وارڈ نمبر 15 گولڈن نگر شفاعت چوک سے خلیل ہائی اسکول تک نلوں میں گٹر کے پانی کا سدباب
گذشتہ کئی دنوں سے گولڈن نگر شفاعت چوک سے خلیل ہائی اسکول تک نلوں میں گٹر کا پانی آرہا تھا ۔ الحمد اللہ واٹر سپلائی انجیئر اجئے کھیرنار کو مسلسل شکایت دی جارہی تھی۔ کہ گرمی کی شدت میں اس علاقے کی خواتین پانی کیسے بھرے اور عوام پیئے ۔ بنداس کی بار بار شکایت اور کارپوریٹر ببلو قریشی کی شکایت پر 30 اپریل کو خود اجئے کھیرنار ٹیم لیکر شفاعت چوک پہچ کر فالٹ دور کرنے کے لئے کھدائی کروائی۔ اب انشا اللہ گٹر کا پانی کا سدباب ہوگا۔ اور پانی کی تکلیف دور ہوگی۔ اس موقع پر ببلو قریشی، آصف بنداس، رفیق سیٹھ امراللہ ، محمد سلطان تانے ماما، اسلام کلن چاول والے، کلو مقادم، و دیگر احباب موجود تھے۔
سینکت (متحدہ) مہاراشٹر تحریک میں مالیگاؤں کے برادران وطن کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی مؤثر شمولیت
مالیگاؤں (نامہ نگار):
مالیگاؤں کی قدیم و معتبر اردو لائبریری ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام یکم مئی ٢٠٢٦ بروز جمعہ شام سات بجے، یومِ مہاراشٹر اور عالمی یومِ مزدور کی مناسبت سے ایک باوقار اور شاندار تقریب منعقد ہوئی، جو ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ تقریب کی صدارت بزرگ و تجربہ کار مراٹھی صحافی جناب مظفر شیخ نے فرمائی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں معروف سماجی خدمتگار شری دتو دگڑو بھوسے، وظیفہ یاب مدرس جناب عبدالرحیم شیخ، اور شہر کی معروف ادبی، سماجی و ثقافتی شخصیت عالیجناب محمد رمضان عبدالشکور (رمضان فیمس) شامل تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں جناب مظفر شیخ نے مالیگاؤں کی تاریخی، سیاسی اور سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ شہر ہمیشہ سے ایک تحریکی مرکز رہا ہے۔ جنگِ آزادی سے لے کر متحدہ مہاراشٹر تحریک تک، یہاں کے عوام—خصوصاً ہندو مسلم برادرانِ وطن—نے متحد ہو کر جدوجہد کی اور ممبئی کو شامل کرتے ہوئے ریاست مہاراشٹر کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونا جادھو کی قیادت میں مالیگاؤں کے عوام نے بھرپور حصہ لیا، اور آزادی سے قبل اس شہر نے پاکستان تحریک کو شکست دے کر سیکولر اقدار کی حمایت کی۔
انہوں نے اس حقیقت کی بھی نشاندہی کی کہ ممبئی میں متحدہ مہاراشٹر تحریک کے دوران تقریباً دو سو رضاکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور بالآخر عوامی جدوجہد کے آگے حکومت کو جھکنا پڑا۔ مزدوروں، کسانوں اور خواتین کی مشترکہ قربانیوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔
مہمانِ خصوصی شری دتو بھاؤ بھوسے نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کے والد اور خاندان کے دیگر افراد نے اس تحریک میں حصہ لیا۔ انہوں نے حاضرین کو باہمی بھائی چارہ، تعلیم اور ترقی کے لیے عہد کرنے کی تلقین کی، اور مالیگاؤں کے مسلم خاندانوں سے اپنے دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
جناب عبدالرحیم شیخ نے مہاراشٹر کی عظیم تہذیب و ثقافت کا دلنشین انداز میں تذکرہ کرتے ہوئے تحریک کے پس منظر کو اجاگر کیا۔ عالیجناب رمضان فیمس نے مہاراشٹر کے صوفیاء و سنتوں کی تعلیمات پر مؤثر تبصرہ فرمایا اور مراٹھی زبان کی اہمیت پر زور دیا۔
تقریب کا آغاز لائبریرین جناب آصف احمد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ جناب جاوید انصاری نے یومِ مہاراشٹر اور عالمی یومِ مزدور کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر اردو لائبریری ٹرسٹ کی جانب سے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی محنت کش شخصیات کو شال اور گلدستہ پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان میں خالد قریشی (ڈراما نگار)، نفیس احمد (افسانہ نگار و خوشنویس)، نعیم صدیقی اور عاکف نبیل شامل تھے۔
تقریب کی نظامت جناب انیس صاحب نے نہایت خوبصورتی سے انجام دی، جبکہ رسمِ شکریہ ٹرسٹ کے سکریٹری جناب مظہر معاذ شوقی نے ادا کی۔ آخر میں جاوید انصاری نے مہاراشٹر گیت کا اردو ترجمہ پیش کیا۔
اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں آصف احمد، سمید صاحب (اسٹنٹ لائبریرین)، خالد قریشی اور سجاد شفق نے خصوصی محنت کی۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے مہمانانِ کرام سے مراٹھی زبان کی اہمیت و افادیت پر مزید تبادلۂ خیال کیا۔ شہر کی متعدد ادبی شخصیات، اساتذہ اور سنجیدہ حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس بامقصد تقریب میں شرکت کی۔
یہ تقریب نہ صرف تاریخی شعور کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ باہمی ہم آہنگی، ثقافتی شعور اور تعلیمی بیداری کا بھی ایک مؤثر پیغام دے گئی۔
ٹرمپ کا پلان ہوا کامیاب ، ایران کے نام پر کمارہا ہے امریکہ ! خلیجی ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کا طے پایا معاہدہ
US Weapon Sale News: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کا فائدہ اب امریکہ کو ہو رہا ہے۔ اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ایران پر حملہ محض جنگ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جس سے بیک وقت متعدد مقاصد حاصل کیے گئے تھے۔ یہ جنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر شروع ہوئی جس نے پورے مغربی ایشیا کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا۔ اب اس کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ خلیجی ممالک کو اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ ہتھیاروں کی فروخت امریکہ کا سب سے بڑا کاروبار ہے اور اس جنگ کے بعد وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے 1 مئی 2026 کو مشرق وسطیٰ کے اپنے قریبی اتحادیوں: اسرائیل، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کو 8.6 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ بندی نافذ العمل ہے لیکن خوف اور غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔ اس ساری پیش رفت کو سمجھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ نے امریکہ کو دوہرا فائدہ پہنچایا۔ ایک طرف اس کا دشمن ایران کمزور ہوا تو دوسری طرف اس کے اتحادی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے اور یہی وہ موقع ہے جہاں سے اسلحے کی منڈی شروع ہوتی ہے۔کس کو کیا بیچا؟
اس معاہدے میں مختلف ممالک کو ان کی ضروریات کے مطابق ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔
قطر کو تقریباً 4.01 بلین ڈالر مالیت کا پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم اور تقریباً 992 ملین ڈالر کا پریسی جن راکٹ ملے گا۔
کویت کو 2.5 بلین ڈالر کا انٹیگریٹڈ بیٹل کمانڈ سسٹم ملے گا۔
اسرائیل کو تقریباً 992 ملین ڈالر مالیت کے جدید ترین ہتھیار ملیں گے۔
متحدہ عرب امارات کو 147.6 ملین ڈالر کے گائیڈڈ راکٹ فروخت کیے گئے۔
ان تمام سودے فضائی دفاع، میزائلوں کو روکنے اور درست طریقے سے اسٹرائیک ٹیکنالوجی پر مرکوز ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ ان ممالک کا فضائی دفاعی نظام انتہائی کمزور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون سسٹم نے ان ممالک کے اسٹریٹیجک مقامات پر حملے کیے۔
ایران کا خوف دلا کر بیچ رہا ہے ہتھیار
فروری-مارچ 2026 میں تنازع کے دوران ایران نے خلیجی ممالک اور اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔ جواب میں، ان ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام، جیسے پیٹریاٹ کو بہت زیادہ استعمال کیا۔ نتیجے کے طور پر، ان ممالک کے ہتھیاروں کے ذخیرے تیزی سے ختم ہو گئے، جس سے سیکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہوا۔ جس کے بعد امریکہ نے فوری طور پر ان ممالک کو اگلے حملے کی تیاری کے لیے نئے ہتھیار فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
خلاصہ یہ کہ یہ پورا کھیل ڈیٹرنس پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے بارے میں ہے۔ ایک طرف امریکہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے تو دوسری طرف وہ ایران سے لاحق خطرے کو اجاگر کر کے انہیں ہتھیار فروخت کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاہدے کو صرف دفاعی تعاون کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اقتصادی اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