آصف ہارون سر کی 17ویں کتاب کی شاندار رسمِ رونمائی، تعلیمی حلقوں میں زبردست پذیرائی
نوجوان سائنسداں خطاب یافتہ ڈاکٹر تنویر خان اور ڈاکٹر غیاث الدین عثمانی کی خصوصی شرکت
جلگاؤں (شیخ زیّان احمد) شہر کی قدیم درس گاہ نیز اُمُّ المدارس،انجمن ِ تعلیم المسلمین،جلگاؤں کی زیر سرپرستی میں ایک پروقار اور شاندار تقریب میں 12ویں جماعت (مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ) کے طلبہ کے لیے تیار کردہ معروف معلم، جونیئرلیکچرر اور مصنف شیخ آصف ہارون سر کی 17ویں تصنیف ”A Compelete Solution of Chemistry Practicle for HSC Students“کی رسمِ رونمائی انجام پائی۔ اس تقریب میں تعلیمی، سماجی اور علمی میدان سے وابستہ معزز شخصیات، عمائدین شہر،اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت نیز کتاب کی رونمائی انجمن کے صدراعجاز احمد عبدالغفار ملک کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ اس موقع پرانجمن کے جنرل سیکریٹری امین الدین بادلی والا، نائب صدرسید چاند، نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہئ آئل ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر جی۔ اے۔ عثمانی نیز نوجوان سائنسدان ڈاکٹر تنویر خان (وائس پرنسپال: اقراء تھم کالج،مہرون،جلگاؤں) بطور مہمانانِ خصوصی موجود تھے۔ علاوہ ازیں پرنسپال ڈاکٹر بابو شیخ، وائس پرنسپال نعیم بشیر سر،سوپروائزر ناظم خان سر جملہ اساتذہ کرام اور دیگر معززین بھی شریک رہے۔ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا بعدازیں مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔شعبہئ کیمیاء کے صدر آصف خورشید سر نے اس پریکٹیکل بُک کی تصنیف وتالیف کا پس منظر،غرض غائیت اور موجود ہ دور میں اس کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں آصف ہارون سر کی علمی و تدریسی خدمات کوخوب تحسین پیش کی اور کہا کہ ایسی کتابیں خصوصاً اُردو میڈیم کے سائنس کے طلبہ کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دَور میں معیاری اور آسان فہم تعلیمی مواد کی اشد ضرورت ہے جسے آصف ہارون سر بخوبی پورا کر رہے ہیں۔
مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 12ویں جماعت کے طلبہ کے لیے کیمسٹری پریکٹیکل ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے اور یہ نئی کتاب طلبہ کو نہ صرف تجربات کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ امتحان میں بہترین کارکردگی کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرے گی۔ اس کتاب کو جدید نصاب کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں طلبہ کی سہولت کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے۔اللہ اسے تمام طلبہ کی تعلیمی تشنگی کو پورا کرنے کا ذریعہ بنائے۔اپنے خطاب میں آصف ہارون سر نے تمام شرکاء نیزمہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ مقابلہ کے اس درو میں طلبہ کو آسان، معیاری اور مکمل تعلیمی رہنمائی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی 17ویں کتاب ہے اور آئندہ بھی وہ اسی جذبے کے ساتھ تعلیمی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ شرکاء نے آصف ہارون سر کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور اس کتاب کی مقبولیت نیز روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تقریب کی نظامت آصف مرزا سر نے بحسن وخوبی انجام دی جبکہ آئے ہوئے مہمانان کا شکریہ ادارہئ ہٰذا کے سوپروائزر ناظم خان سر نے ادا کیا۔اس موقع پر خوشی اور فخر کا ماحول دیکھنے میں آیا اور تعلیمی حلقوں نے اس کاوش کو بے حد سراہاجارہا ہے۔
