Tuesday, 12 May 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*


انجمن محبانِ ادب کی افسانوی نشست کامیابی سے ہمکنار
مورخہ ۹ مئی ۲۰۲۶ء بروز سنیچر انجمن محبانِ ادب کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار افسانوی نشست کا انعقاد میڈیا سینٹر، مالیگاؤں میں کیا گیا۔ یہ نشست معروف قلمکار محترم لئیق انور صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی، جبکہ ممتاز ادیب محترم ڈاکٹر اقبال برکی صاحب نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی۔

پروگرام کا آغاز ہارون اختر صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں انجمن محبانِ ادب کی جانب سے صدرِ تقریب اور مہمانانِ کرام کا شاندار استقبال کیا گیا۔

اس موقع پر شہر اورنگ آباد سے تشریف لانے والی معروف افسانہ نگار، معلمہ و صحافی خان افراء تسکین صاحبہ نے ہارون اختر صاحب کو شال اور گل پیش کرکے انجمن کے صدر کی حیثیت سے ان کی برسوں پر محیط ادبی و تنظیمی خدمات کا اعتراف کیا۔

افسانہ خوانی کے سلسلے کا آغاز منصور اکبر صاحب نے اپنے مختصر مگر فکرانگیز افسانچے سے کیا۔ بعد ازاں ابنِ آدم صاحب، اشفاق عمر صاحب، خان افراء تسکین صاحبہ، صابر گوہر صاحب اور عزیز اعجاز صاحب نے اپنے بہترین افسانے پیش کیے، جنہیں حاضرینِ محفل نے بے حد سراہا۔

افسانوں کی اس عمدہ پیش کش پر ذاکر خان ذاکر صاحب، ڈاکٹر اقبال برکی صاحب، عمران جمیل صاحب، شہروز خاور صاحب، صادق اسد صاحب، احمد نعیم صاحب، انتخاب حسین صاحب اور عبدالرحمن اختر صاحبان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے تمام قلمکاروں کو بے پناہ داد و تحسین سے نوازا۔

نشست کے دوران سیف نیوز مالیگاؤں اور انجمن محبانِ ادب کی جانب سے خان افراء تسکین صاحبہ کی ادبی و تدریسی خدمات کے اعتراف میں میمنٹو، شال اور گلدستہ پیش کرکے ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ یہ اعزاز ہارون اختر صاحب، لئیق انور صاحب، ڈاکٹر اقبال برکی صاحب، صابر گوہر صاحب، احمد ایوبی صاحب اور نعیم شاہین سر کے دستِ مبارک سے تفویض کیا گیا۔

خان افراء تسکین صاحبہ نے انجمن محبانِ ادب کی مسلسل ادبی و نثری خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی نشستوں کا تسلسل نہایت خوش آئند ہے بلاشبہ انجمن ادب کے فروغ میں قابلِ قدر کردار ادا کر رہی ہے۔
صدارتی خطبے میں لئیق انور صاحب نے اپنے زرّیں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انجمن محبانِ ادب کی افسانوی نشست میں پیش کیے گئے تمام افسانے معیاری اور فکرانگیز تھے۔ انہوں نے تمام قلمکاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا:
“آپ اردو زبان کے بھی وارث ہیں اور اردو کہانی کے بھی۔ میری دعا ہے کہ آپ فنِ افسانہ اور زبانِ اردو کو زندہ رکھنے کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”
نشست میں پرنس رحمن، خالد قریشی،سلیم جہانگیر، مصطفے برکتی صاحبان و دیگر ادب دوست حضرات نے شرکت کیں 
آخر میں شبیر انصاری صاحب نے رسمِ شکریہ ادا کیا، جبکہ نظامت کے فرائض عزیز اعجاز صاحب نے بحسن و خوبی انجام دیے، اور اس طرح یہ بامقصد ادبی نشست کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔








*گوشت کے داموں میں وحشیانہ اضافہ ، جانور کے دام بھی آسمان چھو رہے ہیں، قربانی کیسے ہوگی؟*
*عوام مہنگا گوشت نہ خریدیں ، یا گوشت کا استعمال کم کردیں*

مالیگاوں میں ایک بار پھر غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔ عید قربان سے پہلے گوشت کے داموں میں ہے رحمانہ اور بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ ایک بڑی گوشت کمپنی جانوروں کا فی کلو 315 روپے کا بھاؤ دے رہی ہے، جس کی وجہ سے عام ٹھیلہ گاڑیوں پر گوشت 280 سے 340 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔

مالیگاوں غریب مزدوروں کا شہر ہے۔ یہاں کے لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اور اب گوشت تو ان کے لیے خواب بنتا جا رہا ہے۔

