو افسانے کا بڑا نام ہیں۔ دیوندر ستیارتھی کے ابتدائی افسانوں پر پریم چند کا اثر واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے مگر وہ اس اثر سے جلد باہر آ گئے اور اپنا منفرد اور ممتاز اسلوب قائم کرنے میں کامیاب رہے . بلراج مین را سے بھی انہوں نے اثر قبول کیا اور ان کا اسلوب بلراج سے کافی قریب دکھائی دیتا ہے۔ عبدالسمیع نے اپنی کتاب "دیوندر ستیارتھی : شخصیت اور آثار " نگری نگری پھرا مسافر" میں لکھتے ہیں

"موضوع اور بیانیہ کا جتنا تنوع ستیارتھی کے یہاں ہے وہ کسی ایک افسانہ نگار کے ہاں شاید ہی ملے ۔"
ستیارتھی نے 2003 میں وفات پائی ۔ 

عالمی افسانہ فورم کے قارئین کے لیے ان کا ایک افسانہ پیش ہے

انگور پک گئے🔴دیویندر ستیارتھی
🖼️ٹایپنگ انتخاب :- احمد نعیم ۔ مالیگاؤں 🔵
بنسری اپنی کوکھ میں نہ جانے کتنے خوابیدہ سر ، نہ جانے کتنے نیم بیدار رنگ جذب کرتی ہوئی ایک اچھوتے نغمے کو جنم دیتی ہے - یہی حال تخیل کا ہے - جو دھرتی کی ہی جانب دیکھنے پر مجبور ہے - جو ہل کی لکیروں کا جائزہ لیتی ہوئی آنے والی فصلوں کی تصویر پیش کرتی ہے - میں انھیں خیالات میں کھویا ہوا تھا جبکہ مجھے فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے ایک شرنارتھی دکاندار کی ٹوکری میں کچھ بھٹےّ نظر آگئے - میں سچّ کہتا ہوں کہ یہ بھٹےّ دیکھ کر مجھے بےحد خوشی ہوئی - بھاؤ پوچھنے کی میں نے چنداں ضرورت نہیں سمجھی - جیب سے رومال نکال کر بچھا دیا - دکاندار نے مجھے سے پوچھے بغیر ہی ایک سیر بھٹےّ تول کر رومال پر ڈالا دیے
"کتنے پیسے ہوئے سردار جی ؟" رومال میں بھٹےّ لپیٹ کر اسے گانٹھ دیتے ہوئے میں نے پوچھ لیا -
نہ زیادہ نہ کم پورے چھ آنے
"
اس نے جواب دیا،.... جیب سے پیسے نکال کر میں نے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا - 'نہ زیادہ نہ کم پورے چھ آنے' دکاندار کا بول میرے دل میں برابر چبھتا رہا - یہ سب کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟؟'نہ زیادہ نہ کم ،کہے بغیر کیا اس کا کام نہیں چل سکتا تھا ؟؟بلکہ "پورے چھ آنے کہنے کے بجاے ،چھ آنے ،کہنا ہی کافی ہوتا - ہمارے لوگ کتنے بیکار الفاظ استعمال کرتے ہیں ،کتنے بیکار رنگ انڈلیتے ہیں! نہ جانے میرے تخیل کو کیا سوجھا کہ چلتے چلتے یوں محسوس ہوا کہ میں کسی گانو میں پہنچ گیا ہوں اور کوئی پوچھ رہا ہے ____اس رومال میں کیا ہے بھٹےّ ؟؟الٹے بانس بریلی کو! بھٹوں کو یہاں گانوَ میں پہلے ہی کیا کچھ کمی تھی کہ یہ تکلیف اٹھائی...... جیسے میں من ہی من میں بری طرح شرمندہ ہوگیا اور یہ سوچ کر کہ یہ بھٹےّ وہ بھٹےّ تو ہرگز نہیں جو اپنے ہاتھوں سے توڑ کر سیدھے کھیت سے لائے گئے ہوں بلکہ یہ تو چھ آنے سیر والے بھٹےّ ہیں ، میں بری طرح لاجواب ہوگیا - جی میں تو آیا کہ واپس جاکر یہ بھٹےّ سردار جی کی ٹوکری میں پھینک آؤں اور کہوں ________یہ پورے چھ آنے سیر والے بھٹےّ میرے کام کے نہیں ،مجھے تو وہ بھٹےّ چاہیے جو جن کا ذکر ِ خیر لوک گیت میں بھی گونج اٹھا ہے _______"میرا یار مکیّ دی راکھی ،ڈب وچ لیا وے جھلیاں! ،(میرا محبوب مکئی کے کھیتوں کا رکھوالا ہے وہ اپنی دھوتی کی پھینٹ میں بھٹےّ چھپا کر لاتا ہے) لیکن میرے پاؤں پیچھے کی طرف پلٹنے کے عوض آگے کی طرف بڑھتے چلے گئے - گھر پہنچ کر میں نے ان بھٹوں کو آگ پر بھوننے کی تاکید کی ، کوئلوں کی آگ پر بھونے ہوے بھٹےّ ،اور وہ بھی پورے چھ آنے سیر والے بھٹےّ ،محبوب کی دھوتی کی پھینٹ میں چھپا کر لائے ہوے بھٹےّ نہیں ، پھر بھی بہت مزے دار لگے -
اگلے روز میں سردار جی کی دکان پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جس ٹوکری میں کل بھٹےّ تھے آج انگور گھچے پڑے ہیں ، میں نے ہنس کر کہا - "ہم تو بھٹوںّ کے گاہک ہیں سردار جی!" انگورؤں کے نہیں - "
