ایران سے جنگ کی بھاری قیمت چکا رہا امریکہ ، اب تک 25 ارب ڈالر ہوئے خرچ
امریکہ ایران جنگ اب محض ایک فوجی تنازع نہیں رہی بلکہ یہ بہت زیادہ معاشی بوجھ کی کہانی بنتی جا رہی ہے۔ پینٹاگون نے پہلی بار اس جنگ کی اخراجات کا انکشاف کیا ہے ۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ اب تک تقریباً 25 بلین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ تقریباً ناسا کے سالانہ بجٹ کے برابر ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے سینئر اہلکار جولس ہرسٹ نے امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ اس اخراجات کا بڑا حصہ ہتھیاروں اور گولہ بارود پر خرچ کیا گیا۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس میں مستقبل کے اخراجات جیسے نقصانات کا معاوضہ شامل ہے یا نہیں۔ اس انکشاف نے امریکی کانگریس میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کانگریس مین ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ہم کافی عرصے سے اس اعداد و شمار کا انتظار کر رہے تھے لیکن اب پہلی بار واضح تعداد سامنے آئی ہے۔وزیر دفاع نے پینٹاگون کا کیا دفاع
اس بیچ ، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ان اخراجات کا دفاع کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی سے منسلک کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہم ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا چاہتے ہیں تو اس کی قیمت کیا ہوگی؟ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ آپریشن ایپک فیوری نامی اس آپریشن کا مقصد واضح ہےاور یہ خرچ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
جنگ کی کیا قیمت چکا رہا ہے امریکہ؟
28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اضافی فوجیوں کی تعیناتی اور مشرق وسطیٰ میں کئی طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی نے لاگت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم امریکہ نے اپنے یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز کو واپس بلا لیا ہے۔ یہ معاشی بوجھ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مہنگائی اور ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی امریکہ میں پریشانی کا باعث ہیں۔ ایک سروے کے مطابق صرف 34 فیصد امریکی جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔ایران بھی متاثر
اس جنگ کا اثر صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس کی کرنسی ریال 1.8 ملین فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے دودھ، چاول اور کوکنگ آئل جیسی اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوگئی ہیں جس سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے تنازعے نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کی وجہ سے عالمی منڈی میں ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ کئی ممالک نے اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی اپیل کی ہے۔
ایگزٹ پول:کانگریس کا جنوبی ریاستوں میں بہتر مظاہرہ، مشرق میں چیلنج برقرار ۔ کیاپارٹی قومی سطح پرواپسی کرسکتی ہے؟
کیا 2026 کے ایگزٹ پول کانگریس پارٹی کی واپسی کی نشاندہی کرتے ہیں یا پھر اس کے محدود ہوتے سیاسی دائرے کو مزید واضح کرتے ہیں؟ مختلف ریاستوں سے سامنے آنے والے اندازے ایک جانی پہچانی مگر غیر متوازن تصویر پیش کرتے ہیں جنوبی بھارت میں کچھ مضبوطی، خاص طور پر کیرالا میں، جبکہ آسام اور مغربی بنگال جیسے اہم میدانوں میں مسلسل جدوجہد۔پہلی نظر میں یہ اعداد و شمار کانگریس کے لیے کچھ اطمینان کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن گہرائی میں جائیں تو یہ کامیابیاں زیادہ تر مخصوص جغرافیائی علاقوں اور اتحادوں پر منحصر دکھائی دیتی ہیں۔ اس سے ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے : کیا کانگریس ان محدود کامیابیوں کو قومی سطح پر بحالی میں بدل سکتی ہے، یا پھر وہ ایک علاقائی پارٹی بن کر رہ جائے گی؟
دو خطوں کی الگ کہانی
ایگزٹ پول کے مطابق کیرالا میں کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف اتحاد کی واپسی ممکن دکھائی دیتی ہے، جہاں ایک سخت مقابلے کے بعد وہ بائیں بازو کے اتحاد کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ کیرالا ان چند ریاستوں میں شامل ہے جہاں کانگریس کی تنظیمی بنیاد مضبوط ہے اور مقابلہ دو واضح فریقوں کے درمیان ہوتا ہے، جس سے حکومت مخالف لہر اس کے حق میں جا سکتی ہے۔
مختلف ایجنسیوں جیسے VoteVibe، Matrize، JVC، People’s Pulse اور Axis My India کے اندازوں کے مطابق یو ڈی ایف 140 رکنی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔ اگرچہ بائیں بازو کا اتحاد پیچھے دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ مقابلے سے مکمل طور پر باہر نہیں ہوا۔
