Wednesday, 1 April 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*

اوڈا فون آئیڈیا فاۓ جی کی شروعات 
مالیگاؤں شہر میں آئیڈیا اوڈا فون کا فاۓ جی سسٹم لانچ ہوا ہے آپ اپنے قریبی سینٹر پر جاکر اس کا فایدہ حاصل کر سکتے ہیں ضرور استعمال کریں کئی سہولیات نہایت رواں و آسان ۔۔۔ شہریان کو اس کا کئی دنوں سے انتظار تھا اب الحمدللہ یہ سہولت شروع ہوچکی ہے اس سے ضرور مستفیض ہوں اس طرح کا اظہار کمپنی کے زمہ داران نے ہو الائچی میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں کیا

*🛑سیف نیوز اُردو*


طلباء میں تقسیم انعامات 
الحمدللہ بروز پیر (30 مارچ 2026) اشرف ایجوکیشن اکیڈمی میں ایک نہایت خوشگوار اور بابرکت تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیئرپرسن محترمہ مس عرفیہ تبسم افروز احمد اشرفی صاحبہ کے مبارک ہاتھوں سے بچوں میں سرٹیفکیٹس اور انعامات تقسیم کیے گئے۔

یہ تقریب طلبہ کی محنت، لگن اور کامیابیوں کو سراہنے کے لیے منعقد کی گئی، جہاں بچوں کے چہروں پر خوشی اور مسرت دیدنی تھی۔ اس موقع پر طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے ادارے کی اس کاوش کو بے حد سراہا۔

محترمہ چیئرپرسن صاحبہ نے اپنے خطاب میں بچوں کو مزید محنت، تعلیم سے لگاؤ اور اچھے اخلاق اپنانے کی تلقین کی، اور ان کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں بھی دیں۔

اشرف ایجوکیشن اکیڈمی ہمیشہ کی طرح تعلیم کے میدان میں بہترین خدمات انجام دے رہی ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی۔

تمام کامیاب طلبہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد 🎉
اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں مزید کامیابیوں سے نوازے۔ آمین 🤲

#AshrafEducationAcademy #CertificateDistribution #Success #ProudMoment








*الحمدللہ! شفیق مکہ حج و عمرہ ٹور اینڈ ٹراویلس کی جانب سے رمضان المبارک میں جانے والے عمرہ زائرین بحفاظت اور خیر و عافیت کے ساتھ اپنے وطن واپس پہنچ گئے۔ یہ نہایت خوشی اور اطمینان کا مقام ہے کہ موجودہ جنگی حالات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود قافلے کی واپسی نہایت بہترین انتظامات کے ساتھ ممکن ہوئی۔*

*خاص طور پر قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ کمپنی نے کسی بھی زائر سے اضافی رقم طلب نہیں کی، نہ ہی کسی قسم کی مالی تنگی کا بوجھ ڈالا۔ ہوٹل کی سہولیات ہوں یا کھانے پینے کا انتظام، ہر مرحلے پر زائرین کو بھرپور سہولت اور آرام فراہم کیا گیا۔ اس مشکل وقت میں جس پیشہ ورانہ ذمہ داری، دیانتداری اور خدمت کے جذبے کا مظاہرہ کیا گیا، وہ واقعی قابلِ ستائش ہے یہ کامیاب واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور انتظام مضبوط ہو تو کسی بھی مشکل صورتحال کو بخوبی سنبھالا جا سکتا ہے۔ شفیق مکہ ٹور اینڈ ٹراویلس نے نہ صرف اپنے وعدوں کو پورا کیا بلکہ زائرین کے اعتماد پر بھی پورا اترا۔*

*اللہ تعالیٰ تمام زائرین کی عبادات کو قبول فرمائے اور ادارے کو مزید خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔*


 *اگلا عمرہ گروپ حج کے فوراً بعد روانہ ہو گا انشاءاللہ*

*مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں*

8983282842
9226909090

*ہمارا پتہ :- شفیق مکہ حج عمرہ ٹور اینڈ ٹراویلس سلیمانی چوک عبداللہ بک ڈپو کے سامنے وکی اسٹیل فرنیچر کے بازو میں مالیگاوں(423203)*