" بنے ٹھنے بھٹوں نے آپ کا کیا سنوار ہے اور بیچارے انگوروں نے کیا بگاڑا ہے "؟؟دکان دار نے ہنس کر پوچھ لیا -
میں اس کا کیا جواب دے سکتا تھا ؟ہاں میں نے اتنا ضرور کہا" اب انگور ہی لینے پڑیں گے - ہم تو اس ٹوکری سے یارانہ گانٹھ چکے ہیں سردار جی "!
دکان دار کی آنکھوں میں ایک چمک تھرک اٹھی - بولا شکر ہے واہگورو کا کہ ابھی تک ایسے گاہک موجود ہیں آپ ہمارے گا نو آئے ہوتے تو میں آپ کو اتنے انگور کھلاتا کہ آپ کی طبیعت خوش ہوجاتی -" آپ چاہیں تو اس ٹوکری سے بھی مجھے پیٹ بھر انگور کھلا سکتے ہیں سردار جی میں نے اچھل کر کہا" لیکن یہ وہ انگور تو نہیں ہیں جو آپ کو اپنے گانو میں کھلا سکتا تھا وہ انگور اور تھے ،یہ اور انگور ہیں "-
دوکان دار کی آواز میں جدائی کے سر گونج اٹھے جو بنسری کے نغمے میں رنگ بھر دیتے ہیں
میں نے کہا "کیوں ان انگوروں میں بھی تو رس ہوگا یہ بھی میٹھے ہوں گئے"
" آپ بھی کیا بھولی باتیں کرتے ہیں جی! دوکان دار نے گویا تخیل کی کوچی تیزی سے تصویر پر پھیرتے ہوے کہا -" یہ انگور بھلا ان انگوروں کا کیسے مقابلہ کرسکتے ہیں ؟"-
میں انتظار میں تھا کہ وہ انگوروں کا بھاؤ بتاے میں کس قدر خوش ہورہا تھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ پورے تین روپے سیر کا بھاؤ بتاے گا شاید ڈھائی روپے سیر پر ہی مان جاے گا -
وہ کہہ رہا تھا "لاکھوں خوشبویں اپنی کوکھ میں چھپا کر رکھنے والی دھرتی تو پیچھے رہ گئی جس پر انگور پیدا ہوتے ہیں"
مجھے دوکان دار کی ناامیدی اچھی نہیں لگی آخر وہ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے ،یہ بات میں سمجھ نہیں سکتا تھا - میں نے کہا "آخر یہ انگور اسی دھرتی سے آئے ہوے ہیں پہلے بھی اسی طرح آتے تھے اتنا کیا فرق پڑ گیا! بہت فرق تو پڑ بھی نہیں سکتا - "جی ہاں یہ تو ٹھیک ہے" وہ کہہ رہا تھا" "بہت فرق نہیں پڑ سکتا - آپ سچ کہتے ہو لیکن کبھی میں ان ہاتھوں سے انگور اگاتا تھا"
"آپ انگور اگاتے تھے سردار جی! "
" میں نے پوچھا
"کیسے اگاتے تھے انگور ؟کچھ ہمیں بھی تو بتاؤ بھولے بادشاہ سردار جی"
"اب وہ دھرتی پیچھے رہ گئی جہاں میں نے چن چن کر انگور کی بیلیں لگائی تھیں - ہوسکتا ہے آپ کو آج یقین بھی نہ آے - آج آپ کو یقین آ بھی کیسے سکتا ہے ؟آج ہم اپنے گھر کے بادشاہ نہیں رہے ________آج ہم فٹ پاتھ کے دکان دار بن گئے ہیں! "
"یقین کیسے آئے گا سردار جی" ؟آپ کو جھوٹ بولنے کی کیا پڑی ہے ؟لیکن ایک بات تو بتاؤ ،کیوں وہ انگور کی بیلیں یہاں نہیں لگائی جاسکتیں ؟"
میں نے دیکھا دوکان دار کے چہرہ پر ایک رنگ آرہا تھا ، ایک رنگ جارہا ہے ، شاید وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ سرکار اس سلسلے میں کیا کرنا چاہتی ہے وہ جانتا تھا کہ وہاں کی آب و ہوا کو یہاں نہیں لاسکتی جو انگور کی فصل کے لیے بےحد ضروری ہے
میں نے اس کا حوصلہ بڑھا نے کے لئے کہا "سائنس دانوں کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ نئے حالات کو دیکھتے ہوے اس دھرتی پر انگور کی سہولت مہیا کرنے میں ہماری مدد کریں سرکار ان سے ضرور مدد لے گی -" 
کئی گاہک آئے ، کئی گئے میں ڈٹ کر کھڑا رہا - بازار میں بہت بھیڑ تھی نہ جانے کتنی آوازیں اس شور میں خلط ملط ہورہی تھیں