تصویر میں: ۱) کتاب کی رونمائی میں دائیں سے ناظم خان سر،نعیم بشیر سر،اعجاز ملک صاحب،آصف ہارون سر،ڈاکٹر بابو شیخ،آصف خورشید سر،مختار خان سر اور رئیس غنی سر کو دیکھا جاسکتا ہے۔
۲) کتاب کی رونمائی میں دائیں سے ناظم خان سر،نعیم بشیر سر،ڈاکٹر غیا ث الدین عثمانی صاحب،آصف ہارون سر،ڈاکٹر بابو شیخ،سُہیل رحمانی سر، ڈاکٹر تنویر صاحب،مختار خان سر،آصف خورشید سر، اور رئیس غنی سر کو دیکھا جاسکتا ہے۔
اردو میڈیا سینٹر میں ۹ مئی کو افسانوی نشست
ادب دراصل انسانی زندگی کی تہذیب و تطہیر کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ ایک اچھا شعر، ایک عمدہ افسانہ اور ایک معیاری تخلیق وہی ہوتی ہے جو انسان کے باطن کو سنوارے، اس کی پراگندہ سوچ کو سمیٹے اور اسے زندگی کے بیکراں سمندر سے ہم آہنگ کر دے۔ ایسی تخلیقات کے مطالعے کے بعد زندگی نہ صرف بامعنی محسوس ہوتی ہے بلکہ اس میں مقصدیت کی جھلک بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔
اسی ادبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے انجمن محبانِ ادب، مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام ایک پُر وقار افسانوی نشست کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
یہ نشست اردو میڈیا سینٹر میں، ۹ مئی بروز سنیچر منعقد ہوگی، جس کی صدارت محترم جناب لئیق انور صاحب فرمائیں گے، جبکہ نظامت کے فرائض عزیز اعجاز صاحب انجام دیں گے۔
اس نشست میں شہر کے ممتاز قلمکارانِ ادب اپنے افسانے پیش کریں گے، جن میں:
صابر گوہر صاحب
منصور اکبر صاحب
ابنِ آدم صاحب
اشفاق عمر صاحب
عزیز اعجاز صاحب
ہارون اختر صاحب (صدرِ انجمن)
شامل ہیں۔
تمام ادب نواز حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس بامقصد ادبی نشست میں شرکت فرما کر اسے کامیاب بنائیں۔
آپ کی آمد کے منتظر
صدر و اراکین
انجمن محبانِ ادب، مالیگاؤں
*نکاح کو آسان اور برکت والا بناؤ (الحدیث )*....... *21 جوڑوں کے اجتماعی نکاح کا ایک عظیم الشان پروگرام*
*عوام الناس کو یہ اطلاع دیتے ہوئے نہایت ہی مسرت ہو رہی ہے کہ ایکتا سیوا بھاوی سنستھا مہاراشٹر کی جانب سے شہر مالیگاؤں میں اجتماعی نکاح کا تیسرا عظیم الشان پروگرام مورخہ 2 جون 2026ء بروز منگل کو فردوس لانس، لوٹس لانس کے بازو میں 80 فٹی روڈ ، مالیگاؤں میں منعقد ہوگا*۔ *اس پروگرام میں ہر مکتبہ فکر اور ہر برادری سے تعلق رکھنے والے 21 *جوڑوں کا اجتماعی نکاح ہوگا۔ یہ تقریب صبح 10 بجے منعقد ہوگی *اور ظہر سے قبل اختتام پذیر ہو جائے گی ۔ ان شاء اللہ* ۔۔۔۔
*اجتماعی نکاح کا پروگرام منعقد کرنے کا ہمارا مقصد نکاح کو آسان کرنا*، *دولہا اور دلہن کے والدین اور سرپرستوں کو بے جا رسم و رواج، بے جا اخراجات سے بچانا ہے کیونکہ آج کل نکاح اور شادی کے نام پر لاکھوں روپیوں کے اخراجات ہوتے ہیں جس کی بناء پر نکاح مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے*۔ *اجتماعی نکاح کی تقریب میں کم وقت، کم خرچ میں آسانی سے بچے اور بچیوں کا گھر بس جاتا ہے اور وہ تمام احباب ہمیں دعاؤں سے نوازتے ہیں*۔…..
*اجتماعی نکاح کے اس پروگرام میں گھر گرہستی میں لگنے والے تمام ضروری سامان دولہا دلہن سے لی گئی فیس اور سنستھا کی جانب سے دیئے جائیں گے۔ اس کے لئے فارم بھرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ فارم بھرنے کی آخری تاریخ 12 مئی 2026ء ہے۔ لہٰذا وقت کم ہونے کی بناء پر اس اجتماعی نکاح کے پروگرام میں اپنے بچے اور بچیوں کا نکاح کروانے کے خواہش مند ذمہ داران جلد از جلد رابطہ قائم کر کے فارم بھر دیں تاکہ آپ کا نام اس ہونے والے پروگرام میں شامل کیا جا سکے*۔...