مالیگاؤں مونسپل کارپوریشن کا ہٹلری فرمان
25 اپریل کے روز شہر مالیگاؤں میئر اور اسٹینڈنگ چیئرمین نے یوٹیوب چینل کے ذریعے مالیگاؤں شہر کی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے آتی کرمن کا ہٹایا جانا ضروری ہے۔ اس لیئے مالیگاؤں شہر کی عوام 1 اپریل سے پہلے پہلے اپنے آتی کرمن خود ہٹا لیں۔ ہم کسی کو بولنے اور نوٹس دینے نہیں جائیں گے۔ ہمارے اسی بیان کو نوٹس سمجھ لیا جائے شہر کی مختلف سڑکوں پر چھوٹا موٹا دھندھا کرنے والوں کا بھی ذکر ان لوگوں نے کیا۔ 
بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی آتی کرمن کی حمایت کبھی نہیں کرتی ہے۔ بلکہ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی دس سالوں سے اس بات کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔کہ شہر مالیگاؤں سے آتی کرمن ہٹے مگر کسی شہری کے روزگار پر اس کا اثر نہ ہو۔ اس لیئے مالیگاؤں شہر میں ہاکرس زون بنایا جائے۔ لیکن مالیگاؤں شہر میں ابھی تک وینڈرز کا سروے نہیں ہوا۔ نہ وینڈنگ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔ نہ ہاکرس زون بنایا گیا۔ ایسی صورت حال میں کارپوریشن کے نمائندوں کا یہ کہنا کہ ہمارے بیان کو نوٹس مان لیا جائے اور اس کی مخالفت کرنے والے پر دفعہ 353 کے کیس داخل کیا جائے گا۔ یہ سراسر کارپوریشن کا ہٹلری فرمان ہے۔ 
عوام کے ٹیکس سے مان دھن لینے والے نمائندے عوامی نمائندے ہی ہوتے ہیں۔ مالک نہیں۔ کیا مالیگاؤں مونسپل کارپوریشن یوٹیوب سے چلے گی؟ کہ عوامی نمائندے یوٹیوب پر بیان دے دیے اور اسے آنکھ بند کر کے مان لیا جائے۔ کارپوریشن نے عوام کی سہولت کیلئے پارکنگ زون کہاں بنایا ہے؟ جہاں پر عوام اپنی موٹر سائیکل کھڑی کرسکے۔ بڑی بازار، مچھلی بازار، گاندھی مارکیٹ، وغیرہ میں پارکنگ ہی نہیں ہے۔ تو عوام اپنی سواریاں کہاں لگائیں۔؟ 
مونسپل کارپوریشن پہلے سہولیات فراہم کرے اس کے بعد سختی کرے۔ بنا سہولیات فراہم کرے سختی کرنا۔ عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ اور رہا سوال کارپوریشن کے عہدے داروں کا یہ کہنا کہ ہم نہ نوٹس دیں گے اور نہ ہی ہاکرس کو پہلے جگہ دیں گے۔ تو یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ان دیکھا کرنے جیسا ہے۔ 
مارچ 2025 میں سپریم کورٹ نے مہاراشٹر کے 19000 وینڈرز کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ 
اسٹریٹ وینڈرز ایکٹ 2014 کے تحت جب تک شہر کے تمام وینڈرز کا سروے نہیں ہوجاتا اور انہیں وینڈنگ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کر دیا جاتا تب تک کسی بھی پرانے وینڈرز کو اس کی جگہ سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔ عوامی ضروریات کی وجہ سے ہٹانا ضروری ہوتو بھی کم از کم 30 دن کی پیشگی نوٹس دینا قانونی تقاضہ ہے۔ ان تمام نقاط کو نظر انداز کرکے اگر کارپوریشن اپنا من مانا رویہ برقرار رکھتی ہے۔ تو اس کی پوری طاقت سے مخالفت کی جائیگی۔ اسطرح کی پریس نوٹ کامریڈ فیضان انصاری نے جاری کی۔