میں دوکان دار سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ اگر سچ مچ اس کا اپنا باغیچہ تھا تو وہ یہ کیوں نہیں بتاتا کہ انگور کی بیلوں پر بور آتے دیکھ کر اس کا دل کس طرح اچھل پڑتا تھا - پھر جب یہ بور کچےّ دانوں میں بدل جاتا تو اسے کتنی خوشی ہوتی تھی - جس جس درخت پر انگور کی بیلیں چڑھتی تھیں وہ اسے کتنے پیار ے لگتے تھے اور جب کہیں کہیں پھل کے بوجھ سے بیلیں نیچے کو ڈھلک آتی تھیں تو وہ اس کے دل پر کیسا جادو سا ہو جاتا تھا ایسے ایسے نہ جانے کتنے سوالات میرے ہونٹوں سے پلٹ گئے میں نے اتنا بھی نہ پوچھا کہ کیا یہ ضروری ہے کہ جب بور کچےّ دانوں میں بدل جائے تو ایسی دھوپ پڑے جس سے دانوں کا رنگ بدل جائے میں یہ بھی پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ دھوپ کیسی ہوتی ہے جو اپنی طاقت سے سبز دانوں کو کچھ کچھ سرخی مائل کر دیتی ہے -
انگور لوں یا نہ لوں ، بس یہی سوال ہوتا تو میں نے کھبی کا فیصلہ کرلیا ہوتا ، لیکن میرا ذہین تو تخیل کے تانے بانے سے الجھ کر رہ گیا - کوئی اور وقت ہوتا تو شاید میں یوں بالکل نہ سوچتا - سامنے ٹوکری میں انگور پڑے تھے - اپنے ذہن کو ایک جھٹکا دے کر یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ ابھی اور کتنی دیر لگے گی
وہ کہہ رہا تھا "یہ انگور اتنے میٹھے تو نہیں ہو سکتے جتنے کہ میرے اپنے باغیچے والے انگور!"
"لیکن ہے تو یہ بھی انھیں انگور ں کے بہن بھائی!"
میں نے کہا "وہ انگور ان سے ذرا زیادہ سرخی مائل نظر آتے ہوں گے ، ذرا زیادہ رسلیے ہوں گے!"
دوکان دار نے اس کا کچھ جواب نہ دیا اتنے میں ایک گاہگ آگیا وہ اُس سے باتیں کرنے لگ گیا اس کے سامنے وہ ان انگورؤں کی بےحد تعریف کرتا چلا گیا اور آخر آدھ سیر بیچنے میں کامیاب ہوگیا
میں نے کہا" آدھا سیر انگور میرے لیے بھی تول دو ، سردار جی! چھوڑو یہ باتیں کہ وہ انگور اور تھے اور یہ انگور اور ہیں!"
انگور لے کر میں نے رومال میں رکھ لیے اور پوچھا
" کتنے پیسے ہوے سردار جی ؟"
"نہ زیادہ نہ کم ، پورا ڈیڑھ روپیہ!"
ڈیڑھ روپیہ اس کے ہاتھ پر رکھ کر میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا -
اگلی صبح اس کی دوکان پر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پھر اس کی ٹوکری میں انگوروں کے عوض بھٹےّ پڑے ہیں شاید وہ سمجھ گیا کہ میں شکایت کرنے آیا ہوں وہ کہہ رہا تھا
" میں نے انگور بیچنے کا خیال نکال چھوڑا ہے اپنے دل سے - لے لو نٹ کھٹ بھٹےّ جتنے چاہو ، چھوڑو بیچارے انگوروں کا خیال جو کھٹے بھی نکل سکتے ہیں -"
میں نے اس کا من رکھنے کے لیے کہا
"لیکن تمہارے انگور تو بہت میٹھے ہیں -"
"میں کیسے یقین کرلوں" ؟وہ کہہ رہا تھا
"یہ انگور ان انگور ان انگوروں کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں ؟وہ انگور جن کی بیلیں مجھے بار بار پکارتی تھیں ______آؤ سردار جی ، انگور پک گئے! وہ انگور اب میں کہاں سے لاؤں"
"بھٹےّ اپنی جگہ ہیں سردار جی ، انگور اپنی جگہ ، میں نے کہا
"انگوروں پر آپ کی ناراضگی تو ٹھیک نہیں -"
وہ جھٹ ساتھ ساتھ والی دکان میں گیا اور وہاں سے انگوروں کی ٹوکری لیتا آیا اس کی آنکھوں میں چمک تھی شاید وہ کہنا چاہتا تھا کہ انگور آخر انگور ہیں خواہ وہ کسی قدر کم میٹھے ہی کیوں نہ ہوں - گحھچے اٹھا اٹھا کر مجھے دکھاتا رہا میں سمجھ گیا کہ اس کے تخیل میں اس کے باغیچہ کی تصویر ابھر رہی ہے اور وہاں کی ایک ایک بیل کہہ رہی ہے - _________انگور پک گئے!
شاید وہ کہنا چاہتا تھا کہ ایک دن آے گا - یہاں بھی بیلوں پر بور آے گا - ، یہاں بھی وہ چن چن کر انگوروں کی بیلیں لگاے گا - یہاں بھی بیلوں پر بور آے گا ،یہاں بھی یہ بور کچے ّ دانوں میں بدل جاے گا اور پھر کچے دانوں پر دھوپ پڑے گی - انگور کے دانے سرخی مائل ہوتے چلے جائیں گے اور پھر گویا دھرتی خود اپنے منھ سے پکار اٹھے گی _____انگور پک گئے!
--------------------
🔴(آج کل" نئی دہلی دسمبر 1948) 
مرتبہ 🔵عبد السمیع دہلی
_____________

