Saturday, 28 March 2026

*🛑سیف نیوز اُردو*



برطانوی فوج کو مرنے کیلئے نہیں بھیجوں گا، وزیراعظم اسٹار نے ٹرمپ کو دکھائی ان کی اصلی جگہ، ایران میں ہار رہا ’سپرپاور‘ امریکہ
لندن : دنیا کی سیاست میں ایک بہت بڑا زلزلہ آ گیا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر نے امریکہ کو براہِ راست چیلنج دے دیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بہت کرارا جواب دیا ہے۔ اسٹارمر نے صاف کہا ہے کہ وہ برطانوی فوجیوں کو مغربی ایشیا میں ایران کے خلاف جاری جنگ میں مرنے کے لیے نہیں بھیجیں گے۔ ٹرمپ مسلسل برطانیہ پر فوج بھیجنے کا دباؤ ڈال رہے تھے۔ اسی بات پر اسٹارمر شدید غصے میں آ گئے۔

انہوں نے ٹرمپ کو دو ٹوک جواب دے دیا۔ کیر اسٹارمر نے کہا کہ آپ میرا جتنا چاہیں مذاق اُڑا سکتے ہیں، لیکن میں برطانوی بچوں کو آپ کی ہارتی ہوئی جنگ میں مرنے کے لیے بالکل نہیں بھیجوں گا۔ اس بیان کے بعد امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ پوری دنیا اس تلخ زبانی جنگ کو دیکھ کر حیران ہے۔غصے میں آئے برطانوی وزیراعظم اسٹارمر
امریکہ مسلسل اپنے اتحادیوں پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ برطانیہ بھی اس جنگ میں اپنی فوج بھیجے۔ لیکن کیر اسٹارمر نے اس مانگ کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں کی جان کو سب سے اوپر رکھا ہے۔

ہارتی ہوئی جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیں گے
اسٹارمر کا یہ بیان بہت بڑا سیاسی معنی رکھتا ہے۔ انہوں نے امریکی جنگ کو ایک ہارتی ہوئی جنگ بتا دیا ہے۔ یہ ٹرمپ کے لیے ایک بہت بڑی سفارتی بے عزتی ہے۔ اسٹارمر نے صاف کر دیا کہ وہ آنکھیں بند کرکے امریکہ کے پیچھے نہیں چلیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخالفین کا مذاق اُڑانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اسٹارمر نے اسی بات کو لے کر اُن پر براہِ راست طنز کیا ہے۔ کیر اسٹارمر نے کہا : آپ میرا جتنا چاہیں مذاق اُڑا سکتے ہیں۔ میں کسی بھی قیمت پر برطانوی نوجوانوں کو مرنے کے لیے نہیں بھیجوں گا۔امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں تلخی
اس تلخ بیان بازی سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی خراب ہو گئے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ ہمیشہ سے مضبوط اتحادی رہے ہیں۔ لیکن اب اس جنگ کو لے کر دونوں کے درمیان گہری دراڑ آ گئی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔








بنگلہ دیش کا دوہرا گیم! پہلے پاکستان کو دیا جھٹکا، اب فوجی سربراہ امریکہ روانہ، ایران جنگ کے درمیان کیا ہوگا کوئی بڑا کھیل؟
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے 25 مارچ کو ‘نسل کشی کا دن’ مناتے ہوئے پاکستان کو نشانہ بنایا تھا۔ 1971 میں پاکستان کی جانب سے بنگالی لوگوں پر کیے گئے مظالم کو انہوں نے سب سے شرمناک اور ظالمانہ دنوں میں سے ایک بتایا۔ یہ بات پاکستان کو پسند نہیں آئی۔ اب اسی دوران بنگلہ دیش امریکہ کے ساتھ قربت بڑھانے لگا ہے۔ بنگلہ دیش کے آرمی چیف وقار الزمان امریکہ کے دورے پر جا رہے ہیں۔ 29 مارچ سے وہ امریکہ کے پانچ روزہ دورے پر جائیں گے۔ آرمی چیف بننے کے بعد یہ ان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ اس دورے کی ٹائمنگ نہایت خاص ہے۔ وہ ایسے وقت میں امریکہ جا رہے ہیں، جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے۔

انتخابات کے بعد پہلا دورہاس دورے کی ٹائمنگ اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ حال ہی میں 12 فروری کو ہوئے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ جبکہ جماعتِ اسلامی اپوزیشن کے کردار میں آئی ہے۔ دوسری طرف شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو انتخابات لڑنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی تھی، جس پر سابق عبوری حکومت نے انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت پابند عائد کردی تھی ۔ جنرل وقار الزمان خود اس پورے سیاسی تبدیلی کے مرکز میں رہے ہیں۔ اگست 2024 میں شیخ حسینہ حکومت کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت تقریباً 18 ماہ تک اقتدار میں رہی۔امریکہ کیوں جا رہے ہیں بنگلہ دیش کے فوجی سربراہ؟
اب ایسے ماحول میں ان کا امریکہ کا دورہ کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ آفیشیل معلومات کے مطابق، انہیں جارجیا کے سینیٹر شیخ رحمان نے اسٹیٹ کیپیٹل آنے کی دعوت دی ہے۔ اس دورے میں ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور کئی سینئر فوجی افسران بھی شامل ہوں گے۔ یہ دورہ محض رسمی نہیں سمجھا جا رہا۔اس سے قبل اکتوبر 2024 میں بھی جنرل زمان امریکہ اور کینیڈا گئے تھے، جہاں انہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشن، دفاعی تعاون اور فوجی صلاحیت بڑھانے جیسے امور پر بات چیت کی تھی۔ اس دورے کا مقصد واضح طور پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔









اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اسرائیلی سفیر کی بے بسی، سائرن بجا کر اسرائیلی شہریوں کے خوف کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل کی بے بسی کا ایک غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اچانک سائرن بجا کر اور 15 سیکنڈ کا ٹائمر چلا کر ارکان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ میزائل حملوں کے دوران شہری کس ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم اس اقدام پر تنقید بھی سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ اسی نوعیت کا بلکہ اس سے شدید خوف فلسطین اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی دیکھا جاچکا ہے۔اجلاس میں اچانک سائرن کی آواز

اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اچانک سائرن فعال کیا اور 15 سیکنڈ کا ٹائمر شروع کر دیا۔ ان کا مقصد اسرائیلی شہریوں کو درپیش ہنگامی صورتحال کو عالمی برادری کے سامنے واضح کرنا تھا۔ ڈینن نے کہا کہ بعض اوقات اسرائیل میں شہریوں کے پاس صرف 15 سیکنڈ ہوتے ہیں کہ وہ محفوظ مقام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا: ’’یہ وہ وقت ہے جس میں آپ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ پہلے کس بچے کو لے کر بھاگیں، کیا دوسروں کے لیے واپس جائیں یا کسی بزرگ والدین کی مدد کریں۔ کبھی کبھار یہ 15 سیکنڈ بھی ختم ہو جاتے ہیں اور آپ محفوظ مقام تک نہیں پہنچ پاتے۔‘‘

فلسطین میں خوف کی صورتحال

ناقدین کا کہنا ہے کہ جس خوف کا ذکر اسرائیلی سفیر نے کیا، اسی طرح کا بلکہ اس سے زیادہ شدید خوف فلسطینی علاقوں میں بھی طویل عرصے سے موجود رہا ہے۔ فرق یہ بتایا جاتا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو اکثر ایسے سائرن یا بروقت انتباہی نظام بھی دستیاب نہیں ہوتے، جس سے ان کے لیے محفوظ مقام تک پہنچنا مزید مشکل ہو جاتا تھا۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال ایران میں بھی ہے، انہیں بھی حملے سے قبل کسی سائرن یا انتباہ کا کوئی موقع نہیں ملتا ہے۔

ایران-اسرائیل کشیدگی کا تناظر

اسرائیل پر ایران کے حملوں کے نئے دور نے اسرائیلی شہریوں کے لیے زندگی مشکل بنادی ہے۔ میزائل ڈیفنس سسٹم کی ناکامی اور بنکروں میں بھاگنے کی کوششوں نے ان کے ذہن ودماغ میں خوف اور بے بسی کی نئی لہر پیدا کردی ہے۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اس صورتحال کا اہم پہلو ہے۔ یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ جب رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے ردعمل میں جوابی کارروائی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اور ایسی صورت میں ہر فریق کو ممکنہ نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر حملے کا آغاز کیا اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا تو اب اسے بھی جوابی کارروائی کو پورے صبر اور سکون کے ساتھ جھیلنا چاہئے۔ یواین میں اس طرح کی بے بسی کو دکھانا اور دنیا سے رحم طلب نظروں کی امید رکھنا اسرائیل کے دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

خطرے کو جڑ سے ختم کریں گے

اسرائیلی وفد کے مطابق سائرن کی آواز نے اجلاس میں موجود افراد کی فوری توجہ حاصل کی اور کچھ سفیروں کے چہروں پر واضح تناؤ دیکھا گیا۔ ٹائمر کے دوران ماحول سنجیدہ ہو گیا تھا۔ ڈینن نے اپنے خطاب میں کہا: ’’جب بھی ہم سے کہا گیا کہ رک جائیں اور سفارت کاری کو موقع دیں، دہشت گردی نے اس وقت کو دوبارہ مسلح ہونے کے لیے استعمال کیا۔ اسرائیل اب ایسے حل کی طرف واپس نہیں جائے گا جو اگلی جنگ کی ضمانت بنے۔ اس بار ہم خطرے کو اس کی جڑ سے ختم کریں گے۔‘‘









*🛑سیف نیوز اُردو*

*اقتدار، ریاکاری اور فحاشی کا 'مہا' گٹھ جوڑ*  *وسیم رضا خان*                                 *مہاراشٹر* کی س...