*🛑سیف نیوز اُردو*


پرشانت دادا ہیرے ڈراینگ کالج میں ڈراینگ نمائش کا انعقاد۔ 
مالیگاؤں/ مہاتما گاندھی ودیا مندر تعلیمی ادارے کے زیر انصرام جاری سماج شری ڈاکٹر پرشانت دادا ہیرے ڈراینگ کالج میں 30مارچ سے 1 اپریل 2026تک ڈراینگ اور پینٹنگ نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے۔ RBHکنیا ودیالیہ کی پرنسپل کلپنا دیسلے میڈم کے ہاتھوں نمائش کا افتتاح عمل میں آیا۔ پرشانت دادا ہیرے ڈراینگ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر پردیپ سونونے سر نے بتایا کہ اس نمائش میں کالج کے طلباء و طالبات کے ذریعے تیار کی گئی مختلف قسم کی ڈراینگ، پینٹنگ اور مٹی سے بنانے ہوے پتلے(کپڑے کے شو روم میں لگنے والے پتلے) وغیرہ کی نمائش کی جارہی ہے،۔ اس پروگرام میں پرفل نکم سر ( پرنسپلKBH ). نونیت ہیرے(پرنسپلLVH ) اور صاحب راو بھامرے (ٹیچرز، پیرنٹس سنگھ،نایب صدر) وغیرہ موجود تھے۔ اس نمائش میں ساگر پوار سر، چیتن ساکھلا سر، اور سبھاش دلوی سر وغیرہ نمائش میں مختلف قسم کی ڈراینگ اور پینٹنگ کی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ لہٰذا ڈراینگ اور پینٹنگ سے دلچسپی رکھنے والے اس نمائش میں ضرور شرکت کریں اس طرح کی اپیل پرنسپل ڈاکٹر پردیپ سونونے سر نے کی ہے۔۔











اوڈا فون آئیڈیا فاۓ جی کی شروعات 
مالیگاؤں شہر میں آئیڈیا اوڈا فون کا فاۓ جی سسٹم لانچ ہوا ہے آپ اپنے قریبی سینٹر پر جاکر اس کا فایدہ حاصل کر سکتے ہیں ضرور استعمال کریں کئی سہولیات نہایت رواں و آسان ۔۔۔ شہریان کو اس کا کئی دنوں سے انتظار تھا اب الحمدللہ یہ سہولت شروع ہوچکی ہے اس سے ضرور مستفیض ہوں اس طرح کا اظہار کمپنی کے زمہ داران نے ہو الائچی میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں کیا









انعام الرحمٰن حفیظ الرحمٰن کی پہلی ہی کوشش میں سی ٹی ای ٹی میں نمایاں کامیابی
تعلیم کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ہمیشہ محنت، لگن اور مستقل مزاجی کا تقاضا رہا ہے۔ ایسے ہی ایک قابلِ فخر طالب علم، انعام الرحمٰن حفیظ الرحمٰن المعروف پپو سیٹھ پھلکے والے، نے اپنی غیر معمولی محنت، لگن اور عزم کے بل بوتے پر سی ٹی ای ٹی (Central Teacher Eligibility Test) فروری 2026 پیپر 2 (سوشل اسٹڈیز) انگلش میڈیم میں پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کر کے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔
یہ کامیابی اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ انعام الرحمٰن حفیظ الرحمٰن اس وقت اے ایم کالج آف ایجوکیشن میں بی ایڈ (B.Ed) سال اول کے طالب علم ہیں۔ عموماً طلبہ کو اس امتحان کی تیاری کے لیے طویل وقت درکار ہوتا ہے، لیکن انہوں نے اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اس مشکل امتحان کی تیاری نہایت منظم انداز میں کی۔
انعام الرحمٰن حفیظ الرحمٰن کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر طلبہ اپنے مقصد کے تئیں سنجیدہ ہوں اور صحیح حکمتِ عملی کے ساتھ محنت کریں تو کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔ انہوں نے محدود وقت میں نصاب کو سمجھنے، پچھلے سوالات کا جائزہ لینے اور مسلسل مشق کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔
ان کے اس کارنامے نے نہ صرف ان کا، ان کے اساتذہ کا بلکہ اہلِ خانہ کا بھی نام روشن کیا ہے ساتھ ہی ساتھ دیگر طلبہ کے لیے بھی ایک تحریک فراہم کی ہے۔ یہ کامیابی اس پیغام کو اجاگر کرتی ہے کہ پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کرنا ممکن ہے، بشرطیکہ عزم مصمم ہو اور محنت میں خلوص شامل ہو۔
اس سے قبل بھی انعام الرحمٰن حفیظ الرحمٰن نے پولیٹیکل سائنس انگلش میڈیم میں مہاراشٹر اسٹیٹ ایلیجیبیلیٹی ٹیسٹ 2024 میں پہلی ہی کوشش میں کامیابی حاصل کی تھی. یہ کامیابی نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے، جو انہیں یہ سکھاتی ہے کہ خواب وہی پورے ہوتے ہیں جن کے لیے دن رات ایک کیا جائے۔ انعام الرحمن کی اس کامیابی پر حفیظ الرحمن المعروف پپو سیٹھ پھلکے والے خانوادے میں جشن کا سماں ہے اور مبارکبادیوں کا سلسلہ دراز ہے-