پچھلے الیکشن میں گوشت کے دام کم کرنے کے جھوٹے وعدوں اور واویلا کرنے والے لیڈران آج بالکل خاموش ہیں۔ کوئی ایک بھی عوام کے حق میں منہ کھولنے کو تیار نہیں۔ الٹا گوشت کمپنی نے مقامی قریش برادری کے ہزاروں غریب مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے۔ کمپنی باہر کے مزدوروں کو نوکریاں دے رہی ہے جبکہ مقامی لوگوں کا خون پسینہ کا ایک پیسہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ مقامی مزدوروں کا دن رات استحصال کیا جا رہا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ گوشت مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ جانور بھی تیزی سے مہنگے ہو رہے ہیں۔ اگر یہی لوٹ مار جاری رہی تو اس سال غریب اور متوسط طبقہ کے لیے قربانی کرنا ناممکن ہو جائے گا۔امیر لوگ تو آرام سے جانور خرید سکتے ھيں لیکن عام آدمی کو قربانی کے لیے قرض لینا پڑے گا یا پھر شرمندگی سے دیکھتے رہنا پڑے گا

ہم سیاسی لیڈران اور انتظامیہ سے سیدھا سوال کرتے ہیں:

کیا آپ غریبوں کا خون چوسنے والی اس کمپنی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے ہیں؟

کیا آپ مقامی مزدوروں کی بے روزگاری اور استحصال کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند کیے رکھیں گے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ فوری طور پر سخت اقدامات کیے جائیں۔ گوشت اور جانوروں کے بڑھتے دام روکے جائیں، مقامی قریش برادری کے مزدوروں کو ان کا حق دیا جائے اور کمپنی کے غیر منصفانہ طریقوں پر لگام لگائی جائے۔

بصورت دیگر عوام اب صبر کی آخری حد پر پہنچ چکی ہے۔ اگر فوری طور پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں بنایا گیا تو زبردست عوامی تحریک اور شدید احتجاج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ ہم شہر کی عوام سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ مہنگا گوشت نہ خریدیں یا پھر گوشت کا استعمال کم کردیں ہم ایک دو مہینہ گوشت نہیں کھائیں گے تو کیا بگڑ جائے گا اس لئے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیدار رہیں۔

*محسن کرانہ والا*
وارڈ نمبر 3، مالیگاوں










خاموش خدمات پر مبارکباد 

سیف نیوز کر ذریعے تہذیبی، ادبی ثقافتی روایات کو فروغ دینے کے لیے مسلسل نمایاں خدمات انجام دی جا رہی ہیں ادارہ نثری ادب، انجمنِ محبانِ ادب، زندہ دلانِ مالیگاؤں، اسکس لائبریری، اردو لائبریری مقامی صاحبانِ کتاب وہیں علمی و ادبی اداروں کی حوصلہ افزائی بھی سیف نیوز کی جانب سے ہمیشہ مومینٹو شال گلدستہ و دیگر تحائف دیکر کی جاتی ہے 
اسی کے ساتھ بیرونِ شہر سے تعلق رکھنے والے ادباء، مثلاً افراء، تسکینِ جیسے اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی سیف نیوز کی جانب سے اسپورٹس پروگرام، کشتی، باسکٹ بال مقابلے، ادبی تقاریب، نشہ مکتی پروگرام اور مالیگاؤں سدھار کمیٹی کے اشتراک سے مختلف سماجی سرگرمیوں کا انعقاد بھی عمل میں آتا رہا ہے۔
علاوہ ازیں، روزانہ سیف نیوز ادبی بلاگ پر دنیا بھر کے ادبی، سماجی اور سیاسی مضامین کی اشاعت ایک منفرد اور قابلِ قدر خدمت ہے، جس نے مالیگاؤں میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔
آئندہ دنوں میں نوجوان قلمکاروں، شعراء اور مصنفین کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی ایوارڈز دیے جائیں گے، جبکہ ممتاز پہلوانوں کو بھی اعزازات سے نوازا جائے گا۔ اسی طرح مظاہرۂ تجوید و قرأت میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
بلاشبہ سیف نیوز پریوار کی یہ کاوشیں نہ صرف شہرِ مالیگاؤں کی نمائندگی کر رہی ہیں بلکہ اس کی عظیم تہذیب، ثقافت اور تمدنی ورثے کی بھی خوبصورت عکاسی کر رہی ہیں۔ ہمہ وصف شخصیت منصور اکبر خود ادبی تڑپ رکھتے ہیں ہر فنکار کی ستائش و مدد کرتے ہیں ہم کافی ہاؤس ممبران اس امر پر ادارہ سیف نیوز کو مبارکباد دعائیں نیک خواہشات

*🛑سیف نیوز اُردو*

*ڈاکٹر ذیشان احمد ریاض احمد عازم حج* الحمدللہ رب العالمین، اللہ ربّ العزت کا بے پناہ کرم ہے کہ مجھ خاکسار کو رب العا...