نظم:
               ★ عید ★

                   ★ علیم طاہر ★

عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا
 پیار خوشبو محبت وفا عید ہے
 رنگ بھی حسن بھی اور ادا عید ہے
 کچھ فقیروں کی بھولی صدا عید ہے
 ہر پریشان کی خاطر دعا عید ہے
 عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا

 یہ غریبوں کی خاطر ہے الجھن کا دن
 ہاں امیروں کا جیسے ہے لندن کا دن
 جو ہیں بھوکے تو ان کی خراب عید ہے
 ایسے مزدوروں پر تو عذاب عید ہے
 عید کا دن جو ایا تو ایسا لگا

 بوڑھے اپنی ہی تقدیر پر رو دیے
 کل کے خوابوں کی تعبیر پر رو دیے
 اب بہار یں نہیں ہیں خزاں عید ہے
 اب کے گلشن کا اجڑا سماں عید ہے
 عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا

 پھر تصور میں اس کا تکلم بھی ہے
 عید جنت بھی ہے اور جہنم بھی ہے
 بیتی یادوں کی شہنائی بھی عید ہے
 ایک عاشق کی تنہائی بھی عید ہے
 عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا

 کتنی بیوائیں قسمت پہ رونے لگیں 
 اپنی بیتی محبت پہ رونے لگیں
 ان کے زخموں کا جیسے کنول عید ہے
 ان کے خوابوں کا پیارا محل عید ہے
 عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا 