*🛑سیف نیوز اُردو*

ویپ کا استعمال پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق
آسٹریلیا کے محققین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ویپنگ (ای سگریٹ کا استعمال) پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، جس کے بعد ماہرین نے ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ حتمی شواہد کا انتظار کرنے کے بجائے فوری اقدامات کریں۔
گارڈین کے مطابق سڈنی میں واقع یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ماہرین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں سنہ 2017 سے 2025 تک شائع ہونے والی مختلف سائنسی رپورٹس، جانوروں پر کیے گئے تجربات، انسانی کیس رپورٹس اور لیبارٹری تحقیق کا جائزہ لیا گیا۔
یہ اب تک کی تفصیلی تحقیقات میں سے ایک ہے جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا نکوٹین ای سگریٹ کینسر کا باعث بن سکتے ہیں یا نہیں۔تحقیق کے مطابق ویپنگ جسم میں ایسے ابتدائی خطرناک اثرات پیدا کرتی ہے جو کینسر سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں، جیسے کہ ڈی این اے کو نقصان پہنچنا اور سوزش کا بڑھ جانا۔
مشہور جریدے ’کارسینوجینیسیس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ’ویپنگ ان ابتدائی کینسر سے پہلے کی تبدیلیوں سے جڑی ہوئی ہے۔‘
ماہر برنارڈ سٹیورٹ کے مطابق ای سگریٹ کے دھوئیں کو سانس کے ذریعے اندر لینے سے منہ اور پھیپھڑوں کے خُلیات اور بافتوں میں واضح تبدیلیاں آتی ہیں۔ تاہم چونکہ ای سگریٹس جدید دور میں یعنی 2000 کے بعد متعارف ہوئے، اس لیے طویل المدتی انسانی ڈیٹا ابھی محدود ہے، اور یہ واضح طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے افراد میں کینسر پیدا ہوا۔‘
تحقیق میں کچھ ایسے کیسز بھی شامل کیے گئے جن میں ایسے افراد میں منہ کے کینسر کی نشاندہی ہوئی جو صرف ویپنگ کرتے تھے اور کبھی سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ اس کے علاوہ جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ای سگریٹ کے بخارات کے سامنے آنے والے چوہوں میں پھیپھڑوں کے ٹیومر زیادہ بنے، اگرچہ یہ نتائج براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں سگریٹ نوشی کے نقصانات کو تسلیم کرنے میں تقریباً 100 سال لگے تھے، اس لیے ویپنگ کے معاملے میں ابتدائی خبردار کرنے والے شواہد کو نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف فریڈی سیتاس کے مطابق ’یہ تاثر کہ ویپنگ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہے، درست نہیں ہو سکتا۔‘ ان کے مطابق ’فی الحال ویپنگ چھوڑنے کے مؤثر طریقوں کے حوالے سے شواہد بھی واضح نہیں ہیں۔‘
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں اور صحت کے اداروں کو چاہیے کہ وہ خاص طور پر نوجوانوں کو ویپنگ کے نقصانات سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ ویپنگ سگریٹ جتنی نقصان دہ ہے، کیونکہ اس میں سگریٹ کی طرح جلنے والے کیمیائی مادے شامل نہیں ہوتے۔
مجموعی طور پر تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ویپنگ کو محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں اور اس کے ممکنہ خطرات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔










ایران پر ایٹمی حملے کا خدشہ! اقوام متحدہ کے نمائندے کا دعویٰ- ایران پر ایٹم بم گرانے کی تیاری کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل
اقوام متحدہ سے وابستہ ایک نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر ایٹمی حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس حیران کن دعوے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مذکورہ دعویٰ اقوام متحدہ میں سفارتی خدمات انجام دینے والے محمد صفا نے کیا، جنہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ معلومات منظر عام پر لانے کے لیے اپنی ملازمت تک چھوڑ دی ہے۔ محمد صفا، جو اقوام متحدہ میں بطور سفارتی نمائندہ اور پیٹریاٹک وژن ایسوسی ایشن کے نمائندے کے طور پر کام کر رہے تھے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ ایسے ماحول میں کام جاری نہیں رکھ سکتے جہاں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی تیاریاں ہو رہی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انسانیت کو ممکنہ تباہی سے آگاہ کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔محمد صفا نے اپنے پیغام کے ساتھ تہران کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ تہران کوئی خالی صحرا نہیں بلکہ ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی بات کرنے والے اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کی آبادی تقریباً ایک کروڑ کے قریب ہے اور اگر اس شہر پر ایٹمی حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس ممکنہ خطرے کو سنجیدگی سے لے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن، برلن، پیرس یا لندن جیسے شہروں پر ایٹمی حملہ ہو جائے تو دنیا کس طرح کے بحران کا سامنا کرے گی۔محمد صفا نے الزام لگایا کہ اقوام متحدہ کے بعض سینئر عہدیدار ایک طاقتور لابی کے لیے کام کر رہے ہیں اور بین الاقوامی مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ضمیر انہیں اس صورتحال میں خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا تھا، اسی لیے انہوں نے اپنی سفارتی ذمہ داریاں ترک کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں اس لیے روک دیں تاکہ وہ انسانیت کے خلاف ممکنہ جرم کا حصہ نہ بنیں اور نہ ہی اس کے خاموش گواہ رہیں۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا ایک بڑی ایٹمی تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔

محمد صفا نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات کو ترجیح دیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید تباہی کو جنم دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دے۔ دوسری جانب عالمی اداروں کے بعض ماہرین بھی اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر ایران سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہوا تو صورتحال ایٹمی تصادم تک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورت حال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ محمد صفا کے دعوے کے بعد عالمی سطح پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے اور کئی ممالک نے سفارتی حل پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔








دہلی میں پریمیم پٹرول، ڈیزل اور کمرشل سلنڈر کے دام میں اضافہ، جانیے ایندھن کی قیمتوں میں کتنا ہوا اضافہ؟
دارالحکومت دہلی کے گاڑی مالکان اور تاجروں کے لیے نئے مہینے کی شروعات مہنگائی کے جھٹکے کے ساتھ ہوئی ہے۔ انڈین آئل کارپوریشن (IOCL) نے دہلی میں اپنے پریمیم پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی بڑھوتری کا اعلان کیا ہے۔ جہاں ایک طرف عام پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں استحکام برقرار ہے، وہیں دوسری جانب ہائی اینڈ کاروں اور سپر بائیکس میں استعمال ہونے والے پریمیم فیول کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کا براہِ راست اثر ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان پر پڑے گا۔پریمیم پٹرول کی قیمت کتنی بڑھی؟

پریمیم فیول استعمال کرنے والوں، خاص طور پر لگژری کار اور ہائی پرفارمنس بائیکس رکھنے والوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ انڈین آئل نے اپنے پریمیم XP100 پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 11 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد دہلی میں XP100 پٹرول کی قیمت 149 روپے سے بڑھ کر سیدھے 160 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ XP100 بھارت کا پہلا 100 آکٹین پریمیم پٹرول ہے، جسے خاص طور پر سپر بائیکس اور ہائی اینڈ انجن والی گاڑیوں کی بہتر کارکردگی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

پریمیم ڈیزل بھی مہنگا

پٹرول کے ساتھ ساتھ پریمیم ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ انڈین آئل کا پریمیم ڈیزل ویرینٹ Xtra Green ڈیزل، جو کم اخراج اور بہتر مائلیج کا دعویٰ کرتا ہے، اب دہلی کے صارفین کو مہنگا پڑے گا۔ پریمیم ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 1.50 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد Xtra Green ڈیزل کی نئی قیمت 92.99 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ 91.49 روپے فی لیٹر تھی۔ تاہم عام ڈیزل کی قیمتوں میں فی الحال کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔

کمرشل اور 5 کلو سلنڈر کے دام میں اضافہ

ایندھن کے ساتھ ساتھ رسوئی گیس کے محاذ پر بھی مہنگائی نے دستک دی ہے۔ حکومت نے 19 کلو والے کمرشل ایل پی جی سلنڈر اور 5 کلو والے چھوٹے سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ منظور کر لیا ہے۔ دہلی میں کمرشل سلنڈر کی قیمت تقریباً 196 روپے بڑھ گئی ہے، جس سے باہر کھانا پینا مہنگا ہو سکتا ہے۔ جبکہ 5 کلو والے چھوٹے سلنڈر کی قیمت میں بھی 51 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