تمل ناڈو میں صورتحال قدرے مختلف ہے۔ یہاں زیادہ تر اندازے یہ بتاتے ہیں کہ حکمراں ڈی ایم کے اتحاد دوبارہ اقتدار میں آ سکتا ہے، جس میں کانگریس ایک چھوٹے اتحادی کے طور پر فائدہ اٹھاتی نظر آتی ہے۔ تاہم، یہاں بھی کانگریس کی کامیابی اس کے اپنے ووٹ بینک کی توسیع کے بجائے اتحاد کی سیاست کا نتیجہ ہے۔
ڈی ایم کے کی جیت نہ صرف جنوبی بھارت میں کانگریس کے اثر کو برقرار رکھے گی بلکہ بی جے پی کو تمل ناڈو سے دور رکھنے میں بھی مدد دے گی، جو مرکزی قیادت کے لیے ایک بڑی سیاسی کامیابی سمجھی جائے گی۔اہم میدانوں میں مشکلات برقرار
جنوب کے باہر کانگریس کی مشکلات زیادہ واضح نظر آتی ہیں۔
آسام میں تقریباً تمام ایگزٹ پول بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کو واضح برتری دیتے ہیں، جس سے تیسری مرتبہ حکومت بنانے کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔ سینئر کانگریسی رہنماؤں کی مہم کے باوجود پارٹی حکومت مخالف لہر کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
مختلف سرویز کے مطابق این ڈی اے کو 90 سے 100 کے درمیان نشستیں مل سکتی ہیں، جو 64 کی اکثریت سے کافی زیادہ ہیں، جبکہ انڈیا اتحاد کو صرف 22 سے 33 نشستوں تک محدود دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی یو ڈی ایف کی پوزیشن بھی کمزور نظر آ رہی ہے۔
مغربی بنگال میں صورتحال مزید واضح ہے، جہاں اصل مقابلہ ٹی ایم سی اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ کانگریس یہاں ایک ’’تیسرے متبادل‘‘ کے طور پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن زیادہ تر اندازوں کے مطابق اسے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل رہی۔ کئی سرویز تو اسے صفر نشستیں دیتے ہیں جبکہ کچھ معمولی اضافہ دکھاتے ہیں۔
وسیع تر رجحان کیا بتاتا ہے؟
مجموعی طور پر ایگزٹ پول ایک واضح پیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کانگریس وہاں بہتر کارکردگی دکھاتی ہے جہاں سیدھا مقابلہ ہو، جیسے کیرالا۔ علاقائی مضبوط ریاستوں میں وہ اتحادیوں پر انحصار کرتی ہے، جیسے تمل ناڈو۔ جبکہ کثیر فریقی یا شدید پولرائزڈ مقابلوں میں، جیسے آسام اور بنگال، اسے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
اسی دوران بی جے پی نہ صرف اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ کئی اہم ریاستوں میں اپنا اثر بڑھاتی دکھائی دیتی ہے، جو قومی سطح پر طاقت کے توازن کو کانگریس کے خلاف رکھتا ہے۔یہ رجحانات صرف نشستوں تک محدود نہیں بلکہ تین بڑے مسائل کو بھی اجاگر کرتے ہیں :
جغرافیائی سکڑاؤ – کانگریس کی سیاست چند ریاستوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔اتحاد پر انحصار – پارٹی اکثر جونیئر پارٹنر کے طور پر کامیاب ہوتی ہے۔بیانیے کی کمی – اہم ریاستوں میں پارٹی مرکزی سیاسی بیانیہ قائم کرنے میں ناکام ہے۔
نتیجہ
اگرچہ 4 مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی حتمی تصویر واضح کرے گی، لیکن موجودہ رجحانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کانگریس کو جنوبی بھارت میں کچھ کامیابیاں مل سکتی ہیں، خاص طور پر کیرالا میں، مگر یہ کامیابیاں اس کی قومی سطح کی سیاست کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔
الور: دہلی- ممبئی ایکسپریس وے پرچلتی کارشعلہ پوش ، 5 افراد ہلاک
دہلی۔ممبئی ایکسپریس وے پر بیتی رات ایک المناک حادثہ ہوا ۔ الور ضلع کے لکشمن گڑھ تھانہ علاقے کے موج پور کے قریب ایک چلتی کار اچانک شعلہ پوش ہو گئی۔ آگ اتنی بھیانک تھی کہ گاڑی میں سوار افراد کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔
اس حادثے میں 5 افراد کی موت ہوگئی ۔ جیسے ہی گاڑی میں آگ لگی، چاروں طرف چیخ و پکار مچ گئی، لیکن جب تک مدد پہنچی، سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔
اطلاعات کے مطابق کار میں سوار تمام لوگ مدھیہ پردیش کے شیوپور ضلع کے رہنے والے تھے۔ وہ جموں کشمیر میں ماتا ویشنو دیوی کے درشن کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔لکشمن گڑھ کے قریب پہنچتے ہی خوشی کا سفر ماتم میں بدل گیا۔ مہلوکین کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی لکشمن گڑھ تھانے کی پولیس اور انتظامی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں۔ لواحقین کو اطلاع دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حادثے کے بعد ایکسپریس وے پر ٹریفک بھی کچھ دیر کے لیے متاثر رہی۔ گاڑی میں آگ لگنے کی وجہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