اپنا جینا بھی اب کے عذاب ہو گیا
 سوچیے کیسے کھانا خراب ہو گیا
 انگنت مسئلے پیچ و خم عید ہے
 آج اپنے لیے رنج و غم عید ہے
 عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا

 اس کی رحمت سے ہم ہیں جدا اس قدر
 ہم سے ناراض کیوں ہیں خدا اس قدر
 اپنا بگڑا مقدر یہی عید ہے
 فکر کا ایک سمندر یہی عید ہے 
عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا

 عید کی پہلے جیسی نہیں برکتیں
 نہ حقیقی مسرت نہ ہی رونقیں
 ہر مسلماں کی تفریح کا حل عید ہے
 کیا نمائش کا جھوٹا عمل عید ہے
 عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا 

ہوٹلوں تھے تھیٹروں پر ہے جم غفیر
 گاکے قوالیاں مانگتے ہیں فقیر
 حسن کی بے حجابی بھلا عید ہے
 ہم نے اتنی خرابی بھلا عید ہے
 عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا

 ان دلائل کا منظر بھی مل جائے گا 
یہ تو سچائی ہے کون جھٹلائے گا
 بدلباسی وہ بےچارگی عید 
 اب غریبوں کی فاقہ کشی عید ہے
 عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا بے

 بے بسی کے ٹھکانے پہ ہم لوگ ہیں
 صرف آنسو بہانے پہ ہم لوگ ہیں
 وہ فلسطیں کی اب تو جہاد عید ہے 
ان کی قسمت میں طاہر فساد عید ہے
 عید کا دن جو آیا تو ایسا لگا۔