گھریلو گیس کی قیمتوں میں دو ہفتہ قبل ہی اضافہ کیا گیا تھا

مہنگائی کے اس دور میں عام صارفین کے لیے بھی کوئی راحت کی بات نہیں ہے کیونکہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں دو ہفتے قبل ہی اضافہ کیا گیا تھا۔ تیل کمپنیوں اور حکومت نے مارچ میں طے شدہ قیمتوں کو اپریل میں بھی برقرار رکھا ہے۔ دہلی میں گھریلو سلنڈر کی قیمت 853 سے بڑھ کر اب 913 روپے ہو گئی ہے، جبکہ کولکاتا میں 939 روپے، ممبئی میں 912.50 روپے اور چنئی میں 928.50 روپے فی سلنڈر دستیاب ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

کہاں ہیں ایران کے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای ؟ روسی سفارت کارنے کیا انکشاف ، ٹرمپ رہ جائیں گے حیران
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ جاری ہے ۔ حملوں اور جوابی حملوں کے بیچ امریکی صدرٹرمپ جنگ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہونے کی بات کہہ رہے ہیں۔ایران کےصدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ ایران جنگ ختم کرنے کو تیار ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ یہ ضمانت دی جائے کہ تنازع دوبارہ شروع نہیں جائے گا۔

حملوں کے درمیان جنگ بندی باتیں دونوں جانب کی قیادت کی جانب سےکی جارہی ہیں لیکن ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظرنامے پر ابھی تک نہیں آئے ہیں ۔وہ کہاں ہیں اس تعلق سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے ۔اس درمیان روسی سفارتکار نے انکشاف کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ملک میں ہی موجود ہیں اورسکیورٹی خدشات کے باعث عوامی سطح پرنظرنہیں آرہے ہیں۔اس دوران کویت کے ایک روزنامے الجریدہ کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای علاج کے لیے روس میں ہیں ۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ ماسکو میں ایک اسپتال میں زیر اعلاج ہیں ۔واضح رہے کہ،28 فروری کوایران پرامریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی پہلی لہر کی شروعات ہوئی تھی۔ اس حملے میں ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی موت ہوگئی تھی۔ان حملوں کی لہر میں مجتبیٰ خامنہ ای کی موت کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا۔تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام نشرکیا گیا۔اس کے باوجود وہ اب تک عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔اس بیچ ، روسی سفارت کارایلکسی ڈیڈو کا دعویٰ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں ہی موجود ہیں، تاہم وہ قابلِ فہم وجوہات کی بنا پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہو رہے ہیں۔اس دوران، مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام بیانات تحریری صورت میں جاری کیے گئے جنہیں سرکاری ٹی وی کے اینکرز نے پڑھ کر سنایا۔ان بیانات میں 12 مارچ کا ان کا پہلا خطاب اور 20 مارچ کو نوروز کا پیغام شامل ہے۔









مردم شماری 2027 کا آغاز، 33 سوالات کیے جائیں گے دریافت، ذات سے متعلق تفصیلات کا بھی کیا جائے گا اندارج
تقریباً 15 سال بعد ملک میں مردم شماری کا عمل یکم اپریل سے شروع ہوگیا ہے۔ پچھلی مردم شماری 2011 میں ہوئی تھی۔ عام طور پر، ملک میں ہر 10 سال بعد مردم شماری کرانے کی روایت ہے لیکن کورونا وباکے سبب اسے 2020-2021 میں ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اب اس مردم شماری میں ذات کو شامل کیا گیا ہے۔

یہ پورا عمل دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ حتمی رپورٹ 2027 میں جاری کی جائے گی۔ اسی وجہ سے اسے مردم شماری 2027 کہا جا رہا ہے۔ آئیے اس مردم شماری کی مکمل تفصیلات دیکھیں۔

