ادارہ نثری ادب کی ٢٣٤ ویں ماہانہ ادبی نشست ٢٥ اپریل ٢٠٢٦ بروز سنیچر کو
ادارہ نثری ادب مالیگاؤں کی ماہانہ ادبی نشست نمبر(٢٣٤ ) بتاریخ 25 - اپریل 2026ء بروز سنیچر کی شب ٹھیک دس بجے اے ٹی ٹی کیمپس کے مرکزی ہال میں ہوگی- صدارت کے فرائض ڈاکٹر احمد ایوبی صاحب(سابق پرنسپل جمہور) انجام دیں گے قلمکاران میں ڈاکٹر اقبال برکی(ادیب الاطفال) ہارون اختر (افسانہ نگار ) مختار احمد انصاری (افسانہ نگار)اپنی تخلیقات پیش کریں گے- جس پر تنقید و تبصرے کی اجازت ہوگی- ساتھ ہی گذشتہ دنوں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی نے شہر ِ عزیز مالیگاؤں کے آٹھ قلم کاروں کی کتابوں کو انعام سے نوازا ہے ـ ان تمام قلم کاروں کا اعزاز ادارۂ نثری ادب کی جانب سے کیا جائے گا ـ اسی نشست میں ڈاکٹر مبین نذیر کی طنز و مزاح کی اکیڈمی ایوارڈ یافتہ کتاب "گُل افشانیاں" کا اجراء بھی عمل میں آئے گا ـ کتاب کا اجراء ڈاکٹر اقبال برکی، سرورق کی رونمائی عمران جمیل اور صاحب ِ کتاب کا اعزاز و استقبال عتیق شعبان (صدر ادارہ نثری ادب) صاحبان کریں گے ـ صاحبان ِ اعزاز کا استقبال، شال و گُل پیشی امین مختار صاحب(نائب پرنسپل اے ٹی ٹی اسکول) کریں گے ـ مہمانوں میں پروفیسر عبدالمجید صدیقی، پروفیسر رضوان خان، ڈاکٹر سعید احمد فارانی اور حاجی نورالھدی عبدالحفیظ صاحبان ہوں گے ـ ڈاکٹر اقبال برکی صاحب اور عمران جمیل صاحب، "گُل افشانیاں" پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کریں گے ـ نظامت کے فرائض رضوان ربانی صاحب انجام دیں گے ـ اردو زبان و ادب سے محبت رکھنے والے اساتذہ ،زیر تربیت معلمین، و طلباء سے شرکت کی گزارش صدر و اراکین ادارہ نثری ادب نے کی ہے-
سیریل کھانے کا ’درست طریقہ‘ کیا ہے؟ برطانوی ایٹیکیٹ کوچ کی ویڈیو وائرل
آدابِ محفل کے برطانوی ایٹیکیٹ کوچ ولیم ہینسن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ سیریل کھانے کا ’درست طریقہ‘ بتا رہے ہیں۔
اس طریقے میں چمچ کے ساتھ کانٹے کا استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے جس پر انٹرنیٹ صارفین کے درمیان بحث چھڑ گئی ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق ولیم ہینسن نے فروری کے آخر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ سیریل کھاتے وقت ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں کانٹا ہونا چاہیے۔یہ ویڈیو ایک ہوٹل کے ناشتے کے بوفے پر ریکارڈ کی گئی تھی اور اسے پانچ ملین سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔
ویڈیو میں ہینسن کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلے اپنی پسند کا دودھ شامل کریں۔ پھر ایک ہاتھ میں چمچ اور دوسرے ہاتھ میں کانٹا پکڑ کر سیریل کھائیں۔‘
ان کے مطابق کانٹے کی مدد سے سیریل کو چمچ پر رکھا جاتا ہے تاکہ کھانا زیادہ صاف اور ترتیب سے کھایا جا سکے۔
آسٹریلوی آدابِ محفل کی ماہر جو ہیز کے مطابق یہ طریقہ اگرچہ ’بہت خاص اور کم استعمال ہونے والا‘ ہے لیکن کانٹا استعمال کرنے سے سیریل کو چمچ پر رکھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پیالہ چوڑا اور کم گہرا ہو تو اضافی برتن کا استعمال کچھ حد تک مفید ہو سکتا ہے۔
جو ہیز نے کہا کہ وہ عمومی طور پر ہینسن کی بات سے متفق ہیں لیکن انہوں نے کبھی کسی کو سیریل کھاتے وقت کانٹا استعمال کرتے نہیں دیکھا۔
ان کے مطابق سیریل صرف چمچ سے بھی باادب انداز میں کھایا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگ چمچ پر سیریل رکھنے کے لیے انگلیاں استعمال نہ کریں اور نہ ہی پیالے کی طرف زیادہ جھکیں۔
برطانوی مصنفہ اور آدابِ محفل کی ماہر لورا ونڈسر کے مطابق ماضی میں بعض کھانوں کے لیے کھانے کے طریقے زیادہ پیچیدہ ہوا کرتے تھے۔ ان کے مطابق روایتی طور پر چمچ غالب ہاتھ (جو کام کاج کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے) میں رکھا جاتا تھا جبکہ دوسرا برتن، کبھی چمچ اور کبھی کانٹا، سیریل اور دودھ کو سنبھالنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تاکہ وہ گرنے سے بچ سکے۔انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات خشک سیریل کو الگ پیالے میں موجود دودھ میں ڈبو کر بھی کھایا جاتا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جدید دور کے زیادہ تر ناشتے کے لیے یہ طریقے کچھ زیادہ ہی پیچیدہ محسوس ہوتے ہیں۔
اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا صارفین دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ مذاق ہے یا واقعی سنجیدہ بات۔‘ جبکہ ایک اور صارف نے کہا، ’سیریل کھانے کے لیے کانٹا استعمال کرنا تو بالکل عجیب بات ہے۔‘
تاہم کچھ لوگ اس خیال کے حق میں بھی نظر آئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’میں تو صرف اپنے ناشتے میں تھوڑی سی شائستگی شامل کرنے کے لیے کانٹے کے ساتھ سیریل کھاؤں گا۔‘
امریکہ میں آدابِ محفل کی ماہر لیزا مرزا گروٹس نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق سیریل کھاتے وقت دو برتن استعمال کرنے کا کوئی خاص اصول موجود نہیں۔ ان کے مطابق مغربی کھانے کے آداب میں سیریل ہمیشہ چمچ سے ہی کھایا جاتا ہے۔نیو انگلینڈ سکول آف پروٹوکول کی بانی نکی ساونی نے بھی اسی رائے سے اتفاق کیا۔ ان کے مطابق اگرچہ بعض لوگ سہولت کے لیے کانٹا استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً گرینولا کے بڑے ٹکڑوں کو توڑنے کے لیے، لیکن عام حالات میں ایسا کرنا ضروری نہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ کھانے کے آداب کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنانے کے بجائے سادہ رکھنا بہتر ہے۔ ان کے مطابق ’زیادہ برتن یا اضافی مراحل شامل کرنے سے سادہ کھانا بھی مشکل لگنے لگتا ہے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ ولیم ہینسن اس سے پہلے بھی کھانے کے آداب سے متعلق بیانات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ چکے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے کہا تھا کہ کیلا کھانے کا ’واحد درست طریقہ‘ چاقو اور کانٹے کے ساتھ ہے۔ ان کی نئی سیریل والی ویڈیو اس قدر مشہور ہوئی کہ اس کا ذکر مشہور پروگرام ’سیٹرڈے نائٹ لائیو‘ میں بھی کیا گیا۔
بعد میں ہینسن نے فیس بک پر ایک پول میں پوچھا کہ ’کیا میں نے حد سے زیادہ بات کر دی؟‘ جس پر زیادہ تر لوگوں نے جواب دیا ’جی ہاں۔‘
آبنائے ہرمزمیں کنٹینرشپ پرفائرنگ ، ایران پرالزام ، کشیدگی میں مزید اضافہ
آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے ۔ صدر ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد کنٹینر شپ پر فائرنگ ہوئی ہے ۔ آئی آر جی سی پر فائرنگ کا الزام ہے۔ جس سے پہلے ہی کشیدہ صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں جہاز نقصان پہنچے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ تاہم کوئی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی تاحال اطلاع نہیں ہے۔ جہاز کس ملک کا تھا، اس بارے میں فوری طور پر معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب پاکستان میں متوقع جنگ بندی مذاکرات منعقد نہ ہو سکے، جس سے سفارتی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ دوسری جانب امریکی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی جاری ہے۔برطانیہ کی United Kingdom Maritime Trade Operations (UKMTO) کے مطابق حملہ صبح تقریباً 7 بج کر 55 منٹ پر مصروف بحری راستے میں پیش آیا، جہاں ایرانی گن بوٹ نے بغیر کسی پیشگی وارننگ یا رابطے کے جہاز پر فائرنگ کی۔نشانہ بننے والا جہاز ایک کنٹینر بردار بحری جہاز تھا جو عالمی تیل اور تجارتی ترسیل کے اہم راستے سے گزر رہا تھا۔ فائرنگ کے باوجود عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا تیل رساؤ یا ماحولیاتی نقصان رپورٹ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع اورناکہ بندی جاری رکھنے کااعلان، تہران نے کہادھمکی اوردباؤکے خلاف مزاحمت رہے گی جاری
واقعے پرایران کا کوئی ردعمل نہیں
ایران کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے، جس سے صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں سمندری حدود میں ہونے والی کارروائیوں کے باعث ایران پر دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔حالیہ واقعات اور کشیدگی
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکہ نے ایک ایرانی کنٹینر جہاز کو فائرنگ کے بعد قبضے میں لیا تھا، جبکہ ایک اور کارروائی میں امریکی فورسز نے بحرِ ہند میں ایران سے منسلک ایک آئل ٹینکر پر بھی چڑھائی کی تھی۔ پاکستان میں مجوزہ مذاکرات کا نہ ہونا بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