                                علیم طاہر 

_______________________________

(C):
Eid
By
Aleem Tahir
Mobile no.9623327923.
Email id: aleemtahir12@gmail.com

                           علیم طاہر
__________________

غزل

غم کی رنگت نکھر بھی سکتی ہے
شاعری زخم بھر بھی سکتی ہے

تم کسی زعم میں نہیں رہنا
شاہزادی مکر بھی سکتی ہے

وہ جو دل سے اُترنے والی ہے
بات دل میں اُتر بھی سکتی ہے

جس کی خاطر تُو جی نہیں سکتا
تیری خاطر وہ مر بھی سکتی ہے

تیرگی سے بھلا ڈریں کیوں کر
شب تو شب ہے گزر بھی سکتی ہے
 
کچھ ضروری نہیں کہ لوٹ آئے
یہ نظر ہے ٹھہر بھی سکتی ہے

یہ نہ ہو آہ تم کو لگ جائے
اب کے وہ ضبط کر بھی سکتی ہے

میری خوشبو ہوا میں ہے تحلیل
تجھ کو چھو کر گزر بھی سکتی ہے

تُو اگر دیکھ لے مری جانب
میری قسمت سنور بھی سکتی ہے

کیا کہا ،آپ ملنے آئیں گے؟
یعنی صورت نکھر بھی سکتی ہے

اُس نے سوچا نہیں رباب کبھی
ایک لڑکی ہے ، ڈر بھی سکتی ہے

فوزیہ رباب
گوا، الہند

مسجدوں میناروں اور دینی درس گاہوں کے شہر میں خودکشی کے بڑھتے واقعات لمحہ فکریہ

 مالیگاؤں :(نامہ نگار) علوم و فنون کا یہ شہر آج اپنے معاشرتی بگاڑ کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہوا جارہا ہے. نشہ آور اشیاء کا استعمال ہو یا خواتین سے چھیڑ چھاڑ کا معاملہ شریف النفس افراد کا آج جینا دشوار ہو کر رہ گیا ہے. ایسے نامساعد حالات میں اگر کہیں سے کسی کے خودکشی کر جانے کا اندوہ ناک واقعہ منظر عام پر آتا ہے تو دل دہل اٹھتا ہے کہ مسجدوں میناروں اور عصری و دینی دانش گاہوں کے شہر میں ایسے مذموم واقعات کیسے اور کیونکر جنم لیتے ہیں. اس تعلق سے انڑ نیشنل ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کے صدر حضرت صابر نورانی (مدنی دربار) نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برس یکے بعد دیگرے کئی خودکشی کے واقعات نے علمائے دین کی محنت شاقہ اور اصلاحی پیغامات پر بے شمار سوالیہ نشانات کھڑے کردیئے تھے. خود کشی کے یہ واقعات کا سلسلہ دراز ہوتے ہوئے آج یہاں تک آن پہنچا ہے کہ آگرہ روڈ نیو حنفیہ سنیہ مدرسہ کے قریب گرین پارک علاقہ کے ساکن عبدالرحمان فضل الرحمان نامی جواں سال نے نزدیکی محلہ دیوی کے ملہ میں واقع فیمس مارکیٹ جو لکڑیوں کی تجارت کے لئے مشہور ہے میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی.آپ نے بر ملا کہا کہ عبدالرحمان فضل الرحمان نامی نوجوان کو آخر ایسی کون سی پریشانی لاحق تھی ؟مذکورہ نوجوان نے کیونکر خودکشی جیسا قدم اٹھایا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے . ملحقہ پولیس تھانہ کا عملہ خودکشی کے اس اندوہ ناک واقعہ کی تفتیش میں مصروف تھا کہ اچانک خودکشی کا ایک واقعہ اور اس طرح منظر عام پر آیا جو شکوک و شبہات کے طوفان اٹھا گیا کیونکہ نیا اسلام پورہ علاقہ کی 14 سالہ کمسن ثانیہ شاہ عزیز شاہ نامی ساکنہ نے خودکشی کر لی. دستیاب شدہ معلومات کے مطابق قرب و جوار کے ساکنین کو واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے کمسن ثانیہ شاہ کی زندگی بچانے کی کوشش کی تھی. ثانیہ شاہ نامی 14 سالہ بچی نے آخر کیوں اتنا سخت اقدام اٹھایا توجہ طلب امر کن ہے کیونکہ مذکورہ بچی اسکول کالج کی بجائے ایک دینی مدارس کی طالبہ تھی.ابھی کل کی بات ہے کہ نور نگر کے 22 سالہ ساکن مبارک قدیر نامی شخص نے رمضان المبارک جیسے مقدس ایام میں خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا لیا. شہر کے لئے لمحہ فکریہ بنا یہ تینوں واقعہ غور و فکر کا پتہ دیتا ہے کہ سماجی و معاشرتی سطح پر سرگرم عمل رہنے والی سماجی و ملی تنظیموں سے ایسی کون سی کوتاہی سرزد ہو گئی ہے کہ کیا جوان کیا کمسن خودکشی جیسے حرام اور مکروہ فعل پر آمادہ ہوئے جارہے ہیں. شہر میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کا غماز ہے کہ سماجی و ملی تنظیموں کو اس مدعے پر سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور خودکشی جیسے مکروہ فعل پر بیانات جاری ہونا چاہیے.

Monday, 25 March 2024

الیکٹورل بانڈ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ

کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجین نے کہا ہے کہ الیکٹورل بانڈ گھوٹالہ ہندوستان میں اب تک کی سب سے بڑی بدعنوانی ہے اور مرکز کی بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت نے اس سے توجہ ہٹانے کے لیے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو گرفتار کیا ہے۔

متنازعہ شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف اتوار کو کنّور میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی ایم) کی طرف سے منعقدہ تیسری ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وجین نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت اور سنگھ پریوار ملک میں قانون کی حکمرانی کو بہت کم توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سنگھ پریوار آئینی اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے یہاں تک کہ ملک کی عدلیہ کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ وجین نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت، بی جے پی، سنگھ پریوار، سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ الیکٹورل بانڈ گھوٹالہ پر سپریم کورٹ کا حکم ان کے خلاف تھا۔ وہ اس معاملے سے توجہ ہٹانا چاہتے تھے اور اس کے لیے انھوں نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو گرفتار کر لیا ہے۔‘‘ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’جب الیکٹورل بانڈ کا تصور پیش کیا گیا تھا تو اسی وقت سی پی ایم نے اس کی مخالفت کی تھی کیونکہ یہ بدعنوانی کا ایک ٹول تھا اور اس کے خلاف اس نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
 چاروں عہدوں پر کامیابی حاصل کی
کیرالا کے وزیر اعلی نے مزید کہا کہ ’’الیکٹورل بانڈ گھوٹالہ ہندوستان میں اب تک کی سب سے بڑی بدعنوانی ہے۔ اسے (بی جے پی کو) اتنی بڑی بدعنوانی میں ملوث ہونے کی جرات کیسے ہوئی؟ اس نے سوچا کہ اس سے کبھی کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔‘‘ وجین نے کہا کہ ’’کیجریوال کی گرفتاری سے سنگھ پریوار یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ملک کے قانون سے بالاتر ہے اور اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے کچھ بھی کرے گا۔‘‘