مردم شماری 2027 کا پہلا مرحلہ آج سے شروع ہو رہا ہے: حکومت ہند نے 2027 کی مردم شماری کا پہلا مرحلہ—ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ اینومریشن (HLO)— یکم اپریل 2026 کو شروع کیا ہے۔ یہ مرحلہ 30 ستمبر 2026 تک جاری رہے گا۔ مختلف ریاستوں اور غیر ریاستوں کی تاریخوں کے مطابق گھر گھر سروے کیا جائے گا۔سوالات کا ایک سیٹ جاری کیا گیا ہے: رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتنجے کمار نارائن نے کہا کہ مردم شماری کارکن اس مرحلے میں کل 33 سوالات پوچھیں گے۔ ان میں عمارت کا نمبر، مردم شماری کے گھر کا نمبر، فرش، دیواراور چھت کی تعمیر میں استعمال کیے گئے سامان جیسی معلومات شامل ہیں۔

بنیادی گھریلو اور خاندانی معلومات: شمار کنندہ گھر میں رہنے والے ارکان کی کل تعداد، گھر کے سربراہ کا نام اور جنس، سربراہ کی ذات (شیڈولڈ کاسٹ، شیڈول ٹرائب یا دیگر)، گھر کی ملکیت، رہنے والے کمروں کی تعداد اور گھر میں شادی شدہ جوڑوں کی تعداد ریکارڈ کرے گا۔

سہولیات کا ایک مکمل ایکس رے: سوالات میں پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ، روشنی کا ذریعہ، بیت الخلا کی دستیابی اور قسم، گندے پانی کو ٹھکانے لگانے، نہانے اور باورچی خانے کی سہولیات، LPG/PNG کنکشن، اور کھانا پکانے کے اہم ایندھن شامل ہیں۔ اس سے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی صحیح تصویر سامنے آئے گی۔

پراپرٹی اور ڈیجیٹل ملکیت: گنتی میں ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ/کمپیوٹر، ٹیلی فون/موبائل/اسمارٹ فون، سائیکل، سکوٹر، موٹر سائیکل، کار/جیپ/وین جیسی اشیاء کی ملکیت کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ کھانے پینے کی اہم اشیاء اور مردم شماری سے رابطہ کرنے کے لیے موبائل نمبر بھی اکٹھا کیا جائے گا۔

خود شماری کا آپشن: شہری 16 زبانوں میں ایک آن لائن پورٹل کے ذریعے خود گنتی کر سکتے ہیں۔ فیلڈ سروے سے پہلے شروع ہونے والے، 15 دنوں کی مدت کے لیے خود گنتی دستیاب ہوگی۔ مثال کے طور پر، دہلی کے این ڈی ایم سی اور کنٹونمنٹ علاقوں میں 1 سے 15 اپریل تک خود شماری ہوگی۔

خود شماری کیسے کریں: گھر کا سربراہ یا کوئی بھی ممبر اپنے موبائل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری پورٹل پر اندراج کر سکتا ہے۔ ایک ضلع منتخب کریں، نقشے پر گھر کے مقام کو نشان زد کریں، اور معلومات درج کریں۔ ایک منفرد 16 ہندسوں کی خود شماری ID تیار کی جائے گی، جسے فیلڈ وزٹ کے دوران شمار کنندہ کو دکھانا ضروری ہے۔

وقت کی بچت اور بہتری کا موقع: خود گنتی اہم وقت بچائے گی۔ فیلڈ وزٹ کے دوران شہری اپنی فراہم کردہ معلومات میں تصحیح بھی کر سکیں گے۔ یہ پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی جس میں ایک موبائل ایپ بھی استعمال کی جائے گی۔ڈیٹا کی رازداری کی ضمانت: اہلکار نے واضح کیا کہ ذاتی ڈیٹا مکمل طور پر خفیہ رہے گا۔ اسے عدالت میں ثبوت کے طور پر یا کسی سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ڈیٹا صرف مجموعی اعدادوشمار کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

دوسرے مرحلے میں ذات کی مردم شماری: یہ پہلا مرحلہ رہائش اور سہولیات پر مرکوز ہے۔ ذات پات کی مردم شماری دوسرے مرحلے (آبادی کی مردم شماری) میں کی جائے گی۔ مردم شماری کی پوری مہم کے بعد 2027 میں ڈیٹا دستیاب ہونے کی امید ہے۔










وہ خوف ناک 12 دن...، ایران جنگ کی کہانی پلوامہ کے بلا گرکی زبانی
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کاپانچواں ہفتہ ہے۔ سیاسی لیڈروں کی بیان بازیوں ،جنگ بندی کی باتوں، ملاقاتوں اور اُمید کے بیچ میدان جنگ خوف ناک تصویر پیش کررہی ہے۔ جنگ ختم ہونے کے آثار نظر نہیں رہے ہیں۔جنگ ہلاکت و تباہی کا نام ہے۔ ایک مہینے سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں جان و مال کے نقصان کا اندازہ لگا پانا مشکل ہے۔

