سنجے کپور جائیداد تنازع سپریم کورٹ پہنچا، پریہ کپور سچدیو سمیت 22 افراد کو نوٹس جاری
نئی دہلی: صنعت کار سنجے کپور کی ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو لے کر جاری خاندانی تنازع اب سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ سنجے کپور کی والدہ رانی کپور کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے پریا کپور سچدیو سمیت 22 فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ رانی کپور نے اپنی عرضی میں عدالت سے اپیل کی ہے کہ سنجے کپور کی جائیداد، اسٹیٹ اور دیگر اثاثوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت پر فوری روک لگائی جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس وقت تک جائیداد کا محفوظ رہنا نہایت ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی یا نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو جائیداد کے بکھرنے یا غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے تمام قانونی فریقین کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔سپریم کورٹ کا نوٹس اور مصالحت کی تجویز
سپریم کورٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پریا کپور سچدیو سمیت 22 افراد کو نوٹس جاری کیا ہے اور ان سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے دونوں فریقین کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اس تنازع کو باہمی رضامندی اور ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ طویل قانونی جنگ سے بچا جا سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، عدالت کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس حساس خاندانی معاملے کو جلد اور خوش اسلوبی سے حل ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج
رانی کپور نے اپنی عرضی میں دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کو بھی چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے اب تک جائیداد اور اسٹیٹ کے تحفظ کے لیے کوئی مضبوط اور واضح ہدایت جاری نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے انہیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور جائیداد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے واضح احکامات جاری کرے۔
اربوں کی جائیداد اور خاندانی اختلافات
یہ تنازع سنجے کپور کے انتقال کے بعد شروع ہوا۔ رپورٹس کے مطابق وہ اپنے پیچھے تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے کی بڑی جائیداد چھوڑ گئے ہیں۔ اسی جائیداد اور وصیت کو لے کر خاندان کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سنجے کپور کی بہن مندھیرا کپور نے دعویٰ کیا ہے کہ وصیت میں کئی بے ضابطگیاں ہیں اور اس میں خاندان کے کچھ افراد، خاص طور پر کرشمہ کپور اور ان کے بچوں کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پریا کپور سچدیو نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر قانونی دائرے میں رہ کر کام کر رہی ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تمام قانونی تقاضوں کو پورا کر رہی ہیں اور عدالت میں اپنے موقف کا دفاع کریں گی۔
فلمی دنیا سے جڑا پس منظر
یہ تنازع اس لیے بھی خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ سنجے کپور کا تعلق بالی ووڈ اداکارہ کرشمہ کپور سے بھی رہا ہے۔ سنجے کپور نے 2003 میں کرشمہ کپور سے شادی کی تھی اور ان کے دو بچے بھی ہیں، تاہم بعد میں دونوں کے درمیان طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد سنجے کپور نے پریا سچدیو سے شادی کر لی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ نہ صرف ایک بڑے مالی تنازع کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ اس میں خاندانی تعلقات، قانونی پیچیدگیاں اور وراثتی حقوق جیسے حساس معاملات بھی شامل ہیں۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں اس کیس کی مزید پیش رفت طے ہوگی۔
بھارت، نیوزی لینڈ فری ٹریڈ معاہدہ : سیب، وائن اور ڈیری سستی ، کیوی کو ڈیری سیکٹرمیں ہوگافائدہ، ویزا ملناہوا آسان
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ (Free Trade Agreement) دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت نہ صرف کئی درآمدی اشیاء سستی ہونے کا امکان ہے بلکہ پیشہ ور افراد اور طلبہ کے لیے ویزا کے حصول میں بھی آسانی متوقع ہے۔
یہ معاہدہ، جسے ابھی نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ دو طرفہ سیاسی حمایت کے ساتھ جلد منظور ہو جائے گا۔ اس کے نفاذ کے بعد مختلف شعبوں میں محصولات (ٹیکس) بتدریج کم کیے جائیں گے، جس سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔صارفین کے لیے خوشخبری : پھل اور وائن سستے
بھارتی صارفین کے لیے اس معاہدے کا سب سے فوری اثر روزمرہ کی اشیاء پر پڑ سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ سے درآمد کیے جانے والے سیب اور کیوی، جو پہلے ہی بھارت میں مقبول ہیں مگر مہنگے داموں دستیاب ہوتے ہیں، اب سستے ہونے کی توقع ہے کیونکہ ان پر عائد درآمدی ڈیوٹی کم کی جائے گی۔ اسی طرح وائن کی قیمتیں بھی اگلے 10 برسوں میں بتدریج کم ہو سکتی ہیں۔
صنعتی شعبے کے لیے بڑا فائدہ
اس معاہدے کے تحت بھارت کو لکڑی کے لٹھے (wooden logs)، کوکنگ کول (coking coal) اور دھاتی اسکریپ جیسے اہم صنعتی خام مال پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے نہ صرف مینوفیکچرنگ لاگت کم ہوگی بلکہ انفراسٹرکچر منصوبوں میں بھی تیزی آنے کی امید ہے۔نیوزی لینڈ کو ڈیری سیکٹر میں فائدہ