2019 کے سی اے اے مخالف مظاہروں اور اس کے بعد دہلی میں ہونے والے تشدد اور فسادات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ وجین نے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کے اشتعال انگیز نعروں کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ سی پی ایم تھی جس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ وجین نے کہا ’’مظاہرے کے دوران بائیں بازو کے رہنماؤں کو دہلی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اس وقت ہمارے پاس الاپوزا سے صرف ایک ایم پی اے ایم عارف تھے جنہوں نے سی اے اے کے خلاف بات کی۔‘‘

وزیر اعلیٰ وجین نے الزام لگایا کہ سنگھ پریوار نے دہلی میں سی اے اے مخالف مظاہرین کے خلاف تشدد کیا اور مرکز کی بی جے پی حکومت نے فسادیوں کو کھلی چھوٹ دی۔ انہوں نے کہا کہ ’’فسادات میں تقریباً 53 لوگ مارے گئے، کئی لاپتہ ہو گئے، سینکڑوں سے زیادہ زخمی ہوئے۔ سنگھ پریوار کے تشدد میں بہت سے مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’سی اے اے آر ایس ایس کا ایجنڈا ہے جسے بی جے پی حکومت نافذ کر رہی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ بائیں بازو کی پارٹی ریاست میں پانچ مقامات پر سی اے اے کے مخالف ریلی نکال رہی ہے۔ پہلی ریلی 22 مارچ کو کوزی کوڈ میں ہوئی تھی۔ ضلع کاسرگوڈ میں ہفتہ کو ایک ریلی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ آنے والے دنوں میں ملپّورم اور کولّم میں دو مزید ریلیاں نکالی جائیں گی۔ سی اے اے دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں پاس ہوا تھا اور پاس ہوتے ہی اسے صدارتی منظوری بھی مل گئی تھی، لیکن اس نے ملک کے کئی حصوں میں احتجاج شروع کرا دیا۔ کئی اپوزیشن پارٹیوں نے اس قانون کو ’امتیازی‘ قرار دیا ہے۔ سی اے اے کا مقصد پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے سے 31 دسمبر 2014 سے قبل ہندستان آئے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینا ہے۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کیا منوج جرانگے پاٹل مہاراشٹر کی تمام سیٹوں پر امیدوار کھڑے کریں گے؟

مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر منوج جرانگے پاٹل اب آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ جرانگے پاٹل نے اتوار کو مراٹھا برادری سے اپیل کی کہ وہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں 30 مارچ سے پہلے آزاد امیدواروں کے طور پر لڑنے کے لیے امیدواروں کا انتخاب کریں۔

جالنہ ضلع کے اپنے آبائی گاؤں انتروالی سراٹی میں ریاست بھر سے آئے ہوئے مراٹھا برادری کے ارکان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جرانگے پاٹل نے کہا کہ اپنے اثر و رسوخ سے وہ نہ صرف مسلمانوں اور دلت برادریوں بلکہ سماج کے ایک بہت بڑے طبقے کی بھی حمایت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سیاست نہیں جانتا اور اس میں میری کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جرانگے نے کہا ہے کہ مراٹھا برادری کے افراد 30 مارچ سے پہلے امیدواروں کا انتخاب کریں اور امیدواروں کا انتخاب کرتے وقت ذات پات اور مذہب کا خیال نہ کرتے ہوئے بس یہ دیکھیں کہ وہ جس کا انتخاب کر رہے ہیں اس کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہ ہو۔ ان منتخب شدہ امیدواروں کو آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اتارنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

منوج جرانگے پاٹل نے کہا کہ وہ ایک حلقہ انتخاب سے مراٹھا برادری کے متعدد امیدواروں کو کھڑا کرنے کے خلاف ہیں، کیونکہ اس سے برادری کو نقصان پہنچے گا اور ووٹ تقسیم ہوں گے۔ جرانگے نے کہا کہ ’رشی سویرے' (کنبی مراٹھوں کے خون کے رشتہ دار) پر مسودہ نوٹیفکیشن کے نفاذ کا معاملہ بنیادی طور پر مرکز کے بجائے ریاستی حکومت کا معاملہ ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ مراٹھا ریزرویشن کے مطالبہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسمبلی انتخابات میں امیدوار کھڑے کیے جائیں۔ لیکن کمیونٹی کے لوگوں نے میٹنگ کے دوران مطالبہ کیا کہ اس مسئلہ کو لوک سبھا انتخابات کے دوران اٹھایا جائے۔