اس دوران ، نیوز 18 نے ایک ایسے شخص سے بات کی جو ایران پرحملوں کے آغاز کے وقت وہاں موجود اور محفوظ رہا۔ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے عمر اقبال نے جنگ کے دوران ایران میں 12 دن گزارے اور حالات کو قریب سے دیکھا۔ عمر اقبال پلوامہ سے ایک بلاگر ہیں۔ آئیے ایران جنگ کے دوران گزارے 12 روز کی کہانی انہی کی زبانی سنتے ہیں۔افغانستان کے ہرات میں نیوز 18 انڈیا کے ساتھ ایک خاص بات چیت میں عمر اقبال نے انکشاف کیا کہ ایک لمحہ ایسا آیا جب انہیں لگا کہ یہ ان کا آخری لمحہ ہے اور انہوں نے آخری کلمہ بھی پڑھا۔ وہ اس وقت سفر پرتھے اور مسلسل حملے ہورہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح ایک ہندوستانی کے طور پر، ایران میں لوگوں اور سیکورٹی اہلکاروں نے ان کی مدد کی۔

عمر اقبال کب ایران پہنچے؟
عمر اقبال نے نیوز 18 انڈیا کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ صورتحال جلد بہتر ہو جائے گی تاکہ وہ دوبارہ ایران دیکھ سکیں۔ جموں کشمیر کے پلوامہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ ٹریول بلاگر عمر اقبال فروری کے آخری ہفتے میں ایران پہنچے۔ اس وقت حالات تیزی سے تبدیل ہورہے تھے ۔کشیدگی عروج پر تھی۔ 21 فروری کو وہ ایران میں داخل ہوئے۔ لوگوں نے انہیں خوش آمدید کہا لیکن ساتھ ہی انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ بھی دیا۔
عمر اقبال کے مطابق عراق میں ایرانی سفارت خانے نے ابتدائی طور پر ویزہ دینے سے انکار کر دیا تھا تاہم سخت جانچ پڑتال کے بعد 12 دن کا ویزہ جاری کیا اور فوری طور پر ملک چھوڑنے کی وارننگ دی گئی۔ خرم آباد اور
قم میں کچھ دن گزارنے کے بعد 28 فروری کو جنگ چھڑ گئی۔یکم مارچ کو وہ تہران کی طرف روانہ ہوئے لیکن حملوں کی شدت کی وجہ سے شہر میں داخل نہیں ہوئے۔ایران میں عمران نے کیا دیکھا؟
عمر اقبال کے مطابق، اس نے ایک رات دمغان کے قریب کھلے آسمان نیچے گزاری، جہاں اس نے میزائلوں گزرتے دیکھا۔ 2 مارچ کو دمغان میں دھماکے سے ایک عمارت کو نقصان پہنچا، جہاں وہ امدادی کاموں میں حصہ لیتے ہوئے خود زخمی ہو ئے۔ بڑھتے ہوئے خطرے اور ویزے کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے، عمرنے 6 مارچ کو تائباد کی جانب تقریباً 750 کلومیٹر کا سفر کیا۔ راستے میں خوف اور غیر یقینی کی صورتحال برقرار رہی۔ انھوں نے 7 مارچ کو افغان سرحد عبور کیااور ہرات میں اپنے خاندان سے رابطہ کیا۔ اب افغانستان میں ایک ماہ قیام کے بعد وہ وسطی ایشیا کا رُخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ایران پر حملہ
ایران پر 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملہ کیا گیا ۔ 28 فروری کو ہونے والے اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہوگئی۔ مزید بر، کئی دیگر اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کو بھی قتل کیا گیا۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمزپر پہرہ سخت کردیا ہے۔ اب امریکہ ،ایران سے بات چیت کرنے کا دعویٰ کررہا ہے تاہم ایران نے اس کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔

*🛑سیف نیوز اُردو*

اوڈا فون آئیڈیا فاۓ جی کی شروعات  مالیگاؤں شہر میں آئیڈیا اوڈا فون کا فاۓ جی سسٹم لانچ ہوا ہے آپ اپنے قریبی سینٹر پر جاکر اس کا ...