*دیگر معلومات کے لئے حافظ طہ اور توصیف انجم صاحبان سے رابطہ قائم کریں*
۔
*فقط: *حافظ طہ*
*8010618461*
*توصیف انجم*
*8983837588*
*مولانا شیخ افسر، مولانا جمیل، مولانا یاسین ، اعجاز شاھین سر ، عتیق فن گرافکس*
*آفس کا پتہ* : *نمیرہ ہائٹس ، شاپ نمبر 25 ، للے چوک ، اسلام پورہ ۔ مالیگاؤں*
شدت کی گرمی اور چاروں طرف پینے کے پانی کی ہاہاکار، موجودہ برسراقتدار ہر مسائل پر میڈیا پر بات کررہا ہے مگر پانی کے مسائل پر سب خاموش کیوں؟ کیا پانی کی کالابازاری، بلیک میلنگ، اور پانی چوری، یا پھر سابقہ کی طرح پانی بیچا جارہا ہے۔۔
بنداس 🖊️
آصف بنداس
9273019740
مالیگاوءں ان دنوں موسم سرما و شدت کی دھوپ اور گرمی میں شہر کے چاروں طرف پینے کے پانی کی ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ حقیقت میں پانی کی اہمیت بنات حوا ہی جانتی ہے بیچاری بنات حوا پانی پینے کے پانی کے لئے کتنے جتن کرتی ہے تب کہیں پانی وافر ہوتا ہے۔ مگر آج تقریبا" ایک ماہ سے اور جاری شدت کی گرمی میں کارپوریشن واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر صرف یہ بولتا ہیکہ پانی سپلائی " اوپر سے بند ہے" ارے عقل کے اندھوں پانی تو پچھلے سال بارش میں " اوپر " سے یعنی رب تعالی نے 5 ماہ پانی دئے۔ اور اتنا پانی پانی پورا مہاراشٹر رہا۔ اور اسی بارش کے ایام میں مالیگاوءں کارپوریشن نے پانی کا ذخیرہ زیادہ ہونے سے 1 دن ناغے سے پانی دینے لگی۔ مگر کچھ تجربہ کار کھاوء بلے جو سالوں سال کارپوریشن کو اپنا گھر سمجھتے ہیں صبح ہوتی تو کارپوریشن تو شام تک کارپوریشن ہی میں ڈیرہ ڈالے رہتے ، ایسے کچھ لوگ کمشنر کو بول کر 1 دن ناغے سے پانی بند کروائے کہ یہ پانی گرمی میں دیا جائے۔ مگر آج تو حساب ایکدم الٹا 1 دن تو دور دو دن ناغے سے دیا جانے والا پانی شہر کے بیشتر علاقوں میں 6.8.10.12. گھنٹہ لیٹ بلکہ تیسرا دن بھی گیپ ہوکر پانی دیا جارہا ہے۔ اور اگر عوام واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کے کرسی توڑو اور پگار کھاوء لوگوں سے رابطہ کرتی تو یہ بولا جاتا کہ پمپنگ بار بار بند ہوجارہی ہے۔ اوپر سے آرڈر ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ 1100 کروڑ کا بجٹ رکھنے والی کارپوریشن انتظامیہ و برسراقتدار عوام کو سال میں با مشکل 50 سے 60 دن پانک دیتی ہے۔ اور پانی پٹی سال کے 365 دنوں کی لیتی ہے۔ اور ستم بلائے ستم واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ کی نااہلی و نکمہ پن سے شہر کے چاروں طرف 8.10.12 گھنٹہ لیٹ اور کہیں تو چا دن پانچ دن لیٹ پانی ۔ اور جھوٹ پر جھوٹ بول کر عوام کو تسلی دی جارہی ہے۔ بنات حوا بھی برجستہ کہنے لگی کہ پانچ مہینہ بارش ہوئی اور 1 دن ناغے سے پانی دینے والی کارپوریشن گرمی کے ایام میں 3.4.5 دن ناغے سے پانی دے رہی ہے ۔ اور واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ چنگر چوٹی یہ کہتی ہیکہ پمپنگ بار بار بند ہوجاتی اوپر سے ایسا آرڈر ہوتا ہے ۔ تو بنات حوا کا بھی شک اب یہی ہیکہ کارپوریشن انتظامیہ و واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ یقینا" پانی کی کالا بازاری ، بلیک میلنگ، اور خرد برد و پانی بیچ رہی ہے۔ اسی لئے کارپوریشن موجودہ برسراقتدار ہر مسائل پر میڈیا پر بات کرتا ہے ۔ مگر پانی کے مسائل پر نہ کارپوریشن کمشنر و واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ، نہ موجودہ برسراقتدار عوام کو کچھ بتا نہیں رہا ہے۔ کیا سچ میں ایسا سب کچھ ہورہا ہے۔
کارپوریشن واٹر سپلائی ڈپارٹمنٹ و برسراقتدار کو چاہئے کہ پانی کے مسائل پر عوام کو میڈیا کے ذریعے بتائیں ورنہ پانی کے مسائل پر تمہاری خاموشی بنات حوا کا شک یقین میں بدلی ہوگا۔