اس مطالبے کے بعد جرانگے نے اس بات سے اتفاق کیا کہ لوک سبھا انتخابات میں امیدواروں کو آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا کیا جانا چاہئے۔ اہل کنبی (او بی سی) مراٹھوں کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مسودہ نوٹیفکیشن جنوری میں جاری کیا گیا تھا۔ جرانگے نے کہا کہ مراٹھا کمیونٹی وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے گہری محبت رکھتی ہے، لیکن ان پر اعتماد کے باوجود مسودہ نوٹیفکیشن کو نافذ نہیں کیا گیا ہے۔

مراٹھا ریزرویشن کے معاملے پر ریاستی حکومت کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جرانگے نے نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس پر ریزرویشن تحریک کو دبانے کے لیے ہتھکنڈے اپنانے کا الزام لگایا اور مراٹھا ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کرنے کی مذمت کی۔ انہوں نے حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اتوار کو انتروالی سراٹی میں ہونے والی میٹنگ میں مراٹھا برادری کے ارکان کی شرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جرانگے نے حال ہی میں مہاراشٹر اسمبلی کی جانب سے مراٹھا کمیونٹی کو خصوصی زمرہ کے تحت دیئے گئے 10 فیصد ریزرویشن پر اپنے احتجاج کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ دیگر پسماندہ طبقہ (او بی سی) زمرے کے تحت ریزرویشن چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ مہاراشٹر میں لوک سبھا کی 48 سیٹوں کے لیے انتخابات پانچ مرحلوں میں 19 اپریل، 26 اپریل، 7 مئی، 13 مئی اور 20 مئی کو ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 4 جون کو ہوگی۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کانگریس نے امیدواروں کی چھٹی فہرست جاری کی

لوک سبھا انتخاب کے پیش نظر کانگریس نے اپنے امیدواروں کی چھٹی فہرست جاری کر دی ہے۔ تازہ فہرست میں پانچ امیدواروں کے نام کا اعلان کیا گیا ہے جن میں سے 4 کا تعلق راجستھان سے ہے، جبکہ ایک امیدوار تمل ناڈو کی لوک سبھا سیٹ کے لیے۔

کانگریس کی چھٹی فہرست کے مطابق راجستھان کی اجمیر سیٹ سے رام چندر چودھری، راجسمند سے سدرشن راوَت، بھیلواڑہ سے ڈاکٹر دامودر گوجر اور کوٹہ سے پرہلاد گنجل کو انتخابی میدان میں اتارا گیا ہے۔ علاوہ ازیں تمل ناڈو کی ترونلویلی لوک سبھا سیٹ سے ایڈووکیٹ سی. رابرٹ بروس کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے اس سے قبل لوک سبھا انتخاب کے پیش نظر 5 فہرستیں جاری کی تھیں جن میں مجموعی طور پر 187 امیدواروں کا اعلان ہوا تھا۔ آج چھٹی فہرست جاری ہونے کے بعد کانگریس کے اعلان کیے گئے امیدواروں کی تعداد 192 ہو گئی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی کانگریس کی ساتویں فہرست بھی سامنے آئے گی جس میں یوپی کی امیٹھی و رائے بریلی کے علاوہ بہار کی کچھ لوک سبھا سیٹوں سے اتارے جانے والے امیدواروں کا اعلان کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ لوک سبھا کی 543 سیٹوں کے لیے انتخاب سات مراحل میں کرائے جانے کا اعلان الیکشن کمیشن نے کیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں 19 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور ساتویں یعنی آخری مرحلہ کی ووٹنگ یکم جون کو ہوگی۔ 4 جون کو ووٹ شماری ہوگی اور اسی دن شام تک نتائج کا اعلان بھی ہو جائے گا۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

جنگ کے بعد مالال ہوا ایران، جلد ملیں گے اتنے ارب ڈالر، مسعود پزشکیان نے کیا یہ بڑا اعلان ایران صدر کے مسعود پزشکیان ...