دوسری جانب نیوزی لینڈ کو بھارتی مارکیٹ میں اپنی ڈیری مصنوعات کے لیے بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ ری۔ایکسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والے فوڈ اجزاء کو فوری طور پر ڈیوٹی فری داخلہ ملے گا، جبکہ بچوں کے دودھ (infant formula) اور دیگر مہنگی ڈیری مصنوعات پر محصولات اگلے سات سالوں میں مرحلہ وار کم کیے جائیں گے۔ مخصوص کوٹہ کے تحت دودھ سے متعلق دیگر مصنوعات پر بھی ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔
دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ متوقع
نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت ٹوڈ میک کلے (Todd McClay) کے مطابق یہ معاہدہ ملک کی برآمدات کو اگلے عشرے میں دوگنا کرنے کے ہدف کی حمایت کرے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
وہیں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن (Christopher Luxon) نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی منڈیوں میں سے ایک، یعنی بھارت، کے دروازے کھولے گا اور تجارت و سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرے گا۔
بھارتی برآمد کنندگان کے لیے مواقع
اس معاہدے سے بھارتی برآمد کنندگان کو بھی فائدہ ہوگا، خاص طور پر ٹیکسٹائل، لیدر، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ مصنوعات اور آٹو موبائل کے شعبوں میں۔ انہیں نیوزی لینڈ کی مارکیٹ تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔
موجودہ تجارت اور مستقبل کی صلاحیت
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم محدود ہے۔ مالی سال 2024-25 میں اشیاء کی تجارت تقریباً 1.3 ارب ڈالر رہی، جبکہ مجموعی تجارت (اشیاء اور خدمات) تقریباً 2.4 ارب ڈالر کے قریب تھی۔
حکام کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف اس تجارت کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے بلکہ صارفین کو کم قیمتوں، بہتر مصنوعات کی دستیابی اور آسان سفری مواقع کی صورت میں براہ راست فائدہ پہنچائے گا۔
یہ مجوزہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ایک win-win صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جہاں ایک طرف صارفین کو سستی اشیاء ملیں گی تو دوسری جانب کاروبار اور صنعت کو نئی منڈیاں اور مواقع حاصل ہوں گے۔
وراٹ کوہلی 9 ہزار آئی پی ایل رنوں سے صرف 11 رن دور، ہدف کے تعاقب میں کوہلی کی غیر معمولی کارکردگی برقرار
نئی دہلی: بھارتی کرکٹ ٹیم اور رائل چیلنجرس بنگلورو کے اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں ایک تاریخی سنگ میل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ وہ 9 ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے صرف 11 رن دور ہیں اور اگر وہ یہ کارنامہ انجام دیتے ہیں تو لیگ کی تاریخ میں ایسا کرنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے۔ کوہلی نے اب تک 274 میچوں کی 266 اننگز میں 8989 رنز بنائے ہیں، جن کی اوسط 39.95 اور اسٹرائیک ریٹ 133.76 ہے۔ اس دوران انہوں نے 8 سنچریاں اور 66 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں، جبکہ ان کا بہترین اسکور 113 ناٹ آؤٹ ہے۔ موجودہ سیزن میں بھی وہ شاندار فارم میں ہیں اور 7 میچوں میں 328 رنز بنا چکے ہیں، جس میں تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وہ اس وقت اورنج کیپ کی دوڑ میں چھٹے نمبر پر ہیں۔’’کنگ آف چیزز‘‘ کی حیثیت برقرار
رنز کے تعاقب (چیز) میں کوہلی کی کارکردگی انہیں دیگر بلے بازوں سے ممتاز بناتی ہے۔ 2023 کے بعد سے وہ 21 اننگز میں صرف ایک بار سنگل ڈیجٹ پر آؤٹ ہوئے ہیں، جبکہ اس دوران انہوں نے 1087 رنز 72.46 کی شاندار اوسط سے بنائے ہیں۔ ان میں سے 14 اننگز کامیاب رن چیز پر ختم ہوئیں، جہاں انہوں نے 881 رنز 110.12 کی حیرت انگیز اوسط سے اسکور کیے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اب بھی ’’ایس آف چیزز‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ اپنی ٹیم کے لیے سب سے بڑے میچ ونر سمجھے جاتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 کے بعد جب بھی کوہلی نے نصف سنچری بنائی، آر سی بی کی جیت کا فیصد 91.67 رہا، جبکہ ان کے بغیر یہ شرح صرف 33.33 فیصد تک گر جاتی ہے۔
مضبوط بیٹنگ لائن اپ کے باوجود مرکزی کردار
اگرچہ رائل چیلنجرس بنگلورو کی بیٹنگ لائن اپ اب کافی متوازن ہو چکی ہے، جس میں فل سالٹ جیسے پاور پلے ہٹر، کپتان رجت پاٹیدار، دیودت پڈیکل، جیتیش شرما اور کرونال پانڈیا جیسے کھلاڑی شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود کوہلی ٹیم کی امیدوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ٹم ڈیوڈ اور روماریو شیفرڈ جیسے فنشرز بھی ٹیم میں موجود ہیں، لیکن مشکل حالات میں اننگز کو سنبھالنے اور میچ جتوانے کی ذمہ داری اب بھی زیادہ تر کوہلی کے کندھوں پر ہوتی ہے۔
ایک اور ریکارڈ کی جانب پیش قدمی
وراٹ کوہلی 2023 کے بعد سے مسلسل تین سیزن میں 600 سے زائد رنز بنا چکے ہیں اور اس سیزن میں بھی وہ اسی رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ وہ اس سیزن میں 400 رنز مکمل کرنے سے صرف 72 رنز دور ہیں، جو ان کے کیریئر میں 11ویں بار ہوگا یہ بھی ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔ آج آر سی بی کا اگلا مقابلہ دہلی کیپٹلز کے خلاف ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ دہلی کی ٹیم حالیہ شکست کے بعد دباؤ میں ہے، جبکہ آر سی بی اپنی جیت کے بعد پراعتماد نظر آرہی ہے۔ کرکٹ شائقین کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا وراٹ کوہلی اس میچ میں 9000 رنز کا تاریخی سنگِ میل عبور کر پاتے ہیں یا نہیں، اور کیا وہ ایک بار پھر اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب ہوں گے۔